|
چینی معیشت کی مستحکم پیش رفت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
عالمی معیشت اس وقت غیر یقینی صورتحال، تجارتی تنازعات اور جغرافیائی کشیدگی کے دباؤ سے گزر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں بڑی معیشتوں کی کارکردگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ سال 2025 کے تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین نے نہ صرف اپنے مقررہ معاشی ہدف کو حاصل کیا بلکہ مجموعی معاشی استحکام اور لچک کا واضح مظاہرہ بھی کیا۔ یہ اعداد و شمار اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ چینی معیشت بیرونی دباؤ اور اندرونی چیلنجز کے باوجود متوازن اور پائیدار انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
چین کے قومی ادارۂ شماریات کے مطابق 2025 میں چین کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں سالانہ بنیادوں پر 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو حکومت کے مقررہ تقریباً 5 فیصد ہدف کے عین مطابق ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین کی مجموعی قومی پیداوار 140.18 ٹریلین یوان کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی، جو ملکی معاشی حجم میں مسلسل اضافے کی عکاس ہے۔ عالمی سطح پر سست روی کے رجحان کے برعکس، یہ کارکردگی چین کو اب بھی نمایاں طور پر مضبوط معیشتوں میں شامل رکھتی ہے۔
گزشتہ برسوں میں چین کی معیشت کو بارہا شکوک و شبہات کا سامنا رہا۔ بعض مبصرین ہر نئے چیلنج یا بیرونی دباؤ کو معاشی زوال کی علامت کے طور پر پیش کرتے رہے، تاہم زمینی حقائق نے ان خدشات کی توثیق نہیں کی۔ اگرچہ چینی معیشت مشکلات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں، لیکن اس نے بارہا ثابت کیا ہے کہ اس کی ساخت اور وسعت اسے غیر متوقع حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔
اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ 2025 میں معاشی نمو کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما رہے۔ آلات سازی اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مضبوط رفتار برقرار رہی، جدید خدمات کے شعبے میں مسلسل وسعت دیکھی گئی، جبکہ بیرونی تجارت کے ڈھانچے میں بھی بہتری آئی۔ ان رجحانات نے مجموعی طور پر معیشت کو سہارا دیا اور نمو کو متوازن رکھا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ چین نے یہ نتائج ایک نہایت پیچیدہ پس منظر میں حاصل کیے۔ عالمی تجارتی ماحول شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، پراپرٹی شعبے میں ساختی اصلاحات کا عمل جاری رہا، جبکہ اندرونِ ملک رسد اور طلب کے درمیان عدم توازن بھی ایک بڑا مسئلہ بنا رہا۔ اس کے باوجود بروقت پالیسی ایڈجسٹمنٹ، تجارتی شراکت داروں میں تنوع اور بڑے معاشی حجم کی بدولت چین نے شدید معاشی جھٹکوں سے بچتے ہوئے استحکام برقرار رکھا۔
چینی معیشت کی مضبوط بنیادیں بدستور قائم ہیں۔ 1.4 ارب سے زائد آبادی پر مشتمل وسیع اندرونی منڈی کھپت کو سہارا دیتی ہے، جبکہ مکمل اور لچکدار صنعتی و سپلائی چین نظام پیداواری تسلسل کو یقینی بناتا ہے۔ یہی عناصر چین کو عالمی سطح پر ایک اہم مینوفیکچرنگ مرکز بنائے رکھتے ہیں۔
پالیسی استحکام بھی معاشی مضبوطی کا ایک اہم ستون ہے۔ پانچ سالہ منصوبہ بندی کا تسلسل، مالی اور زرعی پالیسیوں کے اہدافی اقدامات اور ساختی اصلاحات سے وابستگی سرمایہ کاروں اور منڈیوں کو پیشگی سمت فراہم کرتی ہے۔ اس پیش گوئی کے قابل پالیسی فریم ورک نے غیر یقینی حالات میں بھی اعتماد کو برقرار رکھا۔
روایتی ترقیاتی محرکات پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ چین میں نئے عوامل ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ جدت، تحقیق اور ٹیکنالوجی اب معاشی نمو کے مرکزی محرک بن چکے ہیں۔ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں، فوٹو وولٹیک صنعت، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبے معیشت کو مقدار سے معیار کی جانب منتقل کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سبز ترقی کی رفتار بھی عالمی سطح پر نمایاں ہے، جہاں قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
چینی معیشت کی ایک اہم مگر نسبتاً کم نمایاں قوت اس کا انسانی سرمایہ ہے۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے محنتی کارکنوں سے لے کر تحقیقی اداروں میں سرگرم ماہرین تک، انسانی صلاحیتیں معاشی ترقی کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ یہی قوت مستقبل میں بھی معاشی پیش رفت کا مستقل محرک بنے رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ پہلو پندرھویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) میں اختیار کی گئی حکمتِ عملی سے ہم آہنگ ہے، جس میں فزیکل انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کو بھی مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ تعلیم، مہارتوں کی تربیت اور افرادی قوت کی بہتری کو صنعتی ترقی کے برابر اہمیت دی جا رہی ہے، تاکہ معیشت کی آئندہ سمت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
علاوہ ازیں، چین کی کھلے پن کی پالیسی نے اندرونی طاقتوں کو مزید تقویت دی ہے۔ تجارتی معاہدوں، عالمی شراکت داریوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق اصلاحات نے کاروباری ماحول کو زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد بنایا ہے۔ اس عمل نے چین کو عالمی معیشت سے مزید مربوط کیا ہے، جبکہ اندرونِ ملک نمو کے تسلسل کو بھی تقویت دی ہے۔
اس کے باوجود ایک متوازن تجزیہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ موجودہ چیلنجز کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ مرکزی اقتصادی ورک کانفرنس کے مطابق چین کو بیرونی دباؤ میں اضافے اور اندرونی ساختی مسائل، خصوصاً رسد اور طلب کے درمیان عدم توازن، جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ تاہم ان مشکلات کو ایک بڑے معاشی منتقلی مرحلے کے فطری اثرات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر 2025 کے اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ چینی معیشت نہ صرف مستحکم ہے بلکہ پائیدار ترقی کی سمت گامزن بھی ہے۔ عالمی غیر یقینی حالات میں چین کی اصل طاقت شاید تیز رفتار نمو میں نہیں، بلکہ مسلسل، متوازن اور دیرپا پیش رفت میں مضمر ہے۔ مضبوط پالیسی فریم ورک، وسیع منڈی، مکمل صنعتی نظام اور انسانی وسائل کی بدولت چین مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور عالمی معیشت میں استحکام کا ایک اہم عنصر بنا رہے گا۔
|