چیف جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء اور سردار خالد ابراہیم خان

(Junaid Ansari, )

حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی ؒ اپنی تصنیف حیات الصحابہؓ میں لکھتے ہیں کہ حضرت عبیداﷲ بن رافع ؓفرماتے ہیں کہ شراب کے چند مشکیزے کہیں سے آئے حضرت عبادہ بن صامت ؓ نے جاکر اُن تمام مشکیزوں کو پھاڑ دیا اور کہا کہ ہم لوگ حضور اکرم ؐ سے اس بات پر بیعت ہوئے کہ دل چاہے یا نہ چاہے ہر حال میں بات سنا کریں گے اور مانا کریں گے ۔ تنگی اور وسعت دونوں حالتوں میں (اﷲ کی راہ میں )خرچ کریں گے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں گے اور ہم اﷲ کی خوشنودی کی بات کہیں گے ، اﷲ کے بارے میں کسی کی ملامت سے نہیں ڈریں گے اور جب حضور اکرم ؐہمارے ہاں یثرب تشریف لائیں تو ہم آپ کی مدد کریں گے اور اُن تمام چیزوں سے آپ کی حفاظت کریں گے جن سے ہم اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ہمیں (ان کاموں کے بدلے میں ) جنت ملے گی یہ وہ بیعت ہے جس پر ہم حضور اکرم ؐ سے بیعت ہوئے ۔

قارئین ایک طویل عرصے بعد دوبارہ قلم اُٹھا کر آپ کی خدمت میں حاضر ہیں حاضری کی وجہ دو شخصیات سے محبت اور ان دو شخصیات کی آپس میں شکر رنجی والی کیفیت ہے زندگی میں ہر انسان کبھی نہ کبھی ایسی کشمکش سے دو چار ہوتا ہے کہ کسی جھگڑے میں دونوں فریقین کے درمیان کھڑا شخص دونوں شخصیات سے محبت رکھتا ہے اور یہ شخصیات بعض اوقات چکی کے دو پاٹ بن کر اُسی شخص کو پیس کر رکھ دیتے ہیں جو دونوں فریقوں کا بھلا چاہتا ہے کچھ ایسی ہی کیفیت سے آج ہم دو چار ہیں پہلی شخصیت آزاد جموں کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیا ء ہیں جبکہ دوسری شخصیت بانی صدر آزادکشمیر غازی ملت سردار ابراہیم خان مرحوم کے صاحبزادے ممبر قانون ساز اسمبلی جناب سردار خالد ابراہیم خان ہیں ۔

شخصی خاکے کے طور پر ہم پڑھنے والے دوستوں کو بتاتے چلیں کہ چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر سپریم کورٹ چوہدری محمد ابراہیم ضیاء یکم اپریل 1955ء کو گاؤ ں کوٹ میں پیدا ہوئے اسی گاؤں سے مقامی تعلیمی ادارے سے پرائمری تعلیم حاصل کی سیکنڈری سکول کا امتحان گورنمنٹ بوائز ہائی چکار سے پاس کیا انٹر میڈیٹ اور گریجویشن گورنمنٹ کالج مظفرآباد سے پاس کرنے کے بعد 1979ء میں یونیورسٹی لا ء کالج پنجاب سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی 4اگست 1982ء کو بحثیت ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کو جوائن کیا اور 1983ء میں ڈسٹرکٹ بار کونسل کے ممبر منتخب ہوئے 31مئی 1984ء کو سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ کی حیثیت سے این رول ہوئے اس کے بعد سینٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد کے صدر اور جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے سنہ 2000آپ کی اپوائنٹمنٹ احتساب بیورو میں بحیثیت چیف پرا سیکیوٹر کے طور پر ہوئی اس کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے جبکہ تین مرتبہ مسلسل آپ بار کونسل کے ممبر منتخب ہوتے رہے 2009ء میں آپ وائس چیئرمین آزادجموں کشمیر بار ایسوسی ایشن منتخب ہوئے 2009ء میں آپ کو ایڈووکیٹ جنرل بنا دیا گیا اور اپریل 2010ء میں آپ کو ایڈہاک جج سپریم کورٹ کے طور پر ترقیاب کرنے کے بعد 16دسمبر2011میں مستقل جج بنا دیا گیا اور 25فروری 2017ء کو چوہدری محمد ابراہیم ضیاء آزادجموں کشمیر سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیاگیا۔

سردار خالد ابراہیم خان اپنے والد غازی ملت بانی صدر آزادکشمیر سردار ابراہیم خان مرحوم کی طرح بے داغ کردار رکھنے والے ایسے سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں جو اصولوں کی خاطر اقتدار کی کرسی اور وزارت عظمیٰ کی پیشکش کو بھی جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں محترمہ بینظیر بھٹو شہید جب آزادکشمیر کے دورہ پر آئیں تو یہ واقعہ بہت مشہور ہے کہ سردار خالد ابراہیم خان اُن کی گاڑی چلا رہے تھے ایک علاقے میں پہنچ کر سردار خالد ابراہیم خان محترمہ بینظیر بھٹو کو کہا کہ ہمارے علاقے کی خواتین پردے کی بہت پابند ہیں لیکن آپ چونکہ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی ہیں اس لیے آپ کی محبت میں سدھن قبیلے اور دیگر قبیلوں سے تعلق رکھنے والی ہزاروں خواتین آپ کے استقبال کے لیے سڑک کے کنارے موجود ہیں ان کی محبت اور عقیدت کا احترام کرتے ہوئے آپ کو گاڑی سے باہر نکل کر ان سے مختصر خطاب کرنا چاہیے بینظیر بھٹو نے شیڈول میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے انکا ر کر دیا اس پر سردار خالد ابراہیم خان نے احتجاج کرتے ہوئے گاڑی روکی چابی بے نظیر بھٹو کو پیش کی اور واک آؤٹ کر گئے یہ حوصلہ بینظیر بھٹو کی زندگی میں پیپلزپارٹی کے کسی بھی لیڈر میں دکھائی نہیں دیتا سردار خالد ابراہیم خان وہ واحد ممبر قانون ساز اسمبلی جنھوں نے چار مرتبہ وزارت عظمیٰ کی تبدیلی کے شرم ناک کھیل کے دوران احتجاج کرتے ہوئے اُس اسمبلی سے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ ایسی شرمناک اسمبلی کا حصہ رہنا میں اپنی توہین سمجھتا ہوں ۔

قارئین گزشتہ چند ہفتوں سے چیف جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء اور ممبر قانون ساز اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان آمنے سامنے ہیں اور اُس کی وجہ سردار خالد ابراہیم خان کا وہ اصولی موقف ہے جو پانچ ججوں کی تعیناتی کے موقع پر انھوں نے قانون ساز اسمبلی میں اپنی تقریرکے دوران ظاہر کیا سردار خالد ابراہیم کا یہ کہنا تھا کہ ججز کی تعیناتی کرتے ہوئے میرٹ کی پاسداری نہیں کی گئی اور سیاسی ، قبیلائی اور ذاتی مفادات و پسند کی بنیاد پر ایسے لوگ جج بنا دیے گئے ہیں جو اس عہدے کے قابل نہیں ہیں یہ موقف اسمبلی کے فلور پر سردار خالد ابراہیم خان ایسے دبنگ انداز میں پیش کیا کہ اسمبلی میں سناٹا چھا گیا اور مسلم لیگ ن کے وزرا ء سمیت حکومتی بینچز سے کسی کو بھی جواب دینے کی جرات نہ ہوسکی سردار خالد ابراہیم خان کی اسمبلی کی یہ تقریر تمام قومی میڈیا نے نمایاں انداز میں اُجاگر کی اور اس کے فوراًبعد چیف جسٹس آزادجموں کشمیر سپریم کورٹ چوہدری محمد ابراہیم ضیاء نے از خود نوٹس لیتے ہوئے سردار خالد ابراہیم خان کو عدالت میں پیش ہوکر صفائی پیش کرنے کا حکم دیا کہ قانون کے مطابق کسی بھی جج پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا آپ نے ایسا کیوں کیا غیرت مند اور دلیر سدھن خون رکھنے والے سردار خالد ابراہیم خان جواباًڈٹ گئے اور انھوں نے قومی میڈیا پر اعلان کردیا کہ عدالت میں پیش ہونے کے بجائے میں اپنے موقف کو جائز سمجھتے ہوئے جیل جانا اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے اس پر عدالت کی طرف سے یہ عندیہ قومی میڈیا پر رپورٹ ہوا کہ سپریم کورٹ سردار خالد ابراہیم خان کو اُن کی اسمبلی سیٹ سے نااہل قرار دینے کی سزا دے سکتی ہے اس پر آزادکشمیر کے طول وارض میں یہ بحث چھڑ گئی کہ مظفرآباد اور راولاکوٹ ڈویژن آمنے سامنے آگئے ہیں اور اگر خدانخواستہ سردار خالد ابراہیم خان کو اسمبلی سیٹ سے نااہل قرار دیا گیا تو سدھن قبیلہ جو پاکستان آرمی اور بیوروکریسی میں بہت بڑی نمائندگی رکھتا ہے وہ آزاد کشمیر حکومت کو ہلا کر رکھ دے گا۔ یہاں ہم ضمناً ایک اور واقعہ قارئین کو یاد دلاتے چلیں کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک دلیر اور منہ پھٹ صحافی نے یہ سوال کر ڈالا کہ جناب وزیراعظم آپ نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کو جج بنا دیا ہے کیا یہ مناسب ہے اس پر راجہ فاروق حیدر خان طرارے میں آگئے اور انھوں نے صحافی کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہاکہ میں ابھی ہائی کورٹ سے کہہ کر آپ کو گرفتار کرواتا ہوں اس پر قومی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا نے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی مناسب گوشمالی کی اور سوال کو صحافی کا حق قرار دیا اس بات پر بھی تنقید کی کہ حقیقت میں مسلم لیگ ن کے پارٹی کارکنان کو جج بنایا گیا ہے ۔

قارئین ہم چچا غالب کی زبان میں اتنا کہیں گے

عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی
میری وحشت، تری شہرت ہی سہی
قطع کیجئے نہ، تعلق ہم سے
کچھ نہیں ہے، تو عداوت ہی سہی
میرے ہونے میں، ہے کیا رُسوائی؟
اے، وہ مجلس نہیں، خلوت ہی سہی
ہم بھی دشمن تو ہی نہیں ہیں اپنے
غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
اپنی ہستی ہی سے ہو، جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں، غفلت ہی سہی
ہم کوئی ترک وفاکرتے ہیں
نہ سہی عشق ، مصیبت ہی سہی
کچھ تو دے ، اے فلک نا انصاف
آہ وفریاد کی رخصت ہی سہی
ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
بے نیازی تری عادت ہی سہی
یار سے چھیڑ چلی جائے اسد
گر نہیں وصل، تو حسرت ہی سہی

ہم چیف جسٹس سپریم کورٹ چوہدری محمد ابراہیم ضیاء اور ممبر قانون ساز اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان سے گزارش کرتے ہیں کہ پوائنٹ آف نوریٹرن پر جانے کے بجائے مہربانی فرما کر کوئی ایسا راستہ نکالا جائے جس سے عدالت کی توہین بھی نہ ہو اور روز حال اور مستقبل میں سیاسی بنیادوں پر ججوں کی تعیناتی کو ایک گالی بنا دیا جائے عدالتیں مقدس ترین مقامات ہیں جہاں سے مظلوم انصاف کی اُمید رکھتے ہیں کیا ماضی میں ایسی داستانیں موجود نہیں ہیں کہ جن کے مطابق قبیلوں ، سیاسی وابستگیوں اور چمک کی بنیاد پر جج تعینات کیے جاتے رہے اور یہ وہی جج تھے جو مارشل لاء کو بھی قانونی و آئینی جوازیت فراہم کرتے رہے اور جنھوں نے نظریہ ضرورت کی چادر اوڑھ کر ذوالفقار علی بھٹو کو سولی پر لٹکا دیا خدا را اس قوم پر رحم کیجئے اور سیاسی بنیاد پر ایسے فیصلے نہ کیجئے جو قوم کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیں ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ چوہدری محمد ابراہیم ضیاء میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور سردار خالد ابراہیم خان بھی آزاد کشمیر کی سیاست کا وہ قیمتی اثاثہ ہیں جس کی حفاظت ضروری ہے اس جگہ تک تنازعہ مت پہنچائیے کہ یا تو عدالت کی دستار خطرے میں پڑ جائے اور یا پھر آئندہ کوئی بھی سیاسی نمائندہ اصولوں کی بات کرنے سے توبہ کرلے ۔

آخر میں حسب روایت لطیفہ پیش خدمت ہے
قتل کے کیس میں ایک صاحب وکیل کی تلاش میں تھے انھوں نے ایک وکیل سے پوچھا اس کیس کی آپ کتنی فیس لیں گے
وکیل صاحب نے دس ہزار روپے فیس بتائی
اس پر وہ صاحب دوسرے وکیل کے آفس میں پہنچے اور اُن سے فیس پوچھی تو انھوں نے پانچ لاکھ روپے طلب کیے انھوں نے اچھا وکیل سمجھ کر کیس اور فیس اُن کے حوالے کیں دو ماہ بعد ملزم کو پھانسی کی سزا مل گئی
اس پر پہلے وکیل نے جملہ کسا
’’جو کام میں دس ہزار میں کر رہا تھا آپ نے وہ کام پانچ لاکھ روپے میں کروایا ہے ‘‘

ہمیں اُمید ہے کہ چنگاری کو ہوا دینے والے لوگ ناکام ہوں اور چیف جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء اور سردار خالد ابراہیم خان سازشی عناصر کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اﷲ سب کے حال پر رحم فرمائے آمین
}چیف جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء اور سردار خالد ابراہیم خان
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Junaid Ansari

Read More Articles by Junaid Ansari: 425 Articles with 215140 views »
Belong to Mirpur AJ&K
Anchor @ JK News TV & FM 93 Radio AJ&K
.. View More
25 Jun, 2018 Views: 424

Comments

آپ کی رائے