مالکانِ اوصاف سے گزارش

(Amir jan haqqani, Gilgit)
اگر کوٸی معقول انتظام کیا گیا تو بعید نہیں کہ نٸی پود سے بہت سارے احباب ادبی شہرت،علمی وجاہت اور صحافتی قابلیت پاسکتے ہیں۔انہیں کسی نامور کی قیادت و رفاقت اور تربیت و مشاورت کی اشد ضرورت ہے ورنا نگینے ضاٸع ہوجاٸیں گے۔

کافی سال پہلے لکھا تھا کہ گلگت بلتسنان میں صحافتی سرگرمیوں کا أغاز ہوجاٸے گا۔اب یقینا صحافتی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں۔محکمہ اطلاعات بھی وجود میں أچکا ہے اور نصف درجن پریس کلبوں کے نام بھی سامنے أرہے ہیں۔صحافتی یونینز بھی ہیں اور درجن بھر اخبارات بھی گلگت سے پبلش ہونا شروع ہوچکے ہیں۔اور مقامی ٹی وی چینلز کا بھی سوچا جارہا ہے اور کچھ تجربے بھی ہورہے ہیں۔سرکار بھی صحافتی پالیسیاں بنانے پر مصر ہےاور خود صحافتی حلقے بھی اپنے لیے ضابطہ اخلاق اور اقدار کی بات کرتے دکھاٸی دے رہے ہیں، گاہے کہیں کہیں پر صحافیوں کے لیے ٹریننگ اور ورکشاپس بھی ہورہے ہیں۔ان تمام شعبوں کی بدولت بہت سارے لوگ صحافی کہلاٸے اور کچھ احباب نے کالم بھی لکھنا شروع کیا جو بہر صورت کالم نگار کہلاٸیں گے۔

یہ تمام شعبے بالکل ابتداٸی مراحل میں ہیں اور ان سے منسلک افراد بھی بالکل ابتداٸی تجربات سے گزر رہے ہیں۔ شعبوں اور اداروں کیساتھ وابستہ افراد اور لکھاریوں کو بھی عجیب قسم کے چیلنجز سے واسطہ پڑ رہا ہے۔ ٹھوس قسم کی غلطیاں بھی سرزد ہورہی ہیں اور نت نٸے تجربات بھی ہوریے ہیں اور بہت سارے نٸےافراد بھی سامنے أرہے ہیں۔صحافت کے نام پر کھلواڑ بھی ہورہا ہے اور مزاحمتی خبریں اور تحریریں بھی چھپ رہی ہیں۔کہیں اخبارات اور نامہ نگار سرکاری منتظموں، پشتینی کاسہ لیسوں، خودساختہ خداٸی فوجداروں،دین فروشوں،سیاسی پنڈتوں، مذہبی بونوں اور مادرزاد رذیلوں کی أماجگاہیں اور ترجمان بنے ہوٸے ہیں تو کہیں پر یہی اخبارات اور خبرنویس اور قلم کار اپنے قلم وخبر کی ضربوں سے ان کے درودیوار ہلادینے، ایوان لرزا دینے اور انہیں چوکنا رہنے پر مجبور بھی کررہے ہیں۔در ودیوار ہلا دینے ،انتظامیہ کے کالے بھجنگوں کو چوکنا رکھنے اور بڑے بڑے پروجیکٹس میں شراکت داروں کو بے نقاب کرنے اور مقتدر طبقوں کو لگام دینے والوں کی تعداد بہت ہی کم اور ان کے ترجمانوں اور طرف داروں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔کیونکہ سب کچھ ارتقاٸی مراحل میں ہے اور متعلقہ ادارے اور افراد کو اپنی ذمہ داریوں اور فراٸض کا نہ علم ہے نہ ہی احساس۔یہی کچھ ہونا بدیہی امر ہے لہذا یہ لوگ قصور وار بھی نہیں، سیکھنے کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اور

یہی فطری اصول ہے کہ انسان تجربات اور غلطیوں سے سیکھتا ہے اور پھر کہنہ مشق بھی بن جاتا ہے۔چونکہ مجھے اخباری صنعت اور اسے وابستہ افراد کے مساٸل اور وساٸل پر بات نہیں کرنی بلکہ اخبارات میں لکھنے والے لوکل کالم نگاروں اور متعلقہ صفحات کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔

یہ بہت خوش أٸند بات ہے کہ گلگت بلتستان سے پبلش ہونے والے تمام اخبارات میں مقامی لکھاریوں کی ایک معقول تعداد خامہ فرساٸی کررہی ہے۔ان اخبارات کے ذمہ دار مقامی لکھاریوں کی تحریریں ترجیحی بنیادوں پر شاٸع فرماتے ہیں لیکن یہ پہلو افسوسناک ہے کہ مقامی سطح پر لکھنے والوں کی اکثریت میری طرح نوأموز ہی ہے، جن پاس معلومات مکمل نہیں ہوتی ہیں،بیانیہ کمزور ہوتا ہے۔ الفاظ کا شکوت وجلال ناپید ہوتاہے، محاوروں کا استعمال غلط ہوجاتاہے، بیان میں بےساختہ پنی نہیں ہوتی، سلاست وسادگی کوسوں دور ہوتی ہے، نٸے لکھنے والے احباب کی طنز و مزاح سے طبیعت میں فرحت و انبساط کی کیفیت طاری نہیں ہوتی،اردوٸے معلی کی چاشنی بھی نظر نہیں أتی،اختلاف اور مخالفت میں فرق نہیں کرپارہے ہیں۔تنقید اور تضحیک کو گڈمڈ کردیتے ہیں۔شخصی احترام کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے۔

بعض دفعہ ان میں معاصرانہ چشمک بھی دیکھنے کو ملتی مگر اس میں نوک جھونک کی ادبی صورت گری بہت ہی ہلکی ہوتی بلکہ بازاری زبان استعمال کی جاتی ہے،أپس کی چوٹوں میں مطاٸبات کا پہلو کم ہوتا بلکہ ہفوات تک اترجاتے اور اسی پر اترایا بھی جاتا ہے۔

نٸے الفاظ اور بدیسی زبان سے در أنے والی تراکیب کا استعمال بے موقع ہوجاتا ہے۔تذکیر و تانیث کی غلطیاں تھوک سے پاٸی جاتی ہیں۔ بعض دفعہ تو کالم کا عنوان ہی غلط ہوجاتا، عنوانات اور سرخیوں میں وہ بانکپن دیکھنے کو نہیں ملتا جو ہونا چاہیے،اس میں تنوع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

اگر کوٸی معقول انتظام کیا گیا تو بعید نہیں کہ نٸی پود سے بہت سارے احباب ادبی شہرت،علمی وجاہت اور صحافتی قابلیت پاسکتے ہیں۔انہیں کسی نامور کی قیادت و رفاقت اور تربیت و مشاورت کی اشد ضرورت ہے ورنا نگینے ضاٸع ہوجاٸیں گے۔

گلگت سے شاٸع ہونے والے اخبارات کسمپرسی کا شکار ہیں،مالکان کا یہی رونا رونا ہے کہ انکا کچومر نکل رہا ہے اور بزنس ڈوب رہا ہے۔ اس کیساتھ ہی مالکان وژن و مشن اور ندرت وجدت سے بھی عاری ہیں۔پروفیشنلزم کا خاک علم نہیں اور نہ ہی اسکی ضرورت محسوس کرتےہیں۔

سرکار بھی اور اس کے متعلقہ ادارے بھی وژنری افراد سے خالی ہیں بلکہ وہ تو لین دین میں مصروف ہیں، ان کو أگے بڑھا رہے ہیں جن کو صحافت میں ہی نہیں ہوناچاہیے یا جن کے پاس قلم ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ایسے میں ایک امید روزنامہ اوصاف سے بندھتی ہے کیونکہ اوصاف ایک منظم نیٹ ورک رکھتا ہے اور پرانے پبلشرز ہیں اور ٹھیک ٹھاک مالدار گروپ بھی ہے۔میری اطلاعات مگر یہی ہیں کہ مہتاب خان اور محسن بلال خان اپنے پیشے کیساتھ مخلص ہیں اور مقتضاٸے حال کو سمجھتے بھی ہیں اور اہل علم وقلم کی پریشانیوں سے بھی واقف ہیں اور قدردان بھی ہیں۔اوصاف کے مالکان سے گزارش ہے کہ وہ مقامی کالم نگاروں کی ایک ٹیم تشکیل دے، اور ایک دو کہنہ مشق قلم کار بھی ان کی معاونت کے لیے مقرر کیے جاٸیں۔ ہر تحریر پروف ریڈنگ اور ایڈیٹنگ کے مراحل سے گزرکر شاٸع ہو، اور انہیں مکمل رہنماٸی و مشاورت کیساتھ بہترین تربیت ملے۔یقینا اچھا لکھنے کے لیے اچھا پڑھنا پڑے گا اور اچھا پڑھنے کے لیے فرصت کیساتھ رہنماٸی اور کچھ مالی تنگ دستیوں سے أزادی بھی ضروری ہے۔اس کے لیے لکھنے والوں کو ابتداٸی طور پر ایک مناسب معاوضہ دینا ہوگا۔پھر متنوع موضوعات پر لکھنے کی ڈیمانڈ بھی کی جاوے۔اوصاف گلگت بلتستان کے ذمہ دار برادرم ایمان شاہ خود سینٸر صحافی ہیں۔اور کالم نگار بھی۔ان کے کالموں کی کاٹ زبردست ہوتی اور تجزیہ معقول۔وہ اگر خلوص دل سے یہ تجویز اوصاف کے مالکان کے سامنے رکھے تو وہ یقینا کوٸی انتظام کرلیں گے۔اور شاہ جی کو ٹیم بنانے کی ذمہ داری سونپ دیں گے۔ شاہ جی خود بھی مقامی لکھاریوں کی تحریریں ترجیحی بنیادوں پر شاٸع کرواتے ہیں۔اگر شاہ جی لکھنے والوں کی ایک ٹیم بناسکے جو بہت اچھا لکھیں اور ان کی کچھ حوصلہ افزاٸی بھی ادارے کی طرف سے ہوجاٸے تو یقینا مستقبل قریب میں گلگت بلتستان سے بڑے نام پیدا ہوسکتے ہیں جن کے تجزیوں، تبصروں اور اداریوں اور ادبی و علمی اور صحافتی تحریروں سے ملک بھر میں استفادہ کیا جاسکتا ہےبالخصوص سیاحت پر اچھے سے اچھا اور زیادہ سے زیادہ لکھنے کی ضرورت ہے۔گلگت بلتستان کے قلم کاروں کومالی معاونت، مشاورت،تربیت اور رہنماٸی کی ضرورت ہے۔ کیا اوصاف کے مالکان اس طرف توجہ دے سکیں گے؟ کیا ایمان شاہ صاحب اس کارخیر کے لیے سنجیدہ کوشش کریں گے؟۔اگر اس ضرورت کی طرف کان دھر لیے گٸے تو أپ حضرات تاریخ میں امر ہوجاٸیں گے۔بزنس تو ویسے بھی چلتا رہے گا۔یہ کام کوٸی اور ادارہ یا اخبار بھی کرسکتا ہے۔ اور جب گلگت بلتستان میں صحافت خوب پھلے پھولے گا تو یہی افراد کام أٸیں گے۔اور ایک بڑی ضرورت کو پورا کریں گے۔نان پروفیشنلزم سے چھٹکارا ملے گا۔اب تک مجھے نہیں معلوم کہ کسی سرکاری یا غیرسرکاری ادارے یا پبلشنگ ہاوس نے گلگت بلتستان کے قلم کاروں بالخصوص اخبارات اور ویب ساٸٹس میں کالم لکھنے والوں کی کوٸی حوصلہ افزاٸی کی ہو۔بہر صورت کسی ایک کوتو أگے بڑھنا ہوگا۔سو بسم اللہ کیجے۔اللہ ہمارا حامی وناصر ہو-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 335 Articles with 180950 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More
02 Jun, 2019 Views: 378

Comments

آپ کی رائے