*کچھ دیر اساتذہ کرام کے ساتھ*

(Amir jan haqqani, Gilgit)

’’میرے اساتذہ میرا فخر ہیں‘‘

’’میرے اساتذہ میرا فخر ہیں‘‘
میرا کراچی کا سفر بہت ہی کامیاب رہا۔ کم وقت میں بہت سی اہم شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں ہوئی اور اہم امور پر گفتگو بھی ہوئی۔ استاد محترم حضرت شیخ سلیم اللہ خان نوراللہ مرقدہ کی زیارت مقصود تھی لیکن پہنچنے سے پہلے ہی حضرت انتقال فرما گئے اور اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ جنازہ نصیب ہوا۔ کراچی کے سفر میں اپنے اساتذہ کرام سے ملاقاتیں ہوئیں،دعائیں لیں۔ جن اساتذہ کرام کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں ہوئی اور انہوں نے مجھ ناچیز کو جو عزت و اکرام اور ضیافت سے نوازا اور میری گزارشات غور سے سنیں اور اپنے اولاد کی طرح نصیحتیں کی ان میں سر فہرست استاد محترم نورالبشر صاحب، استاد محترم ابن الحسن عباسی صاحب، استاد محترم حبیب زکریا صاحب، استاد محترم عبداللطیف معتصم الطالقانی صاحب اور استاد عزیزالرحمان عظیمی ہیں۔ استاد نورالبشرصاحب مدظلہ حدیث کے بہت بڑے محقق ہیں،اگر سچ کہوں تو دارلعلوم کراچی میں حضرت تقی عثمانی صاحب کے علاوہ ان کی ٹکر کا کوئی محدث و محقق نہیں، استاد جی سے ہم نے الانتبات المفیدہ، جلالین اور ابوداود پڑھی ہیں۔ استاد جی نے ایک پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا اور مسلسل چار گھنٹے دیے اور اپنی جامعہ کا تفصیلی دورہ بھی کروایا اور ڈھیرساری نصحیتیں بھی فرمادیں اور اپنی تمام کتابوں کاسیٹ تحفتا عنایت بھی کیا۔ استادابن الحسن عباسی نے بھی حد درجہ محبتوں سے نوازا، پورے چوبیس گھنٹے اپنا مہمان بنائے رکھا، ان کی معیت میں جامعہ فاروقیہ فیز۱۱ بھی جانا ہوا اور استاد جی نے اپنے ادارے تراث الاسلام میں متخصصین فی الفقہ میں میرا لیکچر بھی رکھوایا اور ان کی نئی کتاب تاریخ وفاق المدارس بھی جلد منصہ شہود پر آنے والی ہے۔استاد عباسی صاحب سے مضمون نگاری کے علاوہ ہدایہ اول، تفسیر بیضاوی اور حدیث میں شمائل پڑھنے کا شرف حاصل ہے۔استاد عبداللطیف معتصم صاحب سے میں نے خوش خطی اور عربی تکلم سیکھا ہے۔ اتنے خوش مزاج اور باذوق انسان دنیا میں بہت کم پائے جاتے ہیں، استاد معتصم سے معلم الانشاء اول، الاختیار(فقہ)، اور حسامی پڑھا ہے۔ استاد معتصم کے ساتھ خلوص پر مبنی دوستی بھی ہے جس کی عمر بارہ سال ہےاستاد جی نے خصوصی افغانی چاول سے ضافیت فرمائی۔ استاد حبیب زکریا صاحب بھی میرے مشفق اور خاص استاد ہیں۔ حبیب زکریا صاحب سے بہت سیکھا ہے۔ معلم الانشاء جلد ثانی، مختارات ان سے پڑھا ہے۔عربی اور اردو کالم نگاری میں ان سے مسلسل سات ماہ باقاعدہ کلاس کی شکل میں اکیلے میں اصلاح لی ہے۔ استاد جی نے جنگوں کا خصوصی سالن بنوایا جس کی لذت محسوس کی جاسکتی بیان ممکن نہیں۔ استاد عزیزالرحمان عظیمی نے بھی کمال شفقت کا مظاہرہ فرمایا۔اور اپنے متخصصین فی الادب العربی میں ناچیز کا لیکچر رکھوایا، استاد جی نے بہت اصرار کیا کہ ان کے ساتھ رات گزاروں لیکن پھر آنے کا وعدہ کرکے مجبورا اجازت لینا پڑا۔ اسی طرح استاد ڈاکٹر عادل خان صاحب، استاد عبیداللہ خالد صاحب، استاد مفتی عبدالباری صاحب، استادمنظور مینگل صاحب، استادنورالمتین صاحب، استاد مفتی عبدالواحد صاحب،استاد منظو ر یوسف صاحب اور استاد حبیب الرحمان صاحب سے بھی ملاقاتیں ہوئی اور دعائیں لی،استاد انور صاحب علیل تھے ہسپتال میں ان کی عیادت و زیارت کی، ان سے بخاری شریف کا ایک حصہ پڑھا ہے۔ چاہنے کے باوجود کچھ اساتذہ سے ملاقات نہ ہوسکی۔ بلا شبہ میرے اساتذہ میرا فخر ہیں۔اگر مجھ ناچیز کو دو لفظ لکھنے ، پرھنے اور بولنے آتے ہیں تو یہ انہی بوریہ نشین اساتذہ کی مہربانی ہے۔۔اساتذہ کرام کے ساتھ ہونے والی گفتگو دل و ماغ میں محفوظ ہے۔ سوسائٹی کے خوف سے شاید اس کو منظر عام پر نہ لاسکوں کبھی بھی، خیر۔ اورہاں اپنے دیرنہ دوست رفیق دارالتصنیف جامعہ فاروقیہ مفتی عبدالسمیع صاحب کی محبتوں کا ممنون ومشکور ہوں۔۔بہر صورت طوالت کی وجہ سے مزید لکھنے کی گنجائش نہیں۔ ہاں جو احباب اور دوستوں سے ملاقاتیں ہوئی وہ الگ سے لکھنے کا ارادہ ہے۔
احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟
جنوری 2017

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 448 Print Article Print
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 265 Articles with 128860 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More

Reviews & Comments

Language: