مشرق وسطی میں ہتھیاروں کی دوڑ کا ذمے دار کون ؟

(Qadir Afghan Khan, Lahore)

مشرق وسطی میں عرب ، ایران تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی مشرق وسطی میں ہتھیاروں کی دوڑ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ جس کا مکمل فائدہ امریکا سمیت اُن ممالک کو ہے جو دنیا میں خانہ جنگیوں و جنگوں کا سبب بنتے ہیں اور پھر دفاع کے نام پر اُس مملکت کے تمام معاشی وسائل کو نچوڑنا شروع کردیتے ہیں۔ گذشتہ دنوں معروف امریکی نیوز چینل کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی۔امریکی نیوز چینل ''سی این این'' نے اپنی ایک رپورٹ میں ''مشرق وسطی میں ہتھیاروں کی دوڑ'' پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ قیود اور روک سعودی عرب کو دفاعی ہتھیاروں سے لیس ہونے سے نہیں روک سکی۔یہاں اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت دوچند ہوجاتی ہے کہ سعودی عرب خود کو کیوں دفاعی ہتھیاروں سے لیس ہونے کی کوشش کررہا ہے، تو اس کی واضح وجہ موجود ہے کہ سر زمین حجاز کو بیرونی قوتوں سے جارحیت کا سامنا ہے ۔ وگر ایسا ملک(یمن) جو اپنی عوام کی غذائی قلت کو پورا نہیں کرسکتا ، وہ مہنگے و جدید ترین بلاسٹک میزائلوں اور ڈروں حملوں کے لئے وسائل کہاں سے لارہا ہے ؟۔ یقینی طور پر یہ وسائل ایسے ممالک( عرب مخالف) فراہم کررہے ہیں جو بلیک مارکیٹ سے منہ مانگی قیمت پر اسلحہ خریدتے ہیں اور اُن قوتوں کو دیتے ہیں جو جدید ہتھیاروں کو خریدنے کی استطاعت تو نہیں رکھتے لیکن عالمی قوتوں کے عزائم پورے کرنے کے لئے کرائے کے فوجی کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔ امریکا نے سعودی عرب کے ساتھ 110ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی ڈیل کی تھی ۔ لیکن کانگریس کی جانب سے سعودی عرب کو اپنے دفاع کے لئے امریکی ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کردی گئی ۔ لیکن امریکی صدر کی پوری دلچسپی اس بات پر مرکوز رہی ہے کہ پوری دنیا صرف امریکا سے ہتھیاروں کی خرید و فروخت کریں ۔ کانگریس کی جانب سے جب پابندیوں کا اطلاق ہوا تو سعودی عرب نے اپنی پالیسی کے تحت صرف امریکا پر انحصار نہیں کیا بلکہ روس سمیت دیگر ممالک سے اربوں ڈالرز کے معاہدے کرلئے ۔ سی این این رپورٹ کے مطابق ''سعودی عرب کی جانب سے ہتھیاروں کی خرید درحقیقت نسبتا کم رہی''۔ گذشتہ برس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کی تصدیق شدہ خریداری کی مالیت صرف 14 ارب ڈالر رہی۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی صدر نے نقصان کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کانگریس کو بائی پاس کرتے ہوئے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کیا تاکہ سعودی عرب، امارات اور دیگر ممالک کو 8 ارب ڈالر مالیت کا خریدا گیا اسلحہ جلد منتقل کیا جا سکے۔ یہ اقدام خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے کیا گیا۔ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو توسیع کے لئے چین سے بھی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ 1987 میں طے پانے والا سمجھوتا سعودی عرب کو ایسی امریکی ٹکنالوجی کی خریداری سے روکتا ہے جو وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی حامل ہو سکتی ہے۔ لہذا سعودی عرب نے بیجنگ کا رخ کیا۔ چین کے ساتھ مذکورہ خریداری کا حجم واضح نہیں تاہم یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سعودی مملکت خطے میں سب سے بہتر اسلحہ خانہ حاصل کرنے کے واسطے کوشاں ہے۔امریکی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب ابھی تک جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر روک لگانے کے معاہدے پر کاربند ہے۔دوسری جانب ریاض ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے تعاون سے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کھلا موقف رکھتا ہے۔ ایجنسی نے گذشتہ برس جولائی میں ایک ٹیم سعودی عرب بھیجی تھی جس کا مقصد اس حوالے سے تعمیراتی منصوبوں کے مقامات کا معائنہ کرنا تھا۔ سعودی عرب بارہا یہ اعلان کر چکا ہے کہ یہ پروگرام پر امن ہے۔ اگرچہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ سعودی عرب جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ہے تاہم جس طرح سر زمین حجاز پر حملوں میں تیزی آتی جا رہی ہے اور عالمی قوتیں بھی دباؤ میں اضافہ کررہی ہیں اس سے ظاہری طور پر سعودی عرب کا ایٹمی پروگرام کی جانب رجحان موجود ہے۔ یاد رہے کہ ریاض کے مضافات میں ارجنٹائن کے تعاون سے ری ایکٹروں کا کام مکمل کر لیا گیا ہے دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ سعودی عرب نے متعدد امریکی کمپنیوں سے جوہری ٹکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کی جن کے بارے میں انکشاف نہیں کیا گیا۔ مذکورہ کمپنیوں کو امریکی وزارت توانائی کی جانب سے سات پرمٹ جاری کیے گئے تھے۔ ان اجازت ناموں کو ''پرمٹس 810'' کا نام دیا گیا اور ان کے سبب ڈیموکریٹس قانون ساز مشتعل ہوگئے۔ ڈیموکریٹس کو اس معاملے میں غیر معمولی رازداری پر اعتراض تھا۔ مذکورہ پرمٹس کے اجرا کی تاریخوں کا انکشاف ہوچکا ہے ۔ البتہ امریکی کمپنیوں کے نام اب بھی خفیہ رکھے گئے ہیں۔ سعودی ذمے داران کا کہنا ہے کہ جوہری ری ایکٹرز سمندری پانی کے Desalination کے عمل میں فائدہ مند ہوں گے۔تاہم خریداری کے عمل کی رازداری نے ایٹمی طاقت رکھنے والوں کے کان کھڑے کردیئے ہیں کہ سعودی عرب کے منصوبے کا ایجنڈا اس سے زیادہ وسیع ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب وژن 2050کے تحت قدامت پسندی سے ترقی پسندی کی جانب روبہ گامزن ہے ۔ روایتی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے کی پالیسی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کو جدت پسندی کی جانب لانے کے لئے بڑے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ سر زمین حجاز ہونے کی نسبت عالم اسلام کا والہانہ لگاؤ فطری ہے۔ اس لئے سرز مین حجاز کی حفاظت کے لئے سعودی عرب کی جانب سے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی کھلی حمایت کا اعادہ اعلان مکہ میں بھی کیا گیا اور اعلامیہ میں خطے کو درپیش خطرات سے آگاہی کے لئے مسلم اکثریتی ممالک کو اعتماد میں لیا گیا ۔گو کہ قطر نے مشترکہ اعلامیہ سے یو ٹرن لیا ، لیکن مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں قطر کی حمایت حاصل تھی ۔ مشترکہ اعلامیہ کے بعد قطر کا یو ٹرن لے لینا مناسب نہیں سمجھا گیا ۔ یہاں بات مشرق وسطی میں صرف سعودی عرب تک محدود نہیں ہے ۔ یہ سب جانتے ہیں کہ بشار رجیم نے ایران اور روس کے ساتھ مل کر بڑی تعداد میں جہاں پرائیوٹ فوجی دوران جنگ استعمال کئے تو دوسری جانب ان ممالک کے جدید ہتھیاروں و جنگی ساز وسامان کو بھی حاصل کیا ۔ خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے اور یمن میں حوثی باغیوں کی بیرونی امداد کے سبب جنگ کا دائرہ بڑھتا چلا گیا ۔ ترکی بھی شام کی جنگ میں کرد باغیوں کی وجہ سے جنگ میں شامل ہوا اور دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لئے امریکا کے ساتھ F-35جنگی طیاروں کا معاہدہ کیا ۔ اس کے ساتھ روس سے بھی دفاعی میزائل پروگرام S-400کا بھی معاہدہ کرلیا ۔ جو امریکا کے لئے ناقابل قبول بنا ۔امریکہ نے کہا ہے کہ ترکی کی جانب سے روسی ایس 400 فضائی دفاع کے نظام کا حصول ’لوک ہیڈ مارٹن کارپوریشن‘ کے ایف 35 اسٹیلتھ فائٹرز کے لیے خطرے کا باعث ہے، جسے ترکی خریدنا چاہتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ترکی ایکساتھ یہ دونوں کام نہیں کر سکتا۔ امریکی وزیر دفاع شناہان نے اپنے مراسلے کے ذریعے ترکی کو یہ پیغام دیا کہ ’’ایف 35 کی اب کوئی نئی تربیت نہیں ہوگی‘‘۔ مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ اس سال کے اواخر میں 34 طالب علموں کو ایف 35 کی تربیت دی جانی تھی۔مراسلے کے ہمراہ روانہ کی گئی ایک اٹیچمنٹ کا عنوان ہے: ’’ایف 35 پروگرام میں ترکی کی شرکت کا خاتمہ‘‘۔ بقول ان کے، ’’اب یہ تربیتی پروگرام نہیں ہوگا، چونکہ ہم ترکی کو ایف 35 پروگرام سے معطل کرتے ہیں۔ ان نظاموں میں مہارت کے حصول کی اب کوئی ضرورت باقی نہیں رہی‘‘۔اپنے مراسلے میں، شناہان نے چوکنا کیا کہ ترک اہل کاروں کے لیے ’لوک ایئر فورس بیس‘ اور ’اگلین ایئر فورس بیس‘ پر تربیت ختم کیے جانے کا باضابطہ اعلان جولائی کے آخر میں کر دیا جائے گا۔شناہان نے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ طے شدہ وقت کا ذکر واضح کرتا ہے کہ سارے نہیں بلکہ ایف 35 پر موجودہ تربیت حاصل کرنے والے ترک طالب علم کورس مکمل کر سکتے ہیں، جنھیں 31 جولائی، 2019ء تک امریکہ سے واپس جانا ہوگا۔ اب بھی آپ کے پاس یہ متبادل ہے کہ ایس 400 کے معاملے پر فیصلہ تبدیل کر لیں‘‘۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ امریکا مشرق وسطی میں صرف اپنی اجارہ داری چاہتا ہے تو غلط نہیں ہوگا ، کیونکہ امریکا ماضی میں سعودی عرب و عرب ممالک سے مشرق وسطی میں موجودگی کا معاوضہ طلب کرچکا ہے کہ امریکا کی وجہ سے سعودی عرب کی حفاظت کی گئی ، جس کا سخت ردعمل سعودی عرب کی جانب سے دیا گیا ، اسی طرح ترکی ، امریکی بلاک میں ہونے کے باوجود شام جنگ میں امریکا کے بعض اقدامات کی وجہ سے اپنی خود مختاری قائم رکھنے کے لئے امریکی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے روس کے ساتھ ایس 400فضائی دفاعی نظام کا معاہدہ کرلیا ۔ اب امریکا چاہتا ہے کہ ترکی پر اپنا دباؤ بڑھا کر ترکیاور روس کے درمیان دفاعی معاہدے کو منسوخ کرائے لیکن ترکی کی جانب سے باغیوں کردوں کو امریکی سپورٹ حاصل ہونے کے سبب اعتماد سازی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کردستان کے منصوبے میں ترکی کو امریکا سے تحفظات کا سامنا ہے ، اسی طرح مملکت شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا میں تاخیر بھی امریکا کے قول وفعل کے فرق نمایاں کرتی ہے۔جس کی وجہ سے امریکا پر مشرق وسطی کے ممالک کا اعتماد کم ہوا ہے اور دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 221 Print Article Print
About the Author: Qadir Afghan Khan

Read More Articles by Qadir Afghan Khan: 309 Articles with 91582 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: