پاکستان... ایک پراسرار ملک کیوں؟ تحریر: الطاف سٹی
کبھی کبھی دنیا کے نقشے پر نظر دوڑاتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ممالک بھی انسانوں کی طرح شخصیت رکھتے ہیں۔ کچھ ممالک اپنی مستقل مزاجی سے پہچانے جاتے ہیں، کچھ اپنی معاشی قوت سے، کچھ اپنی سائنسی ترقی سے، مگر پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی شناخت اس کی غیر متوقع فطرت ہے۔ شاید اسی لیے دنیا کے بڑے تھنک ٹینکس، سفارت کار، مورخین اور سیاسی تجزیہ نگار سات دہائیوں سے پاکستان کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہر بار پاکستان ان کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیتا ہے۔ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں، بلکہ تاریخ، مذہب، تہذیب، جذبات، طاقت، خوابوں اور تضادات کا ایسا مجموعہ ہے جسے کسی ایک نظریے یا فارمولے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ 1947ء میں دنیا کے نقشے پر ابھرنے والا یہ ملک ایک خواب کی تعبیر تھا، لیکن اس خواب کی تعبیر شروع ہوتے ہی آزمائشوں کا سفر بھی شروع ہو گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کے انتقال نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جسے آج تک مکمل طور پر پر نہیں کیا جا سکا۔ قیادت بدلتی رہی، پالیسیاں بدلتی رہیں، لیکن قوم ایک مستقل منزل کی تلاش میں بھٹکتی رہی۔ پاکستان کی سیاست شاید دنیا کی منفرد ترین سیاست ہے۔ یہاں وہ شخص کل تک قوم کا نجات دہندہ ہوتا ہے، آج عدالتوں میں کھڑا ہوتا ہے، اور کل دوبارہ عوام کا ہیرو بن جاتا ہے۔ یہاں نظریات سے زیادہ شخصیات اہم بن جاتی ہیں، اور جماعتوں سے زیادہ وفاداریاں بدلتی رہتی ہیں۔ یہ صرف سیاست نہیں، بلکہ ایک ایسا مسلسل ڈرامہ ہے جس کے کردار بدلتے رہتے ہیں مگر کہانی وہی رہتی ہے۔ معیشت بھی پاکستان کی پراسراریت کا ایک اہم باب ہے۔ کبھی عالمی ادارے دیوالیہ ہونے کی پیش گوئی کرتے ہیں، تو چند ماہ بعد معاشی استحکام کی خبریں آنے لگتی ہیں۔ کبھی زرِ مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گر جاتے ہیں، تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر معیشت کو سہارا دے دیتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان کی معیشت صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ عوام کی امیدوں، قربانیوں اور غیر معمولی برداشت سے بھی چلتی ہے۔ قدرت نے بھی اس سرزمین کو عجیب انداز سے نوازا ہے۔ شمال میں دنیا کی بلند ترین چوٹیاں، جنوب میں سمندر، مغرب میں معدنی وسائل، مشرق میں زرخیز میدان، چار موسم، بے شمار ثقافتیں اور دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کے آثار۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس ملک کو قدرت نے اتنا کچھ دیا، وہ اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال کیوں نہ کر سکا؟ شاید اس کا جواب ہمارے اجتماعی رویوں میں پوشیدہ ہے۔ ہم ایک جذباتی قوم ہیں۔ ہم کسی سانحے پر چند گھنٹوں میں کروڑوں روپے جمع کر لیتے ہیں، مگر روزمرہ زندگی میں قانون کی پابندی کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ ہم مہمان نوازی میں دنیا بھر میں مشہور ہیں، مگر عوامی املاک کو اپنی ملکیت نہیں سمجھتے۔ ہم مذہب سے محبت کرتے ہیں، مگر مذہب کی بنیادی تعلیمات—دیانت، انصاف، امانت اور رواداری—کو اپنی اجتماعی زندگی میں پوری طرح نافذ نہیں کر پاتے۔ پاکستان کی تاریخ کا ایک اور راز اس کی بقا ہے۔1948ء سے لے کر آج تک کتنی ہی بار دنیا کے تجزیہ نگاروں نے پیش گوئی کی کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا، معاشی طور پر ختم ہو جائے گا یا سیاسی طور پر ناکام ریاست بن جائے گ۔ لیکن ہر بحران کے بعد یہ ملک ایک نئی شکل میں دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ شاید یہی وہ راز ہے جسے دنیا آج تک پوری طرح سمجھ نہیں سکی۔ اس راز کی ایک وجہ اس قوم کی اندرونی طاقت بھی ہے۔ پاکستانی دنیا کے ہر کونے میں اپنی محنت، ذہانت اور دیانت سے کامیاب ہیں۔ برطانیہ کے اسپتالوں سے لے کر خلیجی ممالک کی صنعتوں تک، امریکہ کی جامعات سے لے کر یورپ کی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک، پاکستانی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی لوگ بیرونِ ملک کامیاب ہو سکتے ہیں تو اپنے وطن میں کیوں نہیں؟ جواب شاید افراد میں نہیں، بلکہ نظام میں پوشیدہ ہے۔ ریاستیں صرف وسائل سے نہیں، بلکہ انصاف، شفافیت، مضبوط اداروں اور قانون کی بالادستی سے مضبوط بنتی ہیں۔ جب میرٹ سفارش پر غالب آتا ہے، جب ادارے شخصیات کے بجائے اصولوں پر چلتے ہیں، جب تعلیم قومی ترجیح بنتی ہے، تب قومیں تاریخ بدلتی ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا راز یہ نہیں کہ یہاں بحران کیوں آتے ہیں؛ اصل راز یہ ہے کہ ہر بحران کے باوجود امید کیوں زندہ رہتی ہے۔ شاید یہی امید اس قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ میرا یقین ہے کہ پاکستان ایک پراسرار ملک ضرور ہے، لیکن یہ پراسراریت ہمیشہ کے لیے مقدر نہیں۔ جس دن ہم نے اپنی تاریخ سے سبق سیکھ لیا، اپنے اختلافات کو دشمنی کے بجائے تنوع سمجھ لیا، قانون کو طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں بنا دیا، اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے دی، اس دن پاکستان دنیا کے لیے ایک معمہ نہیں بلکہ ایک مثال بن جائے گا۔ آخر میں غالب کا ایک شعر یاد آتا ہے: "ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے۔" پاکستان بھی شاید انہی خواہشوں کی سرزمین ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اگر اس قوم نے اپنی اجتماعی صلاحیتوں کو پہچان لیا تو آنے والی نسلیں اسے پراسرار ملک نہیں بلکہ امکانات، عزم اور کامیابی کی سرزمین کے نام سے یاد کریں گی۔ اااا |