حج پالیسی 2019

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

رواں سال حکومت حجاج کرام کو مزید سہولت اور ریلیف دینے کے بجائے پہلے سے دیا گیا ریلیف بھی چھین رہی ہے۔ عمران خان حکومت کی پہلی حج پالیسی کے تحت حج اخراجات میں 63فی صد اضافہ کرنا قابل فہم ہے۔ یہ معاملہ اب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے کا باعث بن رہا ہے۔ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق ملک کے شمالی ریجن کے لئے 4,36,975روپے اور جنوبی ریجن(کراچی، کوئٹہ، سکھر) کے لئے 4,26,975روپے فی عازم اخراجات اٹھیں گے۔ ان اخراجات میں قربانی کی لاگت شامل نہیں۔ قربانی کے لئے فی عازم کو 20ہزار روپے ساتھ لینا ہوں گے۔ علاوہ ازیں ہزار ریال بھی لازمی طور پر ساتھ لینا ہوں گے۔ کسی عازم حج کے لئے دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے۔حج اخراجات 39روپے فی ریال کے حساب سے طے کئے گئے ہیں۔ حج پالیسی 2018کے تحت شمالی ریجن کے لئے اخراجات 2,80,000اور جنوبی ریجن کے لئے 2,70,000روپے تھے۔ پہلی بار بلوچستان کے عازمین حج کوئٹہ سے براہ راست جدہ پہنچیں گے۔ گلگت بلتستان کے عازمین کے لئے عارضی حج کیمپ گلگت میں قائم ہو گا۔ رواں سال پاکستان کا کوٹہ 184,210حجاج کا ہے۔ 10ہزار بزرگ شہری بغیر قرعہ اندازی گورنمنٹ حج سکیم کے تحت حج بیت اﷲ پر جا سکیں گے۔ پی آئی اے کی پروازیں کوئٹہ سمیت فیصل آباد سے بھی روانہ ہوں گی۔
نئی حج پالیسی نے حج اخراجات دوگنا کر دیئے ہیں۔ 2018میں قربانی کے بغیر یہ اخراجات 2لاکھ80ہزار تھے۔ قربانی سمیت سرکاری کوٹہ کے تحت حج پر 2لاکھ 93ہزار خرچہ تھا۔ یعنی ہر حاجی تقریبا 40ہزار روپے کی سبسڈی یا رعایت سے مستفید ہورہا تھا۔ اب حکومت نے سبسڈی ختم کر دی ہے۔ گزشتہ برسوں میں حجاج کرام کو سرکاری سکیم کے تحت مفت کھانا بھی فراہم کیا گیا۔ سہولیات بھی پہلے سے بہتر فراہم کی گئیں۔ رواں سال فی عازم حج کو ایک لاکھ 76ہزار426 روپے اضافی رقم دینا ہو گی۔ حج اسلام کا رکن ہے۔ حج بیت اﷲ ہر اس مسلمان پر لازم ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ لوگ عمر بھر تھوڑی رقم بچت کر کے حج کے لئے جمع کرتے ہیں۔ جوں ہی مطلوبہ رقم جمع ہو تو عازم سفر ہونے کے لئے بیتاب ہو جاتے ہیں۔ اس سال یک مشت بھاری اضافے نے لا تعداد مسلمانوں کی خواہش پر پانی پھیر دیا ہے۔ عمران خان حکومت نے دینی معاملات میں بھی عوام کو رعایت اور سہولیت دینے کی طرف توجہ نہ دی۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ کمائی کرنا چاہتی ہے۔ پہلے ہی عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ جو لوگ پی ٹی آئی سے ہمدردی یا مسلم لیگ ن یا پی پی پی سے عداوت رکھتے ہیں ، انہیں موجودہ حکومت کی غلط پالیسیاں بھی درست معلوم ہوتی ہیں۔ ایسا روز اول سے ہوا ہے کہ اپنے ہمنوا اور تعلق دار کو سات قتل بھی معاف اور رقیب اور سیاسی مخالفین کو آہ پر بھی بدنام کیا جاتا ہے۔ انسانیت اور اخلاقیات و اقدار کا موجودہ دور کی سیاست میں قتل ہوتا ہے۔ جب کہ سیاست خدمت خلق اور احترام انسانیت کا نام ہے۔ سیاست میں لوگ عبادت سمجھ کر وارد ہوتے تھے، یہ سوشل سروس تھی۔ عظیم لوگ اپنے وقت، پیسہ، وسائل معاشرے کی فلاح و بہبود پر نچھاور کر دیتے تھے۔ مگر آج کے دور میں تیسری دنیا میں شرافت اور ایمانداری حماقت کی علامت بنا دی گئی ہے۔ اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ اس وجہ سے لوگ اس میدان میں قدم نہ رکھیں اور ھالات کے جبر سے تنگ آ کر قطع تعلق کریں۔ سیاسی رہبانیت بھی ممنوع ہے۔ اس کی اجازت نہیں۔ معاشرے میں اگر کسی اچھائی کو برائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو اس اچھائی کو کسی ڈر و خوف سے ترک نہیں کیا جا سکتا۔

ہماری سیاست بھی روایت کے مطابق پھل پھول رہی ہے۔ روایت شکن اب شاید پیدا نہیں ہو رہے۔ کانٹے بو کر ہم پھولوں کی آس نہیں لگا سکتے ۔ جو بوئیں گے، وہ کاٹیں گے۔ دین کے معاملات بھی ایسے چلائے جا رہے ہیں۔ جسے ہم مداخلت فی الدین کہتے ہیں ، وہ حج پالیسی میں بھی نظر آ سکتی ہے۔ حکومت اگر پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوام کی خوہشات کا احترام کرنا چاہتی ہے تووہ ملک کے ہر ایشو اور ہر ایک پالیسی کو تشکیل دینے سے پہلے اس پر بحث و مباحثہ کرنے سے کیوں گریز کر رہی ہے۔ کسی پالیسی کی تشکیل اور اس پر عملی جامہ پہنانے سے پہلے اس پر مشاورت اور عوامی آراء طلب کی جاتی ہے۔ آمریت اور بادشاہت کے دور میں حکمران فرعون اور نمرود بن جاتے ہیں۔ وہ من مانی کرتے ہیں۔ یا نئی تاولیں تلاش کی جاتی ہیں۔ یا یہ کہا جاتا ہے کہ ان سے پہلے دور میں بھی کوئی ظلم ہو رہا تھا، اس پر لوگ کیوں خاموش تھے جو اب چیخ و پکار ہو رہی ہے۔ یہ سب غیر منطقی طور طریقے ہیں ۔ جن کی زد میں بے چارے عوام جمہوریت کے نام پر لائے جاتے ہیں۔ آخر حکومت تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر جو کمی واقع ہوئی ہے، اس کا فائدہ عوام کو کیوں نہیں دینا چاہتی۔ حج کرائے کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کیوں کر کیا جا رہا ہے۔ حکومت حج اور ادویات پر غیر ضروری ٹیکس لگا کر اپنی آمدن میں کیسے اضافہ کر رہی ہے۔

حکومتی حج پالیسی کو اسی وجہ سے ڈرون حملہ قرار دیا جار ہا ہے کہ بیک جنبش قلم عازمین حج پر بوجھ ڈال دیا گیا۔ اب تقریباً دو لاکھ روپے جمع کرنے کے لئے کسی عازن حج کو مزید انتظار کرنا ہو گا۔ کیوں کہ یہ رقم اضافی ہے۔ بعض حکومتی ترجمان کہتے ہیں کہ سعودی حکومت نے حج اخراجات میں اٖضافہ کیا ہے ۔ اس لئے حکومت نے مجبور ہو کر حج اخراجات میں اضافہ کیا۔ اگر چہ وزارت مذہبی امور نے سبسڈی ختم نہ کرنے کا موقف پیش کیا مگر اسے کابینہ نے مسترد کر دیا۔ جو حکومت ریاست مدینہ کے نقش قدم پر چلنے اور ملک کو مدینہ بنانے کے دعوے کر رہی ہے وہی لوگوں کو مکہ اور مدینہ کی زیارت سے محروم کرنے لگی ہے۔ سینٹ میں ہنگامے کے بعد اپوزیشن قومی اسمبلی میں بھی حکومت کے حج پیکیج کو مسترد کرنا چاہتی ہے۔ اسمبلی میں بھی ہنگامے کا خدشہ ہے۔ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز سے حج کوٹہ دلانے کا جھانسہ دے کر حج جیسی مقدس عبادت کے نام پر رقم بٹورنے کا دھندہ شروع ہو چکا ہے ۔ اس کا اعتراف وزارت مذہبی امور نے بھی کیا ہے۔ مگر ابھی تک کسی ٹور آپریٹر کو بلیک لسٹ کرنے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ حکومت وسیع مشاورت سے حج خراجات میں اضافہ واپس لینے پر از سر نو غور کرے اور حج جیسے مقدس فریضہ پر عازمین کے لئے آسانیاں اور سہولتیں مہیا کرنے پر توجہ دے۔حج کو کمائی کا زریعہ نہ بنایا جائے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 410 Print Article Print
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 467 Articles with 145602 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Reviews & Comments

Language: