عطائیت

(Dr Nadeem Malik, Sialkot)

برنارڈ شاہ اپنے مضمون ’’کیا ڈاکٹر سائنسدان ہوتے ہیں ‘‘ میں کہتا ہے کوالیفائیڈ ڈاکٹر اپنی بڑی بڑی ڈگریوں کی بدولت اور نان کوالیفائیڈ اپنے کلینک کی صفائی ستھرائی دکھا کر لوگوں سے پیسہ بٹورتے ہیں۔ یعنی مقصد دونوں کا لوگوں کی جیبوں کو خالی کرانا ہوتا ہے آپ اختلاف کرسکتے ہیں مگر ایمانداری سے تجزیہ کیجئے تو آپ یقینا برنارڈ شاہ کی بات سے خود کو متفق علیہ پائیں گے۔ ہمارا رُوبہ زوال معاشرہ جس تیزی سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہورہا ہے اس کی ایک بہت بڑی وجہ تعلیم اور صحت جیسے حساس شعبوں کا کمرشل ہوجانا ہے بڑے بڑے مہنگے خوبصورت ہسپتالوں کی انتظامیہ میں آپ کو پتھر دل سرمایہ دار ہی ملے گا۔ جس کا مقصد ما سوائے پیسہ کمانے کے اور کچھ نظر نہیں آئے گا جعلی ڈگریوں والے ڈاکٹرز اور چائنہ رشین ڈگری ہولڈرز ڈاکٹرز علاج کے نام پر موت بانٹتے ہوئے نظر آتے ہیں اور لوگ بخوشی ان کے ہاتھوں مرنے کیلئے تیار ہیں کہ کم از کم بندہ تو کوالیفائیڈ ہے۔ اب نان کوالیفائیڈ بے چارے کے پاس اگر تجربہ ہے تو تعلیم اور ڈگری نہیں بہرحال کیا کوالیفائیڈ اور کیا نان کوالیفائیڈ سب اس بیمار معاشرے کا علاج کرکے اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں اب سوال یہ ہے کہ نان کوالیفائیڈ طبقہ یا عطائی حضرات پیدا کیسے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ کہاں سے آجاتے ہیں اور اگر یہ لوگ کسی قابل نہیں ہوتے تو پھر ان کے کلینکس اتنے چل کیوں جاتے ہیں اور اچھے خاصے باشعور لوگ بھی ان سے اپنا علاج کروانے جاتے ہیں۔ کیونکہ آج کا ہمارا موضوع خاص عطائیت ہے اور اس میں بھی ڈینٹل عطائی حضرات تو دیکھنے میں آیا ہے کہ تجربہ کار دندان ساز ایک اچھے خاصے ڈینٹل سرجن سے زیادہ ماہر ہوگا اور آپ تحقیق کرلیں کہ وہ نامی گرامی دندان ساز جو کئی دہائیوں سے پریکٹس کررہے ہیں ان کے کلینکس پر ہمارے ڈینٹل سرجن BDSحضرات بہ غرضِ کام سیکھنے جاتے ہیں۔ اب یہ ہمارے تعلیمی اداروں کی کوتاہی ہے یا پھر کچھ اور ایک طالب علم چار چھ سالہ میڈیکل ڈگری حاصل کرنے کے باوجود عملی طور پر خود کو ناکام تصور کرتے ہوئے کلینیکل پریکٹس کیلئے اس طرح کے کلینکس کا رخ کرتا ہے۔

جہاں تک سوال یہ ہے کہ عطائی حضرات پیدا کیسے ہوتے ہیں تو اس کا سیدھا سا جواب یہی ہے کہ یہی لوگ جو انسانیت کا مسیحا ہونے کے دعوے دار ہیں جب یہ اپنے ہسپتالوں یا کلینکس میں کسی نان کوالیفائیڈ فرد کو بغیر تنخواہ کے یا کم تنخواہ کے بطور ٹرینی رکھتے ہیں تو وہ کام سیکھنے کے بعد کیا کرتاہے کہاں جاتا ہے؟ جتنی دیر تک وہ ان کے کلینک یا ہسپتال میں کام کرتا ہے اسے یہ کوالیفائیڈ ڈاکٹر ویل ٹرینڈ مین اور اپنا اسسٹنٹ کہتے ہیں۔ اور یہی ان کا جانشین جب اپنی کم تنخواہ کی وجہ سے پیسے کمانے کے چکر میں آتا ہے تو یک دم وہ عطائی بن جاتا ہے اور اس کی علاج گاہ عطائیت کا اڈہ کہلاتی ہے۔ جسے یہ لوگ معاشرے کا ناسُور کہتے ہیں۔ اگر عالمی سطح پر ہم نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کہ دیگر ممالک نے نان کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کو ان کے تجربے کی بنیاد پر رجسٹرڈ کیا اور ایک مخصوس کیٹگری بنا کر محدود پیمانے پر ان کو پریکٹس کی اجازت دی گئی ان ممالک کی فہرست میں جدید دنیا کا ترقی یافتہ ملک انگلینڈ بھی شامل ہے اور جدید دنیا سے کم ترقی یافتہ ملک بنگلہ دیش بھی شامل ہے۔ یہ فقط ایک مثال ہے۔ ان لوگوں کی رجسٹریشن کے بعد آئندہ کسی بھی ہسپتال یا کلینک میں نان کوالیفائیڈ سٹاف کی بھرتی پر پابندی عائد کردی گئی اور ہمیشہ کیلئے عطائیت کا خاتمہ کردیا گیا۔ نیز دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے عام آدمی کو صحت کی سہولتیں اتنی عطا کر دی ہیں کہ لوگ بہترین سہولتوں سے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔

ہمارے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے گورنمنٹ ہسپتالوں میں پہلے ہی مریض سنبھالے نہیں جارہے لوگ سارا سارا دن قطار میں کھڑے رہتے ہیں کہ کب ہماری باری آئے اور علاج کے نام پر دو گولیاں ملیں۔ صحت کی سہولتوں کے فقدان کا رونا عام آدمی پہلے ہی رورو کر تھک گیا ہے۔ اور اوپر سے چیف جسٹس صاحب کے اس آرڈر نے عام آدمی سے سستے اور اس کے گھر کے قریب ترین علاج کی سہولت بھی چھین لی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کے چیف جسٹس صاحب کو اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر کوئی فیصلہ صادر فرمائیں۔ یہ لوگ بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور آپ کے بچوں جیسے ہیں۔ آپ ان کے بچوں کے منہ سے نوالا کیوں چھین رہے ہیں ہزاروں خاندانوں کے کفیل یہ لوگ بے روزگار ہوکر کہاں جائیں گے جہاں تک سوال یہ ہے کہ غلط علاج سے یہ لوگوں میں موت بانٹ رہے ہیں تو کہیں کہیں اکا دکا یہ واقعہ ہوتا ہے اس کی وجہ بھی غربت ہے کہ غریب آدمی بغیر لیبارٹری ٹیسٹ کے دوائی اور علاج معالجہ کرواتا ہے اور پھر جناب عالیٰ! کیا کوالیفائیڈز ڈاکٹرز کی کمپلینز نہیں ہیں کیا؟ وہ لوگ تو بڑی دیدہ دلیری سے لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیلتے ہیں کیونکہ ان کے پاس لوگوں کو مارنے کا سرٹیفکیٹ اور ڈگری موجود ہوتی ہے۔ جب کہ نان کوالیفائیڈ بندہ تو کسی سیریس مریض کو ہاتھ بھی نہیں لگاتا اور آگے ہسپتال ریفر کردیتا ہے۔

مہنگائی کہ اس دور میں یہ لوگ اگر عوام کو ان کی دہلیز پر سستا علاج فراہم کرتے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے مثال کے طور ڈینٹل ٹریٹمنٹ دنیا کا مہنگا ترین علاج ہے ہارٹ اور آئی سے مہنگا علاج ۔غریب آدمی ڈینٹل سرجن حضرات کی فیس دینے سے قاصر ہوتا ہے تو یہ علاج نان کوالیفائیڈ دندان ساز سستے داموں اور بہتر طریقے سے فراہم کرتے ہیں دیکھنے میں آیا ہے یہ لوگ بھی اب ڈسپوزیبل اور سٹرلائزیشن سسٹم کا اہتمام کرتے ہیں اور اپنے اوزاروں کی خطرناک بیماریوں سے حفاظت کو یقینی بناتے ہیں اور اپنے کلینک کی صفائی ستھرائی کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں ۔ یاد رہے تھرڈ کلاس قسم کے ڈینٹل یا فزیشن کی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی ۔

دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں بڑے بڑے کلینکس اور ہسپتالوں کی بھی مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کی شکایات آن دی ریکارڈ موجود ہیں جن میں سابقہ کرکٹر وسیم اکرم کی بیوی اور ورسٹائل قوال نصرت فتح علی خاں اور بہت سی دوسری مثالیں موجود ہیں۔ جو ان بڑے ہسپتالوں اور کلینکس سے خطرناک بیماریوں کے جراثیم لے کر موت کے منہ میں چلے گئے ہمارے میڈیا کا المیہ یہ ہے کہ میڈیا بھی بھیڑ چال اور محدود سوچ کا شکار ہے اور تصویر کا صرف ایک رخ دیکھتا اور دکھاتا ہے۔ ہمارے پالیسی میکرز اور تھنک ٹینکس کی عقل پر ماتم کیجئے کہ یہ لوگ زمینی حقائق سے واقف ہی نہیں ہوتے ٹھنڈے بند کمروں میں بیٹھ کر بننے والی پالیسیاں کبھی بھی عوامی فائدے میں نہیں جاتی جن میں ایک بڑی مثال ہیلتھ کیئر کمیشن کی ہے جو کسی بھی طرح پاکستانی معاشرے میں سودمند ثابت نہیں ہوسکتا ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ PMAاور PMDCاور ہیلتھ کیئر کمیشن جیسے اداروں میں تعصب کی عینک نہ اتاری تو آنے والے وقت میں شعبہ صحت میں وسائل کی عدم دستیابی بحرانی صورت اختیار کرے گی جو کسی بھی حکومت سے سنبھالے نہیں سنبھلے گی اور عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گی۔

یہاں پر سیاسی نقطہ نظر کو ٹچ کرتا چلوں آج اگر آپ پیرامیڈیکس کے کسی بھی شعبہ سے وابستہ لوگوں سے بات کرکے دیکھ لیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے جن میں میڈیکل سٹوروں والے اور ایک کثیر تعداد جنرل پریکٹشنرز اور ڈینٹل پریکٹشنرز کی ہے ۔ وہ آئندہ الیکشن میں ن لیگ کو ووٹ دینے کیلئے تیار نہیں کہ ان لوگوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہمارے بچوں کے منہ سے نوالا چھینا گیا۔

حکومت وقت عوام کے مائی باپ ہوتے ہیں لوگوں کے جان ومال اور روزگار کو تحفظ دینا حکومت کا فرض ہوتا ہے۔ یہ لوگ تو بھٹکے ہوئے راہی ہیں جو غربت اور لاعلمی کی وجہ سے یہاں تک آگئے ہیں ان کے پیچھے بھی لاکھوں خاندان پل رہے ہیں یہ لوگ کوئی چوری ڈکیتی نہیں کررہے یہ بھی ملک کے شریف شہری ہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو چھوٹی موٹی ٹریننگز اور ریفریشر کورسز کروا کر محدود پیمانے پر پریکٹس کی اجازت دے کر رجسٹرڈ کرلیا جائے۔ جیسا کہ پوری دنیا میں کیا گیا ہے کیونکہ جب آپ معمولی سی ٹریننگ کے بعد ایک لیڈی ہیلتھ ورکر کو جس کا میڈیکل تجربہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے کو عورتوں کے علاج معالجہ کی نہ صرف اجازت دیتے ہیں بلکہ کروڑوں روپے اشتہارات کی نظر کردیتے ہیں۔ کہ دور دراز کے علاقوں میں صحت کے مسائل کیلئے ان لیڈی ہیلتھ ورکروں سے رجوع کریں۔ تو سرکار یہ جرنل پریکٹشنرز اور ڈینٹل پریکٹشنرز جن کا بیس سے چالیس سال کا تجربہ ہوتا ہے بھی تو غربت کی ماری عوام کا ان دور دراز علاقوں میں علاج کرتے ہیں جہاں آپ کا MBBSاور BDSجانے کا تصور نہیں کرتا تو پھر یہ دوہرے معیار کیوں؟

لہٰذا چیف جسٹس صاحب اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف صاحب سے اپیل ہے کہ اس عوامی مسئلے کو زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر نظر ثانی کریں اور کوئی احسن فیصلہ اور حکم صادر فرمائیں۔ یوں بیک جنبش قلم ان لوگوں کا معاشی قتل نہ کریں اور لوگوں سے یہ سستا اور قریب ترین علاج نہ چھینیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Nadeem Malik

Read More Articles by Dr Nadeem Malik: 3 Articles with 1360 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Apr, 2018 Views: 718

Comments

آپ کی رائے