پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانے عمران خان کی کوشش۰۰۰

(Muhammad Abdul Rasheed Jundaid, India)

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان جو ان دنوں ہندوستانی پائلٹ ابھینندن کی رہائی کے بعد سے عالمی سطح پر میڈیا کی سرخیوں میں ہیں کیونکہ انہوں نے جس طرح دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دور کرنے اور امن و آمان کے قیام کے لئے ایک بہترین مثال قائم کی، جس کا عالمی سطح پر خیر مقدم کیا گیا۔ اسی طرح پنجاب حکومت کے صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنی رہائش گاہ طلب کرکے ان سے استعفیٰ دینے کو کہا تھا کیونکہ فیاض الحسن چوہان نے ہندو برادری کے حوالے سے متنازعہ بیان دیا تھا ، وزیر اعلیٰ پنجاب نے فیاض الحسن سے ہندوؤں کے خلاف تبصرہ کرنے کی وضاحت بھی چاہی تھی جس کے جواب میں فیاض نے کہا کہ وہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی ، ہندوستانی سیکیورٹی فورسز اور وہاں کے میڈیا کے تعلق سے تقریر کرررہے تھے ، پاکستان کے ہندو کمیونٹی سے نہیں، فیاض چوہان کا کہنا تھا کہ اگر ان سے پاکستانی ہندو فرقہ کو تکلیف پہنچی ہے تو وہ معافی چاہتے ہیں۔ خیر فیاض چوہان کو اپنی تقریر مہنگی پڑی اور انہیں حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا، انکی جگہ صمصام بخاری کو پنجاب صوبائی حکومت کا وزیر اطلاعات و ثقافت بنایا گیا ہے جنہوں نے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور سے اپنے عہدے کا حلف لیا ۔اس طرح پاکستان میں ہندو اقلیت کے خلاف متنازعہ بیان دینے والے صوبائی وزیر سے پنجاب حکومت نے استعفیٰ لے کر ایک مثال قائم کی ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پنجاب میں عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ہے اور ہوسکتا ہے کہ عمران خان کے کہنے پر ہی وزیر اعلیٰ پنجاب نے فیاض الحسن چوہان سے استعفیٰ طلب کیا ہو۔

مسعود اظہر کی ہلاکت کی خبر کتنی سچ۰۰
گذشتہ دنوں ہندوستانی میڈیا میں یہ خبر گردش کررہی تھی کہ جیش محمد سربراہ مسعود اظہر کی ہندوستانی فضائی حملے میں ہلاکت ہوچکی ہے ، بتایا جارہا تھا کہ پاکستانی حکام حقائق کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سی این این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر پاکستان میں ہیں اور وہ بہت زیادہ بیمار ہیں ، اس حد تک کہ وہ چل بھی نہیں سکتے اور اپنے گھر سے باہر بھی نکل نہیں سکتے ۔ سی این این 18نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ مسعود اظہر کی موت 2؍ مارچ کو ہوچکی ہے اور آرمی ہاسپتل اسلام آباد سے اطلاع آنے کے بعد اس کا رسمی طور پر اعلان کیا جائے گا۔تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ اگر مسعود اظہر کی موت کی اطلاع دے دی گئی ہے تو دہشت گردوں کو پاکستانی اسٹیبلشمینٹ کے خلاف کارروائی کرنے پر اکسا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ مسعود اظہر کی موت کی اطلاع دینے کے بجائے سخت علیل بتایا جارہا ہے ۔ پاکستانی تجزیہ نگاروں کے مطابق مسعود اظہر کی موت واقع نہیں ہوئی البتہ وہ بیمار ضرور ہیں۔ پاکستانی صحافی سبوخ سید جو مسعود اظہر سے تین مرتبہ انٹرویو لے چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مسعود اظہر 2010سے گردوں کے عارضہ میں مبتلا ہیں اور اس کا علاج گذشتہ نو برس سے چل رہا ہے مگر یہ کہنا کہ وہ انتہائی نگہداشت کی حالت میں ہیں درس نہیں۔البتہ انہوں نے مزید کہاکہ 2016کے پٹھان کوٹ حملے کے بعد سے میڈیا سے مسعود اظہر رابطے میں نہیں رہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی مسعود اظہر کی ہلاکت کی تردید کی ہے اور انکے پاس ایسی کوئی خبر ہونے سے انکار کیا ہے ۔ اب دیکھنا ہیکہ کیا واقعی مسعو د اظہر ہندوستانی فضائی کارروائی میں ہلاک ہوچکے ہیں اور اگر ہلاک ہوچکے ہیں تو پاکستان انکی موت کی تردید کیوں کررہا اور یہ بھی کہ اس کے بعد مسعود اظہر سخت بیمار ہونے کی اطلاع شاہ محمود قریشی نے ذرائع ابلاغ کو کیوں دی ؟ ہندوستانی الکٹرانک میڈیا کی جانب سے ان دنوں جس طرح کی خبریں بتائی جارہی ہے اس سے بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی الکٹرانک میڈیا کا وقار مجروح ہوا ہے۔ میڈیا سچائی اور جھوٹ کے درمیان ایک اہم سنگ میل رکھتا ہے لیکن آج ہندوستانی الکٹرانک میڈیا کے کئی چینلس جس طرح غیر مصدقہ اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں کا حوالہ دے کر عوام کو بیوقوف بنارہے ہیں اس سے ہندوستانی میڈیا کا ہی نہیں بلکہ ملک کا وقار بھی مجروح ہورہا ہے ۔ بے شک مسعود اظہر مجرم ہیں اور اسکی سزا اسے ہونی چاہیے اگر ہندوستانی میڈیا غیر مصدقہ بیانات کے ذریعہ افواہوں کو حقیقت کا روپ دیتا ہے تو جس مسعود اظہر کو سزا ہونی چاہیے وہ سزا پانے سے محفوظ ہوجائے گا اسی لئے سچائی کی حقیقت تک پہنچنے کی میڈیا کوشش کرے۰۰۰میڈیا کے ذریعہ ایک طرف مسعود اظہر کی موت کی خبریں گردش کررہی ہیں تو دوسری جانب سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی کوششیں تیز تر دکھائی دیتی ہیں۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ ہندوستان نے مسعود اظہر کو2009میں عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز اقوام متحدہ میں پیش کی تھی جو کامیاب نہیں ہوسکی تھی ۔گذشتہ دس برسوں کے دوران اقوام متحدہ میں مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی یہ چوتھی کوشش ہے ۔ اب دیکھنا ہے کہ سلامتی کونسل کے 15کیبشمول پانچ مستقل اراکین ہندوستان کی اس کوشش کو کس انجام تک پہنچاتے ہیں کیونکہ اس سے قبل چین نے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی ہندوستانی تجویز کو مسترد کردیا تھا ، اس مرتبہ ہندوستان تمام رکن ممالک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دیا جاسکے ۔ اگر تمام رکن ممالک کی تائید حاصل کرنے میں ہندوستان کامیاب ہوجاتا ہے اور سلامتی کونسل کی جانب سے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار ددے دیا جاتا ہے تو اظہر کے عالمی سفر پر امتناع عائد ہوجائے گا ، اس کے تمام اثاثہ جات منجمد کردیئے جائیں گے اور اسلحہ ضبط کرلئے جائیں گے۔ اب دیکھنا ہے کہ سلامتی کونسل میں کس طرح کی کارروائی انجام پاتی ہے۰۰۰۰

پاکستان کی جانب سے بڑا اقدام
پاکستانی حکومت دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ملک بھر میں دہشت گردوں کو حراست میں لے رہی ہے جو عالمی سطح پر مستحسن اقدام قرار دیا جارہا ہے ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق21؍ فروری کووزارتِ داخلہ پاکستان نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم جماعتیں قرار دیا تھا ۔ ان تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ پاکستانی وفاقی کابینہ نے اپنے اجلاس میں کیا تھا اور وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز ترکرنے پر بھی اتفاق ہواہے ۔ حکومت نے کالعدم تنظیمو ں کے زیر انتظام مساجد و مدارس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اس کے علاوہ سرگرم تمام ممنوعہ تنظیموں کے اثاثوں اور جائیدادوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے فرزند حماد مسعوداظہر اور بھائی مفتی عبدالرؤف سمیت ممنوعہ انتہاء پسند تنظیموں کے 44ارکان کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور مزید ارکان کو بھی حراست میں لئے جانے کی خبریں ہیں۔ ہندوستانی حکومت نے پلوامہ خودکش حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے والی جیش محمد تنظیم کے علاوہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالا تھا اور عالمی سطح پر بھی پاکستان پر دباؤ ڈالا جارہاہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے خاتمہ کے لئے کارروائیاں کریں ۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے پلوامہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے ملوث ہونے کا ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کیلئے ہندوستانی حکومت سے کہا تھا اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر حکومت ہند ٹھوس ثبوت فراہم کرتی ہے تو پاکستانی حکومت ان کے خلاف سخت کارروائی کرے گی اب دیکھنا ہے کہ حراست میں لئے گئے دہشت گرد تنظیموں کے ارکان کے ساتھ حکومت ِ پاکستان کس قسم کا برتاؤ کرتی ہے ۔ پاکستانی وزیر داخلہ شہریار خان آفریدی نے اسلام آباد میں صحافتی نمائندوں کو بتایا کہ ہم نے انتہا پسند گروپس کے خلاف کارروائی کے ایک حصہ کے طور پر 44افراد کو حراست میں لے لیا ہے ، تاہم شہریار خان نے یہ بھی کہا کہ یہ کارروائی کسی دباؤ کے تحت نہیں کی گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ ہماری کوشش ہے کہ ہم ہماری سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ یہ کارروائی مزید دو ہفتوں تک جاری رہے گی اور محروس ارکان کے خلاف کارروائی ثبوت کی بنیاد پر کی جائے گی۔

افغانستان کا فلسطینی مہاجرین کیلئے مستحسن اقدام
افغانستان جو پہلے ہی کئی برسوں سے جنگ کی وجہ سے تباہ حال ہوچکا ہے اس نے فلسطینی مہاجرین کیلئے ایک ملین ڈالر کی اداددے کر مثال قائم کی ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق استنبول میں منعقدہ ایک تقریب میں افغان سفیر عبدالرحیم سید جان نے اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے پروگرام اونرا کے کمشنر کو یہ امدادی رقم پیش کی۔ اس موقع پر ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ داخلی مشکلات کے باوجود افغانستان کی جانب سے یہ اقدام عالمی بھائی چارے کی ایک عمدہ مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اس ایجنسی کیلئے امداد بڑھائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہیکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال اگسٹ میں فلسطینی مہاجرین کو دی جانے والی امداد روک دی تھی ۔ لیکن معاشی اعتبار سے غربت کا شکار افغانستان نے فلسطینی مہاجرین کیلئے ایک ملین ڈالر امداد دے کر ایک مثال ہی قائم نہیں کی بلکہ دیگر ممالک کے لئے فلسطینی مہاجرین کو امداد دینے کی ترغیب بھی دی ہے ۰۰۰

غزہ پٹی کے معتمرین کیلئے پانچ سال بعد اجازت
ہر مسلمان کو حرمین شریفین کی حاضری کی تمنا رہتی ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔ یہی تمنا گذشتہ پانچ سال سے فلسطین کے علاقے غزہ پٹی کے ہزاروں مسلمانوں کی بھی رہی ہے ۔ گذشتہ پانچ سال سے غزہ پٹی کے مسلمانوں کو عمرہ کی سعادت سے محروم رکھا گیا تھا۔اب انہیں عمرہ کی سعادت نصیب ہورہی ہے ۔ عمرے کی ادائی پر عاید کردہ پانچ سالہ پابندی کے بعد 800 معتمرین کا قافلہ حجاز مقدس روانہ ہوگیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطینی وزارت مذہبی امور اور اوقاف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہیکہ غزہ کے شہریوں کی حجاز مقدس روانگی اور عمرہ کی ادائیگی کی تمام تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ غزہ سے اس سال 800 معتمرین عمرہ ادا کریں گے۔ معتمرین کا سفربسوں کے ذریعہ غزہ کی پٹی سے فلسطینی رفح کراسنگ سے گذرکر مصر کے دار الحکومت قاہرہ تک رہا اور وہاں سے ہوائی جہازوں کے ذریعے حجاز مقدس تک کا سفر ہے۔ عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے 15 شہریوں کو مصر نے وجہ بتائے بغیر واپس غزہ بھیج دیا۔اب دیکھنا ہے کہ غزہ کے مزید شہریوں کو بھی مستقبل قریب میں عمرہ کی اجازت دی جاتی ہے یا نہیں۔

صدر یمن اور وزیر اعظم و وزیر خارجہ کے خلاف حوثی عدلیہ کا فیصلہ
یمن میں حوثی باغیوں نے اپنی عدلیہ بھی قائم کرلی ہے اور اس نام نہاد عدلیہ نے صدرعبد ربہ منصورہادی، وزیر اعظم معین عبدالملک اور وزیرخارجہ خالد الیمانی کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔حوثیوں کے زیرانتظام خبررساں ایجنسی کی طرف سے بتایا گیا کہ ایک فوج داری عدالت نے آئینی صدر عبد ربہ منصور ہادی، وزیراعظم معین عبدالملک اور وزیرخارجہ خالد الیمانی کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ اندرون اور بیرون ملک موجود جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے تینوں رہنماؤں پر غیرمعمولی خیانت کرنے اور اسرائیل کیلئے جاسوسی کا الزام عائد کیا ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ حوثیوں کی جانب سے فوجداری عدالت کے قیام کے بعد حالیہ عرصے میں آئینی حکومت کے کئی افراد کو موت کی سزائیں سنائی گئیں۔انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے حوثیوں کی قائم کردہ نام نہاد عدالت اور اس کے فیصلوں کو غیرانسانی قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہناتھا کہ حوثی باغی عدالت کی آڑ میں آئینی حکومت کے حامیوں کو انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں۔حوثی باغی اپنی جارحانہ کارروائیوں میں مزید اضافہ کررہے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق 6؍ مارچ کوالحدیدہ شہرمیں ہاسپٹل اورشہری تنصیبات پر اندھا دھند گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد املاک کو نقصان پہنچا ۔عرب ٹی وی کے مطابق الحدیدہ میں یمنی مزاحمتی فورسز کے ذرائع ابلاغ نے بتایاکہ الحدیدہ بندرگاہ پر سرکاری فوج کی تعیناتی کے حوالے سے اسٹاک ہوم میں طے پائے معاہدے پر عمل درآمدنہیں کیا گیا۔ حوثی ملیشیا ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہری تنصیبات پر گولہ باری کی ہے۔مزاحمت کاروں کا کہناتھاکہ حوثی ملیشیا کی طرف سے ان شہری تنصیبات پردسیوں بار حملے کرکے انہیں نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔حوثیوں کی جارحانہ کارروائیوں کودیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتاکہ یمن میں قیام امن اتنا جلد ممکن نہیں۰۰ انتہائی غربت زدہ ملک معاشی تنگدستی کی وجہ سے انسانی بحران کا شکار ہورہا ہے اور نہیں معلوم مستقبل قریب میں کتنے افراد موت و زیست کی کشمکش میں گرفتار ہوجائیں گے۰۰۰

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 211 Print Article Print
About the Author: Muhammad Abdul Rasheed Jundaid

Read More Articles by Muhammad Abdul Rasheed Jundaid: 201 Articles with 63242 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: