قائد اعظم اور بل۔۔۔ اور آٹھ آنے

(Riaz Hussain, Cheecha Watni)

بانی پاکستان قائد اعظم ؒ کے بارے اپنی اپنی تعلیم، محفل اور تاریخی پس منظر میں بہت روح تڑپا دینے والے واقعات پڑھے ہوں اور کچھ ایسے واقعات بھی جو سینہ بہ سینہ ہم تک بڑوں ، دانشوروں اور بزرگوں سے پہنچ رہے ہیں ۔ ان واقعات سے بانی پاکستان کی روشن زندگی کے پہلوں نمایاں ہوتے ہیں جو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان اصولوں کی بدولت ہی ہم آج آزاد ہیں لیکن بدبخت لیڈروں کے چناؤ کی وجہ سے پھر غلام نظر آ رہے ہیں۔

آئیے قائد اعظم ؒ کی زندگی ایک اور واقع پڑھتے ہیں سے ہمیں ان کی اصول پسندی نظر آئے گی ،ہمارے اندر بھی ایسے ہی چند اصول ہونے چاہیں تاکہ ایک پیسے کی قدر کرتے ہوئے ملک پاکستان کو بہتر بنیادوں پر استوار کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

دہلی میں دوران ملاقات سیٹھ حاجی محمد صدیق‘ مالک بمبئے کلاتھ ہاؤس نے قائداعظم سے عرض کی کہ اب کے آپ لاہور تشریف لائیں تو ہماری دکان کو بھی اپنی آمد سے زینت بخشیں۔ قائداعظم جو مسلمانوں کی بہتری و بہبودی کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے تھے‘ یہ سن کر بہت خوش ہوئے کہ لاہور میں مسلمانوں اور وہ بھی میمن برادری کی ایک شایان شان دکان ہے۔ فرمانے لگے،اب لاہور آیا تو تمھاری دکان بھی ضرور دیکھوں گا۔

چنانچہ اپریل 1944ء میں جب وہ لاہور تشریف لائے تو ایک دن بارہ بج کر دس منٹ پر آنے کا وعدہ کیا۔ دکان کے منیجر نے دس کروڑ مسلمانوں کے اس عظیم الشان قائد کے استقبال کے لیے جو کچھ بھی ہو سکتا تھا کیا،کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ دکان کو کپڑوں سے دلہن کی طرح سجائی گئی۔ شاندار چائے پارٹی کا انتظام کر کے دیگر مسلمان تاجروں کو بھی بلا لیا گیا۔ معائنے کے دوران انھوں نے چائنہ کارڈ اورپیور ریشم کے کپڑے بھی پسند فرمائے جو انھیں تحفتاً پیش کیے گئے۔

لیکن انھوں نے لینے سے انکار کر دیا اور خواہش ظاہر کی کہ اگر ان کپڑوں کابل پیش کر دیا جائے تو وہ لے لیں گے کیونکہ کپڑے انھیں پسند ہیں۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ وہ انھیں بطور تحفہ قبول کر لیں‘ مگر وہ کسی طرح نہ مانے۔ آخر بل پیش کر دینے کے پختہ وعدے پر انھوں نے کپڑے رکھ لیے۔ ہم نے خواہش ظاہر کی کہ ایک اچکن ہم سے سلوائی جائے۔ وہ اس شرط پر رضامند ہوئے کہ درزی اچھا ہو اور ناپ ڈیوس روڈ پر ممدوٹ والا میں لیا جائے جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہ دکان پر ناپ نہیں دینا چاہتے تھے۔

دوسرے دن ماسٹر فیروز کو لے کر میں قائداعظم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ناپ سے فارغ ہو کر ہم واپس آنے لگے توفرمایا کہ اچکن کے لیے حیدر آبادی بٹنوں کے سیٹ لے آنا۔ فرمائش کے مطابق دوسرے دن صبح دس بجے ہم ممدوٹ ولا پہنچے۔ بٹنوں کے سیٹ جو ہم ساتھ لائے تھے‘ اُن کو ایک نظر دیکھا اور چار سیٹ پسند کرکے الگ رکھ لیے۔ باقی واپس کر دئیے۔ کہنے لگے، بل لاؤ۔ بل کے لیے وہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اصرار کر چکے تھے۔

چونکہ ہم بل نہیں دینا چاہتے تھے‘ اس لیے ٹال مٹول سے کام لیتے رہے‘ مگر شاید وہ ہمارا ارادہ سمجھ گئے۔ آج بل کے لیے قدرے سخت اور درشت لہجے میں مطالبہ کیا‘ کہنے لگے ’’میں ادھار لینے کا عادی نہیں۔ بل لاؤ۔ ورنہ کپڑے واپس کر دئیے جائیں گے۔‘‘

میں نے منیجر سے کہا کہ یہاں ٹال مٹول سے کام نہیں چلے گا۔ بل دینا ہی پڑے گا۔ ورنہ وہ سارے کپڑے لوٹا دیں گے۔ منیجر نے خاصا رعایتی بل بنا کر دیا جو آدھے سے بھی کم قیمت پر مشتمل تھا۔ میں نے جا کر خدمت میں پیش کر دیا جسے دیکھ کر مسکرائے‘ کہنے لگے: ’’یہ بل مناسب نہیں‘ تم نے قیمتیں جان بوجھ کر کم لگائی ہیں۔‘‘ میں نے کہا‘ منیجر نے آپ کو خاص رعایت دی ہو گی۔ کہنے لگے: ’’رعایت کی اور بات ہے۔ یہ رعایت سے مختلف صورت ہے۔ تم بل درست کر کے لاؤ۔‘‘ یہ کہہ کر بل واپس کر دیا۔ اس کے بعد میں نے بٹن والے کا بل پیش کیا‘ جو دس روپے کی مالیت پر مشتمل تھا۔

بل دیکھ کر فرمایا: ’’بھئی واہ۔ ایک سیٹ میں تو تین تین بٹن کم ہیں‘ لیکن بل تم نے پورے کا بنا دیا۔‘‘ یہ کہنا درست تھا۔ ایک سیٹ میں بٹن کم تھے۔ لیکن بل میں نے اس خیال سے دیکھا نہ تھا۔ دکاندار نے بھی اس کی پروا نہ کی تھی۔ بہرحال بل کو درستی کے لیے واپس لانا پڑا۔

لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ میں کئی دنوں تک سوچتا رہا کہ آخر کیا بات ہے کہ ایک طرف تو سینکڑوں روپے کی رعایت کو بھی یہ شخص قبول نہیں کرتا۔ دوسری جانب تین بٹنوں کے آٹھ آنے بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں؟بات ہے اصول پسندی کی۔

بس دل سے یہی نکلتا ہے ،کاش اﷲ تعالیٰ ان کو زندگی کی کچھ مہلت اور صحت دے دیتے، میں یقین ہے کہ ملک پاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی جو اس وقت ہمارے حکمرانوں نے بنا دی ۔ سب کھوٹے سکے بند ہوجاتے، صرف اور صرف اصول پسندی ، دیانتداری اور ملک سے محبت والے رکھنے والوں کو ہی حکمرانی کا موقع ملتا ۔ نہ کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی طرح اپوزیشن کی بجائے فرینڈلی میچ کھیل کر اپنی اپنی باری کے چکر میں ملک کو تباہی کے داہنے پر لا کھڑا کیا۔ دوسرے ملکوں کو قرض دینے والا مقروض ہو گیا۔ اربوں روپے خرچ تو کر دیئے گئے لیکن ایک عام آدمی کے لیے کچھ نہیں کیا۔

آج۶ جولائی ۲۰۱۸ نیب عدالت کا فیصلہ ایک انتہائی حیران کن رہا ۔ ملک کو قرضوں کی دلدل میں پہنچانے والا حکمران، جسے اﷲ کریم نے اس ملک کی خدمت کے لیے تین مرتبہ مہلت دی وہ سب سے بڑا چور ثابت ہوا۔دوسری طرف پیپلز پارٹی کو دیکھوجنہوں نے مل کر اس قوم کو غربت کی ذلت میں دھکیل دیا ۔ ان سیاسی پارٹیوں کے وزیروں ، مشیروں کو جب ٹٹولا گیا تو اربوں کی کرپشن ، یوں کہہ لیں کرپشن کے بے تاج بادشاہ ثابت ہوئے۔

دوستو! میں عمران خاں حامی نہیں ہو ں لیکن میں یہ ضرور کہوں گا چند روپوں کے آلو پیاز، کلو دو کلو فروٹ ، ہزاردو ہزار کاسوٹ خریدتے وقت مختلف انداز اور مختلف دکانات اور شاپنگ سنٹرز کو چیک کیا جاتا ہے۔ لیکن جن کے ہاتھ میں اپنا، اپنی قوم اور اپنے بچوں کا مستقل تھما رہے ہیں ان کو کبھی چیک نہیں کیا۔ جو کردار عمران خاں نے ادا کیا ہے اصولی طورپر یہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا ایک دوسرے لیے ہونا چاہیے تھا اگر یہ دونوں پارٹیاں ملک و قوم کے لیے مخلص ہوتیں۔ اس پر ذرا سوچیں اور غور کرتے ہوئے آنے والے الیکشن میں اپنا ووٹ دے کر ایک بہترین لیڈر جو بین الاقوامی طور پر بھی ہمیں اپنی پہچان کروانے میں ثابت ہو اچھائی میں نہ کہ بدنامی میں ۔۔شکریہ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 117 Articles with 65815 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More
19 Jul, 2018 Views: 746

Comments

آپ کی رائے