آنکھین ، کان اور دماغ

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
پاکستان کی عمر کے لحاظ سے پاکستانیوں نے کچھ زیادہ ہی حکومتیں بگھتائی ہیں ۔ کوئی تو ہو جو فراست کی راہ چنے ۔۔۔

پاکستان کی عمر کے لحاظ سے پاکستانیوں نے کچھ زیادہ ہی حکومتیں بھگتائی ہیں ۔ اس کا سبب کھوجتے کھوجتے لوگوں نے موٹی موٹی کتابیں تخلیق کیں ۔ مقالے لکھے اور لیکچردیے. حالانکہ حل ہمیشہ سادہ سا ہوتا ہے۔ گھر کے سربراہ کو اپنا مقام قائم رکھنے کے لیے اپنی اولاد اور ان کی اولاد کے خیالات کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے ورنہ نوجوان سوچ دادا یا نانا کو اوقات دکھا دیتی ہے ۔ بات ایک ہی ہے اور اٹل ہے “ مان لو یا منا لو “ بات چیت ، مکالمہ اسی کو کہا جاتا ہے۔میں ایک ایسے شخص کو جانتاہوں جس نے اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بجھوایا ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ بیٹی نے فون پر ماں کو بتایا کہ وہ اپنے ایک کلاس فیلو پاکستانی سے شادی کا فیصلہ کر چکی ہے ۔ ماں نے رات کو اپنے خاوند کو بتایا ۔ باپ صاحب فراست ہی نہیں جہان دیدہ بھی تھا اس کا جواب تھا کہ جب بیٹی کو یونیورسٹی میں داخل کرا رہےتھے تو ہمارا مقصد تعلیم کے ساتھ اسے خود اعتمادی دلانا بھی تھا۔ اس وقت وہ تعلیم کے لحاظ سے ہم دونوں سے آگے ہے ، زندگی اس کی اپنی ہے مگر ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں کچھ روایات ہیں ۔ بیٹی کو بتاؤ ہمیں اس کی پسند پر بھروسہ ہے مگر لڑکے کو چاہیے اپنے والدین کو ہمارے پاس رشتہ مانگنے بھیجے ۔ دوسرے دن ماں نے لڑکی تک بات پہنچائی جو شادی تین دن بعد بدیس میں ہونے والی تھی ملتوی ہو ئی ۔ اب لڑکی اپنی ماں سے بات کرتی تو لڑکا بھی اپنی ہونے والی ساس سے بات کرتا۔اور یہ بات لڑکے نی اپنی ہونے والی ساس کو بتائی کہ وہ دوماہ بعد پاکستان آکر شادی کریں گے۔میں اس شادی میں موجود تھا دونوں خاندان شیر و شکر تھے، دلہا اور دلہن فرحان تھے ۔ ایک باپ کی فراست نے دو خاندانوں کو جوڑ دیا تھا۔ ایسے شادیوں کے بعد جان لینے اور دینے کے واقعات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

ملک بھی گھر ہی کی طرح ہوتے ہیں ، حکمرانی اور رہنمائی میں وہی فرق ہے جو موت اور حیات میں ہوتا ہے۔

پاکستان میں جناب عمران خان صاحب کی حکومت ہے ، ان کے مشیر ان و وزراء ان کے کان اور آنکھیں ہیں۔ انسان کانوں سے سنتاہے اور آنکھون سے دیکھتا ہے مگر فیصلہ دماغ کرتا ہے۔ خان صاحب اگر فیصلہ کرنے والا دماغ ہیں تو ان کے کان اور آنکھیں دو مناطر پیس کر رہی ہیں ۔ دونوں مناظر پیش کرنے والے ان کے اپنے ہی ہیں ۔ ان کی مدد گار ٹیم دو گروہوں مین بٹی ہوئی ہے ۔ ایک گروہ خاموشی سے عوام کی خدمت کا راہ دکھا رہا ہے ۔ دوسرا بے چین گروہ ہے جو ہر مخالف کو لٹکا دینے کا مبلغ ہے ۔اکہتر سالہ پاکستان ، قرضوں میں جکڑا، انصاف کے لیے عدالتوں کی چھوکٹوں پر دھکے کھاتا ہوا ، بچوں کی تعلیم کو ترستا ، تعلیم یافتہ اولاد کے لیے نوکریوں کا سوالی، تقسیم در تقسیم معاشرے میں دشمنیوں سے اکتایا ہوا، رہنے کے لیے اپنی چھت کو ترسا ہوا، اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے امن اور خود داری کی آس لگائے وزیر اعطم ہاوس کی طرف دیکھ رہا ہے ۔یہ فیصلہ عمران خان نے کرنا ہے کہ وہ حکمران بنیں گے یا رہنماء ۔ رہنماء صاحب فراست ہو تو دشمنی کی دہلیز پر کھڑے دو خاندانوں کو شیر و شکر کر دیتا ہے ۔ پاکستان کی عمر کے لحاظ سے پاکستانیوں نے کچھ زیادہ ہی حکومتیں بگھتائی ہیں ۔ کوئی تو ہو جو فراست کی راہ چنے کان اور آنکھیں دو مختلف مناطردکھا رہی ہیں فیصلہ مگر دماغ نے کرناہے ۔ اور حکومت کا دماغ وزیر اعظم ہی ہیں-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 104 Articles with 55062 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Nov, 2018 Views: 416

Comments

آپ کی رائے