ملک کے احتسابی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت

(Syed Mehboob Ahmed Chishty, )

 متعدد احتسابی اداروں کی موجودگی کی وجہ سے ملک میں سرکاری، سیاسی اور نجی سطح پر احتساب کا عمل شدید متاثر ہے، وزیراعظم پاکستان عمران خان کی پالیسیاں دن گزرنے کے ساتھ سامنے آتی جا رہی ہیں سادگی اپنانے پر زور دینے والے وزیراعظم پاکستان کو احتساب کے کئی کئی اداروں کو ایک چھتری تلے اکٹھا کرنا ہوگا جو ایک جگہ جواب دہ ہو معتدد احتسابی چھتریوں نے عملی طور پر ملک کیلئے کوئی خاص کام نہیں کیا ہے خاص طور پر انسداد رشوت ستانی کے محکمے کو دیکھنا ہوگا جو کہ رشوت ستانی کے خاتمے کے بجائے اس کو تقویت بخشنے میں شہرت حاصل کر چکا ہے، نیب کے قوانین بھی بڑے مگرمچھوں کو پلی بارگین کر کے ایک طرف کر چکا ہے جس کا سدباب کئے بغیر ممکن ہی نہیں ہے کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو، ایف آئی اے، میں اسقدر اصلاحات لانے کی ضرورت ہیں جو موجودہ وزیراعظم ہی لا سکتے ہیں لیکن مذکورہ تمام اداروں کو ایک چھتری تلے لائے بغیر اصلاحاتی عمل سبوتاژ ہونے کا اندیشہ ہے وزیراعظم پاکستان اپنی پہلی تقریر میں کہہ چکے ہیں کہ وہ پہلے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں بہتری لائیں گے اس سلسلے میں انہیں شدید نوعیت کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان غور فرمائیں تو ملک میں شاید ہی کوئی ایسی چیز ہوگی جس پر 20 کروڑ پاکستانیوں میں سےء کوئ بھی ٹیکس نہ دے رہا ہو، یوٹیلیٹی بلوں پر 40 فیصد تک ٹیکس بٹور لیا جاتا ہے ایک سوئی جو دو روپے میں دستیاب ہے اس پر بھی خریدارے معقول ٹیکس دے رہا ہے لیکن آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ جمع شدہ ٹیکس وصول تو بڑی آسانی سے ہوجاتا ہے مگر جاتا کہاں ہے؟ اس مختصر تجزئیے سے یہ بات واضح ہے کہ ٹیکس وصولی ہے مگر اس سے ملنے والی رقم کی حفاظت نہیں کی جا رہی ہے ایک عام گھر جس کا خرچ دس ہزار تصور کر لیا جائے اور ان دس ہزار کے اخراجات کا تخمینہ لگایا جائے تو یہ بات شیشے کی طرح صاف دکھائی دے گی کہ دس ہزار ماہانہ اخراجات کرنے والابھی کم سے کم 3 ہزار روپے مختلف نوعیت کے ٹیکس ادا کرنے پر وار دیتا ہے، وزیراعظم پاکستان عمران خان کا ابتداء ہی میں یہ فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے کہ ایف بی آر کو درست کیا جائے لیکن اس کے ساتھ ہی احتسابی اداروں میں سدھار لانے کے ساتھ انہیں ون یونٹ احتسابی ادارہ قائم کرنا ہوگا تاکہ احتسابی عمل میں بہتری لائی جاسکے اس عمل کو سرانجام دینے کیلئے انہیں صوبوں کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا کیونکہ انسداد رشوت ستانی کے محکمے صوبوں کے کنٹرول میں کام کر رہے ہیں.ضرورت اس امرکی ہے کہ بلارنگ ونسل اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ احتسابی عمل انتقامی طرز فکرکی عکاسی نہ کررہا ہو

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 176 Print Article Print
About the Author: Syed Mehboob Ahmed Chishty

Read More Articles by Syed Mehboob Ahmed Chishty: 15 Articles with 3008 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: