سکون کیسے ممکن ہے؟!

(S A Kareem shah, Pasni)
سکون پانے کیلیے ان باتوں پر عمل کریں جن کو تحریر میں لکھا گیا ہے۔ جلد وہ دن قریب ہوگا۔

سکون کی حقیقی تلاش

سکون سے مراد وہ اطمینان ہے جس سے ایک شخص زہنی طور پر خود کو آرام دہ تسلیم کرتا ہے۔ سکون سے انسان کی روح کو بے حد آرام ملتا ہے۔ جس کے نتیجے میں سارا زہنی دباؤ ختم ہو جاتا ہے۔ جس کو حاصل کر کہ انسان مزید پر جوش اور تازہ دم ہو جاتا ہے۔ زندگی کی ہر چیز بے حد خوبصورت لگنے لگتی ہے۔ سکون پانے والا انسان زندگی کو بہتر طریقے سے جی سکتا ہے۔

لیکن آجکل کی دنیا میں انسان خود سے بیزار ہو گیا ہے۔ ایک دم اندر سے ٹوٹ چکا ہے۔ سوچنے والی بات سامنے آتی ہے کہ اتنے سہولت پزیر دنیا میں آخر انسان اتنا بے سکون کیوں؟ کیا سہولیات کا تعلق سکون دینا نہیں ہوتا؟ کیا عیش و آرام والی زندگی ہمیں سکون فراہم کرنے کیلیۓ کافی نہیں؟!

جی ہاں یہ سوالات بلکل سہی ہیں۔ عیش و آرام کی زندگی ہمیں سکون سے بے حد دور کرتی ہے۔ سکون کی زندگی کیلیۓ ہمیں خود کو سہولیات کے چکر میں پنسے زہن کو آرام دہ کنارے پر لے جانا ہوگا۔ خود کی اچھی بری، سکون کے احساس کو محسوس کرنا ہوگا۔

سہولیات کی زندگی ہی ہمیں بے سکون کرتی ہے۔ اس کی مثال آجکل موبائل فون اور انٹرنیٹ کا کثرت سے استعمال کرنا ہے۔اس کا نشہ یعنی ایڑیکشن لگنے سے انسان کو ان سب کا کبھی گمان نہیں ہوتا۔ احساس ہوتا ہے تو بس اس وقت جب زہن بے سکوبی کی انتہا تک پہنچھ جاتا ہے۔ آجکل کے ٹی وی چینلز اور من پسند پروگراموں کی ریس نے انسان کے گھر میں بھی اتفاق سے بیٹھنا چھیں لیا ہے۔

زہن کی بے سکونی آجکل اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ کمزور زہن اب موٹی ویشن کا سہارا لے رہے ہیں۔ جس سے کچھ واضع حل بھی نہیں نکلتا بس ایک منٹ کیلیۓ زہن کو دھکیل کر سکون حاصل کی جاتی ہے۔ جو بعد میں پھر بے سکونی کا باعث بنتی ہے۔

یہاں تک کہ ماہرِ ذہنی امراض بھی سکون دلا نہیں سکتے جب آپ اس میں آپ کے خود کی محنت شامل نہ ہو۔ یہ صرف میں ہی نہیں بلکہ ایک نامور لکھاری ڈیل کارنیگی نے اپنی کتاب “ پریشان ہونا چھوڑیئے جینا شروع کیجئیے “ میں کہی ہے۔

سکون پانے کیلیے آج ہی گھر بیٹھ کر ایسے جگہوں کو منتخب کریں جہاں واقع ہی آپ کو حقیقت میں سکون میسر ہوتی ہے۔ دو دن کی زندگی بے سکونی میں بسر نہ کریں اسے ہمیشہ کھلتے گلاب کہ طرح پر سکون اور دلکش انداز میں بسر کریں۔ خود سکون سے جیے اور دوسروں کو بطور انسانیت اور شہری جینے کی ہدایت کریں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: S A Kareem shah
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2018 Views: 2309

Comments

آپ کی رائے