صاحب دلائل الخیرات شیخ سلیمان جزولی

(Syed Imaad Ul Deen, Faisalabad)

صاحبِ دَلائِلُ الْخَیْرات فَنافی المُصْطفیٰ ، سَنَدُ الْاَصْفِیَا، عارفِ کامل ، قطبُ الاَقْطاب، وحیدُ الدَّہر، فَرید الْعَصر، شیخ ، امام ابُوعبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا نامِ نامی اسمِ گرامی محمد، والد کا نام عبدالرحمن، جب کہ دادا کا اسمِ گرامی ابوبکر بن سلیمان ہے۔

تاریخ میں بہت سے ایسے بزرگ ملتے ہیں جن کی نِسبت والد کی بجائے جَدِّاَعلیٰ کی طرف ہوتی ہے،حضرت سَیِّدُنا امام جَزُوْلی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو بھی بالعموم ان کے والد کے دادا جان حضرتِ سلیمان کی طرف مَنْسُوب کر کے محمد بن سلیمان کہا جاتا ہے۔

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ ٨٠٧ ؁ھ بمطابق 1404؁ء کو ملکِ مراکش کے مقام'' سَوس'' میں پیدا ہوئے۔آپ حَسَنی سَیِّدہیں، اکیس واسِطوں سے آپ کا سلسلہ نَسب حضرت سَیِّدُنا امام حَسَن مُجتبیٰ رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے ملتا ہے ۔ نیز آپ مَذْھباً مالکی (یعنی حضرتِ سَیِّدُنا امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کے مُقَلِّد) اور مَشْرَباً(یعنی طریقت کے اِعتبارسے) شاذلی تھے۔

حضرتِ سَیِّدُناامام محمد بن سُلیمان جَزُوْلی عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہ عَلَیْہ خُوش عَقیدہ بُزُرگ تھے جن کا تعلُّق اَہلِ سُنَّت و جماعت سے تھا۔آپ ذاتِ باری تعالیٰ کے حوالے سے بڑا ٹھو س عَقیدہ رکھتے تھے اور آپ نے جابجا اللّٰہ تعالیٰ کی ذات و صِفات اور اس کی قُدْرتِ کاملہ کا بڑے حسین پیرائے میں ذِکر کیا ہے۔

دَلائِلُ الْخَیْراتشریف بُنْیادی طور پر دُرُود و سلام کا مَجمُوعہ ہے مگر اس کے ضِمن میں اللّٰہ تعالیٰ کی صِفات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ دُرُود پڑھنے والے کے دل میں اللّٰہ تعالیٰ کی عَظْمَت و شان اور اس کا جَلال وکَمال راسِخ ہو جاتا ہے۔

آپ ہمہ وَقت اَوْراد و وظائف میں مَشْغول رہتے، ہرمُعامَلہ میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف دھیان رکھتے، کتاب و سُنَّت پر سختی سے کاربند اور حُدُودِ الہٰی کی پاسبانی کرنے والے تھے، باِلاخر آپ کی نیکی اوربُزُرگی کی دُھوم مچ گئی اور خلقِ خدا آپ سے فَیضیاب ہونے لگی۔آپ دن رات میں ڈیڑھ قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے، بِسْمِ اللّٰہ شریف کا وَظِیفہ پڑھتے نیز شب و روز میں دو مرتبہ دَلائِلُ الْخَیْرات ختم کرنابھی روز کے معمولات میں شامل تھا۔

حضرتِ سَیِّدُنا شیخ محمد بن سلیمان جَزُوْلی عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہ عَلَیْہ سلسلہ شاذلیہ میں بَیْعَت کے بعد چودہ سال تک خَلْوَت گزیں رہ کر عِبادت و رِیاضت اور منازلِ سُلوک طے کرنے میں مشغول رہے۔ چودہ سالہ طویل خَلْوت کے بعد نیکی کی دَعوت کو عام کرنے اور خلقِ خُدا کی ہدایت کے لیے آپ نے جَلْوَت اِختیارکی ، آسِفی شہر کو آپ نے اپنی دینی سرگرمیوں کا مَرکز بنایا اورمُریدین کی تَربیت و ہِدایت کا کام سر اَنجام دینا شُروع کیا۔ بے شُمار لوگ آپ کے دَستِ حق پَرَست پر تائِب ہوئے اور آپ کا چرچا دُنیا بھر میں پھیل گیا، آپ سے بیشمار عظیم کرامات اور حیرت اَنگیز خَوارِق رُونما ہوئے، آپ کے مَناقب اورکَمالات میں غور کرنے سے عَقْلِ انسانی دَنگ رہ جاتی ہے۔

صاحبِ دَلائِلُ الْخَیْرات حضرتِ سَیِّدُناشیخ محمد بن سلیمان جَزُوْلی عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کا اِمتیازی وَصف عِشْقِ رسول صَلّٰی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے۔ آپ تَحدیثِ نعمت کے طور پر اپنے عشق کی کیفیت کو دَلائِلُ الْخَیْرات شریف میں یوں بیان فرماتے ہیں:''وَنَفَیْتَ عَنْ قَلْبِیْ فِیْ ھٰذَاالنَّبِیِّ الْکَرِیْمِ الشَّکَّ وَالْاِرْتِیَابَ وَغَلَّبْتَ حُبَّہُ عِنْدِیْ عَلٰی حُبِّ جَمِیْعِ الْاَقْرِبَاءِ وَ الْاَحِبَّائِ، ''یعنی اے اللّٰہ ! تو نے میرے دل کو اس نبیِّ کریم صَلّٰی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بارے میں ہر قسم کے شَک وشُبْہہ سے دُور رکھا ہے اور آپ کی مَحَبَّت کو میرے نزدیک تمام رِشتہ داروں اور پیاروں کی مَحَبَّت پر غالب کردیا ہے۔''آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تعالی علیہ کے عشقِ رسول کے نظارے دَلائِلُ الْخَیْرات شریف میں جا بجا دیکھے جا سکتے ہیں۔

آپ کی ساری عُمر حُضُور نبیِّ کریم صَلّٰی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود پڑھتے، دُرُود شریف کی ترغیب دیتے اور دُرُود شریف کی نَشْرو اِشاعت میں گزری۔

صدرُ الشَّریعہ ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علَّامہ مولانا محمد اَمجد علی اَعظمی علیہ رَحمۃُ اللّٰہ عَلَیْہ بہارِ شریعت جلد 1 صفحہ 114پر فرماتے ہیں:''وہ لوگ کہ(جو) اپنے اَوقات دُرُود شریف میں مُستغرق رکھتے ہیں ان کے بدن کومَٹِّی نہیں کھاسکتی۔''

حضرتِ سَیِّدُنا شیخ محمد بن سلیمان جَزُوْلی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نہ صرف خود رحمت ِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود وسلام کی کثرت فرماتے تھے بلکہ آپ کے مرتَّب کردہ مجموعہ درود ''دَلائل الْخَیرات ''کی مدد سے دنیا بھر میں دُرُودو سَلام پڑھا جاتاہے ۔چنانچہ وصال کے ستتر (77) سال بعد جب آپ کو قَبر سے نکالا گیا تو آپ کا جسمِ مُبارک بالکل ترو تازہ تھا، جیسے آج ہی دَفن کیاگیاہو، اتنی طویل مُدَّت گزر جانے کے باوجود آپ کا جسم مُتَغَیَّر نہ ہوا تھا۔ آپ کی داڑھی اور سر کے بال ایسے تھے، جیسے آج ہی حجام نے آپ کی حَجامت بنائی ہو۔ایک شخص نے آپ کے چہرے کواُنگلی سے دبایا تو اس کی حیرت کی اِنتہا نہ رہی کہ اس جگہ سے خُون ہٹ گیا اور جب اُنگلی اُٹھائی تو خُون پھر اپنی جگہ لوٹ آیا، جیسے زِندوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔

مراکش میں آپ کا مزار مَرجعِ خَلائق ہے۔ مزار پر بڑے رُعب و جَلال کا سَماں ہے، لوگ زِیارت کے لیے جُوق در جُوق حاضِری دیتے ہیں اور دَلائِلُ الْخَیْرات شریف کا بکثرت وِرْد ہوتاہے۔شاید یہ دُرُود شریف ہی کی برکت ہے کہ آپ کی قبرِ اَطہر سے کَستُوری کی مہک آتی ہے۔

آپ کی ذات مرجعِ خَلائق تھی، مُریدین کے علاوہ بھی ہزاروں اَفراد آپ کی زِیارت و ملاقات کے لیے حاضِر ہوتے تھے۔آپ کے عام مُریدین کا تو کیا شُمار، خَواص کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی۔ یہاں تک کہ آپ کے فَیض یافتہ مُریدین میں سے بارہ ہزار چھ سو پینسٹھ (12665) تو ایسے کامل تھے کہ مقامِ ولایت پرمُتَمَکِّن ہوئے اور اپنی اپنی اِسْتعداد کے مُطابق قُربِ الہٰی کے اَعلیٰ مَقامات پر فائز ہوئے۔

حضرت سَیِّدُناشَیْخ محمد بن سُلَیْمان جَزُوْلی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : ''میں سَفَر میں تھا، ایک مَقام پر نماز کا وَقْت ہو گیا، وہاں کُنواں تو تھا مگر رَسّی اور ڈَول نَدارَد (ڈول اور رَسّی موجود نہ تھی) میں اسی فِکْر میں تھا کہ ایک مکان کے اُوپر سے ایک مُنِّی نے جھانکا اور پوچھا:'' آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟'' میں نے کہا:'' بیٹی! رسّی اور ڈَول۔ ''اُس نے پو چھا: ''آپ کا نام؟ ''فرمایا: محمد بن سُلَیْمان جَزُوْلی۔ مُنّی نے حیرت سے کہا: ''اچّھا آپ ہی ہیں جن کی شُہْرت کے ڈَنْکے بج رہے ہیں مگرحال یہ ہے کہ کُنویں سے پانی نہیں نِکال سکتے! ''یہ کہہ کر اس نے کُنویں میں تُھوک دیا۔ کمال ہوگیا! آناً فاناً پانی اُوپر آگیا اور کُنویں سے چَھلکنے لگا۔ آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے وُضُو سے فراغت کے بعداُس باکمال مُنِّی سے فرمایا: ''بیٹی! سچ بتاؤ تم نے یہ کَما ل کس طرح حاصِل کیا؟'' کہنے لگی: ''یہ اُس ذاتِ گرامی پر دُرُود پاک کی بَرَکَت سے ہواہے اگروہ جنگل میں تشریف لے جائیں تودَرندے، چرندے آپ کے دامَن میں پناہ لیں۔ ''آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ''اس باکمال مُنّی سے مُتَأَثِّر ہوکر میں نے وہیں عہد کیا کہ میں دُرُود شریف کےمُتَعَلِّق کِتاب لکھوں گا۔ '' (سعادۃ الدارین، الباب الرابع، اللطیفۃ الخامسۃ عشرۃ بعد المائۃ، ص١٥٩ مفہوماً)چُنانْچِہ آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دُرُود شریف کے بارے میں کِتاب لکھی جو بَہُت مقبول ہوئی اور اس کِتاب کا نام ''دَلائِلُ الْخَیْرات'' ہے ۔ (ماخوذ گلدستہ درود شریف )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Imaad Ul Deen

Read More Articles by Syed Imaad Ul Deen: 144 Articles with 156990 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 May, 2018 Views: 993

Comments

آپ کی رائے