دوحہ قطر مذاکرات کا چھٹا دور

(Qadir Khan, Lahore)

افغانستان امن تنازع حل کے لئے مذاکرات کا چھٹا دور دوحہ قطر میں ہورہاہے۔ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکراتی دور میں اس بار بھی کابل حکومت شریک نہیں ہے۔ افغان طالبان نے کابل حکومت کو کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے فیصلہ کن سیکورٹی معاہدے سے دور رکھا ہوا ہے۔ گو کہ کابل حکومت نے ماسکو کانفرنس کی طرز پر افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے 250افراد کی ایک ٹیم ترتیب دی تھی لیکن افغان طالبان نے کابل حکومت کی جانب سے بلواسطہ مذاکراتی وفد کا تاثر دیئے جانے کے سبب وفد کی تعداد کو شارٹ لسٹ و غیر رسمی کردیا تھا ۔تاہم شارٹ لسٹ کو کابل حکومت نے تسلیم نہیں کیا اور بالاآخر دوحہ میں سیاسی مذاکراتی دور تعطل کا شکار ہوگیا ۔ پاکستان میں وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ وفد سے ملاقات میں امریکی صدر کے خصوصی معاون برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے ہمراہ امریکی حکام نے بھی شرکت کی ۔امریکا کی جانب سے پاکستانی کوششوں کو سراہا گیا ۔ خاص طور پر وزیر اعظم پاکستان نے افغانستان میں انتقال اقتدار کے لئے کسی بیرونی عناصر کے بجائے افغان عوام کو اختیار دیئے جانے اور افغانستان میں کسی بھی قسم کی دخل اندازی نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ۔ یہاں تک کہ افغانستان کے لئے اپنے تجربات اور مشورے دینے میں بھی کابل حکومت کے تحفظات کو پیش نظر رکھتے احتیاط کا راستہ اپنایا اور تحمل کے ساتھ اظہار کیا کہ افغان عوام کو مکمل اختیار و حق حاصل ہے کہ وہ افغانستان میں کس قسم کا نظام چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کو بھی دوہرایا کہ پاکستان ، افغانستان میں تشدد کی کمی اور افغان امن تنازع حل کے لئے ہر ممکن تعاون کو جاری رکھے گا ۔

چھٹادوحہ مذاکرات امریکا کے ساتھ ایک اہم مرحلے میں داخل ہیں اور انتقال اقتدار کے ساتھ ساتھ غیر ملکی افواج کی واپسی کا حتمی فارمولا طے کیا جارہا ہے۔ گذشتہ دوحہ مذاکرات میں کمیٹیاں بنائی گئی تھی جو اِن دو نکات کو عملی جامع پہنانے کے لئے سفارشات ترتیب دینے کے لئے دونوں فریقین کی جانب سے مقرر کی گئی تھی۔موجودہ دوحہ مذاکرات کے چھٹے دور میں ان کمیٹیوں کی سفارشات کا جائزہ لیا جائے گا اور کمیٹیوں کی جانب سے پیش کردہ نکات پر دونوں فریقین میں اتفاق رائے کے لئے یقینی طور پر مزیدردو بدل کا امکان ہے۔ جس کے لئے ممکنہ طور پر افغان طالبان اور امریکا کے درمیان سیکورٹی معاہدے سے قبل حتمی رائے تک پہنچنے کے لئے مزید وقت درکار ہوگا ۔ افغان طالبان کو افغانستان کے بڑے اسٹیک ہولڈر کی عالمی حیثیت کو تقریباََ تسلیم کیا جاچکا ہے ۔ گزشتہ مذاکرات میں قطر کے وزیر اعظم نے افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ سے ملاقات کی تھی اور اس بار بھی افغان طالبان کے سیاسی دفتر میں جرمنی کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان مارکس پوتزیل نے اعلی سفارتی وفد کے ہمراہ افغان طالبان کے سیاسی امور کے نائب اور سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی۔یہ ملاقات مملکت قطر کے دارالحکومت دوحا شہر میں بدھ کے ر وز یکم مئی کو ہوئی۔جس میں افغان تنازع کے پرامن حل، امریکا کیساتھ جاری مذاکرات اور شہری نقصانات کے روک تھام کے متعلق تبادلہ خیال ہواکہ ملک میں امن افغانستان،خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے اور افغان تنازع کے حل کے لیے موجودہ مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسی طرح جرمنی کے خصوصی ایلچی نے صلح کے مد میں اپنے ملک کی تعاون اور مثبت کردار ادا کرنے کی تسلی دی۔

کابل انتظامیہ کو افغانستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے صدراتی انتخابات موخر ہونے کے بنا پر توسیع جاچکی ہے جس پر خود کابل انتظامیہ کے اہم عہدے داران نے ناراضگی و تحفظات کا اظہار کیا ۔ کابل انتظامیہ کسی بھی طور افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے بے چین ہے ، لیکن افغان طالبان کابل انتظامیہ کو کٹھ پتلی اور افغان عوام کی نمائندہ نہیں سمجھتے اس لئے اہم مذاکراتی ادوار میں کابل انتظامیہ کی شرکت کے بجائے اپوزیشن جماعتوں اور دیگر افغان عمائدین و علما ء اکرام سمیت غیر ملکی وفود سے ملاقات پر انہیں اعتراض نہیں۔ تاہم کابل انتظامیہ نے ایک بڑے لویہ جرگہ کا اہتمام کیا ۔ لیکن اس جرگے کی حیثیت ثانوی سی ہے کیونکہ ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ سمیت کئی اہم افغان رہنماؤں نے جرگے میں شرکت سے بائیکاٹ کیا ۔ افغان طالبان پختون روایات کے سبب جرگے کی اہمیت و فیصلوں پر سخت موقف نہیں رکھتے لیکن ان کے تحفظات ہیں کہ اس میں حکومت کی سابق اور موجودہ انتظامیہ کے بھی اکثر افراد شریک نہیں ہیں۔ سیاست دانوں کی اکثریت اور سیاسی تجزیہ کا ر اسے ایک فرمائشی جرگہ قرار دے رہے ہیں۔ ترجمان افغان طالبان کے مطابق ’’جس کانفرنس اور جرگے کا یہ حال ہو کہ اس میں نام نہاد حکومت کے اپنے نمائندے بھی شرکت سے گریزاں ہیں تو اس سے مثبت نتائج کیوں کر نکل سکتے ہیں؟۔‘‘ افغان طالبان ترجمان کا مزیدکہنا تھا کہ ’’یہ جرگہ غیرملکی جارحیت پسندوں کے ہاتھوں افغان عوام کے مزید قتلِ عام کی اجارت فراہم کر رہا ہے۔ افغانستا ن پر غیرملکی جارحیت پسندوں کے قبضے کے بعد یہ تیسری مرتبہ ہے کہ اس ثقافتی جرگے کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امریکا نے 2003 ء اور 2014ء میں بھی لویہ جرگہ کا انعقاد کر کے اسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔موجودہ لویہ جرگہ میں عوام کے نمائندے موجود ہیں اور نہ یہ کسی افغان مفاد کیلیے منعقد کیا گیا ہے۔‘‘

افغان تنازع کے حل کے لئے امریکی وزارت خارجہ کے خصوصی ایلچی اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ زلمے خلیل زاد نے افغان طالبان کے سیاسی نائب اور سیاسی دفتر کے سربراہ ملاعبدالغنی برادر اخوند سے ملاقات کی۔ملاقات میں افغان تنازع کے پرامن حل کے اہم پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔افغان طالبان کے سیاسی نائب نے کہا کہ’’سب سے اہم یہ ہے کہ پہلے اجلاس کے ایجنڈے کے دو اہم نکات (افغانستان سے بیرونی افواج کا انخلا اور افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہ کرنا) فائنل ہوجائے۔یہ مسئلہ دیگر پہلوؤں کے حل کے لیے راہ ہموار کریگی،مگر اس سے قبل دیگر امور میں داخل نہیں ہوسکتے مذکورہ نکات پر مفصل گفتگو کا مقصد یہی ہے، تاکہ بیرونی افواج کے انخلا سمیت تمام موضوعات پر مکمل اتفاق ہوسکے‘‘۔ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان جتنے مذاکراتی بھی ادوار ہوئے ۔ ان میں دو اہم نکات انتقال اقتدار و غیر ملکی افواج کے انخلا ء پر حتمی گفت و شند پر اتفاق رائے ہی سے مستقبل میں نئے سیکورٹی معاہدے کو عمل پزیر کرسکتا ہے۔ جس سب سے اہم معاملوں پر افغان طالبان کی جا نب سے لچک یا درمیانے راستے کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا ۔ وہ یہی دو اہم نکات ہیں۔ خاص طور انتقال اقتدار کے لئے اتفاق رائے سے معاہدہ طے کئے جانے میں کئی معاملات حساس نوعیت کے ہیں جنہیں خانہ جنگی سے روکنے کے لئے روس،ترکی ، پاکستان متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب بھرپور طریقے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ لیکن دوسری جانب افغان طالبان کے علاوہ دیگر جنگجو گروپوں اور اپوزیشن جماعتوں کو سیکورٹی معاہدے پر عمل درآمد و تسلیم کرانے کا کھٹن مرحلہ باقی ہے۔ جس کے لئے امریکا کی غیر موجودگی میں روس بھرپور تعاون کررہا ہے اور ایران ، بھارت کو بھی شامل کرکے افغانستان میں قیام امن کے لئے مستقبل کی ممکنہ حکومت کے نکات پر اپوزیشن میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ افغانستان میں داعش کا فتنہ بھی بڑی تیزی سے سر اٹھا رہا ہے ۔ خاص طور پر داعش کے سرغنہ ابوبکر بغدادی کی پانچ برس بعد ویڈیو منظر عام پر آنے اور مبینہ طور پر سری لنکا واقعے میں ملوث ہونے دعویٰ کے بعد خطے میں ایک جنگ سے دوسری جنگ شروع ہونے کے امکانات واضح بڑھتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں۔امریکی افواج و سفارت خانے میں کمی کے لئے امریکی صدر ٹرمپ نے حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ، لیکن 2019میں مذاکرات کی جو بھی صورت ہو ، امریکی صدر نومبر2020 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے لئے افغانستان سے انخلا ضرور کریں گے ۔اگر افغانستان کی اپوزیشن جماعتیں ، افغان طالبان انتقال اقتدار کے متفقہ معاہدے پر رضا مند ہوجاتے ہیں تو موجودہ حکومت کو تحلیل ہونے میں وقت نہیں لگے گا۔تاہم اس کا انحصار نئے سیکورٹی معاہدے طے پانے پر ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 376 Articles with 149833 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 May, 2019 Views: 175

Comments

آپ کی رائے