پہلے سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر پانے والے راجہ سرور شہید رحمہ اللہ

(Shahid Mushtaq, )

نشان حیدر پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے ۔ جو عظیم الشان کارنامے سرانجام دینے والے فوجی جوانوں یا افسروں کو بعد از شہادت دیا جاتا ہے ۔ یہ درحقیقت قوم کی طرف سے اپنے محسنوں کے احسانات کا اعتراف ہے ۔ ہماری نوجوان نسل آج نہیں جانتی کہ یہ وطن حاصل کرنے اور اس کے تحفظ کے لئے ہمارے بڑوں نے کس قدر قربانیاں دی ہیں ۔ ان شا اللہ میں کوشش کروں گا کہ پاکستان کے ان قابل فخر بیٹوں کی شخصیت کی ایک جھلک آپ کے سامنے پیش کروں ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے کیپٹن راجہ محمد سرور شہید کا ہلکا سا تعارف پیش ہے ، امید ہے آپ کو پسند آئے گا ۔

کیپٹن راجہ محمد سرور شہید 10نومبر1910ء عید کے دن موضع سنگوری تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں حوالدار راجہ محمد حیات خان کے گھر پیدا ہوئے ۔1927ء میں 17 سال کی عمرمیں لائل پور (موجودہ فیصل آباد جہاں ان کے والد صاحب کو جنگ عظیم میں شاندار کارکردگی کی بنا پہ تین مربع ذمین الاٹ ہوئی تھی) سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ والد صاحب گاوں کے نمبرداراور تین مربع اراضی کے مالک تھے اس کے باوجود خاندان کا رجحان فوج کی طرف تھا ، آپ چار میں سے تین بھائی فوجی افسر بنے صرف ایک بھائی زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے فوج میں بھرتی نہیں ہوئے ۔1929ء میں متحدہ ہندوستان کی افواج میں" بلوچ رجمنٹ" میں بھرتی ہوئے ،1941میں انہیں رائل انڈین آرمی میں جونئیر کمیشنڈ افسر کی حیثیت سے منتخب کرلیا گیا ۔بعد میں ان کا تبادلہ پنجاب رجمنٹ میں کردیاگیا جہاں بہترین کارکردگی کے بنا پہ یکم فروری 1947 کو انہیں فل کیپٹن کے عہدے پہ ترقی دے دی گئی ۔1936ء میں آپ کی شادی اسلامی تعلیمات کے مطابق انتہائی سادگی سے "بی بی کرم جان" کے ساتھ ہوئی ، کیپٹن صاحب بڑے سخی اور فیاض انسان تھے ،ایک بار تانگےپہ کہیں جارہے تھے کہ ایک بڑھیا نے اللہ کے نام پہ کچھ پیسے مانگے ، آپ نے توجہ نہیں کی کچھ دور گئے ہونگے کہ پشیمانی نے گھیر لیا کہ اللہ کے نام پہ مانگنے والی کو خالی لوٹا دیا ، فورا" تانگہ واپس کیا ، بڑھیا تب تک جاچکی تھی ۔ آپ نے سارا دن اسے تلاش کیا اور بالآخر شام کو کہیں وہ عورت ملی آپ نے اس کی مدد کی اور تانگے والے کو سارے دن کا کرایہ ادا کر کے رخصت کیا ۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی میں سگنل کور کی تربیت حاصل کی جس کے بعد آپ کو "جی ایچ کیو"میں پیشہ ورانہ فرائض ادا کرنے کے احکامات ملے۔ انہی دنوں ہندوستان اپنا اصل خبث باطن ظاہر کرکے کشمیر کا محاذ کھول چکا تھا ،جولائی 1948کو آپ کی یونٹ "پنجاب رجمنٹ" کو کشمیر کے محاذ پہ بھیج دیا گیا ۔ راجہ سرور شہید بھٹی اپنی یونٹ کے کمانڈنگ افسر کے سامنے پیش ہوئے اور کہا
" سر میں چاہتاہوں کہ اپنی یونٹ میں شامل ہوکر کشمیری بھائیوں کو ظلم و ستم سے نجات دلاوں۔دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے "جام شہادت نوش کروں۔مجھ سے یہاں جی ایچ کیو میں نہیں رہا جاتا جبکہ میرے ساتھی ظلم کا مقابلہ کرنے کے لئے یہاں سے جاچکے ہیں"۔

کمانڈنگ افسر ان کے جذبے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔اور انہیں محاذ پہ جانے کی اجازت دے دی ۔27جولائی 1948 منگل کے دن "اوڑی" کے محاذ پہ آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن کے مورچوں کی طرف پیش قدمی شروع کی ، دشمن کے مورچے سے صرف بیس گز دور دشمن کی پہلی گولی آپ کے دائیں شانے پر لگی مگر آپ مسلسل آگے بڑھتے اپنے جوانوں سے مخاطب تھے "ساتھیو ! آگے بڑھتے رہو منزل قریب ہے "۔

دشمن نے مورچے کے گرد خاردار باڑ لگائی ہوئی تھی ۔ "کیپٹن راجہ محمد سرور بھٹی شہید" وہ باڑھ کاٹ کر اپنے جوانوں کے لئے راستہ بنا رہے تھے کہ دشمن نے آپ کے سینے پہ پورا برسٹ مار کے آپ کا سینہ چھلنی کردیا ۔آپ کی دیرینہ خواہش پوری ہوگئی اور آپ شہادت کے عظیم مرتبے پہ فائز ہوگئے ۔ساتھیوں نے جب اپنے افسر کو شہید ہوتے دیکھا تو ان کا خون کھول اٹھا ، انہوں نے دشمن پہ بھرپور وار کیا ، اور اسے خاک چاٹنے پہ مجبور کردیا۔ صبح کا اجالا اوڑی کے محاذ پہ "پاک فوج" کی فتح اور حکمرانی کی نوید لے کر طلوع ہوا ۔23مارچ 1957 کو یوم جمہوریہ کے موقع پہ میجر جنرل سکندر مرزا نے کیپٹن سرور شہید کو پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر دینے کا اعلان کیا ۔ 27 اکتوبر1959کوپاکستان کی تاریخ کے پہلے فوجی انقلاب کی پہلی سالگرہ کے دن صدر ایوب نے راولپنڈی میں ایک تقریب میں شہید کی بیوہ محترمہ بی بی کرم جان کو نشان حیدر کا اعزاز پیش کیا۔ پوری قوم آج سرور شہید رحمہ اللہ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ وہ ہمارا قابل فخر ماضی ہیں ،ہماری قومی غیرت ،بہادری اور جرات کی مثال ہیں ۔ ان کی شہادت ہماری آزادی کی ضامن و پاسبان ہے کہ بقول شاعر
" شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے "۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Mushtaq

Read More Articles by Shahid Mushtaq: 102 Articles with 36883 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jul, 2018 Views: 577

Comments

آپ کی رائے