چھلڑ پولیس اور عارف عباسی

(Iftikhar Chaudhry, )

پہلے وردی کالی تھی پھر براؤن ہوئی کسی کو گرے کلر کی دی گئی لیکن اصل اصل ہی رہتا ہے اور پیتل پر سونے کا پانی بھی چڑھائیں تو پیتل پیتل ہی رہے گا سچ پوچھیں پنجاب پولیس کو اگر احرام بھی پہنا دیں تو وہ چھلڑ پولیس ہی ہو گی-

سوشل میڈیا پر صوبائی وزیر خواندگی راجہ راشد حفیظ چیئرمین آر ڈی اے عارف عباسی کی نیوٹاؤن تھانے میں بحث مباحثے کی ایک ویڈیو وائرل ہے۔لوگ اپنے اپنے انداز میں تبصرے کر رہے ہیں ۔دیکھا گیا ہے یہاں بھی سیاسی تفریق کی جا رہی ہے نون لیگی احباب پنجاب پولیس کی پشت پر کھڑے ہیں اور عوام کو نتا رہے ہیں کہ کہ وزیر اور ان کے ساتھ تھانے میں غنڈہ گردی کر رہے ہیں۔ویسے سوشل میڈیا پر ہی واضح ہو گیا ہے کہ پولیس افسر ایک زبان دراز اور بد تمیز ہے پہلی بات ہے اس کے ذہن میں یہ کیا فتور ہے کہ میں کوئی مہاجر نہیں آیا جو آپ مجھ پر چڑھ رہے ہیں یہ وہ سوچ ہے جس نے پاکستان کے لئے جانیں دینے والوں کے دلوں میں قدورتیں ڈالیں۔یعنی اس دھرتی پر عزت اسی کی ہے جو دھرتی کا فرزند ہیں شائد وہ کہنا چاہتا تھا کہ میں فرزند پوٹھوہار ہوں کہیں باہر سے نہیں آیا۔افسوس اس گندی سوچ پر۔

میں نے اپنے تئیں پوری تحقیق کی عارف عباسی صرف دوست ہی نہیں محلے دار بھی ہیں۔ہمیں اکٹھے رہتے ہوئے کوئی پانچ سات برس تو ہو گئے ہیں ایئر پورٹ سوسائٹی کا بندہ بندہ جانتا ہے کہ عارف عباسی نے کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کی۔عارف اور میں کوئی دس سال سے اکٹھے ہیں پارٹی کے اندر اس بار ٹکٹ کے لئے میری اور ان کی کھینچا تانی بھی رہی۔ان کے بچے بہترین اخلاق کے مالک ہیں۔

میں نے عارف عباسی،جنید اور شیخ فہد سے بات کی ہے ۔شیخ فہد نیلے لباس میں باریش نوجوان ہے جو ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو کہہ رہا ہے کہ دیکھیں یہ آپ کے سامنے کیا بد تمیزی کر رہا ہے۔حقائق یہ ہیں کہ کہ کل عارف عباسی کے بڑے بیٹے کا ولیمہ تھا شامآٹھ بجے انہیں نواز شریف پارک میں جشن راولپنڈی کے پروگرام کا افتتاح کرنا تھا جیسے ہی وہاں پہنچے تو عارف نے وہاں گاڑی پارک کرنے کی کوشش کی سلمان نامی اس وارڈن نے انہیں منع کیا کہ یہاں گاڑی نہ کھڑی کریں جس پر انہوں نے کہا اگر یہ غلط پارکنگ ہے تو بے شک میرا چالان کر لیں میں اسی شہر کا خادم ہوں اگر کوئی زیادہ ہی مسئلہ ہے تو آپ ٹکٹ دے دیں۔یہ کہہ کر عارف اندر چلے گئے۔میں نے یہ باتیں تفصیل سے اس لئے پوچھیں کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کو بدنام کیا جا رہا ہے۔اور پارٹی لیڈر شپ سے پوچھنا بھی ضروری ہے کہ اس قسم کے معاملات پر پارٹی کو تحفظ بھی ہوتا ہے۔بقول عارف عباسی کے ان کا بیٹا فرحان گاڑی لینے آیا تو اس وارڈن نے اسے ماں بہن کی گالیاں دیں اور تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے گھسیٹ کر گاڑی میں پھنکوا تھانہ نیو ٹاؤن لے گیا۔جہاں اسے لاتوں ٹھڈوں پر رکھ لیا نوجوان نے اپنے ابو کو فون کیا کہ یہ لوگ مجھے مار رہے ہیں۔یہیں فہد شیخ واثق قیوم عباسی راشد حفیظ تھانے جاتے ہیں جہاں یہ وارڈن ان پر غصے ہوتا ہے اور اول فول بکتے چلا جا رہا ہے۔
قارئین یہ روئیے ویسے نہیں ہوئے یہ وہ لوگ ہیں جو نواز دور میں نون لیگی سیاست دانوں کی سفارشوں پر بھرتی ہوئے ہیں ۔شنید ہے سلمان کی تعیناتی حنیف عباسی نے کرائی ہے اور یہ منہ چڑھے لوگ اپنے سینئرز کی بھی نہیں مانتے اسی لئے سادہ کپڑوں میں ملبوس ڈی ایس پی اور وردی والے بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔

فہد نے مجھے بتایا جب تھانے میں چیئرمین آر ڈی اے عارف عباسی کسی سے بات کر رہے تھے تو یہ جوان پولیس افسر عملی طور پر مونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا اور انہیں چڑھا رہا تھا۔

پھر یہ ہوا کہ اسے پتہ چل گیا کہ میڈیا آ گیا ہے یہاں وہ کارساتنی ڈالنے کمرے میں گیا اپنی قمیض کے بٹن توڑے بیلٹ اتارا اور دینے لگا بیان کے ان لوگوں نے مجھے مارا ہے۔

قارئین یہ ہے وہ منہ چڑھی پولیس مادر پدر آزاد پولیس جو کبھی ساہیوال میں جرم عظیم کرتی ہے اور کبھی ناکے پر نہ کھڑا ہونے والوں پر گولی برساتی ہے۔خدا قسم پنجاب پولیس اتنی آزاد پولیس ہے کہ جلیانوالہ باغ سے خاکساروں پر قیامت ڈھانے کے بعد ماڈل ٹاؤن اور اب گلی گلی اسی قسم کی چیرہ دستی کرتی نظر آتی ہے۔اس شتر بے مہار کو کون لگام دے گا؟لوگ ہم سے پوچھتے ہیں اور بے شرم اس لہجے میں پوچھتے ہیں جیسے ہم ملک پر مدتوں سے راج کر رہے ہیں۔یہاں ایئر پورٹ سوسائٹی میں ایک قبضے کے پلاٹ پر سروس اسٹیشن بن رہا تھا اہل محلہ نے احتجاج کیا سوسائٹی نے کیس کیا لیکن پولیس کی سر براہی میں چوکی گلزار قائد کے عملے نے کچھ نہیں کیا میں نے ایس ایس پی آپریشنز کو کئی فون کئے ان کا ایک اگلا فون اٹھاتا اور کہتا فکر نہ کریں اور فکر نہیں کیا یہ سروس اسٹیشن اس ناجائز پلاٹ پر کام کر رہا ہے اور ہ منہ دیکھ رہے ہیں اسی سوسائٹی میں ڈولفن فورس نے میرے ڈراؤر کو گھیر لیا گاڑی کی ڈگی میں آٹے کے تھیلے کو پوڈر ارار دیا بیٹے نے احتجاج کیا تو اس سے الجھ گئے میں نے جا کر معافی تلافی کی مجھے علم تھا یہ پنجاب پولیس بدلہ لینے پے آئے تو اپنے گھر کے بندے کو نہیں چھوڑتی۔میں کیوں الجھوں۔یقین کیجئے کوئی بھی معاملہ ہو جہاں کہیں پولیس کا دخل ہوتا ہے وہاں اندھیر دکھائی دیتا ہے۔ان تازہ تبدیلیوں میں بریگیڈئر اعجاز شاہ کا آنا ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے مجھے پورا یقین ہے اس ساری سیاسی بھرتیوں والی پولیس جس کا کوئی میڈیکل ٹیسٹ بھی نہیں ڈائریکٹ تھانے دار بھرتی ہونے والے ان منہ زور بھیڑیوں کو ایک بار پھر ٹیسٹ کے مراحل سے گزارا جائے گا۔ایسے افسران کو لائیسنس ٹو کل دیا گیا ہے جس سے انسانی جانوں کو تحفظ ملنے کی بجائے خطرہ ہے۔آپ جتنی بھی اصلاھات لے آئیں اگر پولیس میں سیاسی مداکلت پر بھرتی ہونے والے فارغ نہیں کئے جاتے اور ان کی جگہ میرٹ پر بھرتیاں نہیں ہوتیں معاشرہ نہیں سدھر سکتا۔یہی حال سندھ پولیس کا ہے اور ایسا ہی بلوچستان میں۔آپ یقین کیجئے نواز شریف کے اولین دور میں ہر ایم پی اے کو دو تھانے دار لگانے کا اختیار تھا۔اب مجھے بتائیں وہ بیس سال پہلے کے انسپکٹر اب کدھر بیٹھے ہیں۔اچھا ہوا ایک دھڑلے والا بندہ وزیر داخلہ لگا۔شہر یار ہمارا بہت قریبی ہے وہ اور طارق جمیل معاشرے کی اصلاح کے لئے اچھے خطابات کریں تو ٹھیک ہے۔اعظم سواتی ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں۔ان تبدیلیوں سے معاملات سدھرتے نظر آتے ہیں-

قارئین یہ ہے سیاسی پولیس سلمان کے بارے میں معلوم ہوا کہ یہ حنیف عباسی کا لگایا ہو بندہ ہے یہ اﷲ کا بندہ بننے کی بجائے حنیف عباسی کے بندے کا کردار ادا کر رہا ہے۔

سندھ پولیس جس نے حکمرانوں کے کہنے پر نقیب اﷲ جیسوں کو سر عام مار دیا اس پولیس سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے بھی بغیر سوچے سمجھے رولا ڈال رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے لیڈران غیر قانونی حرکات کر رہے ہیں۔میں سب کی قسم نہیں کھاتا لیکن مجھے علم ہے عارف عباسی ایسا نہیں کر سکتا اور گواہیاں بھی میرے پاس ان لوگوا¡ کی ہیں جو میرے جانے پہچانے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تو ہے لیکن ابھی تک ان آٹھ مہینوں میں اس بوسیدہ نظام کو نہیں توڑ سکی جو ستر سال سے اس ملک کو اپنے شکنجے میں لیا ہوا ہے ۔شریفوں نے پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کو استعمال کیا اور پنجاب میں انگریز دور کی طرح بد معاش پولیس کو جنم دیا۔ جس نے جلیانوالہ اور لاہور خاکساروں پر وحشیانہ تشدد جیسے واقعات رونما کئے۔یقین کیجئے کہ جتنی چوریاں ہوتی ہیں ان کی سر پرستی کے کھرے تھانوں تک پہنچتے ہیں۔جازی خان نے صیح کہا تھا کہ تھانے اب بھی بکتے ہیں جو اسے سچ نہیں مانتے وہ بکتے ہیں۔اور غلط کہتے ہیں۔یہ ایک بڑا چیلینج اعجاز شاہ کے لئے تو ہے ہی عمران خان کے لئے بھی ہے۔پہلے دو سال مشکل ہیں میرا اﷲ کرے گا گزشتہ تیس سالوں کا گند قدرے بہتر ہو گا۔تھانہ نیو ٹاؤن میں بیٹھے اس کالے کرتوتوں والوں کو اگر وردی کی بجائے احرام بھی پہنا دیں تو
عمل تو بو جہل کا ہی کرے گا

میں یہ نہیں کہتا کہ ساری پولیس گندی ہے لیکن یقین جانئے جو اچھے ہیں وہ بے چارے لائینوں میں بیٹھے منجیاں توڑ رہے ہیں۔ اور اگر کوئی اچھا ہے تو خدا را اس کا پتہ بتا دیجئے۔ہم نے باشرع نمازی بھرتی ہوتے دیکھے چند سالوں میں ہی وہ خونخوار بن گئے۔ان کے ہاتھوں میں بے شمار طاقت ہے اور قانون انہیں تحفظ دیتا ہے۔بتائیے آج تک کتنے پولیس مقابلے ہوئے اور ان جعلی مقابلوں کے ذمہ دار کتنے لوگ پھانسی لگے۔کوئی بھی نہیں ۔راؤ انوار آج بھی آزاد ہے اور اس کے بدلے میں کئی منظور پشتین بن گئے ہیں۔ملک بچا کے دیکھیں انصاف نہ دو گے تو سقوط ڈھاکہ ہی ملیں گے۔انصاف کس نے دینا ہے وہ لاہور ہائی کورٹ جانے یا خدا جانے اعجاز خان جازی سچ کہتا تھا کہ یہاں تھانوں میں ہمارے کارکنوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔پولیس کے افسران کی گردنوں میں پڑے سریے کون نکالے گا؟یہ عثمان بزدار کے لئے ایک چیلینج ہے۔لگتا یوں ہے کہ پنجاب پولیس کو شہباز شریف کی طرح کا کوئی ظالم چاہیئے جو انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکے۔

تازہ خبر آنے تک بے لگام افسر کو معطل کر دیا گیا ہے اور انکوائری کے لئے گروپ تشکیل دیا گیا ہے
ہم انصاف والے انصاف مانگتے ہیں ذرا تصور کیجئے یہ معاملہ حاضر وزیر اور آر ڈی اے کے چیئرمین سے کیا جا رہا ہے۔عام آدمی کس مصیبت سے گزر رہا ہے۔چھلڑ ای اوئے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 407 Articles with 161610 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
24 Apr, 2019 Views: 268

Comments

آپ کی رائے