امیرشریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ تاریخ کے آئینے میں - (حصہ اول)

(Tanveer Ahmed Awan, Islamabad)

 برصغیر کے سینےپر اسلام اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کا پھریراصدیوں لہراتا رہا ،جو مسلم سلاطین نے کثیر الاقوام و مذاہب کی اس سرزمین پر بھرپور انداز میں حکمرانی کی ،خوشحالی ،تعلیم ،مساوات ،مذہبی آزادی اور عدل وانصاف کی بہترین مثالیں قائم کیں،فاتح خیبر محمد بن قاسم رحمہ اللہ سے شروع ہونے والا عہد زریں جب ٹیپوسلطان رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد آخری مغل فرمانروابہادر شاہ ظفر رحمہ اللہ کی بے بسی پر اختتام پذیر ہونے کے ساتھ ہی توحید کے علمبردار وں کو اس دھرتی کا سب سے بڑا مجرم قرار دے کر ظلم و ستم ،تشدد اور سفاکیت کی تمام حدیں عبور کرلی گئیں ،معاشی استحصال کے ساتھ ساتھ نظام تعلیم اور زبان کو یکسر تبدیل کر کے پوری قوم کو جاہل قرار دے دیا گیا ،انگریزی کوسرکاری زبا ن قرار دے کر اہل ہند کے لیے انتظامی امور چلانے کے لیے تمام مواقع مسدود کردیئے گے۔انگریز سرکار نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کے اصول کے تحت ہندو مسلم سماجوں کے درمیان نفرتوں کو ہوا دینے کے لیے شدھی اور سنگٹھن تحریکوں کو پروان چڑھایا جب کہ مسلمانوں کی قوت کو پارہ پارہ کرنے اور جذبہ جہاد کو مجروح کرنے کے لیے مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا نہ صرف ڈھنڈورہ پیٹا گیا بلکہ مکمل پشت پناہی اور افرنگی سرپرستی بھی کی گئی ،الغرض غلامی کے اس زمانے میں ہوا کا ہر جھونکا مسموم اوریاس و ناامیدی کی گھنگھور گھٹائیں ہر سو چھائی ہوئی تھیں۔ایسے ماحو ل میں جنم لینے والی چند عبقری اور عظیم شخصیات میں سے ایک امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ ہیں ،جنہوں نے افرنگی سامراج اور اس کے پروردہ کذاب مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف مسلم قوم کو بیدار اور متحد کیا ،مسلمانوں میں شعور و آگہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جدوجہد آزادی کے روح رواں کی حیثیت سے جیل اور ریل کی زندگی گزار کر نہ صرف ایک آزاد اسلامی مملکت پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا بلکہ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت اور اس کی فریب کاریوں سے امت کو آگاہ کرکے کروڑوں مسلمانوں کے ایمان کی بھی حفاظت کی۔

1857ء کی جنگ آزادی کے 34 سال بعد 1891ءبمطابق یکم ربیع الاول 1310ھ ضلع بہار کے علاقہ پٹنہ میں حافظ سید ضیاء الدین کے گھر ایک باسعادت بچے نے آنکھ کھولی ،جس کا نام ددھیال کی طرف سے عطاء اللہ اور ننھیال کی طرف سے شرف الدین احمد رکھا گیا۔آپ نجیب الطرفین سید تھے ،والدہ محترمہ سیدہ فاطمہ اندرابی بھی حضرت باقی باللہ کے خاندان سے تھیں ۔ آپ کی عمر ابھی چار سال کی تھی کی والدہ محترمہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا،گھر میں علمی و مذہبی ماحول ہونے کی وجہ سے قرآن کریم سے قلبی لگاؤ ہو گیا اور بچپن میں ہی قرآن پاک حفظ کرلیا جب کہ عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید کے معلم خاص شیخ عاصم عمر رحمہ اللہ سے حجازی لَے سیکھی اورفن قرات میں معراج پائی،1914ء میں امرتسر میں مولانا مفتی غلام مصطفیٰ رحمہ اللہ سے مدرسہ نصرت العلوم میں صرف و نحو اور کتب فقہ کی تعلیم حاصل کی،1919ء میں شاہ جی کو مولانا مفتی غلام مصطفی ٰ رحمہ اللہ سے محلہ کوچہ جیل خانہ کی عوام نے اپنی مسجد کی خطابت کے لیے مانگ لیا ،جس فرمائش کو استاد محترم نے بادل ناخواستہ قبول کرلیا،آپ کی خطابت کے روز اول سے ہی مسجد باوجود اپنی وسعتوں کے کم پڑنی شروع ہوگئی اور چہار سو آپ کی خطابت کا شہرہ بلند ہونے لگا ،جب کہ آپ نے اپنی تعلیم مولانا نور محمدرحمہ اللہ اور مفتی محمد حسن رحمہ اللہ سے مکمل کی ۔امیرشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ نے اپنی عملی زندگی کی ابتداء غیر اسلامی وغیر شرعی رسومات کے خاتمے کی تحریک سے کی ،جس کے نتیجے میں امرتسر میں جاہلانہ رسومات کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ دروس قرآن کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو عام کیا۔(ماخوذ از حیات امیرشریعت)امیرشریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کی تبلیغی و تحریکی زندگی کو مرکزی دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ،پہلا حصہ تحریک آزادی اور انگریزی سامراج کے خلاف جدوجہد سے متعلق ہے اور دوسرا حصہ کذاب و منکرختم نبوت مرزاغلام احمد قادیانی کے فتنہ کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 137002 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
04 Sep, 2018 Views: 604

Comments

آپ کی رائے