اتائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن

(Babar Alyas, Chichawatni)
اتائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن ھونا ضروری ھے مگر بےروزگار ھونے والوں کی دادرسی بھی ضروری ھے تاکہ انکے بچے غربت کی دلدل سے بچ سکے

حکومت پاکستان کے بروقت توجہ نہ دینے کی وجہ سے اب سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی بدولت پنجاب ہیلتھ کیر کمیشن احکامات کی تعمیل کروانے کے لیے سرگرم ھےاورتمام اضلاع کے ڈی سی او صاحب نے محکمہ صحت کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے ڈرگ مافیا کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کی بھی ہدایت جاری کی ہے.جس پر عمل بھی ھو رہا ھے اوت کئ شہروں میں اتائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ھے جس کے دوران کلینک کو چھاپے مارکر سیل کردیا جاتا ھے اورجبکہجعلی ڈاکٹرز کو بھی گرفتار کیا جا رہا ھے اس کاروائی کا ایک اور منظر بھی ھے اور وہ ھے ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ کہ شہر میں کام کرنے والی جعلی لیبارٹریز اور اتائی ڈاکٹرز کے خلاف آپریشن تیز کیا جاۓ۔ینگ ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ جعلی ڈاکٹرز اور جعلی لیبارٹریز عوام کی جان سے کھیل رہے ہیں ،اتائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید تیز کیا جائے۔

انسانو ں پر جانوروں والے ٹیکے استعمال کرنے والے جعلی ڈاکٹرز قاتل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بغیر پیتھالو جسٹ کے کام کرنے والی لیبارٹریز بغیر ٹیسٹ کے ہی رپورٹس جاری کر رہی ہیں۔ پنجاب بھر میں ہزاروں جعلی ڈاکٹرز اور لیبارٹریز کام کر رہی ہیں جو کہ انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ انسانوں کو جانوروں کے لیے تیارکیے گئے ٹیکے لگائے جارہے ہیں۔ینگ ڈاکٹرز نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان جعلی اور فراڈ لیبارٹریز کو سیل اور ڈاکٹرز کو گرفتار کیا جائے۔

اب اخباری رپورٹ کے مطابق پنجاب سے کمیشن کی کاروائی نے 8600 تقریباً اتائی اڈے سیل کر دیے ہیں.
اور 6 کروڑ 65 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ھے جو قابل قدر کاروائی ھےکمیشن کی کاروائی سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق جاری ھے اور کمیشن اپنا فرض بہترین طریقے سے سر انجام دے رہا ھے .

اتائی ایک مکروہ دھندہ ھے اس مصوم لوگوں کی جانوں سے کیھلا جاتا ھے کوئی شک نہیں لکین اگر حکومت کی مناسب حکمت عملی ھوتی تو یہ 8600 لوگ بے روز گار نہ ھوتے ان کے گھر کا چولہا نہ بھجتا ان لوگوں دائرہ قانون میں لایا جاتا انکی رجڑیشن کی جاتی انکو پابند کیا جاتا کہ یہ تمام لوگ جو اتائی کا کام کرتے ہیں حکومت کی جانب سے مختصر دوراینہ کے کورس کرنے کے اہل اور پابند ھوں گۓ تاکہ انکی رہنمائی کر کے غریب عوام جو کہ 20 روپے, 50 روپے, 80روپے,کی دوائی لے اپنا گزارا کرتے ہیں ان سے یہ سہولت نہ چھینی جاتی مگر افسوس کہ حکومت اپنے آپکو بنانے اور گرانے میں لگی ھے مجھے کیوں نکلا اور اسکو کیوں نہیں نکلا کے چکر میں ہیں اور اسی چکر نے میرے وطن اوت اسکی غریب عوام کو تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا ھے اگر حمام کو حکومتی دائرہ میں لایا جاسکتا ھے تو ان اتائیوں کو بھی کسی مناسب اور بہترین طریقے سے حکومتی دائرہ میں لایا جاسکتا ھے امید ھے کہ اہل علم اسکے بارے میں بہتر اور مناسب حکمت عملی اختیار کریں گے.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 291 Articles with 99008 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
19 Apr, 2018 Views: 271

Comments

آپ کی رائے