بازگشت

(Kanwal Naveed, Karachi)
جب بھی منہ کھولیں تو اچھا بولیں ورنہ خاموش رہیں مگر یاد رکھیں اچھا بولنا خاموش رہنے سے کہیں ذیادہ بہتر ہے۔

کچھ لمحے ذرا محسوس کر کے دیکھیں اور پھر اچانک سے چند لفظ آپ کے ذہین میں ایسے ابھر آتے ہیں کہ آپ کی محسوسات کی ترجمانی کرنے لگتے ہیں ۔ آپ جیسے ہی صبح انکھیں کھولیں تو غور کریں کہ آپ کے دماغ میں کیا الفاظ ابھرتے ہیں ۔

یقین مانیں الفاظ سے ذیادہ عجیب شے میں نے زندگی میں نہیں پائی۔ چند الفاظ اور کوئی غصے سے پاگل اور چند الفاظ کوئی چہرے پر دلنشین مسکراہٹ لیے آپ پر نچھاور۔ الفاظ کی فلاسفی کو سمجھ کر زندگی کو خوبصورت بنایا جا سکتا ہے تو کیوں نہ ہم الفاظ کی فلاسفی کو سمجھنے اور سمجھانے پر غور کریں ۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جذبوں کے اظہار کے لیے الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ تو یوں ہی عیاں ہوتے ہیں ، مثالیں دیتے ہیں کہ دیکھیں ماں بچے کی ہر بات سمجھ لیتی ہے۔ جبکہ وہ کوئی الفاظ نہیں استعمال کرتا ۔ جانور دیکھیں کیسے مالک کے اشارے سمجھ لیتے ہیں ۔ ہمیں ان مثالوں کو غور سے دیکھنا ہو گا۔

ماں اندازے لگا لگا کر بچے کی بات کو سمجھتی ہے۔ یہ بات مائیں اچھی طرح تسلیم کریں گی کہ وہ کس قدر مشکل سے دوچار ہوتی ہیں ۔ ہمیں زندگی کو اگر خوبصورت بنانا ہے تو الفاظ کی اہمیت اور ان کے ٹھیک استعمال کو سمجھنا ہی ہو گا۔ کیا آپ ہمیشہ بچے ہی رہنا چاہتے ہیں یا پھر دوسروں سے اپنے رشتے کو محدود کرنا پسند کریں گئے؟ایسا نہیں ہے۔ خوبصورت الفاظ کا چناو آپ کی زندگی کو خوبصورت بناتا ہے ۔ اچھا بولنا خاموش رہنے سے بہت بہتر ہے۔ آپ کے اچھے الفاظ کسی کی زندگی بدل سکتے ہیں اور آپ کی بھی۔
 
آپ نے وہ حدیث تو سنی ہی ہو گی، خدا ایسا ہی ہے جیسے تم گمان کرتے ہواور گمان کرنے کے لیے سوچنا لازم ہے اور سوچنے کے لیے الفاظ لازم ہیں ۔کیا آپ نے غور کیا کہ کیوں بار بار نماز میں خدا ہمارے منہ سے ان الفاظ کی ادائیگی کرواتا ہے کہ خدا نے اس کی سن لی ،جس نے اس کی تعریف کی۔ وہ تو دل کے ہر بھید سے واقف ہے تو کیوں وہ چاہتا ہے کہ انسان بولے ۔

انسان کو رب نے اپنی صفات کی بنا پر ہی اشرف المخلوق بنایا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک اس انسان کی بات ذیادہ غور سے سنتا ہے جو اس کا متعرف ہو ۔ جو اسے اہمیت دے۔ آج کے ترقی یافتہ معاشرے میں بھی ہم اپنے بچوں کو فقط بولنا ہی سکھاتے ہیں ،کیا بولنا ہے ،کیسے بولنا ہے ، کس طرح سے اور کس وقت بولنا ہے ؟ کوئی نہیں سکھاتا۔سچ تو یہ ہے کہ جو چیز ہمیں نہیں آتی وہ اپنے بچوں کو کیسے سکھٓائیں ۔ آج آپ جب کچھ دیر فارغ ہوں تو سوچیں ۔ کیا آپ کی زندگی میں کسی نے کچھ کہا تھا، جس نے آپ کو رولا دیا ۔چند لمحے بعد ہی پھر سوچیں وہ الفاظ جنہوں نے آپ کو اپنی تکریم کا احساس دلایا ہو۔ایسے انسان سچ میں انسان کہلانے کےحق دار ہوتے ہیں ،جن کے الفاظ کسی کی زندگی بدل دیں ۔کیا کبھی آپ نے بھی کسی کے لیے کچھ اچھے الفاظ دانستہ بولے ہیں جو اس انسان کو احساس تکریم دیں ۔ اسے اس کی اہمیت کو جتائیں ۔اگر نہیں تو چند اچھےالفاظ کا استعمال صدقہ جاریہ سمجھ کر کریں۔

میں جب سوچتی ہوں تو مجھے ایک کہانی یادآتی ہے ۔ ایک چھوٹی بچی کی جو گڑیا کے گم ہو جانے پر ایک دروزے میں منہ دے کر رو رہی تھی ،پاس گزرنے والے ایک آدمی نے اسے بلایا اور پیار سے کہا گڑیا کیوں رو رہی ہو؟ اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ اس آدمی نے پھر سے کہا۔ گڑیا کیوں رو رہی ہو۔ وہ بچی حیران تھی کہ کیوں کوئی اجنبی دوسری بار اس سے اس کے رونے کی وجہ پوچھ رہا ہے۔ اس کا جی چاہا کہ اس آدمی کو دیکھے ،مگر وہ اپنے بہتے ہوئے آنسو اور گندی ناک نہیں دیکھانا چاہتی تھی۔ اس آدمی نے پر شگفتہ اور میٹھے لہجے میں کہا۔ جو آنسو آنکھوں سے نکل جائیں وہ گم ہو جاتے ہیں ،کبھی نہیں ملتے۔ جو بھی ہوا بھول جاو۔گڑیا گھر جاو۔ وہ بچی اپنی قمیض کی بازو سے ناک صاف کرنے لگی ۔انکھیں اور ناک صاف کرنے کے بعد جب اس نے مڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔ اب وہ اپنی گڑیا کی بجائے ،اس آدمی کو ڈھونڈ رہی تھی ۔ جس نے اپنے الفاظ سے اس کا سارا دھیان اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ اسے گلی پر گزرنے والا ہر آدمی وہی شفیق انسان محسوس ہو رہا تھا ،جسے وہ دیکھ نہیں پائی تھی۔ اب جب بھی وہ کسی وجہ سے روتی تو ایک اجنبی شخص کی آواز اسے اپنے کانوں میں سر گوشی کرتی محسوس ہوتی۔ گڑیا کیوں رو رہی ہو۔ جو آنسو آنکھوں سے نکل جائیں وہ گم ہو جاتے ہیں ۔کبھی نہیں ملتے۔جو بھی ہوا بھول جاو۔

وہ بچی میں ہوں ۔ الفاظ سحر سا تاثر رکھتے ہیں وہ انسانوں کو تسخیر کر سکتے ہیں ۔ توڑ سکتے ہیں ۔زندگی کو خوبصورت بنانا چاہتے ہیں تو اپنے الفاظ کو خوبصورت بنائیں ۔اپنے آپ سے بھی بات کریں تو الفاظ کا چناو سوچ سمجھ کر کریں ۔ یہ الفاظ ہی ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1012 Print Article Print
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 120 Articles with 133067 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More

Reviews & Comments

kanwal naveed. janab ap ne bohat achi tehreer likhe ha, haqiqat ha kay alfaz ka chunao bohat aham hota ha. yahi alfaz kise ki zindagi sanwar bhi detay han or tabha bhi kar detay hain. ALLAH Pak asaniyia paida farmae or hamain asaniyan agay baatnay ki tofiq ata farmae ameen suma ameen
By: shohaib haneef, karachi on May, 23 2019
Reply Reply
0 Like
Language: