ڈاکٹر محمد منظور عالم: ایک دانشور، مفکر اور. مصلح
(Khursheed Alam Dawood Qasmi, India)
ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ: ایک دانشور، مفکر اور مصلح
خورشید عالم داؤد قاسمی
تعلیمی سفر اور عالمی شناخت: ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہو کر عالمی سطح پر شہرت حاصل کرنے والی عظیم شخصیت، ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ، بروز منگل 13 / جنوری 2026 کو علی الصباح اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحبؒ ایک وسیع عالمی بصیرت اور بلند پایہ فکر کے حامل، نہایت مخلص انسان تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی پیدائش 9/ اکتوبر 1945ء کو بہار کے ایک چھوٹے سے گاؤں رانی پور میں ہوئی، جو نظرا اور بسیٹھا کے قریب، ضلع: مدھوبنی میں واقع ہے۔ راقم السطور کا نانیہالی تعلق اسی گاؤں سے ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے والد ماجد کا نام عبد الجلیل تھا۔ وہ اپنے تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔
انھوں نے ابتدائی تعلیم، بسیٹھا ہائی اسکول سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا۔ یہاں سے ان کے فکری اور تعلیمی سفر نے ایک نئی جہت اختیار کی۔ پھر انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پیچھے مڑ کر نہ دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے علم و فکر کی بلندیوں کی طرف مسلسل پیش قدمی کی اور ترقی کے اعلیٰ منازل طے کرتے چلے گئے۔ ان کی علمی لیاقت اور فکری وسعت نے انھیں عالمی شناخت دیا۔ تاہم اس بلند مقام کے باوجود، ان کا اپنے گاؤں اور اپنی مٹی سے تعلق ہمیشہ قائم رہا۔ وہ اس سرزمین سے جڑے رہے جس سے ان کا پشتینی رشتہ تھا۔
تعلیمی خدمت اور عمر فاروق اکیڈمی: سن 1990 کے قریب،ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ نے اپنے آبائی گاؤں رانی پور میں عمر فاروق اکیڈمی کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ اگرچہ یہ ادارہ غیر معمولی ترقی نہیں کر سکا، تاہم یہ بات کم اہم نہیں کہ وہ آج بھی قائم ہے اور اپنی حد تک خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی رہی ہو کہ ڈاکٹر صاحب نے علمی، فکری اور سماجی سطح پر اتنے بڑے بڑے منصوبے شروع کر رکھے تھے کہ وہ عمر فاروق اکیڈمی کے لیے وقت نہ نکال سکے۔ راقم السطور کو بچپن کی ایک یاد آج بھی بخوبی یاد ہے کہ عمر فاروق اکیڈمی میں ڈاکٹر صاحب کی قیادت میں ایک پروگرام منعقد ہوا تھا، جس میں پہلی بار میں نے قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی کو تقریر کرتے ہوئے دیکھا اور سنا۔ قاضی صاحب کے علاوہ بھی متعدد ممتاز اور باوقار شخصیات اسٹیج پر موجود تھیں۔ یہ تمام حضرات ڈاکٹر صاحب ہی کی دعوت پر اس چھوٹے سے گاؤں کے اس ادارے میں تشریف لائے تھے۔
سعودی عرب میں علمی و پیشہ ورانہ خدمات: ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سعودی عرب کا رخ کیا۔ محض سعودی عرب جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی؛ مگر وہاں وزارتِ مالیات، ریاض میں مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینا، محمد بن سعود یونیورسٹی، ریاض کے شعبۂ اسلامی معاشیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے منصب تک پہنچنا اور کنگ فہد قرآنِ کریم پرنٹنگ کمپلیکس مدینہ منورہ میں، دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآنِ کریم کے تراجم کے چیف کوآرڈینیٹر جیسے اہم اور حساس عہدوں پر فائز ہونا، ہرگز آسان کام نہ تھا۔ یہ تمام کامیابیاں فضلِ خداوندی کے بعد، ان کی بلند فکری صلاحیت اور اعلیٰ تعلیم کا عملی ثمر تھیں، جنھوں نے انھیں بین الاقوامی سطح پر ایک معتبر اور قابلِ اعتماد شخصیت بنا دیا۔
امت کی فکر اور ہندوستان واپسی: ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ امتِ مسلمہ کے لیے بے چین دل اور فکر مند دماغ رکھتے تھے۔ انھوں نے ہندوستانی اقلیت، بالخصوص مسلمانوں کے مصائب و آلام کو گہرائی سے محسوس کیا۔ چناں چہ سعودی عرب میں اعلیٰ اور باوقار مناصب پر فائز ہونے کے باوجود، انھوں نے ہندوستان واپسی کا فیصلہ کیا اور ہندوستان میں رہتے ہوئے ان مسائل کے حل کے لیے عملی اور سنجیدہ کوششیں شروع کیں۔ ان کی مخلصانہ کاوشوں کے نتیجے میں ہندوستان کے متعدد مدارس اور مساجد کو مالی تعاون حاصل ہوا اور ان کی قیادت میں قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف ادارے قائم ہوئے۔ ان کی کوششوں کا ایک اہم اور دیرپا ثمر انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی صورت میں سامنے آیا، جو سن 1986ء میں ایک فکری اور تحقیقی تھنک ٹینک کے طور پر قائم ہوا۔
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی خدمات: انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے قیام کے بعد، ڈاکٹر منظور صاحب نے تحقیق اور علمی کام کا باقاعدہ آغاز کیا۔ انھوں نے اہلِ علم و قلم کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا۔ ان کی علمی صلاحیتوں سے استفادہ کیا گیا اور ان سے سیکڑوں تحقیقی نوعیت کی کتابیں تصنیف کروائی گئیں۔ پھر ان کتابوں کوانسٹی ٹیوٹ نے اعلیٰ معیار پر شائع کیا۔ اس ادارے نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں سے متعلق مختلف موضوعات پر مستند ڈیٹا جمع کیا؛ بلکہ متعدد ایسے اہم اور ضروری کام انجام دیے جو اس سے قبل منظم انداز میں نہیں ہوئے تھے۔ اس عظیم ادارے کے اغراض و مقاصد، نظریات اور خدمات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، اس کی ویب سائٹ پر موجود درجِ ذیل عبارت کا مطالعہ ضروری ہے:
"انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کا قیام 1986ء میں اس مقصد کے تحت عمل میں آیا کہ تجرباتی اور تصوری تحقیق کو فروغ دیا جائے۔ ادارے میں ان نظریات اور مسائل پر تحقیق کی جاتی ہے جو ہندوستانی سیاست، معاشرہ، معیشت، مذہب اور تہذیب و ثقافت سے متعلق ہیں۔ خاص طور پر مسلمانوں اور دیگر اقلیتی گروہوں کے مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ان مطالعات میں ترقیاتی عمل کے مسائل، فرقہ وارانہ و سماجی تعلقات، سماجی کشیدگیاں، خواتین کی حیثیت وغیرہ جیسے موضوعات شامل ہیں۔ اس مدت کے دوران ادارہ تحقیق اور فکری سرگرمیوں کے ایک اہم مرکز کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے، جو علمی دنیا میں اپنی غیر جانب داری (معروضیت) کے لیے جانا جاتا ہے۔
ادارے کی کامیابیوں اور اس کے پروگراموں کو اقوامِ متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کو اقوامِ متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے ساتھ مشاورتی حیثیت حاصل ہے۔
اس ادارے نے بھارتی معاشرے کو درپیش سماجی مسائل کے مطالعے میں پائے جانے والے علمی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے، بالخصوص عام بھارتی عوام اور خصوصاً مسلمانوں کے مسائل کے حوالے سے۔ اس نے سماجی علوم اور انسانیاتی علوم کے میدان میں سنجیدہ فکری کاوشوں کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا اور انسانی مسائل کے قرآنی نقطۂ نظر اور ہندوستان میں مسلمانوں کو درپیش مسائل پر تصوری اور تحقیقی مطالعات کے شعبے میں ایک رجحان ساز ادارہ بن کر ابھرا۔ مختلف سروے منصوبے، جو مسلمانوں اور ہندوستانی معاشرے کے دیگر کمزور طبقات کے مسائل پر مرکوز ہیں، طویل عرصے سے محسوس کی جانے والی شماریاتی معلومات اور تجزیے کی ضرورت کو مختلف شعبوں میں پورا کر رہے ہیں۔"
قاضی صاحبؒ سے تعلقات اور آل انڈیا ملی کونسل کا قیام: قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمیؒ کے ساتھ ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ کے نہایت قریبی اور خوشگوار تعلقات تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے قوم کے درد کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے ایک ادارے کا منصوبہ قاضی صاحبؒ کی خدمت میں پیش کیا۔ مقصد یہ تھا کہ اس ادارہ کے تحت وحدت کلمہ کی بنیاد پر لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے، ان کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ اسی منصوبے نے آگے چل کر آل انڈیا ملی کونسل کی صورت اختیار کی۔ چناں چہ مئی 1992ء میں آل انڈیا ملی کونسل کا باضابطہ قیام عمل میں آیا۔ قاضی صاحب کی وفات کے بعد، آپ کونسل کے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ قاضی صاحبؒ کی شخصیت پر لکھے گئے ایک مضمون میں ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ خود لکھتے ہیں:
"مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان حالات [یعنی سن 1980 کے ارد گرد کے حالات] میں، میں نے وحدت کلمہ کی بنیاد پر ملت کو باہم مربوط کرنے کے منصوبے کا خاکہ پہلی بار مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے منبر کے قریب جب محترم قاضی صاحب کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے گفتگو کے آغاز میں ہی ایسی فکر انگیر عملی تجاویز پیش کیں کہ لگا جیسے انہوں نے اس خاکہ میں رنگ بھرنے کے لیے بہت پہلے سے تیاری کر رکھی تھی۔ میں ان دنوں پورے ملک کا دورہ کر کے مختلف دینی و ملی شخصیات سے اس منصوبے پر گفتگو کر رہا تھا اور ہر جانب سے جس طرح اس منصوبے کی ستائش کی جارہی تھی، میرا احساس یقین میں تبدیل ہو رہا تھا کہ شاید میری یہ حقیری کوشش اعتماد و اعتبار کی میزان پر اپنا وزن محسوس کرانے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں سورج کنڈ میں ایک مشاورتی نشست منعقد کی گئی اور اس میں خاص طور پر قاضی صاحب سے گذارش کی گئی کہ وہ نہ صرف شریک ہوں بلکہ اپنی تجاویز کا خاکہ تحریری شکل میں شرکاء کے سامنے پیش کریں تاکہ افہام و تفہیم کی جہت کے تعین میں آسانی پیدا ہو سکے۔ سورج کنڈ کی نشست اپنے مقصد کے لحاظ سے انتہائی کامیاب ثابت ہوئی ۔ اور خدا کے فضل سے مئی 1992 ء میں ممبئی کے مشہور وائی ایم سی میدان میں ملی کونسل کی تشکیل کا اعلان کر دیا گیا۔ ہر چند کہ قاضی صاحب کو اپنی بے پناہ مصروفیتوں کی وجہ سے ملی کونسل کی قیادت قبول کرنے میں عذر تھا؛ لیکن انہوں نے اپنی بے شمار علمی اور فکری مشغولیات کے باوجود، اپنی تمام بہترین صلاحیتوں کے ساتھ جس طرح ملی کونسل کی ترتیب و تہذیب میں اپنے آپ کو جھونک دیا، وہ اب ہماری ملی جد وجہد کی تاریخ کا ایک روشن بات بن چکا ہے۔" (ماہنامہ ملی اتحاد، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نمبر، مئی – اگست: 2002)
بیسویں صدی کے سو عظیم مسلم رہنما، ایک تحقیقی کارنامہ: ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ بنیادی طور پر تحقیق اور علمی جستجو کے آدمی تھے۔ انھوں نے اکیسویں صدی کا استقبال ایک عظیم تحقیقی کتاب کے ذریعے کیا، جو انگریزی زبان میں تصنیف کی گئی۔ اس کتاب کا نام100 Great Muslim Leaders of the 20th Century (بیسویں صدی کے سو عظیم مسلم رہنما) ہے۔ اس اہم علمی کام کو انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نے نہایت اعلیٰ معیار پر شائع کیا اور اس کی رسمِ اجرا بھی بڑے پیمانے پر انجام پائی۔ اس کتاب میں دنیا بھر کے مختلف میدانوں، مثلا: سیاست، تعلیم، مذہب، سماجی اور تحریکی سرگرمیوں سے تعلق رکھنے والی اُن سو بااثر مسلم شخصیات کا جامع تعارف پیش کیا گیا ہے، جنھوں نے بیسویں صدی کے فکری، سماجی اور سیاسی منظرنامے میں عالمِ اسلام کی تشکیل و تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ کتاب میں ان قائدین کی آزادی کی تحریکوں، سماجی اصلاح، فکری و علمی مباحث اور اسلامی احیاء کے حوالے سے انجام دی گئی خدمات کو نمایاں انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔ ان منتخب شخصیات میں بیگم حضرت محل، نواب محسن الملک، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، بیگم صولت النساء، مولانا عبید اللہ سندھی،مولانا محمد قاسم نانوتوی، جمال الدین افغانی،علامہ محمد اقبال، کنگ عبد العزیز،سلطان عبد الحمید،عمر المختار، عز الدین القسام،بدیع الزمان سعید نورسی،محمد علی جناح، سید قطب وغیرہ جیسی معروف اور مؤثر ہستیاں شامل ہیں۔
ہمہ جہت شخصیت اور خلوصِ نیت کا روشن نمونہ: ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کرکے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری ضرور حاصل کی؛ مگر ان کی فکر اور ذہن صرف معاشیات تک محدود نہیں تھا۔ وہ ملک و ملت کے مسائل کے حوالے سے گہری سنجیدگی اور حساسیت رکھتے تھے۔ ان کا فکری دائرہ تعلیمی، سیاسی اور اصلاحی میدانوں تک پھیلا ہوا تھا۔ انھوں نے ان تمام میدانوں میں مؤثر اور بامقصد کام کیا۔ چناں چہ ملت کے لوگ انھیں ایک ماہرِ معاشیات، ماہرِ تعلیم، مصلح، محقق اور متعدد کامیاب اداروں کے بانی کے طور پر یاد کر رہے ہیں۔ تاہم ان تمام تعارفات سے بڑھ کر ان کی سب سے نمایاں پہچان یہ تھی کہ وہ نام و نمود اور شہرت سے دور، اللہ تعالیٰ کے ایک نہایت مخلص بندے تھے۔ انھوں نے قوم و ملت کے مفاد میں، خالص اللہ کی رضا کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں۔ یہ چند سطور صرف ان کے لیے خراجِ عقیدت پیش کرنے کے مقصد سے لکھی گئی ہیں۔ ان کی حیات اور خدمات کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے لیے کتاب: "ڈاکٹر محمد منظور عالم: اَن کہی کہانی، انصاف، شمولیت اور برابری کی جدوجہد" کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ یہ کتاب مشہور سینئر دو لسانی صحافی جناب اے یو آصف صاحب نے تحریر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر محمد منظور صاحب کی تمام خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے اور انھیں جنت الفردوس میں مقام عطا کرے! اللہ تعالیٰ ان کے اہلِ خانہ اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے! آمین! •••• |
|