میڈیا کے ’گرافک وار روم بننے‘ کی منطق ۔۔!!

(Qadir Khan, Lahore)

ہنہ جھیل کے قریب یخ بستہ زمین پر بیٹھے میزبان کے ایک گرما گرم سوال نے پورے وجود کو سلگا دیا۔ پوچھا گیا کہ پاکستانی میڈیا نے تمام سیاسی جماعتوں، اہم و عام شخصیات سے بھارتی جارحیت کے خلاف موقف لیا، انہیں اپنے پروگراموں میں بلایا لیکن کچھ معروف شخصیات کو نظرانداز کردیا۔ میں خاموش رہا، تاہم اس سوال کا جواب میرے پاس تھا، کیونکہ تلخی نہیں چاہتا تھا۔ بعدازاں زیارت جانے کا ارادہ ظاہر کیا، لیکن مجھے بتایا گیا کہ وہاں کئی عشروں بعد برف باری کا ریکارڈ ٹوٹا ہے۔ قلعہ عبداﷲ جانے کے راستے بھی بند ہوچکے ہیں۔ اس لیے راقم نے واپسی کا ارادہ کیا اور اجازت چاہی، اندازہ تو تھا کہ موسم سخت ہے لیکن اس بار بلوچستان سمیت ملک کے دیگر شہروں و نشیبی علاقوں میں بارش و برف باری نے سب کچھ جل تھل کردیا تھا۔ اس موقع پر پانی ذخیرہ کرنے والے ڈیموں کی کمی شدت سے محسوس ہوئی کہ اگر صوبائی اختلافات نہ ہوتے تو آج ملک کے کئی حصوں میں ڈیم بن چکے ہوتے اور پانی کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ سستی بجلی بھی ملک و قوم کو میسر ہوتی۔

میں نے اپنے میزباں کے سوال کا جواب تو نہیں دیا لیکن اُن کا سوال اپنی جگہ درست تھا۔ منفی رویوں کے تسلسل کی وجہ سے ’’اظہار رائے کی آزادی‘‘ کا غلط استعمال کرنے والوں کو مینڈیٹ کے مطابق پاکستانی ذرائع ابلاغ میں جگہ نہیں ملتی۔ بھارتی میڈیا کے مقابلے میں پاکستانی میڈیا کی تعریف کی جارہی ہے کہ انہوں نے ’’تدبر‘‘ اور دانش مندی کا مظاہرہ کیا اور بھارتی میڈیا کی طرح اپنے چینلز کو ’’گرافک وار روم‘‘ بننے نہیں دیا۔ بلاشبہ پاکستانی میڈیا نے ملکی مفاد کی خاطر پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کا عمدہ مظاہرہ کیا۔ پاکستانی میڈیا نے فضول، من گھڑت اور بھونڈے الزامات کو لے کر ریٹنگ بڑھانے کے لیے عوام میں جنگی و منفی اشتعال پیدا نہیں کیا۔ پاکستانی سیاست دانوں نے بھی بڑے تحمل اور تمام تر اختلافات کے باوجود یک جہتی کا مظاہرہ کیا جو تحسین کے قابل ہے۔ ٹاک شوز میں سیاسی اختلافات کے باوجود تمام نمائندے ملکی سلامتی و یکجہتی کے بنیادی نکتے پر متفق و متحد نظر آئے۔

بھارت میں جنگی جنون وہاں کے میڈیا کا پیدا کردہ ہے اور بھارتی سیاست دانوں نے اُس کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ گزشتہ مہینے بھارتی میڈیا کا بڑا اسیکنڈل سامنے آیا تھا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ’’بھارت کی ایک صحافتی کمپنی نے اسٹنگ آپریشن کے دوران کئی بھارتی اداکاروں کی جانب سے رقم لے کر مودی کی تعریفیں کرنے والے حامیوں کا انکشاف کیا تھا۔یہ معاملہ صحافتی کمپنی کوبرا پوسٹ کے اسٹنگ آپریشن میں سامنے آیا، جس نے تہلکہ مچادیا تھا۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے بڑے نام پیسے لے کر بھارتی حکمران جماعت بی جے پی اور وزیراعظم مودی کی تعریفیں کرتے رہے۔ کوبرا پوسٹ کے نمائندے بولی وڈ کے اداکاروں اور گلوکاروں کے پاس گئے اور انہیں بی جے پی کے لیے سوشل میڈیا پر مثبت پروموشن کرنے کے لیے کہا گیا۔ جیکی شیروف، ماہیما چوہدری، گلوکار میکا سنگھ اور راج پال یادیو سمیت کئی اہم اداکاروں نے بھاری رقوم کے عوض ہامی بھری۔ میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ بھارتی گلوکار ابھیجیت تو سب سے آگے نکلے۔

یہ اسٹنگ آپریشن تو کچھ ہفتوں قبل کی بات ہے، جس میں مودی اور بی جے پی نے الیکشن میں کامیابی کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور معروف بھارتی اداکاروں نے رقم کے لالچ میں سوشل میڈیا میں مودی کے لیے کام کیا۔ چلیں، اسے سوشل میڈیا میں خود کو معروف کرانے کا ایک طریقہ کہا جاسکتا ہے۔ ایسا عموماً دنیا بھر کی معروف شخصیات خود بھی کرتی رہتی ہیں۔ خودساختہ اسکینڈل بناکر خود کوئی خبر یا ویڈیو یا تصویر تک وائرل کرادی جاتی ہے، جس کے بعد ’’مقبولیت‘‘ میں اضافہ ہونے کے فوائد اٹھاتے ہیں۔

گزشتہ برس بھارت میں ایک اور اسکینڈل سامنے آیا تھا جس پر پاکستانی میڈیا نے حالیہ بحران میں توجہ نہیں دی کہ بھارتی میڈیا ’’گرافک وار روم‘‘ کیسے بن گئے ہیں؟ قارئین و اپنے میڈیا ہاؤسزکو یاد کرانے کے لیے بھارتی میڈیا کے مکروہ کردار کے اُس اسکینڈل کا ذکر کرنا ضروری ہے جس سے حالیہ دنوں بھارتی میڈیا کی منفی رپورٹنگ کی وجہ باآسانی سمجھ میں آجائے گی۔

واضح رہے کہ مئی 2018 میں بھارتی میڈیا برائے فروخت، سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا تھا۔ اس کی بنیادی وجوہ جو سامنے آئیں، اُن کے مطابق الیکشن 2019 میں ہندو انتہاازم کے فروغ کے لیے بھارتی میڈیا ضمیر بیچنے کو تیار ہوگیا تھا کہ کون سا چینل کتنا بکاؤ ہے۔ کوبرا پوسٹ کے اسٹنگ آپریشن نے بھانڈا پھوڑا۔ بیشتر بھارتی چینلز کروڑوں بٹور کر الیکشن میں ووٹرز کا رجحان بدلنے کو تیار ہوگئے۔ 25میڈیا ہاؤسز بینک بیلنس بڑھانے کے لیے ہندو انتہاپسندی کو فروغ دینے پر آمادہ ہوچکے تھے۔ کوبرا پوسٹ کے مطابق ’’زی نیوز‘‘ کے مالک بھی ضمیر فروشی میں سب سے آگے ہیں۔ زی نیوز کے مالک سبھاش چندرا سابق وزیراعظم نوازشریف کا انٹرویو کرنے پاکستان آرہے تھے مگر خبر لیک ہونے پر چندرا نے پروگرام کینسل کردیا تھا۔ یہ اسٹنگ آپریشن بھارتی صحافی پشپ شرما نے کیا تھا جس میں درجنوں میڈیا ہاؤسز پر تحقیق کی گئی۔ پشپ نے دو درجن کے قریب میڈیا ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں سے بات کی، جن میں ہندوستان ٹائمز، زی، انڈیا ٹی وی، جگران، اسٹار، بینے و دیگر شامل ہیں۔ ان عہدیداروں سے ملاقات کے دوران خفیہ ریکارڈنگ کی گئی۔ کوبرا پوسٹ کے مطابق ان عہدیداروں نے پیسوں کے عوض معاشرے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے اور انتخابات میں کسی ایک جماعت کی جیت کے لیے پروپیگنڈا کرنے پر بھی ہامی بھری۔ یہ ایک غیر معمولی عمل تھا جو ہندو انتہاپسندی کے فروغ کے لیے بھارتی میڈیا نے بھاری رقوم کی لالچ میں اختیار کیا۔ جس کے اثرات حالیہ پاک بھارت کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے بجائے کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے۔

گزشتہ روز دوبارہ ایک اور بہت بڑا اسکینڈل سامنے آیا کہ ’’مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ واقعہ خود حکمراں جماعت نے کروایا۔‘‘ بی جے پی کے سابق رہنما ’’اوی ندیا‘‘ نے بھارتی وزیر داخلہ اور ایک خاتون کی مبینہ آڈیو ٹیپ میڈیا میں جاری کی جس میں کی جانے والی گفتگو کے مطابق الیکشن جیتنے کے لیے جنگ کرنے کو ضروری قرار دیا گیا اور مقبوضہ کشمیر میں بغیر کسی وجہ کے جنگ کرانے کی منصوبہ بندی کی حمایت کی گئی اور پلوامہ ڈرامہ رچانے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔ اس آڈیو ٹیپ کی ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر موجود ہے اور بی جے پی کے سابق رہنما کا چیلنج بھی کہ اس آڈیوٹیپ کو غلط ثابت کرکے دکھائیں۔ اوی ندیا نے مزید انکشافات کے لیے ڈیٹ لائن بھی دی ہے۔ان تین اہم نکات کو سامنے لانے کا مقصد یہی ہے کہ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ میڈیا میں اظہار رائے کی آزادی کسی نہ کسی قوت کی محکوم ہوتی ہے۔ اُس کے کئی مفادات ہوتے ہیں اور پس منظر میں مالی فوائد کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں قریباً میڈیا ہاو?سز کی یہی حالت ہے۔ ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ بلیک آؤٹ کیوں ہوجاتا ہے اور میڈیا کسی جماعت کا ترجمان کیوں بن جاتا ہے؟ باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 169 Print Article Print
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 329 Articles with 103097 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: