عبد الستار ایدھی کی دوسری برسی پرخراجِ تحسین

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

عبد الستار ایدھی کی دوسری برسی پرخراجِ تحسین
28)فروری1928ء۔8جولائی2018ء(
*

خدمت خلق کا نشان ، چھ دیہائیوں تک عوام الناس کی بلا تفریق خدمات کویقینی بنانے والا، عوام الناس کی خدمت کو ایک نئی جہت اور نئی سمت دینے والاعبد لستار ایدھی 8جولائی کی شب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہوگیا۔ انا اﷲ و انا علیہ راجیعون۔ پاکستان میں آج جتنے بھی خدمت خلق کے ادارے اور تنظیمیں ہیں ان کے بارے میں یہ کہنا درست ہوگا کہ انہوں نے خدمات کا ڈھنگ اور سلیقہ ایدھی سے ہی سیکھا، اس کی پیروی کی ۔میں نے 8 ستمبر2011ء،10 شوال 1423ھ سعودی عرب کے شہر جدہ میں اپنے قیام کے دوران ایدھی سے اپنے تعلق اور خدمت خلق کے حوالے سے ایدھی کا ایک تفصیلی شخصی خاکہ قلم بند کیا تھا۔ ایدھی کی دوسری برسی کے موقع پراپنا 7 سال قبل لکھا گیا مضمون نظر قارئین اور اس عظیم شخصیت کو خراج عقیدت کے طور پر پیش کر رہا ہوں۔
................................................

عبد لستار ایدھی نام ہے ایک ایسی شخصیت کا جس کی زندگی انسانیت کی خدمت سے عبارت نظر آتی ہے۔ ایدھی نے پاکستان میں انسانی خدمت کی ایسی لازوال روایت قائم کی کہ آج پاکستان میں بے شمار لوگ انفرادی اور اجتمائی طور پرلوگوں کی خدمت میں مصروفِ عمل نظر آتے ہیں۔ عبد الستار ایدھی میرا ذاتی دوست نہیں ، میرا رشتہ دار نہیں، اور نہ ہی اُس سے میرے ذاتی مراسم ہیں البتہ میَں نے عبد الستار ایدھی کو اس وقت بہت قریب سے دیکھا جب وہ جوان تھا ،اس کی پوری زندگی خدمت انسانیت سے وابستہ نظر آتی ہے۔ اس نے اپنی فلاحی خدمات کا کا آغازکراچی کے علاقے میٹھا درسے کیا تھا،میٹھا در اورمیری رہائش کے درمیان بہت کم فاصلہ تھا،عبد اﷲ ہارون گورنمنٹ کالج جس میں میَں نے ۲۴ سال خدمات انجام دیں میٹھادر اور کھارادر سے کچھ ہی مسافت پر ہے۔

عروس البلاد کراچی کی ایک قدیم بستی ’’لیاری‘‘میرے اور عبدالستا ایدھی کے مابین قدرِ مشترک ہے۔ ایدھی بنیادی طور پر کراچی کی ایک غریب اور کچی بستی لیاری کا باسی ہے اور میرا بچپن اور جوانی بھی اِسی بستی میں گزری۔ میری فلاحی اور نیم سیاسی سرگر میوں کا مہوربھی لیاری ہی رہا ۔ لیاری نام ہے کراچی کی ایک ایسی بستی کا جس میں ایک طرف تو انتہائی غریب لوگ آباد ہیں تودوسری جانب متوست لوگوں کے علاوہ میمن، کاٹھیاواڑی،گجراتی جو کاروباری ہیں کھارا در، میٹھا در، وزیر میشن، صرافا بازا ر، میمن سوسائیٹی جیسی آبادیوں میں چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں لیکن وہ مالی طو ر مستحکم ہیں۔عبد الستار ایدھی نے انسانیت کی خدمات کا آغازا میٹھا در سے کیا۔تقسیم سے قبل یہاں ہندوں کی اکثریت تھی اب ان قدیم بلڈنگوں میں رہنے والے مکینوں کی اکثریت میمن، کاٹھیا واڑی،گجراتی، سندھی، ترک اور کچھ سے تعلق رکھنے والوں کی ہے ۔ یہ علاقہ انتہائی تنگ اور گنجان آباد ہے، میٹھا در اور کھا را در کے اردگرد واقع علاقوں میں قائد اعظم محمد علی جناح کی پیدائش گاہ وزیر میشن ، موسی لائن، میمن سوسائیٹی(نوآباد)، کھڈا مارکیٹ، مجھی میانی مارکیٹ شامل ہیں۔ میٹھا در کے مشرق میں جوڑیا بازار،لی مارکیٹ ،پرانا حاجی کیمپ،گارڈن،لسبیلا ،لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، گلشن اور جامعہ کراچی ہے، مغرب میں کراچی پورٹ، کیماڑی ،منوڑہ، جنوب میں صرافہ بازار اور ککری گراؤنڈ ، موسیٰ لین، کلری، بغدادی، بہار کالونی، آگرہ تاج کالونی اور شیر شاہ قبرستان اور شمال میں نیو میمن مسجد ،بولٹن مارکیٹ ، سٹی اسٹیشن،کلفٹن اور ڈیفنس ہے، میرا خاندان قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرکے کراچی آنے والوں میں سے تھا،ابتدا میں کراچی کی قدیم آبادی ’’کھڈا مارکیٹ‘‘ میں رہائش اختیار کی،کچھ عرصہ کے بعد بہار کالونی منتقل ہوگئے اور پھر’آگرہ تاج کالونی ‘‘میں اپنا گھر بنا لیا۔ میرا بچپن، جوانی انہی علاقوں میں گزرا۔
عبد الستار ایدھی کے پرکھو ں کا تعلق ہندوستان کے علاقے گجرات سے تھا، ایدھی گجرات کے علاقے ’بانٹوا‘ میں 1928ء میں پیدا ہوا، تقسیم ہندوستان کے وقت اس خاندان نے کراچی ہجرت کی لیاری کا علاقہ میٹھا در ان کا مستقر ٹہرا، اسوقت ایدھی کی عمر 19 برس تھی۔دکھی انسانیت کا خدمت کا جذبہ ایدھی میں اپنی ماں کی خدمت سے پیدا ہوا، ایدھی ابھی گیارہ برس کا تھا کہ اس کی ماں پر فالج کا حملہ ہوا اور وہ معز ورparalyzedہوگئی،یہی نہیں ہوا بلکہ کچھ ہی دنوں کے بعد وہ اپنا ذہنی توزن بھی کھو بیٹھی ، ایسی صورت میں اُسے کل وقتی خدمات گزار کی ضرورت تھی ، ایدھی نے اس کام لیے اپنے سے بہتر کسی کو نہ پا یااوراس نے اپنی تمام تر توجہ اپنی ماں پر مرکوز کردی اور اس کی خدمات میں لگ گیا، ایدھی اپنے ماں کے تمام تر کام از خود کیا کرتا تھا، کھانا کھلانا، کپڑ ے بدلوانا، صفائی ستھرائی کا خیال رکھتا، نہلا نا دھلا ، ایدھی کی زندگی میں یہی وہ لمحات تھے کہ اس کے اندر انسانیت کی خدمات کا جذبہ بیدار ہوا۔ ایدھی کی ماں آٹھ سال بعد انتقال کرگئیں اور اپنے بیٹے کے اندر خدمات کا ایسا جذبہ اجاگر کرگئی جس نے ایدھی کی زندگی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خدمت کا نشان بنا دیا۔ایدھی کی ماں نے ایدھی کو بچپن ہی سے دوسروں کے ساتھ مہربان رہنے اور غریبوں کی مدد کرنے کی تلقین کی تھی۔ ایدھی نے اپنی ماں کی اسی نصیحت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ۔

عبد الستار ایدھی کو دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ اپنی ماں کی خدمت کے نتیجے میں ملا، اگر ایدھی اپنی ماں کی خدمت نہ کرتا تو شاید آج وہ اس مقام و مرتبہ پر نہ ہوتا، یہ مرتبہ ، یہ اعزاز، یہ مقام ماں کی خدمت کے عوض نصیب ہوا اور اس اعزاز و مرتبے کو پروان چڑھانے میں بھی ایک عورت کا عمل دخل رہا اور وہ نیک صفت، وفا شعار عورت ہے بلقیس ایدھی ، عبد الستار ایدھی سے شادی سے قبل بلقیس ایدھی نرس کے پیشے سے تعلق رکھتی تھی اور عبد الستار ایدھی کی دسپنسری میں خدمات انجام دیا کرتی تھی، ایدھی نے ۱۹۶۵ء میں بلقیس ایدھی سے شادی کی، شادی کے بعد سے آج تک بلقیس ایدھی نے اپنے شوہر کا ایسا ساتھ نبھایا کہ جس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔یہ قدم قدم پر ایدھی کے ساتھ رہی ، ایدھی کو اس مقام، مرتبہ ا ور منزل پر پہنچانے میں اس کا کردار قابل رشک ہے۔

قیام پاکستان کے بعد ایدھی نے اپنی خاندانی روایات کے مطابق کاروبار شروع کیا لیکن اس میں اس کا دل نہیں لگاکیونکہ اس کے دل میں توانسانیت کی خدمات کا جذبہ جنم لے چکا تھا ، چنانچہ ۱۹۵۱ء میں اس نے میٹھادر میں ایک دکان خریدی اور اس میں غریب لوگوں کے لیے ڈسپنسری قائم کی، جو ڈاکٹر اس کی ڈسپنسری میں مریضوں کو دیکھا کرتا تھا اس نے ایدھی کو طبی امداد کے تمام امور کی تر بیت بھی دی۔یہ ایدھی کی فلاحی خدمات کا نقطہ آغاز تھا۔ ایدھی اپنے آپ کو اس ڈسپنسری تک محدود رکھنا نہیں چاہتا تھاچنانچہ اس نے پہلی بار عوام سے دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے مدد کی اپیل کی، لوگوں نے اس کی بات کو توجہ سے سنا، اﷲ تعالیٰ نے اس کی بات میں اثر پیدا کردیا تھا، لوگوں نے اس پر بھروسی کیا، اعتماد کیا ، ابتدائی طور پر ایدھی کو دو لاکھ روپے کی رقم وصول ہوئی،اسی رقم سے ایدھی نے اپنی خدمات کے دائرہ کو وسیع کیا،ایک کمرہ پر مشتمل ڈسپنسری ایک چھوٹے سے اسپتال میں تبدیل ہوگئی، ایک ایمبو لینس بھی خریدلی گئی۔ ان آنکھو ں نے نوجوانایدھی کو ملیشا کے کپڑے کا لباس زیب تن کیے اسی چھوٹے سے اسپتال کے سامنے چارپائی پر بیٹھے بار ہا دیکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ٹیلی فون نایاب چیز ہو ا کرتا تھا، اکثر لوگ ایدھی کو از خود آکر کسی بھی قسم کے حادثہ کی اطلاع کیا کرتے تھے، ایدھی نے اپنی سماجی ادارے ایدھی ٹرست کا آغاز مبلغ پانچ ہزار روپے سے کیا تھاجو ترقی کر کے کہیں کا کہیں پہنچ چکا ہے۔

اگست 2011ء کی بات ہے لیاری کے علاقے موسیٰ لائن میں ایک بلڈنگ کے زمین بوس ہوجانے کا واقع پیش آیا جس میں کئی خاندان ملبے تلے دب کر اپنی جان کھو بیٹھے۔ اِن دنوں میَں سعودی عرب میں تھا، عمرے بھی کیے اور مدینہ میں حاضری بھی دی، زیادہ وقت اپنے بڑے بیٹے عدیل کے پاس جدہ میں اور اپنے چھوٹے بیٹے ڈاکٹر نبیل کے پاس پہاڑی علاقہ فیفاء( جذان) میں گزرا ، فیفاء سعودی عرب کا وہ علاقہ ہے جو یمن کی سرحد پر ہے، پہاڑ ہی پہاڑ ہیں، یہاں آکر مری ، ایوبیہ، نتھیا گلی اور بارہ گلی کی یاد تازہ ہوگئی، سرد موسم، تقریباً روز ہی بارش کاہونا، یہاں میرا کام کچھ نہیں تھا ماسوائے عبادت ، کھانا پینا اور آرام کے البتہ یہاں میَں نے خاکے لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا اور کئی احباب کے خاکے لکھے ، کچھ خاکے جو سرگودھا میں رہتے ہوئے شروع کیے تھے، یہاں انہیں مکمل کرنے کا موقع مل گیا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ یہاں سکون تھا، امن تھا،لکھنے والے کو اچھا ماحول میسر آجائے تو وہ اسے غنیمت جانتا ہے۔ اِسی دوران کراچی میں موسیٰ لائن میں بلڈنگ گر نے کی افسوس ناک خبر آئی ،رمضان کا مہینہ تھا، ایک دن ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اے آر وائی پر اپنے پروگرام ’شہر رمضان ‘ میں اس بلڈنگ تلے دب جانے والی ایک فیمیلی کو بلا یاشاید دو بچے ہی زندہ بچ گئے تھے ان کے والدین اور دیگر بہن بھائی ملبے تلے دب جانے سے اﷲ کو پیا رے ہوگئے تھے ، وہ پروگرام دیکھ کر دکھ اور کرب تو قدرتی تھا، موسیٰ لائن کی مخدوش عمارتیں ، تنگ و تاریک گلیاں نظروں میں گھوم گئیں۔ میَں برسوں اپنے گھر سے کالج موٹر سائیکل پر اِسی موسیٰ لائن کے سامنے سے جایا کرتا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ عبدالستار ایدھی کا خاکہ لکھنے کی وجہ یہی موسیٰ لائن کی گرنے والی عمارت ہے۔آج سے39 سال قبل 1973ء میں اِسی موسیٰ لائن میں زمین بوس ہونے والی ایک بلڈنگ کا منظر اور اس کی تباہ کاریاں، حلاکتیں اور وہاں عبد الستار ایدھی کے ہمراہ لاشیں نکالنے، امداد فراہم کرنے کا منظر سامنے آگیا۔ عبد الستا ایدھی نے اُس وقت اس بلڈنگ کے گرنے پر دن رات از خود ملبے میں دبے ہوئے لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے نکالا تھا،ایدھی اس وقت جوان تھا، اس کے رضاکار بھی تھے لیکن ان کی تعداد کم تھی اس کی ایمبو لینسیز نے جوکام کیا تھا وہ بھی قابل تعریف تھا ،ایدھی کی سماجی خدمات کو شہرت اُسی واقع سے ملی تھی ،اس وقت کا ایدھی آج کے ایدھی سے جسمانی طور پر مختلف ہے،میَں نے اُسے اپنے ہاتھوں سے گری ہوئی عمارت کے ملبے تلے دبی ہوئی عورتوں، بچوں اور مردوں کی لاشوں کو نکالتے دیکھا تھا۔مسخ شدہ اور ایسی لاشیں جن کے نذدیک جاتے ہوئے لوگ ڈرا کرتے تھے عبد الستار ایدھی ہر طرح کے ڈر و خوف سے آزاد ہوکر اس بدبو دار اور تعافن زدہ لاش کو ٹھکانے لگا دیا کرتا تھا۔ کیا جذبہ تھا، ایدھی کی خدمات کا شہرہ1973ء میں موسیٰ لائن میں زمین بوس ہونے والی عمارت اور عبد الستار ایدھی کی فراہم کردہ خدمت سے عوام ا لناس کا اعتماد ایدھی پر بڑھتا گیا اور ایدھی کی خدمات کا دائرہ بھی وسیع سے وسیع ترہوتا گیا۔ آج ایدھی فاؤنڈیشن کو دنیا میں سب سے بڑے خدمتی ادارے کی حیثیت حاصل ہے۔
آج کے عبد الستار ایدھی کو گزشتہ سال ائر پورٹ پر قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا، میَں کراچی سے لاہور جارہا تھا، جہاں سے مجھے سرگودھا یونیورسٹی جانا تھا،ائر پورٹ پر عبد الستار ایدبھی موجود تھا،اس کا سفر بھی کراچی سے لاہور کے لیے تھا،لاہور ائر پورٹ پر دو نوجوان ایک دائیں اور ایک بائیں ایدھی کا ہاتھ پکڑے ان کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ نہ سیکیوریٹی تھی، نہ پولس نہ پولس کی موبائلیں، نہ لوگوں کو روکا گیا، نہ ٹریفک ہی جام ہوا، اگر غلطی سے کوئی کوئی وزیر یا سفیر ہوتا تو اس وقت ائر پورٹ پر قیامت کا سما ہوتا،چھوٹا قد، وہی کالے رنگ کے ملیشیاکاشلوار قمیض ، سر پر مخصوص کالی ٹوپی ،سانولا رنگ جس میں کسی قدر سیاہی کی آمیزش، پیروں میں چپل، سفید کالی داڑھی لمبائی میں بڑھی ہوئی،ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ، پیشانی سے عظمت و بزرگی آشکارہ ، چہرہ پر متانت وسنجیدگی، دھیرے دھیرے ، چھوٹے چھوٹے قدموں سے ائر پورٹ سے باہر آئے، نہ وہ دبدبا تھا نہ وہ جوش،چہرہ پر اطمیان اور بردباری نمایاں تھی، وقت بھی انسان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔ میَں نے ایدھی کو جوانی میں بھی دیکھا تھا۔آج کا ایدھی جسمانی اعتمار سے مختلف ہے۔ انسا نیت کی خد مت کے طویل سفر نے ایدھی کی شخصیت میں نیکی، بھلائی اوردوسروں کی مدد و اعانت کی سفیدی کو اجاگر کر دیا ہے، ایدھی کا چہرہ ایک مہربان اور شفیق انسان کا چہرہ محوس ہورہا تھا، سنجیدہ اور متین انسان کا چہرہ، سلام اس عظیم ہستی پر۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے تحت خدمات کی مختلف جہتیں ہیں، ایمبولینس سروس کے حوالے سے یہ دنیا کی سب سے بڑی خدمتی تنظیم ہے، ایدھی ایمبولینسیز میں ائر ایمبو لینس بھی شامل ہے، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر مریضوں کی تیز تر منتقلی میں کام آتے ہیں، صرف کراچی میں 8 اسپتال مفت طبی امداد فراہم کررہے ہیں، موبائل دسپنسری اور بلڈ بنک اس کے علاوہ ہے، ایدھی کے تحت 15 ’’اپنا گھر‘‘ہیں جس میں بے سہارا، لاوارث، ذہنی معزور وں کو پناہ ملی ہوئی ہے۔ایدھی کے تحت ’’جھولا ‘‘ایک ایسی منفرد خدمت ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی، پاکستان میں جس کا کوئی نہیں اﷲ کے بعد ایدھی اس کاسہارا اور مدد گار ہوتا ہے۔انسان خواہ امیر ہو یا غریب، وارثین موجود ہوں یا وہ لاوارث ہو مرنے کے بعد اس کے جسد خاکی کوجلد سے جلد خاک کی نظر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے فوری تدفین عمل میں نہ لائی جاسکے ، یا لاش لاوارث ہو تو عبد الستا ایدھی کے ’’مردہ خانے‘‘ ہی ان مردوں کی وقتی پناہ گاہ ہوتے ہیں۔ کراچی میں سہراب گوٹھ پر قائم ایدھی مردہ خانہ لاوارث لاشوں اور وقتی طور پر محفوظ کرائی گئی لاشوں کا مرکزہے۔ مجھے ایک سے زیادہ بار اس مردہ خانے کو دیکھنے کا اتفاق ہوا،لاشیں کفن پہنیں شیلفوں پر اوپر نیچے ترتیب سے رکھی ہوتی ہیں، دیکھ کر ایدھی کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔یہاں مردوں کو غسل دینے اور کفنانے کا انتظام بھی ہے۔ عورتوں کے لیے غسل و کفن کا مرکز میٹھا در میں قائم ایدھی مرکز میں ہے۔

عبد الستار ایدھی پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، لکھا جارہا ہے اور لکھا جائے گا۔ایدھی پر مرتب کی جانے والی سوانح حیات انگریزی میں ہے جسے ایک معروف مصنفہ نے بڑی محنت اورمہارت سے مرتب کیا ہے۔ My Feudal Lord کی خالق تہمینہ درانی، تعارف کی محتاج نہیں، انہیں اپنی اِسی کتاب سے شہرت حاصل ہوئی، یہ غلام مصطفی کھر کی سابق ا وروزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی موجودشریک حیات ہیں، معروف سیاست داں سر سکندر حیات کی پوتی اور شوکت اﷲ درانی کی بیٹی ہیں۔انہوں نے عبدالستار ایدھی کی سوانح حیات A Mirror to the Blind کے نام سے مرتب کی ہے، یہ سوانح1996ء میں نیشنل بیورو آف پبلی کیشن نے شائع کی۔ کہا جاتا ہے کہ ایدھی کی زندگی کی کہانی انہوں نے ٹیپ کی اور یہ ٹیپ چالیس گھنٹوں پر محیط ہے۔اس سوانح حیات میں عبد الستار ایدھی کی زندگی کے تمام تر پہلوؤں کو تفصیل سے قلم بند کیا گیا ہے۔

تہمینہ درانی کی کتاب My feudal Loardکا 36 زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ ان کی اس کتاب کاترجمہ اردو زبان ہی میں نہیں بلکہ پاکستان کی تمام علاقائی زبانوں میں ہوجائے تاکہ عام لوگ ایدھی کی زندگی کے بارے میں تفصیل سے جان سکیں۔

1989ء میں حکومت پاکستان نے ایدھی کو ’نشان امتیاز‘ دیا، بے شمار مقامی تنطیموں اور اداروں نے بھی ایدھی کو اعزازات سے نوازا۔عالمی سطح پر بھی ایدھی کو اعزازار سے نوازا گیا ،1988ء میں آرمینیا میں زلزلہ سے متاثرہ افراد کی خدت کے اعتراف میں اس وقت کی روس کی حکومت نے ایدھی کو ’’لینن امن انعام‘‘سے نوازا، فلپائن حکومت نے 1986ء میں عبدا لستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کو ’’میگسیا ایوار ڈ ‘‘(Magsayay award)دیا،2010ء میں یونیورسٹی آف بیڈفورڈشائر نے ایدھی کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ اسی طرح عبد الستا ایدھی کو مختلف اداروں نے اعزازات و انعامات سے نوازا لیکن ایدھی کے لیے اصل اعزاز و انعام تو پاکستان کے لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ ہے ، وہ والہانہ محبت ، عقیدت اور احترام ہے جو لوگ ایدھی پر نچاور کرتے ہیں۔اﷲ ایدھی کو سلامت رکھے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 660072 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
09 Jul, 2018 Views: 652

Comments

آپ کی رائے