ٹیکس ایمنسٹی سکیم یابھانڈے کلی کرالو؟

(Ilyas Muhammad Hussain, )

 ٹیکس ایمنسٹی سکیم بھانڈے کلی کرالو۔۔ پرانے نویں کرالو کے مترادف ہے اس گانے سے متعلق معروف گلوکار مہدی حسن نے کہا تھا میں نے زندگی میں اگر کوئی برا ،بہت برا بلکہ بہت ہی براگانا گایاہے تو بھانڈے کلی کرالو۔۔ پرانے نویں کرالو والا گاناہے اس سکیم کا حشر بھی ایسا ہی ہونے والاہے کیونکہ ماضی میں کالا دھن سفید کرانے کی جتنی بھی سکیمیں متعارف کروائی گئیں ایک بھی کامیاب نہ ہو سکی الٹا اس کی آڑ میں کئی حکومتی ارکان نے خوب فائدہ اٹھایا جبکہ قومی خزانے کو کوئی خاطرخواہ فائدہ نہیں ہوا۔ اثاثہ جات ڈ یکلیئر کرنے کی اسکیم کے آرڈیننس 2019 پرصدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے دستخط کے بعد یہ اسکیم کا اطلاق فوری طور پر پورے ملک میں ہو گئی ہے۔ ا سکیم کا اطلاق 30 جون 2019تک حاصل کیے گئے غیر اعلانیہ اثاثہ جات پر ہو گا۔ 30جون 2019تک بغیر کسی جرمانے کے بتائے گئے ٹیکس ریٹس ادا کر کے کیا سکتا ہے۔ جبکہ مختلف شرحوں سے جرمانے ادا کر کے اسکیم سے 30 جون 2020تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اگر کسی شخص نے 30جون 2019تک اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھایا تویکم جولائی 2019 سے 30ستمبر 2019تک 10فیصد زیادہ ٹیکس ادا کر کے ا سکیم سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ جبکہ 30ستمبر 2019سے 21دسمبر 2019 تک 20فیصد جرمانہ ادا کر کے ا سکیم سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ جبکہ یکم جنوری2020سے 31مارچ 2020تک 30فیصد زیادہ جرمانہ دے کر اسکیم سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جبکہ یکم اپریل 2020سے 30جون 2020تک 40فیصد زیادہ جرمانہ دے کر اسکیم سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔حکومت نے آئی ایم ایف کو سنگل ویلیو ایڈڈ ٹیکس ریجیم کے نفاذ کی تحریری یقین دہانی کرادی جس کے نتیجے میں وسط مدتی معاشی اصلاحات کے عمل کے نتیجے میں آئندہ 3 سال کے لئے صوبائی اور وفاق کی حکومت کو مزید ساڑھے 12 کھرب اضافی ٹیکس وصول ہوسکیں گے۔اس اضافی متوقع وصولیوں کی بلحاظ جی ڈی پی شرح 2.6 فیصد ہوگی۔ وفاقی حکومت کے ٹیکسز میں 2.3 فیصد کی شرح سے 10 کھرب روپے کا اضافہ ہوگا۔ آئی ایم ایف کو کرائی گئی یقین دہانی کے تحت پہلے سال 2019-20ء میں وفاقی حکومت کے ٹیکسز میں 1.1 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوگا۔2020-21ء میں 0.9 فیصد اور 2021-22ء میں محاصل 0.3 فیصد کی شرح سے بڑھائے جائیں گے۔ صوبائی حکومتوں کے ٹیکسز میں سالانہ 0.1 فیصد کی شرح سے متواترسالانہ اضافہ کیاجاتا رہے گا۔ یعنی 2019-20ء میں 1.3 فیصد سے بڑھا کر اگلے 3 سال میں 1.6 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ ٹیکس مراعات اور چھوٹ میں بھی بتدریج کمی لائی جائے گی جس کے بعد انکم ٹیکس‘ سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے قانون میں ترامیم اور تبدیلیاں لائی جائیں گی‘ تاکہ اس کی ہیئت بدل کر ایک واحد (سنگل) سیلز ٹیکس ( ویلیو ایڈڈ ٹیکس) کی شکل دی جاسکے۔ ایک اخبار نے سرکاری دستاویزات کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف نے اتفاق کیا ہے کہ مجموعی وفاقی ریونیو کو پہلے مالی سال 2019-20ء میں جی ڈی پی کی شرح میں 1.1 فیصد کے اضافے کے ساتھ بڑھایا جائے گا جس کے نتیجے میں اس میں (0.4فیصد) 175 ارب روپے سنگل ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے بیسز کے تحت آئیں گے جبکہ مذکورہ سال ٹیکس رعایتیں ختم کرنے سے (0.3 فیصد) 130 ارب روپے وصول ہوسکیں گے۔ حکومت ٹیکس اضافے کے ساتھ ساتھ ایسے ودہولڈنگ ٹیکسز بھی واپس لے گی جن کی وجہ سے بینکوں کے لین دین میں صارفین کی ترغیبات متاثر ہورہی ہیں۔ کارپوریٹ ٹیکس کو منجمد کرنے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں ردوبدل کی بھی بات کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق حکومت ایک جانب ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور ٹیکس مراعات ختم کرنے کی تحریری یقین دہانی کرارہی ہے تاکہ ان دستاویزات کی بنیاد پر آئی ایم ایف قرض دے سکے اور دوسری جانب ٹیکس چوروں کو ایمنسٹی کی ترغیب دی گئی ہے جو پالیسی میں کھلے تضاد کی عکاس ہے۔ٹیکس ایمنسٹی اسکیم 3 مراحل پر مشتمل ہو گی، دستاویزچھپائی گئی آمدن، اثاثے اور ریئل اسٹیٹ ظاہر کیے جا سکیں گے۔ کہا یہ جارہاہے کہ ایمنسٹی اسکیم کا پہلا مرحلہ 30 جون 2019 تک ہو گا۔پہلا مرحلہ 30 جون، دوسرا 30 ستمبر، تیسرا 31 دسمبر تک جاری رہے گا۔پہلا مرحلہ، اثاثے، آمدن 5 فیصد ٹیکس ادائیگی پر قانونی بنائے جا سکیں گے۔دوسرا مرحلہ، اثاثے، آمدن 10 فیصد ٹیکس ادائیگی پر قانونی بنائے جا سکیں گے۔تیسرا مرحلہ، اثاثے، آمدن 20 فیصد ٹیکس ادائیگی پر قانونی بنائے جا سکیں گے۔پہلا مرحلہ، ریئل اسٹیٹ ایک فیصد ٹیکس ادائیگی پر قانونی بنائی جا سکے گی دوسرا مرحلہ، ریئل اسٹیٹ 2 فیصد ٹیکس ادائیگی پر قانونی بنائی جا سکے گی،تیسرا مرحلہ، ریئل اسٹیٹ 4 فیصد ٹیکس ادائیگی پر قانونی بنائی جا سکے گی۔ایمنسٹی اسکیم کے تحت بیرون ملک اثاثوں کی مالیت پاکستانی روپے کی قدر کے مطابق طے کی جائے گی۔بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے پر پاکستان منتقل کرنا ہوں گے، بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے پر پاکستان بنا سرٹیفکیٹ میں سرمایہ کاری کی جا سکے گی،بیرون ملک ریئل اسٹیٹ ظاہر کرنے پر پاکستان منتقلی، بنا سرٹیفکیٹ میں سرمایہ کاری کی شرائط لاگو نہیں ہو گی۔چھپائی گئی سیلز 3 فیصد ٹیکس ادائیگی پر ظاہر کی سکیں گی۔فیصد ٹیکس ادائیگی پر سیلز ٹیکس، ایف ای ڈی کی چھوٹ ہو گی، دستاویزایمنسٹی اسکیم کے تحت ظاہر اثاثے کسی کو بطور تحفہ منتقل نہیں کیے جا سکیں گے۔ایمنسٹی اسکیم کے تحت ظاہر اثاثے فیئر مارکیٹ ویلیو سے کم پر کسی کو منتقل نہیں کیے جا سکیں گے۔ایمنسٹی اسکیم کے تحت ظاہر اثاثے تحفہ کرنے، کم قیمت پر منتقل کرنے پر ایمنسٹی ختم ہو جائے گی۔اسکیم کے تحت نقد رقم ظاہر کرنے سے قبل ڈیپازٹ کرانا ہو گی۔ایمنسٹی اسکیم کے تحت رازداری ظاہر کرنا قابل تعزیر جرم تصور کیا جائے گا، راز ظاہر کرنے پر 5 تا 10 لاکھ روپے تک جرمانہ یا ایک سال قید، یا دونوں سزائیں ہو سکیں گی۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ جو لوگ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر تنقید کررہے ہیں وہ سب وہاں سے قرضہ لے چکے ہیں۔ تین بڑے فیصلے کئے ہیں, تین سو یونٹ بجلی استعمال کرنیوالوں کیلئے بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی ,گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا ,رواں سال پی ایس ڈی پی پانچ سو ارب روپے تک رکھا جائیگا۔ ریونیو توقعات سے کم رہا ہے اس وجہ سے ایسے فیصلے کئے جارہے کہ ٹیکس وصولی ہوسکے۔ معاشی سرگرمیوں کا ڈیٹا ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کیا جائیگا۔پاکستان کے معیشت کے بنیادی نقص ہیں۔جن کی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام لینے پڑتے ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان کی ایکسپورٹس میں رتی بھر اضافہ نہیں ہوا اس سکیم کی تحت ٹیکس فائلر بننا ضروری ہوگا۔اسکیم کے تحت تاجر بیلنس شیٹ پر نظر ثانی کرسکتے ہیں۔ کیش اینڈ ہینڈ بغیر کسی ثبوت کیڈکلئئرکرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں حفیظ شیخ نے کہاکہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت اس لئے بار بار پیش آتی ہے کہ ہم نقائص کودورنہیں کرتے، پاکستان میں باہر کی سرمایہ کاری نہیں ہوتی ،بڑے بڑے ادارے خسارے میں ہیں جن کا بوجھ ریاست کو اٹھانا پڑتا ہے،امراء سے ٹیکس نہیں لئے جاتے، برآمدات کم ہیں جب تک یہ پانچ بڑے چیلنجز موجود رہیں گے ہم اقتصادی صورتحال میں بہتری نہیں لاسکتے۔ بنیادی نقائص کو دور نہ کیا گیا تو مسائل دوبارہ ابھر کر سامنے آتے رہیں گے، پہلی اسکیم ہے جس کے تحت بینکوں میں رقوم کو ظاہرکرناہوگا ,اس سے پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا بہرحال آج کسی کو یقین آئے نہ آئے ایک دن سب کہیں گے ٹیکس ایمنسٹی سکیم بھانڈے کلی کرالو۔۔ پرانے نویں کرالو کے مترادف ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 122 Print Article Print
About the Author: Ilyas Muhammad Hussain

Read More Articles by Ilyas Muhammad Hussain: 99 Articles with 21745 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: