ولی کامل شنہشاہ اجمیرشریف سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی حسن سنجری اجمیری ؒ

(Syed Mehboob Ahmed Chishty, )

سرزمین ہندوستان کی خوش نصیبی ہے کہ ان کی سرزمین کواولیاء کی سرزمین ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اور یہاں اولیاء اکرام کے شہنشاہ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ جیسے جلیل القدر بزرگ کامزارہےخالق کا ئنات رب العالمین نے انسانیت کے محسن اعظم ، ہادی رحمت مجسم رسول اللہ علیہ وسلم کی امُت ہردور میں ایسی بزرگ شخصیات مبعوث فرمائے جنہیں اللہ نے اپنے خصوصی انعام واکرام سے نوازا ورا ن سے امت کی ظاہری وباطنی اصلاح کابندوبست فرمایاانہیں برگزیدہ ہستیوں میں سے حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کا نام بھی آتاہے۔ آپ والد کا اسم گرامی غیاث الدین حسن اور والدہ ماجدہ کا نام سیدہ ام الورع بی بی تھا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی شادی 590ء ہجری 1194کو بی بی امت کے ساتھ ہوئی آپ کے دوبیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ آپ کے پیر ومرشدحضرت خواجہ شیخ عثمان ہارونی ؒ سے آپ کو بہت محبت اور عقیدت تھی۔ اس کی محبت اور عقیدت کودیکھ کرخواجہ عثمان ہارونی نے آپ کو (امیرتبرک ) کے شرف سے نوازاآپ کو اپنا سجادہ نشین مقررفرمایا۔ خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری ؒ نے اپنے گفتار اور اپنے کردار سے ایک معیاری زندگی کانمونہ پیش کیایہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے صوفیائے کرام نے جس خلوص و محبت سے کام کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی اس کا نتیجہ ہے کہ اسلام مختصر مدت میں عالم پر چادر نور بن کر چھا گیا اور ہر ذی شعور اس سے اکتسابِ فیض کیا ، حضرت داتا علی ہجویری کشف المحبوب میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کی نشانیوں کو آج تک باقی رکھا ہے اور اپنے اولیاء کو اس کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہےاللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کرام کو کائنات کا والی بنایا ہے اور وہ دنیا میں ذکر الہٰی اور اس کی دلیل بن گئے ہیں ، انہوں نے نفس کی پیروی چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرلی ہے عیقدت کی وسعت سمندر سے زیادہ ہوتی ہے ، گہری ہوتی ہے اور جب بات تصوف کی ہو تو عقیدت کی معراج رضا الہٰی سے آسمان کی وسعتوں کو چھونے لگ جاتی ہے پاک وہندکے اولیاء اکرام صوفیائےعظام میں سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی ؒ کو سب سے منفرداوربلند مقام حاصل ہے۔ آپ کو نائب الرسول فی الہندۖ کے عظیم لقب سے بھی یادکیاجاتاہے۔آپ کی مکمل زندگی نکات طریقت کا دفینہ تھی حقیقت ومعرفت کاآئینہ تھی معرفت الہیہ کاسرچشمہ تھی انہوں نے اپنی روحانی طاقت سے اپنا ایثارخلوص اور رواداری سے ایک نئے سماج کی تشکیل کی اجمیر راجھستان کی راجھستانی سے 130کلومیٹرکا فاصلے پر نیشنل ہائی آرٹ اورت آراولی پہاڑی کے خوبصورت دامن پر واقع ہے۔ بغداد سے واپسی پر خواجہ غریب نواز چشتی ؒ 1156ء عیسوی میں حرم شریف پہنچے خواجہ عثمانی ہارونی ؒ نے آپ کا ہاتھ پکڑکر دعا کی اللہ تعالیٰ کی منظوری آئی کہ (ہم نے معین الدین ) کو قبول کیا۔خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی ؒ سے مریدوں کے بارے میں کچھ کے نام تاریخ میں آتے ہیں۔ سب سے پہلے مریداور سجادہ نشین حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کا نام آتاہے۔ باقی مریدو ں کے نام یہ ہیں۔ خواجہ فخر الدین ؒ ، خواجہ محمدیادگارچشتی ؒ ، خواجہ علائوالدین نیلی چشتی ؒ ، حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ ؒ خواجہ غریب نوازمعین الدین چشتی ؒ سے منسوب تصانیف، اورعملی نگارشات کو تذکرہ نویسوں سے یوں شمارکیاہے۔ انیس الارواح، حدیث المعارف، کشف الاسرار، گنج الاسرار، رسالہ آداب، سیر العارفین، مسالک الساکین، مرقعہ خواجگان ، اورمراة الاسرارشامل ہیں۔ سلسلہ چشتیہ کے عقیدت مندوں کی زباں پر ایک شعرضرورہوتاہے۔
الٰہی تابود خورشید وماہی
چراغ چشتیہ راوروشنائی

ترجمہ:اے اللہ تعالیٰ جب تک چاند اور سورج کی روشنی باقی ہے سلسلہ چشتیہ کے چراغ کوروشن رکھ(آمین)
عقیدت مندوں کے اس ولی کا ذکر اس عظیم شعر سے کرنا چاہوں گا جو انہوں شہادت گوہرنایاب امام عالیٰ مقام نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حضرت امام حسین ؑ کو یاد کرتے ہوئے فرمایا

شاہ است حسینؑ بادشاہ است حسینؑ
دین است حسین دین پناہ است حسین ؑ
سرداد نداد دست در د دست یزید
حقا کہ بنائے لا اللہ است حسین

خالق کائنات رب العالمین نے انسانیت کے محسن اعظم ، ہادی رحمت مجسم رسول اللہ ۖ کی امت میں ہر دور میں ایسے افراد مبعوث فرمائے ، جنہیں اللہ نے اپنے خصوصی انعام و اکرام سے نوازا اور ان سے امت کی ظاہری و باطنی اصلاح کا بندوبست فرمایا انہی بر گزیدہ ہستیوں میں سے حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کا نام بھی آتا ہے ۔ آپ کے والد کا اسم گرامی غیاث الدین حسن اور والدہ ماجدہ کا نام سیدہ ام الورع بی بی تھا ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی شادی 590ہجری 1194ء کو بی بی امت کے ساتھ ہوئی ، آپ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی آپ کے پیرو مرشد حضرت خواجہ شیخ عثمان ہارونی ؒ سے آپ کو بہت محبت اور عقیدت تھی ، اس کی محبت اور عیقدت کو دیکھ کر خواجہ عثمان ہارونی ؒ نے آپ کو (امیر تبرک) کے شرف سے نوازا آپ کو اپنا سجادہ نشین مقرر فرمایا ، خواجہ غریب نواز معین ا لدین چشتی اجمیری ؒنے اپنے گفتار اور اپنے کردار سے ایک معیاری زندگی کا نمونہ پیش کیا ، وہ عشق الہٰی میں ایسے سرمست و سرشار تھے ، ان کو اپنی ہستی کا پتہ نہیں تھا ، پاک و ہند کے اولیاء اکرام صوفیائے عظام میں سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی ؒ کو سب سے منفرد اور بلند مقام حاصل ہے آپ کو نائب الرسول فی الہند ۖ کے عظیم لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے ، آپ کی مکمل زندگی نکات طریقت کا نمونہ تھی ، حقیقت و معرفت کا آئینہ تھی ، معرفت الہیہ کا سرچشمہ تھی ، آپ نے اپنی روھانی طاقت سے اپنا ایثار خلوص اور رواداری سے ایک نئے سماج کی تشکیل کی اجمیر راجھستان کی راجھستانی سے 130کلومیٹر کا فاصلے پر نیشنل ہائی الرٹ اور آراولی پہاڑی کے خوبصورت دامن پر واقع ہے ، بغداد سے واپسی پر خواجہ غریب نوازچشتی ؒ 1156عیسوی میں حرم شریف پہنچے خواجہ عثمان ہارونی نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر دعا کی اللہ تعالیٰ کی منظوری آئی کہ ّہم نے معین الدین کو قبول کیا ، خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی ؒ سے مریدوں کے بارے میں کچھ نام تاریخ میں آتے ہیں ، سب سے پہلے مرید اور سجادہ نشین حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کا نام آتا ہے ، باقی مریدوں کے نام یہ ہیں ۔ خواجہ فخر الدین ؒ ، خواجہ محمد یادگار چشتی ؒ خواجہ علاؤ الدین نیلی چشتی ؒ ،حضرت خواجہ نصیر الدین چشتی خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی ؒ سے منسوب تصانیف اور عملی نگارشات کو تذکرہ نویسوں سے یوں شمار کیا ہے ، انیس الارواح ، حدیث المعارف ، کشف الاسرار ، تہنج الاسرار ، رسالہ آداب ، سیر العارفین ، مسالک الساکین ، مرقعہ خواجگان اور مراة الاسرار شامل ہیں ، سلسلہ چشتیہ کے عیقدت مندوں کی زباں پر ایک شعر ضرور ہوتا ہے ۔ الٰہی تابود خورشید و ماہی
چراغ چشتیہ را و رروشنائی
(ترجمہ)اے اللہ تعالیٰ جب تک چاند اورسورج کی روشنی باقی ہےسلسلہ چشتیہ کے چراغ کو روشن رکھ(آمین)
بر صغیر پاک و ہند میں حض
رت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی حسن سنجری اجمیری ؒ کو سلسلۂ چشتیہ بانی کی حیثیت سے صدیوں سے جانا اور مانا جاتا ہے آپ کا وصال 6رجب 632ھ بروز پیر نمازِ عشاء کے بعد ہوا ہر سال آپ کا عرس یکم رجب سے شروع ہوکر 6رجب تک جاری رہتا ہے اور نہایت عیقدت و احترام سے منایا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام پر مکمل عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے پیرو مرشد کی طرزِ فکر کو عام کرنے میں ہماری مدد فرمائے ۔ (آمین)

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 329 Print Article Print
About the Author: Syed Mehboob Ahmed Chishty

Read More Articles by Syed Mehboob Ahmed Chishty: 16 Articles with 3493 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: