گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، مشترکہ ترقی کے لیے چین کا عملی تعاون
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، مشترکہ ترقی کے لیے چین کا عملی تعاون تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا کے کئی ممالک آج بھی ترقی، غربت میں کمی، صحت، تعلیم، ڈیجیٹل سہولتوں اور پائیدار ترقی جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہیں۔ ایسے میں عالمی سطح پر تعاون اور تجربات کے تبادلے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسی تناظر میں چین کی جانب سے پیش کیا گیا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو گزشتہ چند برسوں میں ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کا مقصد ترقی کے ثمرات کو زیادہ وسیع پیمانے پر پہنچانا اور مشترکہ ترقی کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
اب تک 130 سے زائد ممالک اور عالمی اداروں نے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کی حمایت کی ہے، جبکہ تقریباً 100 ممالک اور بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں نے اس اقدام کے تحت چین کے ساتھ تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے علاوہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے دوست ممالک کے گروپ میں شامل ممالک کی تعداد 88 تک پہنچ چکی ہے۔
چین نے یہ اقدام 2021 میں ایسے وقت میں پیش کیا تھا جب دنیا کو اقتصادی بحالی، غربت میں کمی اور پائیدار ترقی کے حوالے سے متعدد مشکلات کا سامنا تھا۔ اس اقدام کا بنیادی تصور یہ ہے کہ ترقی کا عمل مقابلے کے بجائے تعاون، اور انفرادی فائدے کے بجائے مشترکہ خوشحالی پر مبنی ہونا چاہیے۔
گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو چین کے اپنے ترقیاتی تجربات پر مبنی ایک ایسا تصور پیش کرتا ہے جس سے دیگر ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے تحت ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، انتظامی تجربات اور ترقیاتی ماڈلز کے تبادلے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
آج کے دور میں ترقی کے لیے صرف مالی امداد کافی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، علم، تربیت اور صلاحیتوں میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ چین کی جانب سے مختلف شعبوں میں تعاون ترقی پذیر ممالک کو اپنے مسائل کے مقامی حل تلاش کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی چین عالمی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کے لیے نئے پلیٹ فارم متعارف کرائے گئے ہیں، جن کا مقصد ٹیکنالوجی کے فوائد کو زیادہ وسیع پیمانے پر انسانیت تک پہنچانا ہے۔
مثال کے طور پر چین میں تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی موسمیاتی پیش گوئی اور ابتدائی انتباہی نظام کو ترقی پذیر ممالک کے لیے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح کے نظام سیلاب، شدید موسم اور دیگر ماحولیاتی خطرات سے بروقت آگاہی فراہم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو اگر مناسب انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ ترقی پذیر ممالک میں صحت، زراعت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور شہری انتظام جیسے شعبوں میں نمایاں بہتری لا سکتی ہیں۔
چین نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے بگ ڈیٹا کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ اس سلسلے میں قائم کیے گئے تحقیقی پلیٹ فارمز مختلف ممالک کے ساتھ ڈیٹا اور تکنیکی تجربات کے تبادلے میں کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے لیے بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت مختلف منصوبوں کے لیے 23 ارب امریکی ڈالر سے زائد کے فنڈز متحرک کیے گئے، جبکہ 1800 سے زیادہ چھوٹے لیکن مؤثر منصوبے مکمل کیے گئے۔ ان منصوبوں کے ذریعے 120 سے زائد ممالک کی مقامی کمیونٹیز کو فائدہ پہنچا اور 2 لاکھ سے زیادہ افراد کو تربیت فراہم کی گئی۔
اس اقدام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف مالی تعاون تک محدود نہیں بلکہ مقامی ضروریات کے مطابق عملی منصوبوں پر توجہ دیتا ہے۔ صحت، تعلیم، خوراک کے تحفظ، روزگار، ڈیجیٹل ترقی اور بنیادی سہولتوں جیسے شعبوں میں ایسے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جو عام لوگوں کی زندگیوں میں براہِ راست بہتری لانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کو خاص طور پر گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم قرار دیا جا رہا ہے جہاں ترقی پذیر ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے تعاون کر سکتے ہیں۔
چین کا مؤقف ہے کہ موجودہ دور میں کوئی بھی ملک اکیلے عالمی چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل فرق، صحت کے مسائل اور اقتصادی عدم توازن جیسے معاملات کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
گزشتہ پانچ برسوں کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ترقی صرف اقتصادی اعداد و شمار کا نام نہیں بلکہ اس کا تعلق عام انسان کی زندگی میں بہتری، مواقع کی فراہمی اور مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد رکھنے سے ہے۔ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو اسی سوچ کے تحت مختلف ممالک کو تعاون کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
آنے والے برسوں میں جب دنیا مزید پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کرے گی، ایسے اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے جو مقابلے کے بجائے شراکت داری، اختلافات کے بجائے تعاون اور محدود فائدے کے بجائے مشترکہ ترقی کو ترجیح دیں۔ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو اسی راستے پر ایک ایسی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ترقی کو زیادہ جامع اور پائیدار بنانے کی سمت میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ |
|