اسلامی مملکت سعودی عرب میں غیر اسلامی تہذیب کو فروغ

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

حجاز مقدس کے اہم ترین شہر جدہ میں سعودی شاہی حکومت نے شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030کے تحت دی گئی روشن خیالی اور اسلامی تہذیب و تمدن کے مغائر دی جانے والی اجازت کوعملی جامہ پہنانا شروع کردیا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق حجاز مقدس کے عظیم شہر جدہ میں پہلے سینما گھر کا افتتاح الائن بیجانی کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر الفطیما نے 28؍ جنوری بروز پیر کیا۔ اس موقع پر شائقین کی بڑی تعداد بھی موجود بتائی گئی۔ ذرائع کے مطابق جدہ میں 2019سے 2020کے دوران پانچ سینما گھر کھولے جائیں گے ، جن میں سے پہلاسینما گھر ریڈسی مال کمپلکس میں کھولا گیا جبکہ الاندلس مال، اسٹار ایونیو، ابحر مال اور المسرۃ مال میں چار سینما گھر کھولے جائیں گے۔ جدہ کے ریڈسٹی مال میں بنائے جانے والے وی او ایکس سینما گھرمیں 12اسکرینیں نصب کی گئیں جبکہ الاندلس میں 27، اسٹار ایونیو میں 9اسکرینیں لگائی جائیں گی اوراس کا افتتاح رواں سال کے آخر تک کیا جائے گا۔مزید بتایا گیا ہے کہ اسی طرح آئندہ برس ابحر مال میں 11اور المسرۃ مال میں 6اسکرین والے سینما گھر قائم کئے جائیں گے ۔ عرب میڈیا کے مطابق سینما کے افتتاح کے موقع پر وی او ایکس کے سی ای او نے اعلان کیا کہ ان کا گروپ آئندہ پانچ برسوں میں 600سینما گھر قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لئے 5ارب 33کروڑ ڈالرز کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔اتنے کثیر تعد اد میں سینما گھروں کے قیام کے بعد سعودی عرب کی عوام کس تہذیب و تمدن کو اپنائے گی اس کا اندازہ کرنا شاید محال ہے۔ جس ملک میں اسلامی قوانین کا نفاذ ہے اور جہاں پر جرم کی سزا اسلامی قوانین کے مطابق دی جاتی ہے اگر یہاں پر مغربی و یوروپی کلچر عام ہوجائے تو پھر جرائم اور گناہ کے کاموں میں اضافہ ہوگا اور اس صورتحال کی ذمہ دار شاہی حکومت ہی رہے گی۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال 5؍ اکٹوبر کو سعودی شاہی حکومت نے روشن خیالی میں ایک اور قدم آگے بڑھاتے ہوئے سرکاری چینل پر میوزک کنسرٹ نشر کیا تھا جبکہ ڈسمبر2018میں پہلی بار سعودی عرب میں میوزیکل کنسرٹ کا انعقاد بھی کیا گیا تھا، یہ ہے سعودی عرب کی شاہی اسلامی حکومت جہاں پر غیر شرعی اور غیر اسلامی تہذیب و تمدن کو فروغ دیا جارہا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سعودی عرب تیل کی دولت پر انحصار کرنے کے بجائے دیگر غیر اسلامی ذرائع آمدنی سے دولت کما سکے ۔

شام میں جنگ بندی کے باوجود شامی فوج کے فضائی حملے
شام کی خانہ جنگی میں لاکھوں افراد کے ہلاک، زخمی اور بے گھر ہونے کے بعد گذشتہ سال شامی فورسز اوراپوزیشن ودیگر عسکریت وشدت پسندتنظیموں کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا اس کے باوجود شامی فورسز کی جانب سے فضائی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہونے کی خبریں ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق شامی فورسز نے شام کے جنوب مغربی علاقوں پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کئے جس کے نتیجہ میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔ شامی فورسز کی جانب سے کئے جانے والے حملوں کے بعد کہا جارہا ہیکہ جنگجوؤں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی جس کے باعث فضائی حملے کئے گئے۔ فضائی حملوں کے بعد فریقین کے درمیان کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ، نہیں معلوم شامی فورسز کے خلاف اپوزیشن جماعتیں پھر ایک مرتبہ اسکا جواب دینے کی تیاری کرتی ہیں یا پھر شامی فورسز کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں کیونکہ اپوزیشن کو امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کی تائید و حمایت اور تعاون حاصل تھا اب جبکہ امریکی فوج کا شام سے تخلیہ ہورہا ہے تو ایسی صورت میں اپوزیشن شامی فورسز کا جواب دینے کی اہل ہے یا نہیں اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا البتہ داعش جیسی شدت پسند تنظیم کے خلاف شامی فورسز نے یہ کارروائی کی ہے توپھر داعش کی طاقت کا اندازہ اسکی جوابی کارروائی سے ہی لگایا جاسکتا ہیکہ وہ ابھی شام میں سرگرم عمل ہے یا نہیں۰۰۰

شامی مہاجرین کا سنگین مسئلہ اور رجب اردغان کا فیصلہ
شام کی خانہ جنگی میں لاکھوں افراد بے گھر ہو کر دوسرے ممالک میں پناہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔دیگر ممالک میں پناہ حاصل کرنے والے شامی مہاجرین کا مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کرتا جارہا ہے اس سلسلہ میں صدر ترکی رجب طیب اردغان نے کہا ہے کہ شام کے شمالی حصے میں محفوظ علاقے قائم کئے جائیں گے جہاں مہاجرین کو منتقل کیا جاسکے۔ ترک صدر کا کہنا ہے کہ یہ محفوظ علاقے اس لئے بنائے جارہے ہیں تاکہ ترکی میں موجود چار ملین مہاجرین شام واپس جاسکیں۔ واضح رہے کہ امریکہ نے ڈسمبر2018 میں شام سے اپنی افواج کے انخلاء کا اعلان کیا تھا بعد ازاں ترکی نے اپنی سرحد کے ساتھ 20میل کے فاصلے تک ایسے محفوظ علاقے قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جس پر اب عملی اقدامات کئے جانے ہیں۔ رجب طیب اردغان روس کے دارالحکومت ماسکو کا دورہ کیا جہاں پر انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کرکے شام کے حالات پر تبادلہ خیال کیا۔شام سے امریکی فوج کے تخلیہ کے بعدحالات کس رخ اختیار کرتے ہیں اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا ، البتہ اتنا ضرور ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کو روس اور ایران کا بھرپور تعاون حاصل ہے اور وہ اپوزیشن و دیگر شدت پسند یا عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی قسم کی کارروائی کا سخت جواب دینگے۔ اب دیکھنا ہے کہ داعش اور دیگر تنظیمیں کس طرح شام میں اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھتے ہیں اور بشارالاسد کی فوج کس طرح انکے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ شامی مہاجرین کی واپسی کا مسئلہ بھی حل کرنا بشارالاسد کے لئے ضروری ہے کیونکہ لاکھوں شامی افراد ملک میں حالات بہتر ہونے کے بعد واپس آئینگے اس صورتحال کو ملحوظ رکھتے ہوئے شام میں خانہ جنگی کے دوران جن عمارتوں کوفضائی حملوں کے ذریعہ شدید نقصان پہنچا ہے یا جو مکمل طور پر تباہ ہوگئیں ان کی تعمیر کا مسئلہ بھی اہم حیثیت رکھتا ہے اور جو علاقے مکمل طور پرتباہ و برباد کردیئے گئے ، یہاں پر دوبارہ تعمیرات اور بازآبادکاری بھی ضروری ہے ۔ شام کے حالات جلد سے جلد بہتر ہونے چاہیے تاکہ لاکھوں معصوم بچوں کی تعلیم و تربیت کا مسئلہ حل ہوسکے ورنہ ان معصوم ہونہار بچوں کی ناخواندگی میں اضافہ ہوگا اور اگر ناخواندگی میں اضافہ ہوا اور بچوں کی صحیح طرح تعلیم و تربیت نہ ہوپائی تو اس سے شام کے حالات ہی نہیں بلکہ خطے کے حالات پر بُرا اثر پڑسکتا ہے اور مستقبل میں یہی معصوم بچے ملک و خطے کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

قطر میں طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات
دوحہ ،قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان چھ روزہ مذاکرات میں امن معاہدے کے اہم نکات پر اتفاق ہوا ہے جس میں مقررہ مدت میں افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کا انخلا، طالبان کو بلیک لسٹ سے ہٹانا، طالبان پر سفری پابندیاں ختم کرنا اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔مجوزہ معاہدے کے مطابق امریکہ کے خصوصی نمائندہ زلمے خلیل زاد نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ طالبان ضمانت دیں گے کہ داعش یا القاعدہ کو افغانستان میں محفو ظ پناہ گاہیں فراہم نہیں کی جائیں گی۔ 17سال سے جاری طویل افغان جنگ کے خاتمے کے لئے جس طرح کی کوششیں ہورہی ہیں اس میں ابھی تک کامیابی کی امید بہت کم دکھائی دے رہی ہے کیونکہ طالبان کا کہنا ہیکہ وہ صرف اسی وقت افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کریں گے جب غیر ملکی افواج کے انخلا کی صحیح تاریخ دی جائے گی۔ 28؍ جنوری کو افغان صدر اشرف غنی لون نے انکی حکومت کی جانب سے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش کی ہے ،لیکن طالبان نے اشرف غنی لون کی حکومت کو ’کٹھ پتلی‘ کہتے ہوئے مسترد کردیا۔ صدرلون نے اس خطرے کی جانب بھی اشارہ کیا کہ اگر طالبان کے ساتھ اقتدار بانٹنا پڑا تو آزادی کھوجائے گی ۔ انکا کہنا ہیکہ ہم امن کو یقینی بنانے کے لئے کاربند ہیں لیکن بعض ایسی اقدار ہیں جن پر مذاکرات نہیں ہوسکتے ۔ مثال کے طور پر انہو ں نے بتایا کہ قومی اتحاد، قومی خودمختاری، ملکی سالمیت، طاقتور اور اہل حکومت اور ملک کے عوام کے بنیادی حقوق۔ذرائع ابلاغ کے مطابق سکیوریٹی صورتحال کا صحیح اندازہ لگانا انتہائی مشکل بتایا جارہا ہے ، کیونکہ امریکی فوجی ذرائع کی جانب سے بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ سامنے آرہے ہیں۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اشارے دیئے جارہے ہیں کہ وہ کچھ اور بالآخر تمام امریکی فوجیوں کو نکالنا چاہتے ہیں لیکن امریکی فوجی انخلاکی حکمت عملی غیر یقینی اور غیر واضح بتائی جارہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 14ہزار ہے جس میں سے صدر ٹرمپ ابتداء میں نصف فوجیوں کو نکالنے کا سوچ رہے ہیں۔ امریکی فوج کے علاوہ 38ممالک کے آٹھ ہزار فوجی بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ صدر اشرف غنی لون کے مطابق 2014میں جس وقت وہ اقتدار میں آئے تھے اس کے بعد سے افغانستان کی سیکیوریٹی فورسز کے 45ہزار سے زائد عہدیدار مارے جاچکے ہیں۔ افغانستان میں 17سال سے زائد عرصہ سے جاری جنگ میں کافی جانی نقصان ہوا ہے، امریکہ اور حلیف ممالک کے علاوہ طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں بے قصور ہزاروں عام شہریوں کو فضائی حملوں، خودکش حملوں، بم دھماکوں اور فائرنگ کے ذریعہ ہلاک کردیا گیا ۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2009کے بعد سے ہر سال چھ سے نو ہزار کے درمیان عام شہری مارے گئے۔ جبکہ 2001-02سے جاری جنگ میں امریکہ دیگر چالیس حلیف ممالک کے ساتھ ملکر جس طرح طالبان حکومت کا خاتمہ کیا اور ہزاروں افغان شہریوں پر فضائی حملے کرکے اپنی دہشت گردی کا ثبوت دیا ،اسکے باوجود وہ اس جنگ میں کامیابی حاصل نہ کرسکا۔اپنی اسی ناکامی کو چھپانے یا مستقبل میں مزیدحالات خراب ہونے کو دیکھتے ہوئے 17سالہ طویل عرصہ گزرنے کے بعد آخر کاراپنی پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو ترجیح دی ۔ اب دیکھنا ہیکہ افغان طالبان کس طرح صدراشرف غنی لون کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں اور ملک میں قیام امن اور عام شہریوں کیلئے پرسکون زندگی فراہم کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ ویسے طالبان سے ایسی امید بہت ہی کم دکھائی دیتی ہے اسکے باوجود افغان عوام طالبان سے کوئی خیر کی امید لگائے ہیں تو یہ طالبان کیلئے بڑی بات ہوگی ۔ یہاں ایک بات کا ذکر ضروری ہے کہ زلمے خلیل زاد نے نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ : ہمارے پاس ایک مسودہ ہے اور معاہدہ بنانے سے قبل کچھ تفصیلات حاصل کرنا ہیں۔ مجوزہ معاہدے کے تحت طالبان کو عہد کرنا ہوگا کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو شدت پسندی کے گڑھ کے طور پر استعمال ہونے سے روکیں گے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا طالبان اپنی شدت پسندانہ سرگرمیوں کو ختم کرینگے کیونکہ افغانستان میں داعش اور القاعدہ سے زیادہ شدت پسند کارروائیاں طالبان کی دکھائی دیتی ہیں اب دیکھنا ہیکہ اس سلسلہ میں طالبان کیا فیصلہ کرتے ہیں۰۰۰
ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان طالبان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان میں دولت اسلامیہ (داعش) امن کے لئے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہوگا بلکہ امن معاہدے کی صورت میں طالبان ایک ماہ میں افغانستان سے داعش کا مکمل طور پر صفایا کرسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں قطر دفتر کے افغان طالبان ترجمان سہیل شاہین نے بی بی سی کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ داعش کو افغان حکومت اور امریکہ کی مدد و حمایت حاصل ہے اور یہ وہ نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ افغان حکومت میں شامل انکے اپنے ممبران پارلیمنٹ بار بار یہ بات میڈیا کے ذریعہ کہہ چکے ہیں۔ انکا مزید کہنا ہیکہ افغانستان میں داعش کبھی بھی کوئی بڑی قوت نہیں رہی ہے ، ہم حال ہی میں افغانستان کے شمال سے انکا خاتمہ کررہے تھے لیکن امریکہ اور افغان حکومت ان کو دوسری جگہوں پر لے گئی اور ان کو ایک مرتبہ پھر سے زندہ کردیا۔ خیر انکا کہنا ہے کہ داعش کو ختم کرنا طالبان کے لئے کوئی مشکل نہیں اور ایک ماہ میں داعش کا صفایا کیا جاسکتا ہے۔ سہیل شاہین کا کہنا امریکہ سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد دوسرے مرحلے میں افغان حکومت سے بات چیت ہوسکتی ہے ۔ اور طالبان کی خواہش ہے کہ افغانستان میں ایک ایسی مضبوط حکومت قائم ہو جس سے خطے میں مکمل امن اور خوشحالی آئے اور عوام سکون کی زندگی گزار سکیں۔ اس سلسلہ میں وہ افغانستان میں مضبوط حکومت کے قیام پر افغان رہنماؤں سے مشاورت کررہے ہیں اب دیکھنا ہے کہ طالبان امریکہ کے ساتھ مذاکرات مکمل کرنے کے بعد کس طرح افغان حکومت کے صدر اشرف غنی لون کے ساتھ مذاکرات کی میز پر جمع ہوتے ہیں اور کس طرح افغانستان میں امن وآمان کے قیام کے لئے پہل کرتے ہیں۔
مصر میں مذہبی ریاست بنانے والوں کو کچل دی
ا گیا۔ صدر مصر
مصر میں جہاں اخوان المسلمین کی حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اس وقت کے فوجی سربراہ اور موجودہ مصری صدرعبدالفتاح السیسی نے قبضہ کرلیا تھا اورانکے خلاف اور جمہوری طور پر منتخبہ صدرمحمد مرسی کی تائید میں اخوان المسلمین کے ہزاروں خاموش احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں شہید کردیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ دنوں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ ان کے ملک کو ایک سازش کے تحت مذہبی ریاست بنانے اور ملک میں تباہ کن خانہ جنگی شروع کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر اس سازش کو کچل دیا گیا۔اس طرح السیسی نے اخوان المسلمین کے اسلام پسند نظریات کو مذہبی ریاست بنانے سے گردانا اور ملک میں اسلامی نظام حکومت نافذ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف خطرناک کارروائی کرتے ہوئے ان پر بے جا الزامات عائد کرکے کئی ایک مقدمات دائر کروائے اور آخر کار ان اخوان المسلمین کے کارکنوں کو سزائے موت یا سزائے عمر قید دی گئی۔ان سزاؤں کے بعد کوئی بھی عام شہری ظلم و بربریت کرنے والے حکمراں کے خلاف آواز اٹھانا نہیں چاہتے ،جبکہ صدر السیسی کا کہنا ہیکہ وہ انتخابات میں عوام کے تعاون سے کامیاب ہوئے ہیں اور عوام انہیں چاہتی ہے ۔ مصری صدر نے ان خیالات کا اظہار فرانسیسی صدر عمانویل میکروں سے قاہرہ میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔قبل ازیں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی تعاون کے کئی سمجھوتوں کی منظوری دی گئی۔ صدر السیسی نے کہا کہ مصر کے10کروڑ عوام کو آزادی اظہار رائے کا حق دیا جا رہا ہے۔اگر واقعی مصری صدر السیسی اپنے بیان میں سچے ہیں تو پھر جیلوں میں قید ان ہزاروں اخوان المسلمین کے قائدین ، کارکنوں کو رہا کیا جانا چاہیے تاکہ انہیں بھی آزادی اظہار رائے حاصل ہو۔
***

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 342 Print Article Print
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 194 Articles with 60155 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: