|
الزام کی سیاست یا مینڈیٹ کا احترام؟:آزاد کشمیر کے انتخابات سے اٹھتے سوالات ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا انتخابات جمہوریت کا جشن ہوتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں یہ جشن اکثر الزام، احتجاج اور بے اعتمادی کے شور میں دب جاتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات بھی اس روایت سے مختلف ثابت نہ ہوئے۔ پولنگ ختم ہوئی، ووٹ گنے گئے، نتائج سامنے آئے، مگر اس کے ساتھ ہی ایک اور انتخاب شروع ہوگیا، بیانیوں کا انتخاب، ایک جانب فتح کے ترانے تھے، دوسری جانب دھاندلی کے نعرے؛ایک طرف عوامی مینڈیٹ کا دعویٰ تھا؛ تو دوسری طرف عوامی مینڈیٹ کی چوری کا الزام۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر شکست دھاندلی کا ثبوت ہوتی ہے؟ اور کیا ہر کامیابی شفافیت کی سند؟ ہماری سیاست کا شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ انتخابی نظام کی ساکھ کا معیار اصول نہیں، بلکہ نتیجہ بن چکا ہے۔ جو جیت جائے، وہ انتخابی عمل کو مثالی قرار دیتا ہے، اور جو ہار جائے، وہ اسی عمل کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ یوں انتخابات سے زیادہ اعتماد شکست کھا جاتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ بعض حلقوں میں انتظامیہ نے غیر جانبداری نہیں برتی، سرکاری وسائل استعمال ہوئے، نتائج مرتب کرنے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی اور بعض مقامات پر انتخابی عمل شفاف نہیں تھا۔ یہ الزامات اگر درست ہیں تو یقیناً نہایت سنگین ہیں، کیونکہ ایک ووٹ کی بے حرمتی صرف ایک امیدوار کا نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کا نقصان ہوتی ہے۔ دوسری طرف حکمران جماعت ان تمام الزامات کو شکست خوردہ سیاست کا بیانیہ قرار دیتی ہے۔ ان کے مطابق عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، اور جو بھی اعتراض رکھتا ہے، اسے عدالتوں اور انتخابی ٹریبونلز سے رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ سڑکوں اور جلسوں سے۔لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ کون الزام لگا رہا ہے اور کون جواب دے رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کس پر یقین کریں؟ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ اس یقین کا نام ہے کہ میرا ووٹ اسی شخص کے کھاتے میں گیا جسے میں نے منتخب کیا۔ جب یہ یقین متزلزل ہوتا ہے تو صرف حکومت نہیں، پورا جمہوری ڈھانچہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔ افسوس یہ بھی ہے کہ ہمارے سیاسی کلچر میں شکست کو تسلیم کرنے کا ظرف کمزور اور فتح میں انکسار ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ سیاست کا مقصد مخالف کو دیوار سے لگانا نہیں بلکہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد مضبوط کرنا ہونا چاہیے۔ اگر ہر انتخاب کے بعد اداروں کی غیر جانب داری ہی کٹہرے میں کھڑی ہو جائے تو نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاست کی اپنی مخصوص حرکیات ہیں۔ یہاں مقامی برادریاں، شخصیات، قومی سیاست اور ریاستی حساسیت سب مل کر انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہر انتخاب کو محض قومی سیاست کے چشمے سے دیکھنا حقیقت کا ادھورا مطالعہ ہے۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آزاد کشمیر کی سیاست پر پاکستان کے سیاسی موسموں کے اثرات ہمیشہ نمایاں رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن کمیشن ہر شکایت کی آزادانہ، شفاف اور بروقت تحقیقات کرے۔ اگر کسی حلقے میں بے ضابطگی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے، اور اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو ان کی بھی حقیقت عوام کے سامنے رکھی جائے۔ خاموشی ہمیشہ شکوک کو جنم دیتی ہے، جبکہ شفافیت اعتماد کو جنم دیتی ہے۔ جمہوریت صرف اکثریت کے حصول کا نام نہیں بلکہ اقلیت کے اعتماد کی حفاظت کا بھی نام ہے۔ یہی اعتماد کسی بھی ریاست کا اصل سیاسی سرمایہ ہوتا ہے۔ اگر یہ سرمایہ ضائع ہو جائے تو انتخابات اپنی قانونی حیثیت تو برقرار رکھتے ہیں، مگر اپنی اخلاقی قوت کھو بیٹھتے ہیں۔ کیونکہ انتخابات صرف حکومت نہیں، ریاست کا وقار بھی طے کرتے ہیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست کو پاکستان کی دیگر اکائیوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ خطہ صرف ایک انتظامی وحدت نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی جہت کا بھی اہم حوالہ ہے۔ یہاں ہونے والے انتخابات کو عالمی سطح پر بھی اس نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ آیا یہاں کے عوام کو اپنی سیاسی رائے کے آزادانہ اظہار کا حقیقی موقع ملا یا نہیں۔ اس لیے انتخابی عمل کی شفافیت محض ایک داخلی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے سفارتی مؤقف کی اخلاقی بنیاد بھی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا کی سیاست میں انتخابی نتائج سے زیادہ انتخابی بیانیے اہم بن چکے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ آج نتائج کا اعلان ہونے سے پہلے ہی دھاندلی کے الزامات اور کامیابی کے دعوے گردش کرنے لگتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ تحقیق بعد میں ہوتی ہے اور فیصلہ پہلے سنا دیا جاتا ہے۔ اس رویے نے عوام کو حقیقت سے زیادہ پروپیگنڈے کا اسیر بنا دیا ہے۔ جمہوریت کی روح صرف ووٹ ڈالنے میں نہیں بلکہ شکست کو وقار کے ساتھ قبول کرنے اور کامیابی کو عاجزی کے ساتھ نبھانے میں مضمر ہے۔ دنیا کی مستحکم جمہوریتوں میں عدالتیں اور انتخابی ادارے آخری فیصلہ کرتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں اکثر یہ فیصلہ جلسوں، ٹیلی ویژن مباحثوں اور سوشل میڈیا کی عدالتوں میں سنایا جاتا ہے۔ یہ روایت نہ صرف سیاسی اخلاقیات کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ نوجوان نسل کے ذہنوں میں جمہوری عمل کے بارے میں بداعتمادی بھی پیدا کرتی ہے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات ایک اور اہم سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ کیا ہماری سیاسی جماعتوں نے اپنے اندر جمہوری روایات کو فروغ دیا ہے؟ اگر جماعتوں کے اندر امیدواروں کے انتخاب، پالیسی سازی اور قیادت کے تعین میں جمہوری اصول پوری طرح نافذ نہیں، تو پھر وہ ریاست سے مکمل جمہوری طرزِ عمل کی توقع کس اخلاقی قوت کے ساتھ کر سکتی ہیں؟ مضبوط جمہوریت کی ابتدا سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر سے ہوتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ انتخابی اصلاحات کو محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قومی ضرورت سمجھا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی، انتخابی نتائج کی فوری اور شفاف ترسیل، غیر جانب دار مبصرین، انتخابی اخراجات کی سخت نگرانی اور شکایات کے فوری ازالے کا نظام وہ اقدامات ہیں جو ہر انتخاب کو زیادہ قابلِ اعتماد بنا سکتے ہیں۔ آج ضرورت کسی جماعت کی فتح یا شکست پر جشن یا ماتم کرنے کی نہیں، بلکہ اس سوال پر غور کرنے کی ہے کہ کیا ہر انتخاب کے بعد عوام کا اعتماد بڑھ رہا ہے یا کم ہو رہا ہے؟ کیونکہ اگر اعتماد مسلسل کمزور ہوتا رہا تو کل کوئی بھی انتخاب متنازع بن سکتا ہے، خواہ وہ کتنا ہی منظم کیوں نہ ہو۔ ابن خلدوں لکھتا ہے کہ ریاست کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہے، مگر ناانصافی کے ساتھ نہیں۔یہ قول مولا علی علیہ السلام سے بھی منسوب ہے۔ یہی اصول انتخابات پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ عوام صرف انصاف چاہتے ہیں، اور جب انہیں یقین ہو کہ ان کے ووٹ کا احترام کیا گیا ہے تو جمہوریت مضبوط ہوتی ہے، ریاست مستحکم ہوتی ہے اور قومیں آگے بڑھتی ہیں۔ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات ایک بار پھر ہمیں یہی سبق دے رہے ہیں کہ جمہوریت کی اصل فتح کسی جماعت کی کامیابی نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کی کامیابی ہے۔ حکومتیں پانچ سال کے لیے بنتی ہیں، لیکن اداروں کی ساکھ نسلوں تک ساتھ چلتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وقتی فائدے کے لیے ان اداروں کو کمزور نہ کریں جن پر کل انہیں خود بھی اعتماد کرنا ہوگا۔ آخر میں ایک سوال ہر سیاسی جماعت، ہر ریاستی ادارے اور ہر باشعور شہری کے سامنے کھڑا ہے: کیا ہم واقعی جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، یا صرف اس وقت تک اس کے حامی ہیں جب تک فیصلہ ہمارے حق میں آئے؟ اسی سوال کا جواب آزاد کشمیر کی سیاست کا مستقبل بھی متعین کرے گا، اور پاکستان کی جمہوری سمت بھی |