حضرت مولانا حاجی عبدالوہابؒ

(Faisal Ramzan, )

اٹھارہ نومبر اتوار کے روز صبح سویرے حضرت مولانا حاجی عبدالوہابؒ کی رحلت کی اطلاع ملی
بہت زیادہ صدمہ ہوا کہ ایک روشن ستارہ ڈوب گیا ایک روشن چراغ بجھ گیا نماز جنازہ کا اعلان چونکہ مغرب کی نماز کے فورا بعد کا کیا گیا صبح دس بجے ہی میں اس عظیم انسان کے جنازے کے لئے نکل کھڑا ہوا اجتماع گاہ کے وسیع وعریض علاقے میں لوگوں کی کثیر تعداد دیکھ کر میں حضرت مولانا حاجی عبدالوہابؒ کی زندگی کے گزرے 96 برس کے ان شب وروز کا سوچنے لگ گیا جو انہوں نے اللہ کی راہ میں وقف کردئیے اللہ رب العزت کی وحدانیت اور خاتم النبیینؐ کی اطاعت کا درس وتبلیغ پوری زندگی انکا مشن رہا -

ایسے لوگ اس دنیا میں کہاں سے لاؤ گےکہ جو اپنی پوری زندگی بغیر نمودونمائش کے صرف اللہ کی رضا کی خاطر انسانوں کو جہنم سے بچانے کے لئے راتوں کو سجدوں میں روتے ہوں جن کی آنکھوں میں آنسو صرف اس لئے رواں رہتے ہوں کہ اللہ کی مخلوق اس کے آخری نبی حضرت محمد الرسولؐ اللہ کی اطاعت گزار بن جائے اللہ کے احکامات اور پیارے نبیؐ کے طریقوں میں کامیابی پر پوری دنیا کے گوشے گوشے سے انسانوں کو انسانیت کا راستہ دکھانے والوں کا امیر ہو جو انسانوں میں جوڑ کی بات کرے توڑ سے قطعاگریز کرے جس کی پوری زندگی آدمی کو کو انسان بنانے کی محنت میں گزر جائے -

اے اللہ تو ہمیں اپنا بنا لے اپنےکاموں میں لگا لے کا ذکر باربار رو رو کر کرتا ہوجسے دنیا کے ہر فردکی فکر ہوکہ کہیں وہ اللہ اورنبیؐ کی نافرمانی میں زندگی نہ گزار رہا ہوجسے مظلوموں کو ظلم سے نجات دلانے کی فکر ہو جسے بھوکے ہمسائے کو پیٹ بھر کر سلانے کی فکر ہو سب کا امیر ہوکر بھی سادہ زندگی گزارےجسے فرقہ واریت سے کوئی سرو کار نہ ہو جس کے ہاتھوں پر ان گنت غیر مسلم مسلمان ہو چکے ہوں-

حاجی عبدالوہابؒ کی زندگی بھی ایک مکمل داستان ہے۔ ابھی حاجی صاحب پر لکھنے بیٹھا ہوں تو ان کی دین کی خدمات پر ایک لمبی داستان متعقاضی ہے اور سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں مگر لکھتے ہوئے سب سے زیادہ دل ودماغ پر جو بات غالب ہےوہ یہ کہ عبدالوہابؒ نے اپنی آخرت کے لئے کیا کیا زاد راہ ساتھ لے لیا اور کیسے کیسے کارنامے اور صدقات جاریہ ہیں حضرت صاحب کی حیات مستعار میں تو صدقات جاریہ کی ایک کہکشاں جگ مگ کرتی نظر آتی ہے اللہ رب ذوالجلال اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Ramzan

Read More Articles by Faisal Ramzan: 16 Articles with 5994 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2018 Views: 463

Comments

آپ کی رائے