آزادکشمیر میں قومی سرگرمیوں کا عروج،ابھی بہت کام باقی ہے

(Agha Safeer Hussain, )

امسال یوم آزادی پر کچھ زیادہ ہی جوش وخروش دیکھنے میں آیا ۔آزادکشمیر میں دارالحکومت کے متعدد سرکاری تعلیمی اداروں کے تحت سرگرمیاں کی گئیں ریاستی انتظامیہ (حکومت)نے مختلف طرز کی سرگرمیاں کیں ،جبکہ اعلیٰ عدلیہ کی ممتاز شخصیات نے پرچم کشائی کی ان تمام سرگرمیوں کی خاص بات یہ رہی کہ اِک جوش و لولہ نمایاں طور پر محسوس کیا گیا۔ماضی قریب میں آزاد کشمیر میں قومی سرگرمیاں تقریباََ ختم ہوکر رہ گئی تھیں۔پھر 2012میں پاک فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے مادر وطن کیلئے قربان ہونیوالے بہادر سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ’’یوم شہدا‘‘کا اہتمام کرایا ۔تاکہ شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیساتھ ساتھ اُنکے لواحقین کی تعظیم سے قومی حلقوں کو پیغام دیا جاسکے۔نیز قومی حلقوں کو بھی دفاع وطن کیلئے مر مٹنے والوں کے جذبوں اور قربانیوں کیساتھ فکری طور پر منسلک رکھا جائے۔اور وہ خلاء کم کیا جائے جو نئی طرز کی جنگ میں پیدا ہوا۔پھر 2014میں آزادکشمیر کے اندر پاک فوج کے سگنلز کور سے تخلیق کردہ مواصلاتی ادارے’’سپیشل کیمونیکشن آرگنائزیشن‘‘نے ایک بڑی سرگرمی سے عوامی حلقوں کے جذبات کی ترجمانی کی۔جسکے بعد یہ سلسلہ چل نکلا۔شیخ زید ہسپتال سی ایم میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بلڈ کیمپ لگانے کی روایت پڑی۔خاص طور پر ڈپٹی کمانڈنٹ کرنل عابد حسین نے خون دیکر بلڈ کیمپ کا افتتاح کیا۔اور کئی سولجرز نے خون کے عطیات دئیے۔جبکہ اسی سال2017میں آرمی میڈیکل کور کے تحت سی ایم ایچ بھی سرگرمیوں میں وہاں تعینات پیرا میڈیکس ،نرسنگ سٹاف و ڈاکٹرزبھی شریک ہوئے۔چنانچہ دارالحکومت مظفرآباد میں’’ یوم آزادی ‘‘کے موقع پر محکمہ صحت کے ملازمین نے ڈپٹی میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر نعمان منظور بٹ کی قیادت میں ایک ریلی نکالی ۔ ریلی سے پہلے برگیڈئیر چوہدری فیاض محمود ،کرنل عابد حسین ،ڈاکٹرنعمان بٹ ودیگر نے کیک کاٹا۔پھرریلی کو رخصت کیا تھا۔رواں سال2018 میں بھی یوم یکجہتی کشمیر پر کرنل عابد حسین نے مسلسل دوسری بار یوم یکجہتی کشمیر پر خون کا عطیہ دیا۔جبکہ یوم آزادی پر حسب سابق جشن آزادی منایا گیا ۔نصف شب کو چراغاں کیا گیا ،آتش بازی ہوئی۔علی الصبح پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی ۔برگیڈئیر حسن اقبال کمانڈنٹ سی ایم ایچ نے ریلی سے پہلے کیک کاٹا ،پھر ریلی کو رخصت کیا ۔ڈاکٹر نعمان منظوربٹ کی قیادت میں ’’پاکستان زندہ باد ریلی‘‘نے شہر کا چکر لگایا۔اس دوران’’پیس گروپ آف جرنلسٹس‘‘ کی جانب سے مقامی ہوٹل میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا ۔جس میں صدر ریاست خصوصی طور پر مدعو تھے۔اُس پروگرام میں برگیڈئیرحسن اقبال دعوت پر شریک ہوئے۔جونہی کمانڈنٹ تقریب میں پہنچے سکولوں کے بچوں نے پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے استقبال کیا۔شرکاء فوج کے سینئرافسر کو اپنے درمیان پاکر بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔اس تقریب میں برگیڈئیر حسن اقبال نے خطاب بھی کیا ۔جبکہ بچوں نے پھول بھی پیش کئے۔ایس سی او نے حسب سابق ریلی کا انعقاد کیا۔اور دیگر سرگرمیوں میں بھی شامل ہوا۔سیکٹر کمانڈر کرنل محمد مقبول احمد نے تقریب سے خطاب بھی کیا۔اِسی طرح بہت سے سرکاری سکولوں میں پرچم کشائی ،سرگرمیوں کی طرح چکوٹھی سیکٹر میں مادر وطن کے دفاع کا مقدس فریضہ انجام دیتے ہوئے اپنی جان قربان کرنیوالے کیپٹن سرور شہید بوائز سیکنڈری سکول کے تحت بھی سرگرمیاں کی گئیں۔ ریلی بھی نکالی گئی۔جبکہ سیکٹر کی بٹالین نے شہید وطن نائیک سید محمد حسین شاہ سمیت دیگر شہدائے پاک فوج کے مزارات کا تفصیلی جائزہ لینے کا سلسلہ بھی شروع کررکھا ہے۔یاد رہے چند سال پہلے فارمیشن نے برگیڈئیر اعجاز الرحمان تنویر کی ترجیح پر 1948سے لیکرجتنے بھی شہیدوں کا تعلق چکوٹھی سیکٹر سے ہے ۔اُنکے مزارات کی تعمیر و تزئین و آرائش کرائی تھی۔اور بہت سی سرگرمیوں میں فوج کی نمایاں شرکت سے شاندار ماحول بنا یا گیا ۔جوکہ بعد میں تعطل کا شکار ہوا۔تاہم اگست کے تیسرے ہفتے میں یہ اطلاع آئی ہے کہ مقامی بٹالین نے شہیدوں کے مزارات کا سروے شروع کردیا ہے۔یقینی طور پر فارمیشن نے(دیر آئید درست آئیدکے مصداق )حکم دیا ہوگا۔مناسب تو یہی ہے کہ ایسے معاملات میں تعطل نہ آنے پائے۔کیونکہ قومی حلقوں اور پاک فوج کے درمیان ’’شہدائے وطن‘‘مضبوط کڑی کی مانند ہیں ۔جو انھیں آپس میں مربوط رکھتی ہے۔تاہم یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہنی چاہیے۔کہ پاک فوج کیساتھ قومی حلقوں کا رشتہ ،اُنکی قربانیوں اور قومی جذبوں کی بنیاد پر قائم ہے۔جسے کسی سطع پر ذاتیات ،گروہی ،علاقائی یا فرقہ وارانہ بنیادوں پر متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔

ہم بچپن میں اکثر جہگوں پر ’’کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘لکھا ہوا دیکھتے ۔یوم آزادی آتا ،بازار میں جھنڈیاں فروخت ہورہی ہوتیں ۔دو،تین روپے خرچ کرکے گھر لاتے ۔اور لگادیتے۔ریڈیو پر قومی نغمے ،ترانے پیش کئے جاتے ۔وسیع حلقہ ریڈیو نشریات سے منسلک ہونے کیوجہ سے پروگرامز مشہور ہوجاتے۔ٹی وی پر مختصر وقت کی نشریات(سہ پہرچار بجے اوپن یونیورسٹی پروگرام سے رات دس بجے تک ویک اینڈ پر ساڑھے گیارہ بجے)تک دکھائی جاتیں۔اخبارات کی تعداد انتہائی مختصر تھی ۔مگر ہر خبر معتبر ،ہر اداریہ ،ہر کالم قومی نظریہ ،سوچ و فکر کیلئے ’’توانائی ‘‘کے اثرات کا حامل ہوتا۔عید میلادالنبی ؐ کے موقع پر بازار جھنڈیوں سے سج جاتے ۔ہر طرف حمد ونعت کی آوازیں دلوں میں رسول کریم ؐ کی محبت کو چار چاند لگارہی ہوتیں۔محرم الحرام آتا شیعہ مسلمان مجالس و ماتم کا اہتمام کرتے ،جلوس نکالتے ،تو سنی مسلمان راستوں میں سبیلیں لگاتے ۔کسی کو کسی سے کوئی خوف وخطرہ لاحق نہیں تھا۔قوم کا ہر طبقہ پاکستان کے ازلی دشمن ہندوستان سے نفرت کرتا۔ہندوستانی ثقافت و کلچر کو حقارت سے دیکھا جاتا ۔پاک فوج جب کہیں موو کررہی ہوتی ۔لوگ ہاتھ ہلا ہلا کر اظہار محبت کرتے ۔پھر وقت بدلا ،سوچوں میں تلاطم آیا ،اور غیرت کے اندازبدلے ۔مگر دفاع وطن کی اہمیت و افادیت کسی طور کم نہیں ہوئی ۔اس لئے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے۔کہ فوج اور عوام میں میل جول کی جتنی ضرورت اب ہے ،شاید پہلے کبھی نہ تھی ۔کیونکہ پہلے وقتوں میں دشمن بھی شناخت شدہ تھا ،محاذ بھی سامنے تھا۔جبکہ اسوقت روایتی دشمن سے قطعی نظرنئے طرز کے دشمن اور نئی طرز کی جنگ میں اُسکی واضع شناخت سوالیہ نشان ہے۔تو مُحب وطن قوتیں اس امر کی خواہاں ہیں ۔کہ پاک فوج اور عوام میں اشتراک و مشترکہ سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہے’شہدائے وطن میڈیا سیل ‘‘کی جانب سے اعلیٰ قیادت کو بارہایہ تجویزدی گئی ہے کہ آزادحکومت،قومی تہوراوں پرسرکاری چھٹی ختم کردے۔اور تمام سرکاری محکمہ جات کو اس امر کا پابند بنادیا جائے ،کہ وہ آزادحکومت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے اظہار یکجہتی/ہندوستانی بربریت کیخلاف احتجاجی سرگرمیوں میں لازمی شرکت کریں گے ۔جبکہ آزاحکومت کی جانب سے کم ازکم تین گھنٹے کیلئے ایسی سرگرمی ڈیزائن کی جائیگی ،جس میں نائب قاصد سے لیکر سیکرٹریز تک سبھی سرکاری ملازمین کی شرکت ضروری ہوگی ۔نیز سرکاری تعلیمی ادارہ جات میں بھی خصوصی تقریبات کے علاوہ ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا تو اس حکمت عملی کا سب سے بہترین اثر یہ ہوگا ۔کہ عوامی سطع پر بھی ’’تحریک مزاحمت سے عملی بے رغبتی ‘‘کا تدارک ہوسکے گا اور پھر باشندگان ریاست بھی سرگرمیوں کا حصہ بننے لگیں گے ۔سنجیدہ حلقوں کے نزدیک یہ پہلو بہت اہمیت کا حامل ہے ۔اور جب تک اس پہلو پر توجہ نہ دی جائے گی ۔تب تک نظریہ الحاق پاکستان ’’فکری انتشار‘‘کی زد میں رہیگا۔اور ’’بیس کیمپ‘‘کی حقیقی شکل اُبھرنا بہت مشکل ،بلکہ ناممکن ہے۔سب سے زیادہ ہمیں اس بات کو سمجھنے ،ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ ابتداء سے لیکراب تک مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے جتنے مراحل بھی آئے ۔ہر بار نئے سرے سے تحریک کا آغاز ہوا ۔اور ہر مرحلے میں وادی کشمیر کے اضلاع میں اسکے اثرات و نتائج محسوس کئے گئے ۔جبکہ صر ف وہی حلقہ ہا ہندوستان کیساتھ پیار و محبت کا اظہار کرتے چلے آئے جنہیں اقتدار کیساتھ خصوصی رغبت ہے ۔اور اپنی اقتداری زندگی کیلئے ’’ماتا‘‘کے گن گاکر آکسیجن حاصل کرنے پر یقین رکھتے ہیں ۔جبکہ آزادکشمیر میں عوامی سطع پر تحریک کیلئے عوامی سطع پر کسی موثر کردار پر کبھی کسی سوچ کو محسوس نہیں کیا ،اور عوامی سطع پر بھی صورتحال کشمیرکاز کیلئے واجبی سی بھی مثبت نظر نہیں آئی ۔صرف اقتدار پر براجمان قائدین ’’تحریک آزادی کشمیر ‘‘کے تناظر میں پیر پنجر جیسی پشنگوئیاں کرتے نظر آئے ہیں ۔البتہگزرے عشروں میں آزادکشمیرمیں ہر سطع پر پاکستان کیساتھ وابستگی کی سوچ و فکر موجود چلی آئی ہے ،اب اُس سوچ پر دیگر چیزیں حاوی ہیں ۔تب ہی تحریک کے حوالے سے عوامی شرکت سوالیہ نشان ہے ۔اور ادھار کی ’’دئیے‘‘جلاکر روشنی کرنا کوئی دانشمندی بھی نہیں ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیرکاز کی تقویت کیلئے سرگرمیوں کو بڑھایا اور پھیلایا جائے ۔چھٹیوں کا تصور ختم کرتے ہوئے سرکاری مشینری کو مکمل طور پر سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے ۔کشمیرکاز کیلئے حزب اقتدار اور حزب اختلاف اپنے اپنے سیاسی جھتوں کوان سرگر میو ں میں مکمل طور پر شرکت کیلئے ویسی حکمت عملی اپنائیں ،جیسی ووٹ کی خاطر اپنائی جاتی ہے ۔محض لفاظی سے بات نہیں بن سکتی ۔اور تاریخ میں روشن باب بھی سوالیہ نشان ہوسکتا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Agha Safeer Hussain

Read More Articles by Agha Safeer Hussain: 9 Articles with 3920 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2018 Views: 264

Comments

آپ کی رائے