نئے طرز سیاست کے ساتھ مصطفی کمال کے 3 سال ، عزم اور حوصلے کی روشن مثال !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)

پاکستانی سیاست میں آج تک ان ہی سیاستدانوں کو بہت تیزی کے ساتھ شہرت ،عزت اور کامیابی حاصل ہوئی ہے جنہوں نے ہر طرح کے لسانی ،قومی اور مذہبی تعصب سے بالا تر ہوکر پاکستانیت کے جذبے کو فروغ دینے کے لیئے وفاقی طرز سیاست کو اپنایا۔خوش قسمتی سے پاکستان میں لسانیت ،قومیت اور مذہبی گروہ بندی سے بالا تر ہوکر سیاست کرنے والوں میں آج سے تین سال قبل 3 مارچ 2016 کو مصطفی کمال کی شکل میں ایک اور دبنگ سیاستدان کا اضافہ ہوا جن کو لوگ یوں تو بہت پہلے سے جانتے تھے کیونکہ وہ ایک طویل عرصہ تک کراچی کی سیاست میں سرگرم عمل سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے کافی متحرک رہے اور پھر پرویز مشرف کے دوراقتدار میں انہوں نے مئیر کراچی کی حیثیت سے جس طرح کراچی کی تعمیر نو میں بغیر کسی لسانی یا قومی تعصب کہ بلاامتیاز پورے کراچی میں ترقیاتی کام کروانے میں پورے خلوص، محنت اور ایمانداری کے ساتھ اپنے دن رات ایک کرکے حصہ لیا اس سے مصطفی کمال کو کراچی والوں میں غیرمعمولی عزت اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔

3 مارچ 2016 کو پاکستان واپس آکر ایم کیو ایم کے بانی وقائد الطاف حسین کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے کراچی کی سیاست میں بھونچال پیدا کردینے والی شخصیت مصطفی کمال سے کون واقف نہیں کہ جب لوگوں نے پرویز مشرف کے زمانے میں کراچی کے منتخب ناظم کی حیثیت سے مصطفی کمال کو کراچی کی تعمیر وترقی کے لیے دن رات کام کرتے ہوئے دیکھا تو ایم کیو ایم کے مخالف بھی ان کی کارکردگی کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے کیونکہ مصطفی کمال نے کراچی جیسے بڑے شہر کے مئیر کے طور پرہر طرح کے لسانی ،قومی اور پارٹی مفادات سے بالا تر ہوکرکراچی کے تقریباً تمام علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور ٹریفک کی روانی کے لیئے جو دوررس عملی اقدامات کیئے اور جس طرح نہایت تیزی کے ساتھ کراچی کی تباہ حال سڑکوں کو نئے سرے سے بنانے کا بیڑہ اٹھایا،سیوریج کے نظام کو درست کیا اورپھر کراچی میں فلائی اوور ز کاجو جال بچھایا اس نے ان کو کراچی میں بسنے والے ہر باشندے کا ہیرو بنادیا ۔
سید مصطفی کمال 27دسمبر1971 کو کراچی کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے ،نارتھ کراچی میں ان کی ابتدائی زندگی گزری ،1987 کے بلدیاتی انتخابات سے انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا جبکہ 1988 میں وہ باقاعدہ ایم کیوایم کے کارکن بنے ۔1992 میں کراچی آپریشن کے درمیان انہوں نے 90 پر ڈیوٹیاں بھی دیں۔1994 میں جیل بھی گئے۔گورنمنٹ اسکول تعمیر نو(ناظم آبادکراچی) سے میٹرک کیا۔سراج الدولہ کالج سے انٹر کیاپھرملائشیا جا کر وہاں کے’’سن وے کالج ‘‘ میں داخلہ لے لیااور کوالا لمپور یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 2002 میں مصطفی کمال رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت ملی. 2005میں بلدیاتی انتخابات ہوئے جس میں ایم کیو ایم نے کامیابی حاصل کی اور مصطفی کمال کو کراچی کے ناظم کے طور پر نامزد کیا گیا انہوں نے کراچی کا مئیر بنتے ہی شہر کراچی کا ماسٹر پلان ترتیب دیااور ترقیاتی کاموں کا آغاز کردیا۔۱ور کراچی کی تعمیر وترقی کے لیئے بہت سے قابل ذکرو قابل تعریف منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جن کی وجہ سے انہیں ملک گیر سطح پر شہرت اور عزت حاصل ہوئی بلکہ ان کی کراچی کے ناظم کے طور پر شاندار کارکردگی کی وجہ سے ان کا نام دنیا کے بہترین مئیرز کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ۔2008 کے انتخابات میں مصطفی کمال کی کارکردگی ایم کیو ایم کی انتخابی مہم کا ایک اہم نعرہ بن کر سامنے آئی اور مصطفی کمال ایک ایسی پارٹی کا سافٹ امیج بن کر ابھرے جو سیاست میں تشدد اور جرائم میں ملوث ہونے کی زد میں رہی ہے۔2013 میں مصطفی کمال اچانک بیرون ملک چلے گئے ان کے جانے کے بعد ایم کیو ایم اور ان کے درمیان اختلافات کے حوالے سے باتیں ہونے لگیں لیکن ان کی جانب سے مکمل خاموشی رہی جس کی وجہ سے مختلف سیاسی جماعتوں میں ان کی شمولیت کے حوالے سے افواہیں بھی گردش کرتی رہیں لیکن آج سے تین سال قبل مصطفی کمال 3 مارچ2016 کو 3 سال بعد کراچی میں اچانک منظر عام پر آئے اور ایک دھواں دار پریس کانفرنس کرکے نہ صرف ایم کیو ایم متحدہ سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کیا بلکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے اپنی ایک نئی سیاسی پارٹی قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

مصطفٰی کمال نے نہایت بے خوفی کے ساتھ کراچی میں واپس آنے کے بعد3 مارچ 2016 کو اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کھل کرجو باتیں کیں ان کا لب لباب یہ ہے کہ طویل جدوجہد اور بیشتر وقت ہر حکومت کے ساتھ اقتدار میں شریک رہنے کے باوجود ایم کیوایم نے اپنے چاہنے والوں ،ووٹرز اور کارکنوں کو کیا دیا؟ہڑتالیں ،جلاؤ گھیراؤ ،شور شرابے اور ڈراما بازیوں سے بھرپور سیاست کے لیئے تو اردو بولنے والوں نے ایم کیوایم کو ووٹ نہیں دیے تھے ؟لسانیت اور قومیت کی بنیاد پر اندھی عقیدت اور لسانی تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو متحدہ کی 30 سالہ سیاست میں سے اگر مصطفی کمال کے5 سال نکال دیئے جائیں تو جو کچھ باقی بچتا ہے وہ بھتہ خوری ،بدامنی ،خوف و دہشت کا راج ،بوری بند لاشیں ،ٹارچر سیلز ،سیاسی مخالفوں کی ٹارگٹ کلنگ اورنت نئے سیاسی ڈرامے ہیں جن سے لوگ اس قدر تنگ آئے ہوئے ہیں کہ غیر تو غیر اب تو متحدہ کے اپنے لوگ بھی ان کے طر زسیاست سے بیزار دکھائی دیتے ہیں جس کا واضح ثبوت ایم کیو ایم کا کئی دھڑوں میں بٹ جانا ہے ،ایم کیو ایم کے ان دھڑوں کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران جس طرح کے ٹوپی ڈراموں کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے اس نے کراچی میں بسنے والے اردوبولنے والی کمیونٹی کو کنفیوز کرکے رکھ دیا ہے کہ وہ ان میں سے کس کا ساتھ دیں اورچونکہ اردو بولنے والوں کی ایک اور نمائندہ جماعت پاک سرزمین پارٹی کی صورت میں 3 سال قبل وجود میں آکر اب کراچی کی ایک مقبول سیاسی پارٹی بن چکی ہے لہذا اردو بولنے والے ووٹرز کے پاس PSP کی شکل میں ایک بہترین متبادل قیادت اور پارٹی موجود ہے ،یہی وجہ ہے کہ اب اردو بولنے والے کھلم کھلا یہ باتیں کرتیں ہوئے نظر آتے ہیں کہ اردو اسپیکنگ کمیونیٹی کی نمائندہ جماعت ہونے کی دعویدار متحدہ قومی موومنٹ نے اردو بولنے والوں کے لیئے کو ن سا ایسا قابل فخر کام کیا ہے جس کی وجہ سے لوگ آنکھیں بند کرکے ان کا ساتھ دیتے رہیں۔؟

ایم کیو ایم کے قیام سے قبل اردو بولنے والے پاکستان کے کسی بھی صوبے میں جاکر آباد ہوتے تھے تو ان کو عزت اور احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا لیکن ایم کیو ایم بننے کے بعد اس جماعت میں شامل سیاسی دہشت گردوں کی مجرمانہ حرکتوں کی وجہ سے اردو بولنے والوں کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جانے لگا۔ہر اردو بولنے والے کی طرح اس بات کا قلق مصطفی کمال کو بھی تھا جس کا اظہار انہوں نے متحدہ سے بغاوت کے بعد3 مارچ 2016 کو اپنی پہلی ہی پریس کانفرنس میں کھل کر کیا ۔درحقیقت مصطفی کمال نے یہ سب باتیں کرکے اردو بولنے والی خاموش اکثریت کی ترجمانی کی ہے جو خوف ودہشت کی وجہ سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے ہچکچاتی رہی لیکن آفرین ہے مصطفی کما ل پر جس نے نہایت بے خوفی اور بہادری کے ساتھ متحدہ کے قائد کے خلاف دل کھول کر سچ بولااور بہت سے پوشیدہ حقائق اردو بولنے والوں کے سامنے رکھے۔

مصطفی کمال ،انیس قائم خانی،ڈاکٹر صغیر،وسیم آفتاب،رضا ہارون،افتخار عالم، انیس خان ایڈوکیٹ اور افتخار عالم وغیرہ کی متحدہ اور اس کے قائد سے کھلم کھلا بغاوت یہ بات ثابت کرنے کے لیئے کافی ہے کہ متحدہ کے قائد الطاف حسین کی شخصیت اور ان کی قائم کردہ سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے طرز سیاست میں کچھ تو ایسی متنازع بات ہے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ 30 سال سے زائد عرصہ گزارنے والے لوگ ایک ایک کرکے ان کا ساتھ چھوڑ کر مصطفی کمال کی پارٹی میں شامل ہورہے ہیں۔

پاک سرزمین پارٹی کے قیام کے بعد مصطفی کمال،انیس قائم خانی اور ان کے دیگر ساتھیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ32 سال تک تو آپ لوگوں کا ضمیر سویا ہوا تھا اب کیسے جاگ گیا ؟ واہ کیا سوچ ہے یعنی اگر ایک شخص لاعلمی، مجبوری یا گمراہی کی وجہ سے غلط لوگوں کا ساتھ دیتا رہا اور پھر اس کے ضمیر نے ملامت کی اور وہ راہ راست پر آگیا تو اس سے کہا جاتا ہے کہ بھائی تم کیوں صحیح راستے پر آگئے ان ہی جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ رہتے جن کے ساتھ اب تک رہتے آئے ہو۔ ہر باغی برا نہیں ہوتااور جس کا ضمیر جاگ جائے اس میں کیڑے نکالنے کے بجائے اس کی باتوں کو غور سے سننا چاہیئے کہ وہ اپنے ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہوکر عام طور پر سچ ہی بول رہا ہوتا ہے اور اگر کوئی ضمیر جاگنے کا صرف ڈرامہ کرتا ہے تو وقت اسے بھی سب کے سامنے لے آتا ہے بس ذرا صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے ،وقت سب سے بڑا منصف ہے ۔ اچھوں کی اچھائی اور بروں کی برائی ایک دن ضرورسامنے آتی ہے جیسا کہ گزشتہ 3سال کے دوران بہت سے سیاست دانوں کے چہروں سے نقاب اتر تے چلے جارہے ہیں ۔ ایم کیوا یم کے اختلافات نے فاروق ستار اور عامر خان گروپ کے اصلی عزائم کو قوم پر عیاں کردیا ہے۔

گوکہ مصطفی کمال کی متحدہ سے کھلی بغاوت سے قبل ایم کیوایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد،پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان ،پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا اور متحدہ کے صولت مرزا نے بھی متحدہ قیادت کی منفی سرگرمیوں کو بے نقاب کیا لیکن ان کو وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جو مصطفی کمال کو آتے ہی حاصل ہوگئی جس کی وجہ ان کا اردو اسپیکنگ ہونا ،ماضی میں ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے ایمانداری کے ساتھ عمدہ کارکردگی اور اچھی شہرت کا حامل ہونا بھی ہوسکتا ہے۔

مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کو ایک نئی پہچان کے ساتھ کراچی کی سیاست میں دبنگ انٹری دیے ہوئے آج 3 سال مکمل ہوگئے ہیں جب کہ ان کی قائم کردہ پاک سرزمین پارٹی کو بھی قائم ہوئے 23 مارچ 2016 کو 3 سال پورے ہوجائیں گے ۔جب کراچی والے 32 سال تک MQM کے طرز سیاست کو برداشت کرسکتے ہیں تو مصطفی کمال کو بھی تھوڑا وقت دیں کہ وہ جو دعوے اور وعدے کر رہے ہیں ان پر عمل کرکے دکھا سکیں ،مصطفی کمال جیسے محب وطن سیاستدان کی کہی گئی باتوں اور ان کے پیش کردہ منشور کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ سیاست کی دنیا میں اکثر انقلاب باغی ہی لے کر آئے ہیں اور باغی بھی مصطفی کمال جیسا جس کواپنی جان سے زیادہ مرنے کے بعد اﷲ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونے کا خوف ہے اور اسے اس بات کا ڈرتھاکہ کہیں وہ3 مارچ 2016سے قبل ایم کیو ایم اور اس کے قائد کے حوالے سے قوم کو سچ بتائے بغیر مر نہ جائے کہ اگر وہ سچ بولے بغیر اور متحدہ کے قائد کا اصل چہرہ قوم کے سامنے بے نقاب کرنے سے پہلے مر گیا تو وہ اﷲ تعالی کو کیا منہ دکھائے گا؟ لہذا مصطفی کمال کا3 مارچ 2016 کو انیس قائم خانی کے ساتھ پاکستان واپس آکر میڈیا کے سامنے سچ بولنے کے بعد یہ کہنا کہ’’ آج ہم کامیاب ہوگئے اب اگر ہم مار بھی دیے جائیں توہمیں کوئی غم نہیں کہ ہم اب اپنے اﷲ کے سامنے سرخ رو ہوکر جائیں گے‘‘ ۔ان کی نیت کو ظاہر کرتا ہے اور مذہبی لحاظ سے تما م اعمال کے صحیح یا غلط ہونے کا دارومدارنیت پر ہی ہوتا ہے لہذامصطفی کمال کی باتوں میں کسی سازش کی بو تلاش کرنے اور اسے اسٹیبلشمنٹ کا لایا ہوا سیاستدان قرار دینے کی بجائے اس کی باڈی لینگویج ،چہرے اور قول وفعل سے عیاں ہوتی ہوئی اس کی باتوں میں سچائی کی جو خوشبو رچی بسی ہوئی ہے اس کو سمجھا جائے کہ دھن دولت نام ونمود اور عہدوں و مراعات کو لات مار کر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر قوم کے سامنے سچ اور حق بات کرنے والے مصطفی کمال جیسے بہادر اور محب وطن لیڈر بہت کم پیدا ہوتے ہیں،ایسے سچے لوگوں کی قد کرنی چاہیے کہ ایسے سچے اور بے لوث مخلص رہنما ہی کسی بھی قوم اور وطن کی آبرو ہوتے ہیں۔

3 مارچ 2016 سے لے کر آج 3 مارچ 2019 تک مصطفی کمال کے 3 سال عزم وہمت ،حوصلے اور پرامن جدوجہد کی وہ روشن مثال ہیں جنہیں کراچی کی سیاست کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ مصطفی کمال اور ان کے مخلص ساتھیوں نے صرف 3 سال کے اندر جس فلسفے ،نظریہ اور منفردطرز سیاست کا مظاہر ہ کرکے پاک سرزمین پارٹی کو ایک مقبول پارٹی بنانے کے لیے جس برق رفتاری کے ساتھ عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی ہے اس کی کوئی مثال ہمیں موجودہ دور سیاست میں دکھائی نہیں دیتی۔پاکستانیت کے جذبے سے سرشار لیڈر مصطفی کمال کے انداز سیاست کو دیکھتے ہوئے پاکستانی سیاست میں ان کے روشن اور تابناک مستقبل کی توقع کی جاسکتی ہے لیکن اس کا دارومدار کراچی کے باشندوں پر ہے کہ وہ کراچی کی قیادت ایم کیو ایم کے علاوہ کسی اور جماعت کو دینے کے لیے دلی اور ذہنی طور پر تیار ہیں یا نہیں کہ جب تک کراچی کے لوگوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی نہیں آئے گی اور وہ لسانی سیاست کے چنگل سے باہر نہیں نکلیں گے کراچی کی انتخابی سیات میں کوئی بڑی تبدیلی لانے کاصرف خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 239 Print Article Print
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 103 Articles with 55478 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More

Reviews & Comments

Language: