مسلمانوں کو اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۰۰۰عکرمہ صبری

(Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

دنیا میں ابتداء ہی سے اسلام کی وحدانیت و حقانیت کو دشمنانِ اسلام نے مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے مسلمانوں کو نتِ نئے طریقوں سے ستایا ان پر بے تحاشہ مظالم ڈھائے گئے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین ہو کہ تابعین و تبع تابعین یا ان کے بعد کے والے مسلمان۔ خطرناک مظالم ڈھائے جانے کے باوجود انہوں نے اﷲ کے الہِ واحد اور محمد ﷺ کے رسول اﷲ ہونے کا اقرار کرتے رہے اور شریعت مطہرہ ﷺ کا عملی طور مظاہرہ کرتے ہوئے دشمنانِ اسلام کے سامنے ڈٹے رہے۔ آج بھی دنیا کے بیشتر ممالک میں مسلمانوں پر کسی نہ کسی طرح ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے۔ اسلامی ممالک کے حالات سے کون واقف نہیں۔ مسلم حکمرانوں کو انکے اقتدارکے نشے نے یا اقتدار سے بے دخل ہونے کی فکر نے اتنی خطرناک راہوں پر لاکھڑا کیا ہے کہ انہیں اب انکی اپنی منزل مقصود تک پہنچ پانے کیلئے راہ کا پتہ بھی نہیں۔نام نہادجہادی تنظیمیں ہوں کہ واقعی جہاد فی سبیل اﷲ کے جانبازسپاہی۔انہیں ختم کرنے کے نام پر جس طرح دشمنانِ اسلام نے سازشیں رچی ہیں اس کا ایک اہم پہلو کچھ اور ہے ۔ ان جہادی تنظیموں کاوجود گذشتہ چند برسوں کے دوران ہوا اور یہ کیوں وجود میں آئیں اس کا بھی ہمیں علم ہے ۔ بعض نام نہاد جہادی تنظیموں کا وجود ان مسلمانوں کو اکھٹا کرنا بھی مقصود ہے جنہوں نے واقعی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و بربریت کے خلاف نعرۂ حق بلند کرتے ہوئے اپنی جانوں کی قربانی پیش کرنے آگے آئے۔ اس طرح دشمنانِ اسلام ایک تیر سے دو شکار کرنے لگیں ۔ یعنی ایک طرف نام نہاد جہادی تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو ختم کرنے کے بہانے ان جہادفی سبیل اﷲ میں حصہ لینے والے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے تو دوسری جانب نام نہاد جہادی گروپس مسلمانوں کو ہی نشانہ بناتے ہوئے ان کا قتلِ عام کررہے ہیں کہیں پر فائرنگ کے ذریعہ مسلمانوں کو ہلاک کیا جاتا ہے تو کہیں پر بم دھماکوں یا خودکش حملوں کے ذریعہ ،ان حملوں میں بے قصور مسلمان مرد و خواتین بشمول معصوم بچوں کا قتل عام ہوتا ہے تو اس کے بعد ان جہادی تنظیموں کو نشانہ بنانے کے نام پر مغربی و اتحادی ممالک مل کر خطرناک فضائی حملے کرتے ہیں جس میں جہادی تنظیموں کے افراد ہلاک ہوتے ہیں یا نہیں اس کا صحیح علم بھی نہیں البتہ عام شہریوں کی ہلاکت ضرور ہوتی ہے۔ ڈرون حملوں کے ذریعہ بھی پاکستان، افغانستان اورعراق وغیرہ میں عام شہریوں کو ہلاک کیا گیا جس کی خبریں ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ملتی رہتی ہیں۔ اس طرح مغربی و یوروپی طاقتوں کے ساتھ بعض اسلامی ممالک کے حکمراں بھی اپنی ظالمانہ کارروائیوں کے ذریعہ اپنے ہی شہریوں کو جو حکومت کی پالیسیوں کے خلاف شرعی قوانین کی عمل آوری کیلئے کہتے ہیں یا ملک میں غیر شرعی تہذیب کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انکا انجام بھی خطرناک ہوتاہے۔ مصر میں اخوان المسلمون کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کیا گیا ، ہزاروں احتجاج کرنے والے اخوان المسلمین کو بری طرح ہلاک کردیا گیا اور پھر ہزاروں اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے افراد اور انکے رہنماؤں کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑرہی ہے اور ان کے خلاف مقدمات چلاکر انہیں عمر قید یا سزائے موت کا اعلان کردیا گیا۔ بعض دوسرے اسلامی ممالک میں بھی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے تو انکا انجام بھی خطرناک ہوتاہے ۔ماضی قریب میں ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ملنے والی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اسلامی ممالک میں اسلام پسند علماء کرام ، اماموں و خطباء ، مذہبی شخصیتوں اور نوجوانوں کوکس طرح غائب کردیا جاتا ہے اور وہ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں اس کا تک پتہ تک نہیں چلتا ۔اس طرح دشمنانِ اسلام کی سازشوں میں مسلمانوں کا قتلِ عام کس کس طرح ہورہا ہے اس کا اندازہ کرنا دشوار ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں کی بغاوت کو کچلنے کے نام پر ہزاروں یمنیوں کا قتل عام ہوچکا ہے ۔اب تک ایک لاکھ کے لگ بھگ بچے غذائی قلت کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ شام کے حالات سے کون واقف نہیں۔ ان ممالک میں جس طرح مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ وقتیہ طور پر اقوام متحدہ اور بعض ہیومن رائٹس کے اداروں اور ممالک کی جانب سے اس کے خلاف آواز اٹھتی ہے اور پھر خاموشی چھاجاتی ہے اور دشمنانِ اسلام اپنی وہی روش پر قائم رہ کر مسلمانوں کے قتل عام کرنے کیلئے ایک طرف ایک سوپر پاور ملک حکمراں کا ساتھ دیتاہے تو دوسری جانب اپوزیشن کو کوئی طاقتور ملک ساتھ دیتا ہے اس طرح دشمنان اسلام دونوں طرف مسلمانوں کے قتل عام کیلئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔مسلم حکمرانوں کو اپنے دوست اور دشمن میں تمیز کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلامی ممالک خصوصاً مشرقِ وسطی کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ اب رہی بات غیر اسلامی ممالک کی تو میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کا قتلِ عام اور انکی معیشت کو مکمل طور پر تباہ و برباد کردیا گیا ۔ لاکھوں مسلمان بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں پناہ گزیں کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ بنگلہ دیش میں مقیم پناہ گزیں واپس اپنے ملک کو جانا نہیں چاہتے انہیں ڈر ہے کہ انکے ساتھ دوبارہ ایسا ہی عمل کیا جاسکتا ہے لہذا وہ واپس جانے سے گھبراتے ہیں۔ اسی طرح گذشتہ چند برسوں سے چین میں مقیم اویغورمسلمانوں کے ساتھ بھی حکومت کی جانب سے ظلم و بربریت کی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں۔ چین پر الزام ہیکہ اس نے مغربی خطے سنکیانگ میں لاکھوں مسلمانوں کو بغیر مقدمہ چلائے تربیتی کیمپوں میں قید کر رکھا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سنکیانگ میں ایک کروڑ اویغورمسلمان آباد ہیں وہ ترکس زبان میں بات چیت کرتے ہیں اور شکل و صورت میں چین کی ہان آبادی کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی علاقوں کے افراد سے بھی ملتے جلتے ہیں۔ کاشغر جو جنوبی شہر ہے اسے بیجنگ سے زیادہ بغداد کے قریب کہا جاتا ہے کیونکہ ثقافتی اعتبار سے یہ شہر بغداد سے ملتا جلتا ہے۔ چینی حکومت سے بغاوت اور مزاحمت کی تاریخ کے تناظر میں اویغوروں اور موجودہ سیاسی حکمرانوں کے تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں ہے۔چونکہ چین میں کمیونسٹ حکومت قائم ہے اور کمیونسٹ دور سے قبل سنکیانگ مختصر عرصے تک آزاد بھی رہا۔ یہاں پر وقتاً فوقتاً مظاہرں اور تشدد کا سلسلہ چلتا رہا۔ بی بی سی کے مطابق جرمنی سے رقبے میں پانچ گنا بڑے اس خطے میں تیل اور گیس جیسے قدرتی وسائل کی بدولت یہاں بڑے پیمانے پر چینی سرمایہ کاری کی گئی ہے ، اس کے نتیجہ میں یہاں معاشی ترقی ہوئی اور ہان چینی آبادکار بھی یہاں آئے ۔ اویغوروں میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے مسئلے پر بے چینی پائی جاتی ہے اس تنقید کے جواب میں چینی حکومت سنکیانگ کے شہریوں کے بہتر ہوتے ہوئے معیار زندگی کا حوالہ دیتی ہے ، تاہم گذشتہ دہائی میں اس خطے میں دنگوں اور فسادات، اندرونی مذہبی لڑائیوں ، حملوں اور پھر پولیس کی جوابی کارروائیوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں میں سنکیانگ میں سیکیوریٹی کے سخت ترین اقدامات کئے گئے ۔ مسلمانوں کو شرعی قوانین پر عمل کرنا سخت ترین مسئلہ بن چکا ہے ،اب وہاں لمبی داڑھیاں رکھنے اور حجاب اوڑھنے پر سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ بچوں کے اسلامی نام رکھنے کے حوالے سے بھی بندشیں موجود ہیں۔اویغور اب مجموعی اعتبار سے شک کے دائر ے میں ہیں، انہیں سفری پابندیوں کا بھی سامنا ہے چاہے وہ سفر سنکیانگ میں ہو یا اس سے باہر ، شہریوں کو انکے پاسپورٹ پولیس کے پاس رکھنے کی تاکید کی جاتی ہے۔ اویغور سرکاری ملازمین اسلام پر اعلانیہ طور پر عمل پیرا نہیں رہ سکتے، وہ نہ ہی مسجد جاسکتے ہیں اور نہ ہی رمضان میں روزے رکھ سکتے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت کرسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کاشغر شہر ایک زمانے میں اویغور ثقافت کا مرکز ہوا کرتا تھا لیکن ان دنوں وہاں کی گلیاں خاموش بتائی جاتی ہیں اور زیادہ تر دروازوں پر تالے لگے ہوئے ہیں اور مقامی لوگوں سے ان تالے لگے ہوئے خاندانوں کے بارے میں کسی قسم کی تفصیلات حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ جن صحافیوں نے ان مقامات کا دورہ کیا ہے ان کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ شہر کی مرکزی مسجد عجائب گھر کا سماں پیش کررہی تھی جب وہاں کے افراد سے نماز کے اوقات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو کوئی بھی جواب نہ دے سکا۔ اس طرح اویغور مسلمان ہمیشہ ہر جگہ شک کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں اگر اویغور مسلمانوں پر حکومت کو کسی قسم کا بھی شک ہوتو انہیں قید کرکے خصوصی تربیتی مراکزبھیج دیا جاتا ہے اور انکے ساتھ وہاں پر کس قسم کا برتاؤ ہوتا ہے اس سلسلہ میں کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سنکیانگ میں کئی بڑے بڑے کیمپ قائم ہیں جس میں ہزاروں کی تعداد میں اویغور مرد و خواتین قید ہیں ۔ ایک ایک کیمپ میں دس دس ہزارسے زائد افراد کو رکھے جانے کی جگہ بتائی جاتی ہے۔ پاکستان کے بعض تاجرین اور چین میں مقیم مسلمانوں نے اویغور مسلم خواتین سے شادی بیاہ کی ہے اور انہیں اولاد بھی ہے لیکن اب ان میں سے کئی پاکستانی شوہروں کوانکے بیویوں اور بچوں سے ملنا مشکل مسئلہ بنگیا ہے اس کی ایک وجہ ان ذہنی تربیت کے مراکز ہیں جہاں کئی ایسی خواتین بند ہیں جنہوں نے پاکستانی مردوں سے شادیاں کررکھی ہیں۔ بی بی سی کے نمائندوں نے ان خواتین کے پاکستانی خاوندوں سے بات چیت کی تو انہیں پتہ چلا کہ ان خواتین کی نظر بندی سے ان کے خاندان والوں ، خاص طور پر بچوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں اور پورے کے پورے خاندان تتر بتر ہوگئے ہیں۔اس طرح دنیا کی سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے کمیونسٹ ملک چین میں مسلمانوں کے ساتھ جس طرح کا برتاؤ کیا جارہاہے اس کی خبریں بہت کم ہی منظر عام پر آتی ہیں۔ ایسے ہی کئی ممالک ہیں جہاں پر مسلمانوں کو مذہبی آزادی نہیں۔ ہندوستان میں بھی مسلمانوں پرآزادی کے بعد سے اب تک وقتاً فوقتاً جس طرح ظلم و بربریت ، قتل و غارت گیری کی گئی اس کی ایک الگ تاریخ ہے۔ گجرات کے فسادات میں جس طرح مسلمانوں کو نذر آتش کرکے انکا قتل عام کیا گیا، خواتین و لڑکیوں کی عصمتیں لوٹی گئیں اور معصوم بچوں کو جس درندگی سے قتل کیا گیا اس کی ایک دردناک تاریخ ہے۔ آج پھر ہندوتوا طاقتیں ہندوستان میں قائم امن و سلامتی کو برباد کرنا چاہتی ہیں ۔ اترپردیش اورگجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتیں قائم ہیں جہاں پر مسلم شہروں اور علاقوں کے ناموں کو تبدیل کیا جارہا ہے، اسلامی تشخص کو مٹانے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں ۔ مسلمانوں کو مختلف طریقے سے ہراساں و پریشان کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ملک کی دیگر ریاستوں میں کبھی گائے کے گوشت کھانے پر قتل عام کیا جاتا ہے تو کبھی ٹرانسپورٹ کے ذریعہ گائیں اور بڑے جانور لیجانے والوں کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔ کبھی لوجہاد کے نام پر مسلم نوجوانوں کا قتل عام ہوتا ہے تو کبھی دہشت گردی کے نام پر نوجوانوں کو قید و بند کرکے خطرناک سزائیں دی جاتی ہیں۔ اب رہا پاکستان کا مسئلہ ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو امریکہ کی جانب سے دی جانے والی امداد معطل کردی۔ گذشتہ اتوار کو امریکی صدر نے ٹیلی ویژن چینل فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ پاکستان نے اسامہ بن لا دن کو اپنے ملک میں رکھا ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر کسی کو معلوم تھا کہ وہ (اسامہ بن لا دن) فوجی اکیڈیمی کے قریب رہتے ہیں اور ہم پاکستان کو 1.3ارب ڈالر سالانہ امداد رے رہے ہیں۔ ہم اب یہ امداد نہیں دے رہے۔ میں نے یہ بند کردی تھی کیونکہ وہ ہمارے لئے کچھ نہیں کرتے۔ امریکی صدر کے اس بیان کے بعد پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ردّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نائن الیون میں ملوث نہیں رہا یکن اس کے باوجود پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اس جنگ میں پاکستان نے 75,000افراد کی قربانی دی ہے اور 123ارب ڈالر کا مالی خسارہ برداشت کیا جبکہ اس بارے میں امریکی امداد صرف 20ارب ڈالر کی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم پاکستان نے بتایا کہ اس جنگ میں پاکستان کے قبائلی علاقے تباہ ہوئے ، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور اس جنگ نے عام پاکستانیوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان آج بھی امریکی افواج کو اپنے زمینی اور فضائی راستے استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ عمران خان نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ کیا وہ اپنے کسی دوسرے اتحادی ملک کا نام بتاسکتے ہیں جس نے شدت پسندی کی جنگ میں اتنی قربانیاں دی ہوں۔ اس سے قبل پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ان پاکستانی رہنماؤں کیلئے سبق ہونا چاہیے جو 9/11حملوں کے بعد سے امریکہ کو خوش رکھنے کی پالیسی پر گامزن تھے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں پاکستانی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی منتقلیاں، امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی ہلاکتیں وغیرہ ہیں انکا کہنا تھا کہ فہرست بہت لمبی ہے اور ایک بار پھر تاریخ نے ثابت کردیا کہ خوش کرنے کی پالیسی کام نہیں کرتی۔ اب دیکھنا ہیکہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا جوابی بیان امریکی صدر ٹرمپ کیلئے کس قسم کے ردّ عمل کے اظہار کا باعث بنتا ہے۔ عالمِ عرب کے بعض حکمراں ان دنوں اسرائیل کے قریب ہوتے دکھا ئی دے رہے ہیں ۔ان حکمرانوں کی قربت اسرائیل کے لئے کامیاب تو فلسطینیوں کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے ۔

مسجد اقصیٰ میں میلاد النبی ﷺ
عید میلاد النبی ﷺ کا اہتمام دنیا کے کونے کونے میں جہاں جہاں عاشقانِ رسول ﷺ رہتے ہیں کیا جاتا ہے اور کیوں نہ ہو اپنے پیارے نبی و رسول ﷺ کی میلاد شریف مناکر خوشیوں کا اظہار کریں ۔میلادِ پاک کے موقع پر مسلمان نیک اعمال بجالاتے ہیں ،اﷲ رب العزت کی حمد و ثناء کے ساتھ ساتھ اپنے پیارے حبیب ﷺ پر درود و سلام بطور ہدیہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ میلاد النبی ﷺ کے موقع پر حرمین شریفین خصوصاً حرم نبوی ﷺ کی حاضری کیلئے دنیا کے بیشتر حصوں سے عاشقانِ رسول ﷺ آتے ہیں اس موقع پر قبلہ اول مسجد اقصیٰ میں بھی مسلمانوں کی کثیر تعداد اپنے پیارے حبیب ﷺ سے محبت کا اظہار کرنے حاضر ہوتی ہیں۔ بیت المقدس میں حاضری کے سلسلہ میں ممتاز عالم دین اور مسجد اقصی کے امام وخطیب الشیخ عکرمہ صبری نے فلسطینی عوام پر زور دیا تھا کہ وہ میلاد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کے موقع پر مسجد اقصی میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔ تفصیلات کے مطابق مسجد اقصی اسرا ومعراج کے سفر کا حصہ ہے اور اس کی اسلام میں کئی حوالوں سے خاص اہمیت ہے۔ عکرمہ صبری نے میلاد النبی کے موقع پر فلسطینی مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں مسجد اقصی میں وقت گذارنے، عبادت و ریاضت میں گزارنے، نوافل اور علم وذکر کی محافل میں شرکت کرنے کیلئے کہا تھا ۔عاشقان رسول ﷺ نے مسجد اقصیٰ میں میلاد مصطفی کے موقع پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیدائش 576 کی مناسبت سے خصوصی پروگرام منعقد کیا تھا۔الشیخ عکرمہ صبری نے فلسطینی قوم اور پوری امت مسلمہ کو میلاد النبی ﷺکے موقع پر اپنی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔
***

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 257 Print Article Print
About the Author: Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 197 Articles with 61310 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: