شانِ پاک فوج

(Mehwish Ahsan, )

پاک فوج عسکریہ پاکستانکی سب سے بڑی شاخ ہے۔ اِس کا سب سے بڑا مقصد مُلک کی ارضی سرحدوں کا دِفاع کرنا ہے ہم لوگ جب شاپنگ مال کے مزے لے رہے ہوتے ہیں وہ سبز پرچم کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں ہم جب جشن فیسٹول مناتے ہیں وہ ہر وقت پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہیں اپنی مرضی کا سکول اپنی مرضی کا کالج یہ فیصلہ جب فل فریڈم کے ساتھ ہم لیتے ہیں یہ آزادی وہ اپنی جان گوا کر ہمیں دلواتے ہیں میرے پیارے پاکستانیوں آج میں آپکو میرے ملک کے شاہینوں کی پہچان کرواتی ہوں افواج پاکستان پاکستان مسلح افواج کی سبز وردی پہ جو نشان ہوتا ہے ۔اس پہ تین ہی جملے لکھے ہوتے ہیں..

ایمان ۔ اتحاد۔تنظیم۔ ان کی ہی تعلیم وہ ساتھ لے کر چلتے ہیں اور ان جمعلوں کی پاسداری میں زندگی گزار دیتے ہیں پاک فوج کا نصب العین ہے:‘‘ایمان، تقویٰ اور ِجہاد فی سبیل اﷲ ہے ان کی زندگی میں کوئی میلہ نہیں ہوتا کوئی عرس نہیں ہوتا وہ بچوں کے ساتھ عید نہیں مناتے وہ پکجز ایمپوریم کنسرٹ نہیں دیکھنے جاتے بس ملک ملک کی حفاظت اور جنگ یہی کچھ انکی زندگی کا میلہ ہوتا ہے اسی پہ جشن سوگ اور شادمانی ہوتی ہے۔ہم اپنی زندگی کو بھر پور جی سکیں اسلیے وہ اپنی زندگی اشاروں پہ گزار دیتے ہیں مسلح افواج، وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت،پاک فوج بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، سول پاور کی امداد کریں گی، جب ایسا کرنے کے لیے کہا جائے پھر یہ ہوتی ہے ان کی زمہ داری چوبیسوں گھنٹے پابند رہتے ہیں ہمیں قید نا ہونے پڑے اسلیے وہ خود کو پابند رکھتے ہیں.. جیسا کے ہم سب جانتے ہیں۔

پاکستان فوج کا قیام 1947 میں پاکستان کی آزادی پر عمل میں آیا۔ یہ ایک رضاکارپیشہ ور جنگجوقوت ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز (International Institute for Strategic Studies-IISS)) کے مطابق اپریل 2013 میں پاک فوج کی فعال افرادی قوت 7،25،000 تھی۔ اس کے علاوہ ریزرو یا غیر فعال 5،50،000 افراد(جو 45 سال کی عمر تک خدمات سر انجام دیتے ہیں)کو ملاکر افرادی قوت کا تخمینہ 12،75،000افراد تک پہنچ جاتا ہے۔ اگرچہ آئین پاکستان میں جبری فوجی بھرتی کی گنجائش موجود ہے، لیکن اسے کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ پاک فوج بشمولِ پاک بحریہاور پاک فضائیہ کے دُنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے۔پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 243کے تحت، پاکستان کے صدر افواج پاکستان بشمول پاکستانی بری فوج، کے سویلین کمانڈر ان چیف یا سپاہ سالار اعظم کا منصب رکھتے ہیں۔ آئین کے مطابق صدرپاکستان، وزیر اعظم پاکستان کے مشورہ و تائید سے چیف آف آرمی سٹاف پاکستان آرمی یا سپہ سالارپاکستان بری فوج کے عہدے کے لیے ایک چار ستارے والے جرنیل کا انتخاب کرتے ہیں۔ فی الوقت پاک فوج کی قیادت جنرل قمر جاوید باجوہ چیف آف آرمی سٹاف کر رہے ہیں، جبکہ جنرل زبیر محمود حیاتچئیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی زمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ان چند لوگوں نے ہزاروں کی فوج کو ہم کروڑوں پہ وار رکھا ہے تاکہ ہم اپنی ایک ایک سانس کو خوشی سے لے سکیں اور ہمارے بچے فخر سے سر اٹھا کے پاکستان میں کھلی ہوا کو محسوس کر سکیں ویسے تو ہماری فوج کی تاریخ بہت بڑی ہے میں پھر بھی چاہوں گی کے آپ یہ جانیں اور اپنی فوج کی اہمیت کو سمجھیں یہ کوئی ٹائم پاس نہیں ہے یہ علم ہم پہ مجھ پہ آپ پہ جاننا فرض ہے...

1947ء میں آزادی کے بعد سے پاک فوج بھارت سے 4 جنگوں اورمتعدد سرحدی جھڑپوں میں دفاع وطن کا فریضہ انجام دے چکی ہے۔ عرب اسرائیل جنگ، عراقکویت جنگ اور خلیج کی جنگ میں حلیف عرب ممالک کی فوجی امداد کے لیے بھی نمایاں خدمات انجام دے چکی ہے حالیہ بڑی کارروائیوں میں آپریشن بلیک تھنڈر سٹارم، آپریشن راہ راست اور آپریشن راہ نجات شامل ہیں۔لڑائیوں کے علاوہ پاک فوج، اقوامِ متحدہ کی امن کوششوں میں بھی حصّہ لیتی رہی ہے۔ افریقی، جنوبی ایشیائی اورعرب ممالک کی افواج میں ا فواج پاکستان کا عملہ بطورِ مشیر شامل ہوتا ہے۔پاکستانی افواج کے ایک دستے نے اقوام متحدہ امن مشن کا حصہ ہوتے ہوئے 1993ء میں موغادیشو، صومالیہ میں آپریشن گوتھک سرپنٹ کے دوران میں پھنسے ہوئے امریکی فوجیوں کی جانیں بچانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

1947ء – 1958پاکستان فوج 3 جون 1947ء کو برطانوی ہندوستانی فوج یا برٹش انڈین آرمی کی تقسیم کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی۔ تب جلد ہی آزاد ہو جانے والی مملکتپاکستان کو6 بکتر بند، 8 توپخانے کی اور 8 پیادہ رجمنٹیں ملیں، جبکہ تقابل میں بھارت کو 12 بکتر بند، 40 توپخانے کی اور21 پیادہ فوجی رجمنٹیں ملیں۔

1947ء میں غیر منظم لڑاکا جتھے، اسکاؤٹس اورقبائلی لشکر، کشمیر کی مسلم اکثریتی ریاست پر بھارت کے بزور قوت قبضہ کے اندیشہ سے کشمیر میں داخل ہو گئے۔ مہاراجا کشمیر نے اکثریت کی خواہش کے خلاف بھارتسے الحاق کر دیا۔ بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دیں۔ یہ اقدام بعد میں پاک بھارت جنگ 1947ء کا آغاز ثابت ہوا۔ بعد میں باقاعدہ فوجی یونٹیں بھی جنگ میں شامل ہونے لگیں، لیکن اس وقت کے پاکستانی بری افواج کے برطانوی کمانڈر انچیف جنرل سر فرینک میسروی کی قائد اعظم محمد علی جناح کے کشمیر میں فوج کی تعیناتی کے احکامات کی حکم عدولی کے باعث روک دی گئیں۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی جنگ بندی کے بعد پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کا شمال مغربی حصہپاکستان کے، جبکہ بقیہ حصہ بھارت کے زیر انتظام آ گیا۔اس کے بعد، 1950ئکی دہائی میں، پاکستانی افوج کودو باہمی دفاعی معاہدوں کے نتیجے میں امریکا اور برطانیہکی طرف سے بھاری اقتصادی اور فوجی امداد موصول ہوئی۔ یہ معاہدے معاہدہ بغداد یا بغداد پیکٹ، جو سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن یا سینٹو کے قیام کی وجہ بنا، اورساوتھ ایسٹ ایشین ٹریٹی آرگنائیزیشن یا سیٹو 1954ء میں ہوئے۔ اس امداد کے نتیجے میں افواج پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کا موقع ملا۔

1947ء میں پاکستان کو صرف تین انفینٹری ڈویژن ملے، جن میں نمبر 7،8اور 9 ڈویژن شامل تھے۔10 واں، 12 واں اور 14 واں ڈویژن 1948ء میں کھڑا کیا گیا۔ 1954ء سے پہلے کسی وقت 9 وان ڈویژن توڑ کر 6 وان ڈویژن کھڑا کیا گیا، لیکن 1954ء ہی کے بعد کسی وقت اس کو بھی ختم کر دیا گیا، جس کی وجہ امریکی امداد کا صرف ایک بکتر بند یا آرمرڈ ڈ ویژن اور 6 انفینٹری ڈویژن کے لیے مخصوص ہونا تھا۔1958ء – 1969پہلی بار پاکستانی فوج کی اقتدار میں شراکت جنرل ایوب خان کی 1958ء میں ایک پر امن بغاوت کے ذریعے دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے کنونشن مسلم لیگ بنائی، جس میں مستقبل کے وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔

60 کی دہائی میں بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے اور اپریل 1965ء میں رن آف کچھ کے مقام پر ایک مختصر جنگی جھڑپ بھی لڑی گئی۔ 6 ستمبر 1965ء کی رات،بھارت نے پاکستان پر اعلان جنگ کے بغیر حملہ کر دیا۔پاکستان نے حملہ نہ صرف روک کر پسپا کر دیا، بلکہ 1200 کلومیٹر بھارتی علاقہ بھی فتح کر لیا۔ پاکستانی فضائیہ اور توپخانے کی لڑائی کے دوران میں امداد نے پاکستانی دفاع میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی جنگ بندی عمل میں آئی اور معاہدہ تاشقند کا اعلان ہوا۔ بھارتی مفتوحہ علاقہ واپس کر دیا گیا۔

لائبریری آف کانگریس کے ملکی مطالعہ جات،جو امریکی وفاقی تحقیقی ڈویژن نے کیے، کے مطابق جنگ غیر نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ اگرچہ پاکستان اور بھارت کے جنگی تقابل کے بعد، نسبتاْ کہیں زیادہ کمزور پاکستانی افواج کا بھارتی جارحیت کو محض روک لینا ہی مندرجہ بالا دعوے کی تردید کے لیے کافی ہے۔1968ء اور 1969ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک کے بعد انہوں نے صدر پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے استعفٰی دے دیا، اورجنرلیحییٰ خان نے اقتدار 1968ء میں سنبھال لیا۔

1966ء سے 1969ء کے درمیان میں 18،16 اور 23 ڈویژن کھڑے کیے گئے۔ 9 ویں ڈویژن کا دوبارہ قیام بھی اسی عرصے میں عمل میں آیا۔1969ء – 1971ء جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں، مشرقی پاکستانمیں مغربی پاکستان کے ہاتھوں روا رکھی گئی مبینہ سیاسی،معاشرتی اورمعاشی زیادتیوں کے خلاف مقبول عوامی تحریک شروع ہوئی، جو بتدریج خلاف قانون بغاوت میں بدل گئی۔ ان باغیوں کے خلاف 25 مارچ1971ء کو فوجی کارروائی کی گئی، جسے آپریشن سرچ لائٹ کا نام دیا گیا۔ منصوبے کے مطابق بڑے شہروں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد تمام فوجی اور سیاسی بغاوت پر قابو پایا جانا تھا۔ مئی 1971ء کو آخری بڑے مزاحمتی شہر پر قابو پانے کے بعد آپریشن مکمل ہو گیا۔آپریشن کے بعد بظاہر امن قائم ہو گیا، لیکن سیاسی مسائل حل نہ ہو سکے۔ آپریشن میں مبینہ جانی نقصانات بھی بے چینی میں اضافے کا باعث بنے۔بے امنی دوبارہ شروع ہوئی اور اس دفعہ بھارتی تربیت یافتہ مکتی باہنی گوریلوں نے لڑائی کی شدت میں اضافہ جاری رکھا، تاآنکہ بھارتی افواج نے نومبر 1971ء میں مشرقی پاکستان میں دخل اندازی شروع کر دی۔ محدود پاکستانی افواج نے نا مساعد حالات میں عوامی تائید کے بغیر اس جارحیت کا مقابلہ جاری رکھا۔ مغربی پاکستانمیں پاکستانی افواج کا جوابی حملہ بھی کیا گیا۔ لیکن بالآخر 16 دسمبر 1971ئکو ڈھاکہ میں محصور پاکستانی افواج کو لیفٹینینٹ جنرل امیر عبد اﷲ خان نیازی کی قیادت میں ہتھیار ڈالنے پڑے۔1971ء – 197718 دسمبر 1971ء کو ذولفقار بھٹو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس، جہاں وہ مشرقی پاکستان پر بھارتی جارحیت کے خلاف حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، سے بذریعہ خصوصی پی آئی اے کی پرواز واپس بلائے گئے اور20 دسمبر 1971ء کو انہوں نے بطور صدر پاکستان اور پہلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے اقتدار سنبھال لیا۔1970ء کی دہائی کے وسط میں سول حکومت کے ایما پربلوچستان میں غیر ملکی اشارے پر بے امنی پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف فوجی کارروائی بھی کی گئی۔1977ء – 1999 1977ء میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل محمدضیائالحق نے عوامی احتجاج اور مظاہروں کے بعد ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ ذو الفقار علی بھٹو کو ایک سیاست دان قصوری کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر عدالت نے پھانسی کی سزا دی۔ جنرل ضیاء الحق موعودہ 90 دن میں انتخابات کروانے میں ناکام رہے اور 1988ئمیں ایک طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے تک بطور فوجی حکمران حکومت جاری رکھی۔1980ء میں پاکستان نے امریکا، سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ افغان مجاہدین کو جارح روسی افواج کے خلاف ہتھیاروں، گولہ بارود اور جاسوسی امداد جاری رکھی پہلی خلیجی جنگ کے دوران پاکستان نے ممکنہ عراقی جارحیت کے خلاف سعودی عرب کے دفاع کے لیے افواج فراہم کیں۔ اتنا ہی نہیں پتا نہیں کیا کیا کرتی آرہی ہیہماری فوج ہمارا ملک کسی ممالک سے کم نہیں ہے ہمارا پاکستان ہماری فوج قابل تحسین ہیں مجھے تو فخر ہے اور میں سو ہزار دفعہ اس رب کا شکر ادا کرتی ہوں کے میں پاکستان کی سرزمین پہ سانس لیتی ہوں اور میں سلام پیش کرتی ہوں اپنی بہادر ملک کی لخت جگر فوج کو پاک فوج زندہ پاد پائندہ باد۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 311 Print Article Print
About the Author: Mehwish Ahsan

Read More Articles by Mehwish Ahsan: 8 Articles with 1719 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: