کیا یہ کافی ہے ؟

(Zahid Abbasi, )

جب بھی بھارت یامقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی کاکوئی واقعہ ہوتا ہے توفوری طور پر اس کا الزام براہراست پاکستان پردھر دیا جاتا ہے ۔ہندوستانی پراپگنڈا مشینری اور میڈیا انتہائی برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند منٹوں کے اندر اندرمبینہ واقعہ پر Pakistan Sponsored Terrorist Activityکا لیبل لگا کر ساری دنیا کوsaleکرنا شروع کر دیتاہے ۔ آن کی آن میں اس واقعہ کو ثبوت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرکے پاکستان کو ایک ایسا ملک ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں دہشتگردی اور انتہا پسندی کی پرورش اور نگہداشت کی جاتی ہے ۔بھارت کی طرف سے ہر واقعہ کے بعد دہشتگردی کے سنگین الزامات کے جواب میں پاکستان اس میں ملوث ہونے سے انکار کرتا ہے اور مجموعی طور پراسے خود ساختہ کاروائی قرار دیکر اسکا تعلق بھارت کی اندرونی سیاسی صورت حال سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی طرف سے اتنا کہہ دینا ہی کافی ہوتا ہے کہ چونکہ ہندوستان میں الیکشن ہونے والے ہیں اسلیئے بھارتی حکومت ایسے واقعات خود کرواکر اپنی عوام خاص طور پر انتہا پسند ہندوؤں کے پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دیکر الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے ۔کیا دنیا پاکستان کے اس argumentکو buyکرتی نظر آتی ہے اور کیا پاکستان اپنے موقف کو ساری دنیا میں اتنی تیزی سے پھیلانے میں کامیاب ہوتا ہے جتنی تیزی سے ہندوستانی پراپگنڈا مشینری کام کرتی ہے اور کیا پاکستانی موقف عالمی برادری کے ذہن پر چھائے بھارتی پراپگنڈے کے اثر کو زائل یا کسی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ؟

میں جب بھی ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو جواب نفی میں ملتا ہے ۔ یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا پاکستان کے موقف سے اتفاق نہیں کرتی ۔ اگر دنیا پاکستان کے موقف سے اتفاق کرتی ہوتی تو دہشتگردی کی جنگ میں ستر ہزار پاکستانیوں کی قربانی دینے کے باوجود پاکستان کو شک کی نظر سے نہ دیکھا جاتااور پاکستان دنیا سے ان قربانیوں کو recogniseکرنے کا بار بار مطالبہ نہ کر رہا ہوتا۔ اب غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لیکن اسکے باوجود دنیا ہمیں مظلوم ماننے کو تیار نہیں،کیوں؟

کئی دہائیوں سے بھارت مسلسل پاکستان پر دہشتگردی کی پشت پناہی اور اسے بڑھاوا دینے کا الزام بڑی شدو مد سے لگاتا آرہا ہے ۔ حملہ بھارتی پارلیمنٹ پر ہو یا پھر کسی ہوٹل پر مورد الزام پاکستان ہی ٹھہرایا جاتا ہے ۔ پاکستان میں سویلین کا تو پتہ نہیں لیکن پاکستان فوج اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ بھارت کی طرف سے ہمہ وقت پاکستان پر دہشتگردی کی حمائت کا الزام عائد کرتے رہنا بھارتی ریاست کے پاکستان مخالف ہمہ جہتی Doctrineکا ایک حصہ ہے ۔

بات یہ بھی سمجھنے کی ہے کیا ہندوستان جیسا بڑا ملک جو کہ ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بھی ہے اسکی کوئی بھی حکومت محض اپنے آئیندہ الیکشن میں فتح حاصل کرنے کیلئے معاملات کو اس حد تک آگے لے جائے گی کہ جہاں سے وآپسی ممکن نہ ہو سکے ؟یہ درست ہے کہ نرندر مودی کی سیاست انتہا پسندی ، ہندو دھرم اور پاکستان مخالف ایجنڈے پر مبنی ہے لیکن کیا ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ نرندر مودی نے ریاست ہندوستان کو یر غمال بنا لیا ہے اور جیسا کہ ہمارے ہاں یہ بحث چل رہی ہے اور یہی بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ مودی ہندوستان کے ریاستی اداروں اور ہندوستان فوج کو اپنے سیاسی عزائم کیلئے استعمال کر رہا ہے لیکن جب ہم ایسا کہہ رہے ہیں تو پھر ہمیں خود سے یہ بھی سوال کرنا چاہیے کہ آج سے بیس سال پہلے یا تیس سال پہلے تو نرندر مودی کی حکومت نہیں تھی لیکن ہندوستان کی طرف سے اس وقت بھی پاکستان پر دہشتگردی کے سنگین الزامات لگائے جاتے تھے ، آخر کیوں ؟ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہندوستان جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے کیا اسکے ریاستی ادارے واقعی ایک انتہا پسند وزیر اعظم کے اشاروں پر ہندوستان کے قومی مفادات کو نظر انداز کرکے الیکشن میں اسکی سیاسی فتح کو ممکن بنانے کیلئے اسکے سامنے بے بس کھڑے ہیں ؟ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ حقیقت میں ہندوستان کے ریاستی ادارے نرندر مودی کے سیاسی مفادات کی آڑ میں ریاست ہندوستان کے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ یہ بات درست ہے کہ سیاسی جمہوری نظام کے اندر بلاشبہ عوام بلواسطہ یا بلاواسطہ سربراہ مملکت یا حکومت کا انتخاب کرتے ہیں لیکن منتخب ہونے کے بعد سربراہ مملکت یا حکومت ریاست کے قومی مفادات کے تحفظ کی قسم کھاتے ہیں اور ریاستی ادارے اس بات کے ضامن ہوتے ہیں کہ وہ شخص ریاستی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرئے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کے ریاستی اور قومی سلامتی کے ادارے نرندر مودی کی سیاست کے محافظ ہیں یا ریاست ہندوستان کے قومی مفادات کے ؟

اگر ہم ہندوستان کے پاکستان پر مسلسل اور تواتر کے ساتھ دہشتگردی کی پشت پناہی ، پرورش اور نگہداشت کے الزامات کی حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان الزامات کو محض سیاسی فائدے کیلئے لگائے جانے والے الزامات کے نکتہ نظر سے ہٹ کر دیکھنا ہوگا۔ ہم ہندوستان کی طرف سے لگائے گئے دہشتگردی کے الزامات اور ہندوستانی سر زمین پر ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کو محض ایک فلاپ شو کہہ کر اسکا مذاق اڑاتے ہوئے آگے بڑ ھ جاتے ہیں لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں ہندوستان کا ہر فلاپ شو پاکستان کے خلاف الزامات کی فہرست میں اضافہ کرتا جاتاہے ۔ اگر ہمیں ایک چیز ڈرامہ لگتی ہے تو ہمارا کیا خیال ہے کہ ہندوستان میں بیٹھے لوگوں کو وہ چیز ڈرامہ نہیں لگتی ہوگئی ، ضرور لگتی ہوگئی ، اگر لگتی ہوگی تو سوال یہ ہے کہ پھر ہندوستان ہر تھوڑے وقت کے بعد کوئی نہ کوئی نیا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کیوں کرتا ہے ؟یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان تواتر کے ساتھ ایسے ڈرامے رچا کر پاکستان کے خلاف ایک مقدمہ تیار کر رہا ہے ۔ یہ واقعات بظاہر کتنے ہی خودساختہ اور پھونڈے نظر آتے ہوں لیکن جب State to Stateبات ہوتی ہے تو پاکستان ان واقعات کو ڈرامہ نہیں کہہ سکتا بلکہ ''پاکستان کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر آپ کے پاس ثبوت ہیں تو مہیا کریں ہم ذمہ داران کے خلاف کاروائی کریں گے ''پاکستان کے نکتہ نظر سے تو یہ ایک کھلی آفر ہوتی ہے لیکن اگر اسے ہندوستان اور دنیا کے نکتہ نظر سے دیکھیں تو یہ کسی مبینہ واقعہ کے ہونے اور ریاست ہندوستان کے سرکاری موقف کی تصدیق کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔ کیا پاکستان نے بطور ریاست اور پاکستانی عوام نے بطور ایک قوم کبھی اس نکتہ پر غور کیا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان پر جو دہشتگردوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان کا جو امیج بن گیا ہے کیا وہ ایک دن میں بنا ہے یا پھر کسی ایک واقعہ کی بنا پر بنا ہے ، نہیں، یہ ایک دن یا ایک واقعہ کی بنا پر نہیں بنابلکہ یہ ہندوستان کی طرف سے رچائے گئے فلاپ شوز کا نتیجہ ہے کیونکہ ان واقعات کو پاکستان یا پاکستانی عوام فلاپ شوز کہہ کر انکا مذاق اڑاتی ہے لیکن دنیا ان واقعات کو کسی دوسری عینک سے دیکھتی ہے کیونکہ بھارتی پراپگنڈا مشینری ان واقعات کو اسطرح سے دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے کہ وہ دنیا کو فلاپ شو نہیں لگتے ۔ ایسا بھی نہیں کہ دنیا بھارت کی طرف سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو من و عن سچ مان لیتی ہے لیکن وہ انہیں یکسر نظر انداز بھی نہیں کرتی ۔ دوسری طرف ہمارا رد عمل بعض اوقات انتہائی سست اوراتنا دھیما ہوتا ہے کہ وہ بھارتی جارہانہ الزام تراشی کے سامنے ماند پڑ جاتا ہے ۔

قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ہندوستان کی طرف سے پاکستان پر ہر آئے دن دہشتگردی کے الزامات لگانے کا مقصد دو سطحی ہے ۔ پہلا یہ کہ ہندوستان پاکستان کو ساؤتھ ایسٹ ایشا کے دیگر ممالک کی طرح اپنے دباؤ میں رکھ کر اس خطہ میں اپنی بالا دستی اور چودراہٹ قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کشمیر کو بھول جائے اور بھارت کے سامنے ہاتھ باندھ کر لائن میں کھڑا ہو جائے ۔ دوسری سطح کو سمجھنے کیلئے یہ وضاحت ضروری ہے کہ پچھلے چند سالوں میں ریاست پاکستان نے بڑی کامیابی سے اپنے سمت تبدیل کی ۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ خاص طور پاک فوج کا مائینڈ سیٹ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے ۔بلاشبہ فوج نے دہشتگردی کی اس جنگ سے بہت کچھ سیکھا ہے اور نہ صرف اپنی اصلاح کی ہے بلکہ پاکستان کو بھی درست سمت میں ڈالنے میں بڑی محنت اور انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اس حقیقت کا اعتراف سویلین قیادت کو کرنا چاہیے کہ فوج نے پاکستان کیلئے بین الااقوامی برادری خاص طور پر عرب ممالک ، چین ، ایران اور روس کے ساتھ جو خاموش مگر موثر حکمت عملی اختیار کی اور جو کامیاب سفارت کاری کی اس کی بدولت آج ان ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات برابری اور بہتری کی سطح پر پہنچ چکے ہیں اور پاکستان کو سفارتی تنہائی میں دھکیلنے کی تمام بھارتی کوششیں بری طرح ناکام ہو ئیں ہیں۔فوج کے بیرونی محاذوں پر بہترین کردارکو سراہنے کے ساتھ ساتھ اسکی ملک کے اندر امن قائم کرنے کی کاوشیں بھی قابل تحسین ہیں ۔ آج نہ صرف کراچی بلکہ مجموعی طور پر پورے ملک میں امن ہے اور یہ امن براہراست منسلک ہے پاکستان کی معاشی ترقی سے ۔ اس بات کو تسلیم کیا جانا چاہیے کہ گو کہ پاکستان کی مالی حالت اتنی اچھی نہیں ہے لیکن پاکستان کی معیشت میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور اگر پاکستان میں اسی طرح امن رہا تو نہ صرف معاشی سر گرمیاں بڑھیں گیں بلکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار بھی دل کھول کر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے اور یہی ایک بات ہے جو ہندوستان کو کبھی ہضم نہیں ہوتی کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔ ہندوستان کا پاکستان specificایک باقاعدہ doctrineہے جس میں پاکستان کو ہر سطح اور ہر شعبے میں ٹارگٹ کرنا شامل ہے ۔ پاکستان میں دہشتگردی ، معاشی ابتری، سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بے چینی پھیلانا بھی اس doctrineکا حصہ ہے ۔ بھارت جو فلاپ شوز کرتا ہے وہ بھی اسی doctrineکے تحت کرتا ہے تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرکے اسے سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل سکے ۔ ہندوستان کے اس ہمہ جہت doctrineکے جواب میں فلاپ شوز اور سیاسی مفاد کا پاکستانی بیانیہ نہ تو عالمی سطح پر اتنا زیادہ موثر ثابت ہو رہا ہے اور نہ ہی ہندوستانی پراپگنڈے کے اثر کو زائل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے ۔ اسلیئے صرف اتنا کافی نہیں ۔ اگر پاکستان اپنی فوج کی دہشتگردی کے خلاف کامیابیوں کے ثمرات کو دائمی طور پر قائم رکھنا چاہتا ہے تو پاکستان کی سویلین لیڈر شپ اور خاص طور پر حکومت وقت کو بھی ہندوستان کے خلاف ایک باقاعدہمہ جہت doctrineبنا ناہوگا ۔ Reactiveہونے کی بجائے Proactiveہونا ہوگااور ہندوستان کو ہر میدان میں Take onلینا ہوگا ۔ اس سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ ہندوستان کے ساتھ طبلہ جنگ بجا دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ فوجی اور سیاسی قیات ملکرایک مشترکہ ہندوستان specificپالیسی بنائیں ۔ یہ کیا پالیسی ہے کہ ہر چار چھ ماہ بعد ہندوستان ایک فلاپ شو کرکے پاکستان پر الزام لگا دیتا ہے اور پاکستان اسکی صفائیاں پیش کرتارہتا ہے ۔ پالیسی توایسی ہو کہ ہندوستان پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے دس مرتبہ سوچے ۔ جسطرح پاکستان نے اپنے آپ کو دفاعی لحاظ سے مضبوط بنایا ہے اسی طرح سفارتی لحاظ سے بھی خود کو مضبوط بنانا ہوگا۔پاکستان کو انڈیا specificہمہ جہت سفارتی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی، سفارتی، معاشی ، معاشرتی، سماجی، مالیاتی محاذوں پر ہندوستان کا ڈٹ کر مقابلا کیا جا سکے ۔ اگر ہندوستان پاکستان کے خلاف کھل کر کھیل سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 235 Print Article Print
About the Author: Zahid Abbasi

Read More Articles by Zahid Abbasi: 24 Articles with 8384 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: