چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

چیف جسٹس افتخار چوھدری کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار بھی سبکدوش ہو گئے، مگر اپنے پیچھے کئے سوالات چھوڑ گئے۔جو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے لئے جواب طلب ہو ں گے۔ ریٹائر ہونے والوں دونوں چیف جسٹس صاحبان نے از خود نوٹسز کی تاریخ رقم کی۔ کبھی ایسا بھی محسوس ہوا کہ ملک میں سیاسی وجمہوری یا پارلیمانی حکمرانی کے بجائے عدالتی نظام حکومت رائج العمل ہے۔ تا ہم ان از خود نوٹسز کو عوامی حلقوں نے سراہا بھی۔ کیوں کہ یہ مفاد عامہ میں کئے گئے عدالتی اقدامات تھے ۔ جیسے کہ موبائل کمپنیوں کے بارے میں فیصلے، ہسپتالوں کی چیکنگ، صحت وصفائی ، تعلیم ،سمیت چیف جسٹس ثاقب نثار کے 43از خود نوٹس۔ ان میں ڈیم کی تعمیر کے لئے مہم قابل ذکر ہے۔ اس چندہ مہم میں انھوں نے ملکی اور غیر ملکی سطح پر شوز کئے۔ یہ جوڈیشل ایکٹوازم کا زمانہ تھا ، جو گزر گیا۔ از خود نوٹس آئین کی دفعہ 184(3)کے تحت مفاد عامہ کے لئے لئے جاتے ہیں۔ مگر گزشتہ دو ادوار میں ان کا بہت زیادہ استعمال کیا گیا۔ کبھی ایسا لگتا کہ سول حکومت مفلوج ہے کہ عدالت کو آگے آنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سکولوں میں فیسوں میں کمی کے بارے میں احکامات نے ہر کسی کو متاثر کیا ہو گا۔

کسی جج کے بارے میں یہ روایتی اصول سمجھا جاتا ہے کہ جج صاحب سوشل شخصیت نہیں بن سکتا ، جج کی سماجی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ جج صاحبان محفل سجانے، تقریبات میں شرکت کرنے، حکومتی یا غیر حکومتی لوگوں سے میل جول سے پرہیز کرتے ہیں۔ کسی جگہ مہمان خصوصی نہیں بنتے۔ تحفے تحائف قبول نہیں کرتے۔ ان کی عوامی سرگرمیاں بالکل ہی نہیں ہوتیں۔ ان کی دوستی یاری کے چرچے نہیں کئے جاتے۔ یہ پریس کانفرنس نہیں کرتے ، ان کے پالیسی بیانات جاری نہیں کئے جاتے۔ یہ کھیل کے میدان، کسی گائف کلب میں نظر نہیں آتے۔ بلا شبہ جج صاحبان بھی انسان ہیں۔ ان کی بھی خواہشات ہیں۔ عوامی میل جول ہیں۔ رشتے ناتے ہیں۔ تعلق واسطے ہیں۔ عزیز و اقارب کے معاملات ہیں۔ مگر جج صاحب سب سے تعلق توڑ کر صرف اور صرف عدل و انصاف سے رشتہ جوڑتے ہیں۔ تا کہ ان کا کوئی تعلق ان کے فیصلے پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ ان کے قلم میں کوئی چیز لرز پیدا نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ جج صاحبان راستے چلتے نظریں بھی جھکا کر رکھا کرتے تھے۔ اس سب کا مقصد یہ کہ جج کا فیصلہ ہی سب کچھ ہے۔ اس پر کوئی طاقت اثر نہیں ڈال سکتی۔ مگر اب کچھ صورت بدل رہی ہے۔ یہ روایتی قواعد و ضوابط اور خود پر اپنی ہی پابندی اٹھ رہی ہے۔بعض جج صاحبان سوشل بن رہے ہیں۔ کبھی ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی سیاسی اور سماجی حس رکھتے ہیں۔ ان کی بھی ذمہ داریاں ہیں جیسا کہ دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے چندہ مہم اور ڈیم فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ عدالتی کارروائی میں جرمانے کے ساتھ ڈیم فنڈ میں جمع کرانے کی ہدایات بھی کی گئیں۔ اگر چہ یہ قومی خدمت کا جذبہ تھا مگر ایک جج صاحب کی جانب سے غیر عدالتی سرگرمی پر کئی سوالات بھی کئے گئے۔ یعنی یہ مخلصانہ عمل بھی متنازعہ ہوا۔ جسٹس ثاقب نثار نے ایک جاتے جاتے اہم معاملہ کی جانب توجہ دلائی ہے کہ مقننہ کا کام صرف قانون سازی ہے ترقیاتی فنڈز دینا نہیں اور نہ ہی کسی کا ٹرانسفر یا پوسٹنگ کرنا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب نے چیف جسٹس کے بطور نامزدگی کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ از خود نوٹس کا اختیار بہت کم استعمال کریں گے۔ جسٹس کھوسہ صاحب کے بار ے میں مشہور ہے کہ وہ مقدمات کی طوالت یا التوا کے سخت مخالف ہیں۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ مقدمے کے التوا کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ، پہلی یہ کہ یا وکیل صاحب اﷲ کو پیارے ہو جائیں یا دوسری یہ کہ جج صاحب انتقال کر جائیں۔ اس کے علاوہ کوئی تیسری صورت ہر گز نہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کبھی اپنے فیصلوں میں خلیل جبران کی نظم ــ’’ قابل رحم قوم‘‘ اور ماریو پوزو کی کتاب ’’گارڈ فادر‘‘ کا حوالہ دے کر یہ تاثر دیا کہ انہیں ادبی ذوق بھی ہے۔ جس کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کے خلاف مقدمات میں اس ادبی زوق کی جھلک نظر آئی۔ انھوں جنرل پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی دباؤ کا شکار نہیں ہوتے۔ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس نسیم حسن شاہ کے داماد ، سابق چیف سیکریٹری پنجاب ناصر کھوسہ اور سابق ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ کے بھائی کے طور پر ان میں عدالتی اور انتظامی تربیت کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ جسٹس نسیم حسن شاہ نے ہی جسٹس کھوسہ صاحب کو ’’دانشور جج‘‘ کا خطاب دیا ۔ ان کی قانونی تصانیف بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ جن میں’’ ہیڈنگ دی کنسٹیٹیوشن‘‘، ’’کنسٹیٹیوشنل ایپولوگس‘‘ ، ’’بریکنگ نیو گراؤنڈ‘‘، ’’ججنگ ود پیشن‘‘معروف ہیں۔ 55ہزار مقدمات کا فیصلہ اور 10ہزار سے زیادہ فوجداری اپیلوں کو نپٹانا غیر معمولی کام ہے۔ جو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کے کریڈٹ پر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ ان کے جوڈیشل ایکٹوازم کی سمتکیا ہو گی اور یہ مفاد عامہ میں کیا خدمات انجام دے کر رواں برس کے آخر پر ریٹائر ہو جائیں گے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 271 Print Article Print
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 465 Articles with 144517 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Reviews & Comments

Language: