سعودی ولی عہد کا دورہ اور وزیر اطلاعات

(Rohail Akbar, Lahore)

سعودی عرب نے پاکستان کا بڑابھائی ہونے کا حق اداکردیا ہے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے پاکستان میں 20ارب ڈالرز سے زائد کی سر مایہ کاری کر کے پاکستان سے محبت کی نئی مثال قائم کردی ہے پاکستانی قیدیوں کے رہائی کے بارے سعودی حکومت کے فیصلے پر انکا جنتابھی شکر یہ ادا کیا جائے وہ کم ہے ہر گزرتے دن کیساتھ سعودی تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی سر براہی میں پاکستان میں جتنی بڑی سر مایہ کاری سعودی عرب نے آج کی ہے ماضی میں اسکی کوئی مثال نہیں ملتی اور یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ سر مایہ کاری یہاں رک نہیں جائیگی بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہیگا اور پاکستان میں نئے نئے پر اجیکٹ شروع ہوں گے جس سے لوگ کو روزگاربھی ملے گا اور ملک معاشی طور پر مضبوط ہوگاوزیر اعظم عمران خان اور انکی ٹیم کو کر یڈٹ جاتا ہے کہ وہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے دن رات کام کر رہی ہے اور جس تیزی کیساتھ ہم آگے بڑھ رہے ہیں اسکے بعد اب ملکی ترقی اور خوشحالی کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی اس موقعہ پر نہ صرف پاکستانی میڈیا نے اپنا بھر پور مثبت کردار ادا کیا بلکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ویژن اور کامیاب معاشی و خارجہ پالیسی کی بدولت پوری دنیا کا میڈیا یہاں تک کہ بھارتی تھنک ٹینک بھی اس بات کے معترف ہیں کہ پاکستان اب ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں وہ خطے کے استحکام میں اپنی جغرافیائی اہمیت منوا رہا ہے۔ "فائنشنل ٹائمز" کے مطابق آج کا پاکستان چھ ماہ قبل کے پاکستان سے کئی زیادہ مستحکم اور مضبوط ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے محض چھ ماہ میں خلیجی ممالک سے تعلقات میں بہتری سمیت کرتار پور کوریڈور اور طالبان / امریکا مذاکرات جیسی کامیابیاں سمیٹی ہیں جو دنیا میں پاکستان کا وقار بحال کر رہی اور انشاﷲ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان ہر شعبے میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو گا۔ شاہ فیصل مرحوم کے بعد یہ پہلاموقع ہے کہ سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں مزید استحکام پیداہواہے سعودیہ کی متبادل توانائی ریفائنری، پیٹرو کیمیکل پلانٹ ، معدنی وسائل ، بجلی کی پیداوار،کھیل اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے پاکستان کواﷲ تعالیٰ نے وسائل کی بے پناہ دولت سے نوازا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران ان سے بھر پور انداز میں استفادہ کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کریں۔ ماضی کی حکومتوں نے ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے سعودی عرب میں قید 2107قیدیوں کی فوری رہائی کے حکم کو ہم سراہتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں سی پیک کے عمل میں سعودی شرکت اور سرمایہ کاری سے دونوں ملکوں اور خطے کے عوام کواس کافائدہ پہنچے گا عالمی منظرنامے میں سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے اور یہ ہمارے لئے قابل فخر ہے اور ہو بھی کیوں نہ کیونکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عوام سے حکمرانوں تک محبت اور احترام کا تاریخی رشتہ استوار ہے اور دونوں کے اربابِ اقتدار ایک دوسرے سے گہری محبت اور عقیدت رکھتے ہیں جس کا تازہ مظہر وزیراعظم عمران خان کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی گاڑی خود ڈرائیو کرنا ہے اور وہ انھیں نورخاں ائیر بیس سے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد تک خود کار چلا کر لائے سعودی ولی عہد اتوار کی شب ٹھیک آٹھ بجے چکلالہ، راولپنڈی میں نورخان ائیر بیس پر اپنے خصوصی طیارے سے اترے تو ان کے استقبال کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت مو جود تھی ۔ وزیراعظم عمران خان ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے طیارے کے قریب معززمہمان ولی عہد کا پرتپاک استقبال کیا۔اس موقع پر کابینہ کے ارکان اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود تھے۔ بچوں نے معزز مہمان کو والہانہ انداز میں گلدستہ پیش کیا سعودی ولی عہد کی سرکاری دورے پر آمد کے موقع پر جڑواں شہروں میں سکیورٹی کے غیر معمولی سخت انتظامات کیے گئے تھے چکلالہ ایئربیس سے وزیراعظم ہاؤس تک سعودی ولی عہد کے قافلے کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی ۔قافلے کے عین اوپر فضا میں ایک جدید ہیلی کاپٹر پرواز کرتا رہا تھا۔وزیراعظم ہاؤس آمد پر سعودی ولی عہد اور ان کے وفد کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی اور مسلح افواج کے چاق چوبند دستے نے شہزادہ محمد بن سلمان کو گارڈآف آنر پیش کیا۔اس موقع پر دونوں ملکوں کے ترانے بجائے گئے۔اس کے بعد وزیراعظم نے معزز مہمان کا اپنی کابینہ کے ارکان سے تعارف کرایا۔سعودی ولی عہد کی وزیر اعظم عمران خان سے ون آن اور بعد میں وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی، وزیر اعظم کی طرف سے شاہی مہمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔راول پنڈی سے دارالحکومت تک شاہراہوں کو رنگا رنگ خیر مقدمی بینروں سے سجایا گیا تھا اور ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ثقافتی طائفے بھی سعودی ولی عہد کے والہانہ استقبال کے لیے موجود تھے۔ فوجی ہوائی اڈے پر چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، قبائل کے ثقافتی پروگرام اور علاقائی رقص پیش کیے گئے۔دوسرے روز ایوان صدر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کیاعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے شرکت کی۔معزز مہمان کے اعزاز میں آرمی بینڈ کا خصوصی مظاہرہ بھی پیش کیا گیا ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم عمران خان خوشگوار موڈ میں دکھائی دئیے جہاں وزیراعظم عمران خان خوش نظر آئے وہیں ولی عہد محمد بن سلمان کے چہرے پر بھی مسرت و شادمانی جھلکتی نظر آئی۔بعدازں نور خان ایئربیس پر وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، خسرو بختیار، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور فواد چودھری سمیت اہم شخصیات نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو رخصت کیاجبکہ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے دوران ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے جس خوبصورت انداز سے میڈیا پر اپنی گرفت قائم رکھی وہ بھی اپنی مثال آپ ہے بلا شبہ یہ انکی سمجھداری کا اہم ثبوت ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 470 Print Article Print
About the Author: rohailakbar

Read More Articles by rohailakbar: 393 Articles with 132702 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: