آؤ بے حسی کی چادر اوڑھ لیں؟

(Umar Farooq, )

 اس دور پر آشوب میں جب انسانوں کی یہ دنیاخود انسانوں کیلئے جہنم سے زیادہ تکلیف دہ بن چکی ہے ۔جب ہر طرف قتل و غارت گری ، حیوانیت ، جہالت، بربریت اور فساد ہے اوراس ہیبت ناک وقت کے سارے آثار نظر آرہے ہیں کہ جب آسماں ٹوٹ پڑے گا ، زمین پھٹ جائے گی اور پہاڑ روئی کے گالو ں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکراجائیں گے یہ عالم انسانی کا آخری دن ہوگا ۔اس دن کی دہلیز پرکھڑی اس دنیا میں انسان کی ہر درندگی اور ہر بربریت پر وہ وحدت الوجود خاموش رہتا ہے جس نے اس کائنات اور اس میں موجودہر شئے کو تحلیق کیا ہے ۔ نہ نوح کا طوفان آتا ہے نہ کوئی قوم غرق کردی جاتی ہے لیکن کبھی کبھی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ سوچنے اور سمجھنے والے لوگ کار ساز عالم کے غیبی ہاتھوں کی حرکت محسوس کرسکتے ہیں۔
ملک میں روزحادثات ہوتے ہیں مگرگزشتہ کچھ عرصے سے ہمارے معاشرے میں درندگی ،بربریت ،حیوانیت ،خون ریزی جس اندازمیں ہورہی ہے اس سے ہلاکواورچنگیزخان کی روحیں بھی شرمندہ ہورہی ہیں مگرہم ہیں کہ ایک سانحہ کے بعد اگلے سانحہ کے لیے تیارہوجاتے ہیں ۔ 19جنوری کی دوپہر بارہ بجے کے قریب ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب کاؤنٹرٹیررازم (سی ٹی ڈی )کے اہلکاروں نے پہلے ایک کارکے ٹائرپرفائرنگ کرکے روکاپھراس گاڑی کے قریب گئے اور دس سالہ عمیر، سات سالہ منیبہ اور چار سالہ ہادیہ کو نکالا اور پھر بڑی سفاکی کے ساتھ کار میں موجود دو زخمی ذیشان ،خلیل اس کی بیوی نبیلہ اور 13سال کی بیٹی اریبہ پر مزید گولیاں برسائیں تاکہ ان میں سے کوئی زندہ نہ بچ جائے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سرکاری اہلکاروں نے 13 سالہ بچی اریبہ کو 6 گولیاں جب کہ کار ڈرائیور ذیشان کو 10، زخمی بچوں کی والدہ نبیلہ بی بی کو 4 اور خلیل کو 13 گولیاں ماریں ۔باوردی دہشت گردوں کی اس سفاکیت نے شام ،عراق اورلیبیاکے دہشت گردوں گروہوں کوبھی پیچھے چھوڑدیا ۔

شایدیہ واقعہ بھی تاریخ کے کوڑے دان کاحصہ بن جاتا جس طرح ماضی میں پنچاب اورکراچی میں ہوتاہے رہاہے مگر آزاد میڈیا نے بکھرے لاشے ، بہتا خون، لتھڑی گاڑی، روتی آنکھیں، بین کرتابچہ ،ساکت و جامد آنکھیں لیے بچیاں دکھاکرقوم کے ضمیرکوجھنجوڑدیاہے ۔سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے اپنی گنوں سے صرف لاشے ہی نہیں گرائے بلکہ ہمارے معاشرے کے چہرے پرپڑانقاب بھی نوچ ڈالاہے،حادثے سے بڑ ھ کرسانحہ یہ ہواکہ تبدیلی والی حکومت بھی اس درندگی اورحیوانیت کے دفاع میں کھڑی ہوگئی پی ٹی آئی کے وزراء کے بیانات نے قوم کے زخمی دلوں پرنمک چھڑکاہے اس نئے پاکستان میں مزیدظلم یہ ہواہے کہ تھانہ سی ٹی ڈی لاہور میں واقعے میں جاں بحق افراد پر بھی مقدمہ درج کردیاگیا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی جوہرآبادکی بجائے لاہورمیں ذبردستی تدفین کردی گئی

ہم سمجھے تھے کہ واقعی پاکستان تبدیل ہوگیاہے گزشتہ کئی سالوں سے یہ رس ہمارے کانوں میں گھولاجاررہاتھا کہ عمرا ن خان کی صورت میں تبدیلی آرہی ہے مگرپانچ ماہ کے تجربے نے ثابت کیاہے کہ یہ اس کفن چورسے بھی بدترحکومت ہے ،نئے پاکستان میں بھی وہی چلن ہے و ہی طریقہ ہے وہی واردات ہے جوپرانے پاکستان میں تھا بلکہ شایداس سے بھی دوقدم آگے ۔

قوم حیران ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پرسیاست چمکانے والی پی ٹی آئی کی قیادت کس بھونڈطریقے سے سانحہ ساہیوال پربیان بازی کررہی ہے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا ہے کہ سانحہ ساہیوال جیسے واقعات پوری دنیا میں ہوتے ہیں اس میں جو بھی ملوث ہے اسے سزا ملنی چاہیے۔ایک طرف اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی گئی ہے تودوسری طرف پنچاب کے وزراء نے تحقیقات سے قبل ہی ذیشان کودہشت گردقراردے کرمعاملہ ہی نمٹادیاہے ،وزیراعلی پنچاب اوران کی ٹیم سانحہ میں زخمی ہونے والے بچوں کی عیادت کرتے ہوئے انہیں پھول اورچاکلیٹ پیش کررہی ہے سوال یہ کہ جن کے والدین کوریاست نے قتل کردیاہوانہیں پھول اورٹافیاں دے کران کے ساتھ یہ مذاق نہیں کیاجارہاہے ؟

غیرجانب دارذرائع کایہ کہناہے کہ سانحہ ساہیوال انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کی بجائے ٹارگٹ کلنگ کا شاخسانہ لگتا ہے۔ جبکہ حکومت اور دیگر ادارے اس واقعہ کی موبائل فوٹیجز سامنے آنے کے باوجود اتنی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں کہ اپنی ساکھ بچانے کے چکر میں معاملہ بے نقاب کرنے کی بجائے ذمہ داروں کے لئے ڈھال کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مان بھی لیا جائے کار پر دہشت گرد تھے تو انسانی جانوں کو ڈھال بنائے جانے کی صورت میں جب وہ خواتین بچے ہوں کوئی بھی قانون، ضابطہ ، ایس او پی اور آرڈر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ان کی جان خطرے میں ڈالی جائے۔ یہ واقعہ سیدھا سیدھا ٹارگٹ کلنگ ہے۔ ان اہلکاروں نے نہ صرف اپنی حدود سے تجاوز کیا بلکہ غیر پیشہ ورانہ اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرکے انتہائی سفاکانہ طریقے سے معصوم جانوں کو بھی ظلم اور بربریت کی بھینٹ چڑھا دیا ہے ،

سی ٹی ڈی کے شیرجوانوں کی یہ پہلی کاروائی نہیں ہے پنچاب کے مدارس اورمساجدکے ساتھ ان اہلکاروں کاجورویہ ہے اورماضی میں انہوں نے جوجعلی مقابلے کیے ہیں ان کواگرکھنگالاجائے تویہ ایک خوفناک داستان ہے کہ کس طرح ان باوردی دہشت گردوں نے مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو دہشت گردی کے نام پرموت کی بھینٹ چڑھایاپنچاب کاکوئی ضلع ایسانہیں ہے جہاں ایسے جعلی مقابلے نہ کیے ہوں اورقوم کے نوجوان نہ مارے ہوں مگرکسی نے آوازنہیں اٹھائی صرف اس لیے کہ وہ داڑھی اورپگڑھی والے نوجوان تھے بس فرض کرلیاکہ وہ دہشت گردتھے ۔سانحہ ساہیوال کوبھی مذہب سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ماضی کی طرح اس واقعہ پربھی پردہ ڈال دیاجائے ۔

ہم بے حس قوم کا حصہ ہیں ورنہ ہم میں احساس ہوتا اگر تو ہم ان کا گریباں نہ چیر دیتے جو بلٹ پروف گھروں سے ، بلٹ پروف گاڑیوں میں، بلٹ پروف شیشے چڑھائے ہماری بے بسی پہ بیان داغنے کے سوا کچھ نہیں کر رہے۔ ہم میں جرات گفتار بھی شاید مفقود ہو چکی ہے۔ ورنہ کیا ہم اتنا کہنے کی ہمت بھی نہ کرتے کہ وہ کون سی برداشت ہے جس سے تم اب تک کام لے رہے ہو اور خون بہتا جا رہا ہے، کیا ایسی ہی برداشت تم اس وقت بھی دکھاتے جب تمہارا بھائی خون میں غلطاں کر دیا جاتا، یا تمہاری بہنوں کے سہاگ چھن جاتے۔ ہم احساس سے عاری، چپ سادھنے والی قوم ہیں ورنہ ہم یہ سوال تو کرہی سکتے ہیں کہ سانحہ سیالکوٹ میں حافظ برادران ،کراچی میں سرفرازاحمداورنقیب اﷲ محسودکے قتل جیسے سینکڑوں واقعات میں ملوث سرکاری اہلکاروں کوسزاکیوں نہیں دی گئی ؟ہم پوچھ توسکتے ہیں کہ جو ادارے اروبوں کھربوں کے فنڈز کا ستیاناس کر رہے ہیں ہمارے ادا کیے گئے ٹیکس کے پیسوں سے پل رہے ہیں وہی ہماراقتل عام کررہے ہیں

کون سا ایسا نوحہ اس سانحے پہ اب لکھا جائے جو اثر کر جائے۔ کون سی ایسی آہ لکھی جائے جو کچھ ایسا منظر دکھا دے کہ کوئی بے گناہ خون میں نہ نہائے۔ اب تو نوحے بھی ختم ہو تے جا رہے ہیں۔ آہیں اور سسکیاں بھی دم توڑتی جا رہی ہیں۔ آخر کو انسان کب تب آنسو نکالے، بے حسی کا بھی تو آخر کوئی مقام بنتا ہے حضور ، چلیے چھوڑیے ہم اب کوئی نوحہ نہیں کہتے۔ آ ؤمل کر بے حسی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ کیوں کہ اس چادر سے منہ باہر نکالو گے تو وقت کے آقاؤں سے سوائے دکھ ، افسوس، آہوں کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 417 Print Article Print
About the Author: Umar Farooq

Read More Articles by Umar Farooq: 47 Articles with 13365 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: