ریاست اور اسلام کی جنگ

(Rafiq Chohdury, )

بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحیم

بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں خلافت اسلامیہ کا خاتمہ ہوا ۔ لیکن یہ اتنی آسانی سے نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے ایک عرصہ سے وطنیت اور سیکولر آئین کا تصور پروان چڑھایا جا رہا تھا ۔ مسلم خطوں میں اس تصور کو پروان چڑھانے کے لیے خصوصی طور پر اہتمام کیا گیا۔اگر تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ مغربی استعمار نے نوآبادیات میں لوگوں کوایک طرف معاشی طور پر بدحال کرکے ، دوسری طرف مادّی ترقی کی چکا چوندکے تاثر سے اپنا طرز زندگی اختیار کرنے کے لیے مجبور کیا اورتیسری طرف سیکولر نظام تعلیم کے ذریعے ایک ایسی سولائزیشن کے بیج بو دیے گئے جسے زندہ رہنے کے لیے مغربی آکسیجن کی بہر طور ضرورت تھے ۔لہٰذا جب تک ان معاشروں میں یورپین کی طرح کی ایک ایلیٹ کلاس نے جنم نہیں لے لیا انہوں نے وہاں سے اپنا قبضہ ختم نہیں کیا ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ افریقہ سے لے کر انڈونیشیا تک مغربی استعماری قوتیں جہاں جہاں سے بھی نکلتی گئیں وہاں یا تو مغرب ساختہ جمہوری طرز حکومت مسلط کر دی گئی‘ یا پھر جہاں عوام شعوری طور پر اس نظام کے لیے تیار نہیں تھے وہاں مغرب نواز بادشاہتیں قائم کر دی گئیں ۔ دونوں صورتوں میں اقتدار کی منتقلی زیادہ تر انہی عناصر کو کی گئی جو ان ہی کے تربیت یافتہ اور انہی کی طرح کا طرز زندگی اختیار کیے ہوئے تھے ۔ اس ایلیٹ کلاس کو مغرب سے ایک ریاست‘ایک پارلیمنٹ اور ایک آئین کا جو تصور ورثے میں ملا تھا اس کو اس کلاس کی مغرب نوازی نے مزید پروان چڑھایا ۔یہاں تک کہ اسلامی نظامِ سیاست کا تیرہ سو سالہ تصور محو ہوتا چلا گیا ۔ رہی سہی کسر اس کلاس کے کٹھ پتلی حکمرانوں کی حرصِ اقتدار اور مغرب نواز پالیسیوں نے پوری کردی اور اس بات کا پورا اہتمام کر دیا گیا کہ اسلام کو ریاست کے قریب پھٹکنے بھی نہ دیا جائے ۔

پھرریاست اور اسلام اس کی جنگ میں ایک نیا موڑ آتا ہے ‘جب بعض مسلم خطوں میں احیائے اسلام کی تحریکیں از سرنو نفاذ ِاسلام کی جدوجہد کا آغاز کرتی ہیں اور بعض اسلامی ممالک قدرتی وسائل کی بناء پر ثروت مندی اور استحکام حاصل کرتے ہیں تو انہیں عدم استحکام کا شکار کرنے اور اُبھرتی ہوئی اسلامی نظام کی تحریکوں کو بدنام کرنے کے لیے مغرب کو دہشت گرد تنظیموں کی ضرورت پڑتی ہے۔ چنانچہ اس مرحلے پر بھی ایلیٹ کلاس ریاست اور اسلام کی اس جنگ میں مغرب کے فرنٹ لائن اتحادی کے طور پر نظر آتی ہے اور دہشت گردی کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مغرب اسلامی نظام کی تحریکوں کا ناطہ شدت پسندی اور دہشت گردی سے جوڑ کر انہیں کچلنے‘مسلنے اور ان کا راستہ مسدود کرنے کا بیڑا اُٹھاتا ہے تو یہ ایلیٹ کلاس آگے بڑ ھ کر مغرب کے ایجنڈے پر عمل درآمد کو یقینی بناتی ہے ۔ چنانچہ مصر میں الاخوان تحریک کے کارکنوں کو ٹینکوں تلے کچلنے کا معاملہ ہو یا افغانیوں کے قتل عام کا ایلیٹ کلاس درندگی میں مغرب کو بھی پیچھے چھوڑ گئی۔

اسلام کو ریاست سے دور رکھنے کے لیے مغربی معالجوں نے لبرل ازم کا (بے دینی‘ بے حیائی اور فحاشی کا مرکب) معجون بطور نسخہ تجویز کیا تو ایلیٹ کلاس نے اسے اکسیراعظم کے طور پر ہاتھوں ہاتھ لیا اور میڈیا کے میٹھے مشروب میں گھول کر اپنے معاشرے میں انڈیلنے میں دیر نہیں لگائی‘ بلکہ احتیاطی تدابیر کے طور پر اسلامی انقلابی راہنماؤں کی تصانیف سے استفادہ سے مکمل پرہیز عالم اسلام کے لیے لازم قرار دے دیاگیا ۔ چنانچہ جون 2015ء میں مصر میں الاخوان راہنماؤں حسن البناء، سید قطب اور یوسف القرضاوی سمیت کئی دوسرے راہنماؤں کی کتب کو اس خدشے کی بنا پر کہ یہ کتب نوجوان نسل کے ذہنوں کو ’’خراب ‘‘کرنے اور انہیں انتہا پسندی کی طرف لے جانے کا موجب بن سکتی ہیں‘ضبط کر لیا گیا اور ان کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی ۔ دسمبر 2015ء میں سعودی عرب میں بھی حسن البناء ، سید قطب‘ یوسف القرضاوی اور مولانا مودودی کی کتب پر پابندی عائد کر دی گئی ۔

ایلیٹ کلاس کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان اسلامی انقلابی راہنماؤں کی فہرست میں مصور پاکستان علامہ اقبال بھی شامل ہیں‘ جو ریاست اور مذہب کی جنگ میں واضح طور پرمذہب کے نہ صرف طرفدار ہیں بلکہ ملت سے اس ضمن میں پُر زور اپیل بھی کرتے نظر آتے ہیں ؂
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے

مارچ1938ء میں علامہ اقبال ایک مضمون میں لکھتے ہیں :
’’ میں نظریۂ وطنیت کی تردید اس زمانہ سے کر رہا ہوں جبکہ دنیائے اسلام اور ہندوستان میں اس نظریہ کا کچھ ایسا چرچا بھی نہ تھا ۔ مجھ کو یورپین مصنفوں کی تحریروں سے ابتدا ہی سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی تھی کہ یورپ کی دلی اغراض اس امر کی متقاضی ہیں کہ اسلام کی وحدتِ دینی کو پارہ پارہ کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی حربہ نہیں کہ اسلامی ممالک میں نیرنگی نظریۂ وطنیت کی اشاعت کی جائے ۔ چنانچہ ان لوگوں کی یہ تدبیر جنگ عظیم(اول) میں کامیاب ہوگئی ۔‘‘

آگے چل کر وہ لکھتے ہیں :
’’ اگر بعض مسلم علماء اس فریب میں مبتلا ہیں کہ دین اور وطن بحیثیت ایک تصور کے یکجا رہ سکتے ہیں تو میں مسلمانوں کو ہر وقت انتباہ کرتا ہوں کہ اس راہ سے آخری مرحلہ اول تو لادینی ہوگی اور اگر لادینی نہیں تو اسلام کو محض ایک اخلاقی نظریہ سمجھ کر اس کے اجتماعی نظام سے لاپرواہی۔‘‘

اب ایلیٹ کلاس علامہ اقبال کی شاعری پر پابندی تو لگانے سے رہی‘ لیکن یوم اقبال پر سرکاری تعطیل ختم کر دی گئی تاکہ اس توسط سے عوام کے دل و دماغ میں اقبال کے انقلابی نظریات کی یاد تازہ نہ ہونے پائے اور اس کے ساتھ ہی دجالی میڈیا اور مغرب کے وظیفہ خوار نام نہاد دانشوروں نے اقبال کو لبرل اور سیکولر ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کردیا ۔گویا ریاست اور اسلام کی اس جنگ میں ایلیٹ کلاس نے مغرب کا ساتھ دینا ہی دینا ہے ‘چاہے حقائق اور نتائج کچھ بھی ہوں۔چاہے اس کے لیے مدرسوں کا نصاب بدلنا پڑے ، چاہے تبلیغی ، اصلاحی ، دینی اور انقلابی جماعتوں پر پابندی عائد کرنا پڑے ۔ جیسا کہ مصر میں الاخوان المسلمین کے اوپر پابندی عائد کی جارہی ہے حالانکہ وہ باقاعدہ سیاسی انتخابی نظام کا حصہ بن کر حکومت میں آئی تھی ۔

ایک چبھتا ہوا سوال یہ ہے کہ ریاست کی مذہب کے خلاف یہ جنگ صرف اسلامی دنیا تک کیوں محدود ہے ؟ غیر اسلامی دنیا میں تومذہب ریاست پر حاوی ہورہاہے ۔ ٹھیک اسی زمانہ میں جب اسلامی دنیا میں سیکولر ریاست کا تصور انجیکٹ کیا جارہا تھا دوسری طرف مذہب کی بنیاد پر اسرائیل کی بنیاد رکھی جارہی تھی اور آج وہ اسرائیل ایک مکمل طور پر یہودی ریاست بن چکا ہے جس میں حالیہ ’’جیوش نیشن سٹیٹ لاء ‘‘کے بعد تمام حقوق صرف یہودیوں کو حاصل ہوں گے جبکہ مسلمان درجہ دوئم کے شہری ہوں گے ۔ یعنی ان کی حیثیت غلامو ں کی سی ہوگی ۔

بھار ت میں بھی ہزاروں مسلمانوں کو زندہ جلانے والا نریندر مودی بابری مسجد کو شہید کرنے اور مسلمانوں کا ’’ گھر واپسی ‘‘ کے نام پر جبراً مذہب تبدیل کرانی والی ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے کندھے پر سوار ہو کر بھارت کا وزیراعظم بن جاتا ہے اور اب اسی بی جے پی کے منشور کے مطابق بھارت بھی کٹر ہندو ریاست میں تبدیل ہو رہاہے جس میں ووٹ کا حق صرف ہندوؤں کو حاصل ہو گا جبکہ غیر ہندو درجہ دوم کے شہری ہوں گے ۔ بی جے پی کی مذہبی انتہا پسندی کا اندازہ اس کے راہنماؤں کے حالیہ نعرے سے خوب لگایا جا سکتا ہے کہ:
"Vote for BJP if you want to destroy Muslims."

پوری دنیا میں سیکولر ازم اور جمہوریت کے ٹھیکیدار امریکہ کو ہی لیجیے۔ ڈونلڈٹرمپ تعصب‘انتہا پسندی اورمسلمان دشمنی کی تمام حدوں کوپار کرنے کے باوجود امریکہ کا صدر بن بیٹھا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اسے امریکی عوام کی حمایت حاصل ہے تو اسی لیے وہ صدر ہے۔حالانکہ خاص طور پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب اور دشمنی اس کی ذاتی نہیں بلکہ یہ اس کی پارٹی کا بھی منشور ہے ۔اس حقیقت کا انکشاف BBC جیسے مستند ذرائع نے بھی کھل کر اس وقت کیا جب ٹرمپ الیکشن میں حصہ لے کر صدرِ امریکہ بننے جار رہا تھا ۔اس وقت بی بی سی نے لکھا :
’’ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی کے لیڈر کہتے ہیں شام اور عراق میں اتنے بم برساؤ کہ زمین فلیٹ ہو جائے۔ یعنی بچے‘ بوڑھے‘ بے گناہ بھی اگر اس کی زد میں آئیں تو اس کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹرمپ تمام مسلمانوں کو کچھ وقت کے لیے امریکہ میں گھسنے سے روکنے کی بات کرتے ہیں تو بس ڈگری کا فرق ہے کہ ٹرمپ وہی باتیں لاؤڈ سپیکر پر بول رہے ہیں جو پارٹی کئی بار سرگوشی کے انداز میں کہتی رہی ہے۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے غیر مسلم دنیا کی ہر جماعت شیو سینا ہے اور ہر لیڈر مودی ، ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے عزائم رکھتا ہے ‘لیکن نہ تو کسی ایسے لیڈر پر انتہا پسندی اور شدت پسندی کے الزامات لگتے ہیں اور نہ ایسی جماعتوں اور تنظیموں پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں ۔ یہودیوں کا ظلم و جبر‘برما میں مسلمانوں کی نسل کشی، مغرب میں اسلامی شعائر اور ناموسِ رسالت پررکیک حملے‘مسلمانوں کے خلاف منظم مظاہرے، ذرا پیچھے جائیں تونائن الیون کے بعد صلیبی جنگوں کے دوبارہ آغاز کا اعلان اور دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کی نسل کشی‘ افغانستان‘عراق میں شہریوں پر بموں کی بارش ‘ کیا یہ سب مذہبی تعصب کی بنیاد پر نہیں تھا؟لیکن پابندیاں صرف اسلامی ، انقلابی جماعتوں پر اور ریاست کو مذہب سے دور کرنے کی پالیسی صرف مسلم ممالک کے لیے ہیں ۔

ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ثابت ہوتا ہے کہ جسے ہم آج تک’’ مذہب اور ریاست کی جنگ‘‘ سمجھتے رہے ہیں وہ درحقیقت’’ ریاست اور اسلام کی جنگ ‘‘ہے اوراس کا سب سے بڑا مقصد صرف اتنا ہے کہ اسلام کا نظامِ عدلِ اجتماعی دوبارہ اُبھر کر کہیں سفید سامراج کے سامنے کھڑا نہ ہوجائے ۔ اگرآج دنیا کے کسی خطے میں اسلامی نظام عملًانافذ ہوگیا اورسرمایہ دارانہ دجل کی ڈسی ہوئی اورعدل و انصاف کی پیاسی انسانیت اس کے فطری ثمرات سے مطلع ہوگئی تو مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کا دجل و فریب اور استحصال سامنے آجائے گا ۔ جیسا کہ صرف چھ سالہ امارتِ اسلامی افغانستان کے دوران محض تنقیدی جائزہ‘جاسوسی اور دیگر عزائم لے کر آنے والے کئی ایجنٹ اور صحافی متاثر ہوکر مسلمان ہوگئے اور واپس جاکر اپنے ہی معاشرے اور نظام کے ناقد بن گئے ۔لہٰذ ااسی خطرے کے پیش نظر کہیں مصر میں اسلامی حکومت کاجبراً تختہ اُلٹ دیا جاتا ہے تو کہیں افغانستان میں لاغر سی اسلامی حکومت کو گرانے کے 48 اتحادی چڑھ دوڑتے ہیں ۔ لیکن اسلام اور ریاست کی یہ جنگ اب جس نئے دور میں داخل ہورہی ہے اس میں اسلام پسندوں کی نسبت ایلیٹ کلاس یعنی حکمران طبقہ کے لیے زیادہ آزمائشیں ہیں‘کیونکہ اب ایک طرف مغرب کی ڈیمانڈ ایسے اقدامات‘ اسمبلیوں میں ایسے بل‘عدالتوں سے ایسے فیصلے اور ایسی حکومتی پالیسیاں ہوں گی جن سے مذہبی طبقہ میں اشتعال بڑھے گا اور دوسری طرف مذہبی طبقہ کو مسلمان حکومتوں کے رو برو کھڑا کرکے تصادم کی کیفیت پیدا کرنا تازہ مغربی ایجنڈے کا حصہ ہے اور اس صورت میں ایلیٹ کلاس کو جان لینا چاہیے کہ قذافی سے مضبوط حکومت شاید موجودہ دور میں کوئی بھی نہ ہو ۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو حکمرانوں کو یہ یا دہونا چاہیے کہ پون صدی قبل جب یہاں کے مسلمانوں کو مذہب اور ریاست میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کو کہا گیا تھاتو انہوں نے مذہب کا انتخاب کیاجس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔ لہٰذا تازہ مغربی ایجنڈے کے مطابق جب ریاست اور اسلام کی جنگ شروع ہوگی تو یہاں کے مسلمان مذہب کے حق میں ہی فیصلہ دیں گے ‘ لہٰذا حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہمارے حکمرانوں اور ایلیٹ کلاس کو چاہیے کہ وہ مغرب کا ساتھ دینے کی بجائے اسلام کا ساتھ دے‘ کہ شاید اس طرح اﷲ کی مدد انہیں حاصل ہو جائے اور اﷲ عوام کے دل ان طرف پھیردیں تو عوام اپنی جان پر کھیل کر ان کا اقتدار بچا لیں جس طرح ترکی میں ٹینکوں تلے لیٹ کر عوام نے طیب اردگان کی حکومت بچائی تھی ۔بصورت دیگر تازہ مغربی ایجنڈے کے تناظر میں اب شاید ان کی مغرب نواز پالیسیاں‘ حقوقِ نسواں بل اور آئین اور ریاست کے بیانیہ میں ترامیم بھی ان کے کام نہ آسکیں۔
٭٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafiq Chohdury

Read More Articles by Rafiq Chohdury: 36 Articles with 25250 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 May, 2019 Views: 441

Comments

آپ کی رائے