میرا پاکستان

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)
میرا پاکستان دنیا میں جنت نما ٹکڑا ہے۔ اس کی قدر کی جائے۔ دنیا کا واحد ملک ہے جس میں اللہ کریم نے چاروں موسموں سے نوازا ہے۔ معدنی ذخائر سے بھرا پاکستان ہے۔ ملک ماں کی طرح ہوتا ہے۔ اس کی قدرکرنے کے لیے تمام عہدیداران سے درخواست ہے سچے اور کھرے پاکستانی بن کر اپنا مثبت رول ادا کریں، ہم دنیا کی بہترین معیشت سے اآگے نکل جایئں گے۔ تھوڑا وقت نکال کر بچوں کے ساتھ پاکستان کی سیر ضرور کریں۔ اور اسے خوبصورت بنانے کے لیے مخلص اور سچے لیڈر کا انتخاب کرنا بھی ضروری ہے۔

مقامات کی سیر کرتے ہوئے

میں رب کریم کا کروڑوں سجدہ ریز ہو کر بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے۔ اللہ کریم نے مجھے اپنی خاص رحمت سے نوازتے ہوئے آقائے دو عالم احمد مجتبیٰ احمد مصطفی سرورِ کائنات ﷺ کا امتی بنایا۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا۔ پھر یہ کہ مجھے پاکستانی بنایا، مزید یہ کہ مجھے پاکستان کے باوقار ادارے میں اپنی خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا جہاں بہت کچھ سیکھا، جس کا احسان مند ہوں۔ اللہ کریم نے تعلیم سے نوازا۔ اب شدت سے احساس ہوتا ہے کہ واقعی تعلیم ایک زیور ہے۔ تعلیم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ سبحان اللہ تعلیم ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ جیسے جیسے آپ تعلیم خاص طور پر عملی تعلیم کی سڑھیاں عبور کرتے جائیں گے تو آپ کو ہر قول کی بآسانی سمجھ بھی آنا شروع ہو جائے گی۔ شرط یہ کہ کسی اچھی محفل میں نشست ہو۔ ادارے میں رہتے ہوئے شہر شہر، صوبہ صوبہ اپنے فرائض سر انجام دینا پڑے۔ اسی بہانے سے وطن عزیز کا چپہ چپہ دیکھنے کا بھی موقع ملا اگر کوئی جگہ رہ گئی تو ریٹائرمنٹ کے بعد وہاں جانے کا اتفاق ہو ا۔ میرے ہم وطنو! ملک کو ماں کہتے ہیں، ماں سے کبھی غداری اور نہ ہی اسے گالی دی جاتی ہے۔ ماں کی قدر وہی کرتے ہیں جنہیں ماں کی قدر ہوتی ہے۔ بھینس کے آگے بین بجانے کا کوئی مقصد نہیں۔ وطن کی مٹی سے ایسی خوشبو آتی ہے جس کا آزادی کے سوا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ وطن عزیز کا کراچی سے پشاور، پشاور سے کوئٹہ، کوئٹہ سے اسلام آباد، اسلام آباد سے مری،پتریاٹہ، مری گھوڑا گلی، سکاؤٹس کیمپ، کاغان ناران، شوگران، بابو سر ٹاپ، چلاس، گلگت، وادی ہنزہ، عطا آباد جھیل، جھیل سیف الملوک، قلعہ گلگت بلتستان، خنجراب وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان واقعی دنیا میں جنت کا ٹکڑاہے۔ دنیا کا واحد ملک ہے جس کو اللہ پاک نے ہر موسم میں چاروں موسموں سے نوازا ہے۔ بہتے دریا، برف کے پہاڑ (گلیشیئرز)، خون جما دینے والی پہاڑوں کی چوٹیاں، سردی کے موسم میں گرم چشمے، ملک کے ایک کونے میں فصل تیار ہو کر مارکیٹ میں آتی ہے تو اس کے ختم ہونے تک دوسرے علاقے میں وہی فصل تیار ہو جاتی ہے اس سے بڑی نعمت ہو کیا ہو سکتی ہے۔ اسلام آباد سے سفر شروع کریں تو بغور جائزہ لیں، پہاڑی سلسلہ تبدیل ہو جاتا ہے، وہاں کی آب و ہوا میں تبدیل آجاتی ہے۔ پہاڑوں کی رنگت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔آپ دنگ رہ جائیں گے کہ یہ میرا وطن پاکستان ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ معدنیات سے نواز رکھا ہے۔ بس اگر کوئی کسر رہ گئی ہے تو وہ مخلص لیڈر شپ کی ہے۔ ورنہ میرے وطن وہ خزانے پنہاں ہیں کہ ہم معاشی لحاظ سے دنیا کی صف اول میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔ بشرطیکہ ذمہ داران کی نیت کا صحیح اور خالص ہونا بے حد ضروری ہے۔ وادی ہنزہ سے کچھ فاصلے پر قلعہ گلگت بلتستان جانے کا اتفا ق ہو ا وہاں کی مارکیٹ کو دیکھا وہاں قیمتی پتھر دیکھے تو میرے سے رہا نہ گیا دکاندار سے پوچھا! بھائی یہ پتھر (کرسٹل نما) کس ملک کا ہے، اس نے پہلے میری طرف دیکھااور کہا سر یہ پتھر انہیں پہاڑوں سے نکلتے ہیں۔ دوستو! وہ خوبصورت پتھر مٹی کا زیور، پاکستان کا زرِ مبادلہ کا خزانہ اوہ۔میں نے ایک کرسٹل کا ریٹ پوچھا تو اس نے بتایا پانچ سو روپے۔ اس ایک کرسٹل کاسائز بمشکل شہادت کی انگلی جتنا ہوگا۔ وہاں پڑے اس پتھر کے ٹکڑے کو غور سے دیکھا تو اس کی قیمت بنانے لگا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا بھائی اس طرح کے پتھر سالوں میں کبھی کبھار ملتے ہوں گے۔ اس نے کہا نہیں سر، یہ خزانہ ان پہاڑوں میں چھپا ہوا ہے، بس۔۔ جس دن کوئی قدر کرنے والا آگیا تو دیکھنا ہماری معیشت کہاں سے کہاں تک پہنچ جائے گی۔ خنجراب کو جاتے ہوئے بلندو بالا پہاڑ، سردی میں گرم چشمے کا خود گاڑی سے اتر کر دیکھا، دریا کے ساتھ چلتے چلتے ہوئے، بل کھاتی ہو ئی پر خطر چڑھائی سے ہوتے ہوئے خنجراب (چائنہ بارڈر) پہنچے، گرمیوں میں برف باری ہو رہی تھی۔ بڑی بڑی دور سے لوگ وہاں سیر کے لیے آئے ہوئے تھے۔ چائنہ بارڈر کو دیکھ میں حیران رہ کہ بس ایک نشان دہی کی ہوئی ہے اور ایک چھوٹا سا گیٹ ہے جو پاکستان اور چائنہ کی حد بندی کو ظاہر کرتا ہے۔ کوئی مسلح افراد نہیں کوئی ٹیشن والی صورت حال نہیں تھی۔ بس کیا لکھوں میرا ملک کتنا خوبصورت ہے۔ میں آپ سب سے ضرور کہوں گا جو لوگ بڑے عہدوں پر فائز ہیں خداراہ اپنی ذمہ داریاں انسانی، اخلاقی اور ملکی مثبت سوچ کے ساتھ پوری کرو۔ اپنی سادہ قوم سے درخواست ہے اپنے لیڈر کا انتخاب اس کی تاریخ اور مخلص پن کو دیکھ کر کرو۔ یہ جو وطن ہمیں ایک عظیم قربانیوں کے بعد اور خاص رحمت کا تحفہ ملا ہے اس میں رہنے والے باسی اپنا اپنا مثبت کردار ادا رکریں گے تو ہم سب دنیا میں رہتے ہوئے ایک جنت کا سماں پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ جب ہر آدمی کو انصاف، روزگارفوری ملے گا تو اس کی پریشانی ختم ہو جائے گی۔ ذرا سوچیں اور پاکستان کی قدر کریں۔ اپنا قیمتی وقت نکال کر اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان کی سیر کو ضرور جائیں اور تجزیہ کریں وہ لوگ جو امریکہ یا انگلینڈ کے چکر میں پاگل ہو رہے ہیں آپ سب کچھ بھول جاؤ گے۔ بے ساختہ آپ کی زبان سے نکلے گا ”میرا پاکستان“جو سکون اور اطمینان اپنی مٹی میں ہے وہ گورے کی سرزمین میں کہاں۔ دوستو! ہر چیزروپیہ، مال و دولت نہیں۔ اپنے ہی ملک کے لیے ایک ہو جاؤ، پیسہ بھی ہوگا اور سکون بھی، ایک دوسرے کے دکھ بانٹنے کا موقع بھی۔ آپ سب سے ایک بار پھر تاکید کرتے ہوئے امید رکھتا ہو ں کہ آپ مناسب موقع دیکھ پاکستان کی سیر کو ضرور جائیں گے۔ اللہ کریم آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 117 Articles with 63597 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More
26 Apr, 2018 Views: 498

Comments

آپ کی رائے