کوفی عنان

(Abdul Jabbar Khan, Rajan Pur)

اقوام متحدہ کے ساتویں سابق سیکرٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دینے والے کوفی عنان 80 برس کی عمر میں سوئٹزرلینڈ میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کے خاندان اور ’ایلڈرز‘ فاؤنڈیشن کی جانب سے کوفی عنان کے انتقال کی اطلاع ہفتہ 18 اگست کی دوپہر کو دی گئی۔

کوفی عنان 8 اپریل 1938 کو ملک گھانا کے شہر کوماسی میں پیدا ہوئے کوفی عنان ایک اچھے سفیر، ماہر معاشیات اور سیاست دان تھے۔ کوفی عنان کو جنوری 1997 میں اقوام متحدہ کا سیکرٹیری جنرل بنایا گیا جہاں انہوں نے ساتویں سیکرٹیری جنرل کے عہدے کے فرائض 2006 تک انجام دیے ، کوفی عنان کو اقوام متحدہ کے ساتھ مشترکہ طور پر سن 2001 میں امن کا نوبل انعام دیا بھی گیا تھا۔

کوفی عنان بیس برس کی عمر میں اسکالرشپ پر امریکا گئے تھے، جہاں انہوں نے معیشت کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں انہوں نے اعلیٰ تعلیم جنیوا میں حاصل کی۔ کوفی عنان نے اپنے کیریئر کا آغاز اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت سے کیا اور پھر متعدد عہدوں پر افریقہ میں کام کرتے رہے۔ اسی ادارے کے ساتھ انہوں نے نیویارک میں بھی خدمات انجام دیں۔ وہ روہنگیا بحران کے تدارک کے لیے سرگرم رہے۔ اس سے قبل وہ کچھ عرصے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے شام بھی کام کیا تھا۔ کوفی عنان دی ایلڈرز نامی تنظیم کے سربراہ بھی تھے، جس کی بنیاد سابق جنوبی افریقی رہنما نیلسن منڈیلا نے رکھی تھی۔

کوفی عنان کی پہلی شادی 1965 میں نائجیریا سے تعلق رکھنے والی خاتون الاکیجہ سے ہوئی تھی۔ شادی کے کافی عرصہ بعد ان کے ہاں ایک بیٹی اما عنان پیدا ہوئی اور پھر بیٹی کے بعد ان کے ہاں ایک بیٹا کوجو عنان پیدا ہوا۔ کوفی عنان کی یہ شادی 1970 کی دہائی تک چلی بعدازں دونوں میں علیحدگی ہو گئی اور پھر بالاآخر 1983 میں طلاق ہوئی۔

کوفی عنان نے دوسری شادی 1984 میں سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک وکیل خاتون نین ماریہ سے کی جس سے ان کی ایک بیٹی نینا پیدا ہوئی۔کوفی عنان نے ہمیشہ دوسروں کو اولیت دی ، ان کے اندر حقیقی رحم دلی، گرم جوشی اور بہترین کارکردگی کی خوبیاں پائی جاتی تھیں۔ جہاں کہیں بھی مشکلات ہوتیں اور مدد کی ضرورت ہوتی تو کوفی عنان وہاں پہنچتے تھے۔ انھوں نے اپنے عزم اور ہمدردانہ مزاج سے بہت لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی، اور اسی وجہ سے وہ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Jabbar Khan

Read More Articles by Abdul Jabbar Khan: 151 Articles with 78736 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Aug, 2018 Views: 323

Comments

آپ کی رائے