مصر کے سابق صدر ڈاکٹرمحمدمرسی کا کمرہ عدالت میں انتقال (حصہ دوم )

(Arif Jameel, Lahore)
مصری صدرڈاکٹر محمد مرسی عیسیٰ العیاط کی حالات ِزندگی۔۔۔ تعلیم۔ شادی۔ بچے ۔ سیاست اور بہت سی زندگی کی معلومات صدر کے عہدے پر پہنچنے تک ۔ مصر کا صدر بننے کے بعد اگلی قسط میں۔۔ (جاری ہے )

ڈاکٹر محمد مرسی اور اُنکی بیوی

مصری صدرڈاکٹر محمد مرسی عیسیٰ العیاط کی حالات ِزندگی
جب 24 ِ جون 2012 ءکو مصرکے نئے صدر منتخب ہوئے تو اُنھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ :
" میں تمام مصریوں کا صدر ہوں اور تمام بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کروں گا"۔
اسکے ساتھ ہی اُنھوں نے فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کی سربراہی سے اور اخوان المسلمون کی بنیادی رُکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔وہ سمجھتے تھے کہ ملک کا صدر بننے کے بعد ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق جائز نہیں۔

محمد مرسی 20 ِ اگست 1951 ءمیں عدویٰ نامی گاﺅں واقع مصری صوبے شرقیہ کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔وہ اپنے پانچ بھائیوں میں سے سب سے بڑے تھے۔ وہ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کیلئے چھوٹی سی عمر میں خچر پر بیٹھ کر مقامی اسکول جاتے۔جس گھر میں والدین کے ساتھ رہائش تھی شاید اُسکی چار دیواری بھی باقاعدہ طور پر نہیں تھی جسکی وجہ سے گھر کے ارد گرر چھوٹے موٹے چرند پرند پھرتے نظر آتے تھے۔

اس غربت میں بھی تعلیمی آغاز اُنکے لیئے آب کاری ثابت ہوا اورتعلیمی میدان میں کامیابیوں کا سلسلہ کچھ ایسا شر وع ہو ا کہ قاہرہ یونیورسٹی مصر سے 1975 ءمیں گرایجویٹ اور 1978 ءمیں انجینئرنگ میں ماسٹرکی ڈگری حاصل کر لی۔اس ڈگری نے جو اعتماد بخشا تو فیصلہ کیاکہ مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے بیرون ِملک جایا جائے۔

اس دوران اُنکی شادی خاندان کی ایک لڑکی نجلاءعلی جو اُن سے عمر میں گیارہ سال چھوٹی تھیں سے کر دی گئی۔وہ بھی غربت کے باوجود ہائی سکول تک تعلیم حاصل کر چکی تھیں۔دونوں کی شادی کو ابھی تین دن ہی ہوئے تھے کہ محمد مرسی پی ایچ ڈی (Phd) کرنے کیلئے یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا ،امریکہ چلے گئے اور نجلاءعلی محمود انگریزی پڑھنے کیلئے قاہرہ۔ پھرکم وبیش دوسال کے اندر ہی وہ بھی امریکہ کے شہر لاس اینجلس ریاست کیلی فورنیا میں اپنے خاوند کے ساتھ تھیں۔ 1982 ءمیں اپنا Phd کا تحقیقی مقالہ مکمل کرنے سے لیکر 1985ءتک وہ کیلی فورنیا کی ہی ایک دوسری یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر بھی رہے۔ پھر اس ہی سال ڈاکٹرمحمد مرسی واپس مصر آگئے۔

اُنکی بیوی نجلاءمرسی نے اپنے ملک واپس جانے پر کچھ اعتراض کیالیکن اُنکے آگے ضد نہ کی۔صرف اُنکی خواہش تھی کے اُنکے وہ دو بیٹے جو وہاں پیدا ہوئے اور امریکہ کی شہریت کے حامل بھی ہیں امریکہ میں ہی اپنی تعلیم کا آغاز کریں۔لیکن محمد مرسی اُنکی تعلیم وتربیت کیلئے اپنے وطن کو بہتر سمجھتے تھے۔بہرحال اُنھوں نے مصر آکر اپنے آبائی صوبے کی شرقیہ یونیورسٹی زقازیق پڑھنا شروع کردیا،لیکن آمدن میں اضافے کی خاطر 1988 ءتا1992ءتک لیبیا یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی تعلیم دیتے رہے۔جس سے اتنی رقم جمع ہو گئی کہ زقازیق شہر میں ایک اپارٹمنٹ اور کار کی خریداری کر سکیں۔

ڈا کٹر محمدمرسی جب لاس اینجلس میں تھے تو وہاں اُنکا رابطہ مصر کی قابل ِذکر جماعت " اخوان المسلمون " سے ہوا ۔میاں بیوی دونوںنے اُس کی رُکنیت حاصل کر لی ۔یہ دینی نظریات رکھنی والی جماعت کو اِسکے بانی حسن البنا نے 1928 ءمیں قائم کر کے مصر میں اسلامی نظام کی تحریک کی بنیاد رکھ دی تھی اور اسکو پزیرائی بھی بہت ملی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب مصرحکومت ِبرطانیہ کے زیر ِحفاظت تھا۔1949 ءبانیِ جماعت کو قاہرہ کے ایک بازار میں قتل کر دیاگیا۔ جسکی وجہ سے تحریک کچھ مدت کیلئے دب گئی ۔

مصر میں 1952 ءکے فوجی انقلاب کے بعد تحریک نے زور پکڑنا شروع کر دیا جو کہ فوجی حکمرانوں کو پسند نہ آیا۔ لہذا آئے دِن جماعت سے متعلقہ افراد کو اُنکے ظلم وستم کا سامنا کرنا پڑتا رہتا۔لیکن تب سے آج تک مذہب اور سیاست کو الگ کرنے کا فوجی حکومتوں کا خواب اس جماعت کی وجہ سے پورا نہ ہو سکا۔ محمد مرسی نے جماعت سے رابطے کے بعد ملک واپس آکر تنظیم کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔اسطرح ا یک طرف اپنی بیوی اور پانچ بچوں کی ذمہ داری تھی اور دوسری طرف تنظیم سے وابستگی کا یہ حال کہ وقتاً فوقتاً حکومت ِوقت کی قید و بند کو بھی برداشت کرتے ہوئے جیل میںرہتے۔
ایک دفعہ تو 2006 ءمیں وہ اپنی بیوی کو کہہ گئے تھے کہ موجودہ احتجاجی تحریک میں جان جانے کا بھی خطرہ ہے۔لیکن اُنھیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا اور اگلے سات ماہ تک اُنکے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں کہ وہ کہاں ہیں؟ بعدازاں اُنکے تینوں بڑے بیٹے بھی حکومت کے زیر ِعتاب رہے۔ محمد مرسی کا سلسلہ ِ زندگی کچھ ایسے ہی نشیب ِفراز سے ہمکنار تھا کہ جنوری 2011 ءمیں مصر کے شہر و دارلخلافہ قاہرہ کے "تحریر اسکوائر" میں صدر حُسنی مبارک کے خلاف ایسی عوامی تحریک کا آغاز ہو ا جو انقلاب کی شکل اختیار کر گئی ۔ جانی نقصان تو ہوا لیکن کئی دہائیوں کے بعد عوام کو کامیابی حاصل ہو گئی اور صد ر حُسنی مبارک مصر کی صدارت سے دستبردار ہو گئے۔

محمد مرسی اخوان المسلمون پر پابندی کی وجہ سے 2000 ءتا2005ءتک مصری پارلیمان کے آزاد حیثیت میں رُکن رہے۔اسکے ساتھ وہ جماعت کے شوریٰ کے رُکن بھی تھے۔ لہذا مصری انقلاب 2011 ءمیں کامیابی کے ساتھ ہی جماعت نے اپنا سیاسی ونگ " فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی " کے نام سے قائم کیا اور محمد مرسی کو اُس کا سربراہ مقرر کر دیا۔اُنھوں نے اس نئی ذمہداری کیلئے شوریٰ کی رُکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ بعدازاں مصر میں پارلیمان کے انتخابات کا مرحلہ سامنے آگیا۔مصر میں قومی اسمبلی ،سینٹ اور صدر مملکت براہ ِراست عام انتخابات کے ذریعے منتخب کیئے جاتے ہیں۔بہرحال پارلیمان کے پہلے دونوں مراحل میںاخوان المسلمون اور اُن کے ساتھ ایک اور جماعت النور کے نام سے سلفی تحریک نے نمایاں کامیابی حاصل کر لی۔ اب اگلا مرحلہ صدارتی انتخابات کا تھا۔

مئی جون 2012 ءمیں منعقد ہونے تھے۔ نئی پارلیمان نے قانون منظور کیا کہ سابقہ صدر کے ساتھ کام کرنے والا کوئی فرد بھی صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا۔ فوجی کونسل کو عوامی حکومت کی کامیابی یقنی نظر آرہی تھی لہذا حُسنی مبارک کی متعین کردہ عدلیہ آگے بڑھی اور پوری نئی پارلیمان کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا۔ساتھ میں حُسنی مبارک کے آخری دور کے وزیر اعظم ریٹائر ایئر مارشل احمد شفیق کو فوج کا اُمیدوار سمجھتے ہوئے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ اخوان المسلمون نے اس عہدے کیلئے انجینئر خیرت الشاطر کو اپنا اُمیدوار نامزد کیا تھا لیکن اُنکو نااہل قرار دینے پر متبادل اُمیدوار ڈاکٹر محمدمرسی میدان میں آگئے ۔

صدارتی انتخابات منعقد ہوئے تو محمد مرسی نے 24.3 فیصد ووٹ حاصل کیئے مدِمقابل احمد شفیق نے 23.6 فیصد۔چونکہ اس عہدے کیلئے کم ازکم 50 فیصد سے زائد ووٹ لینا ضروری تھا لہذا رن آف الیکشن کا مرحلہ آ گیا۔جس پر محمد مرسی نے اسلامی جماعتوں کے علاوہ ہر اُن سے اپیل کی جو انقلاب ِمصر میں پیش پیش تھے کہ اگلے مرحلے میں اُنکو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں تاکہ آمریت کی قوتوں کو شکست دے کر انقلاب کے مثبت نتائج برآمد ہو کیئے جا سکیں۔ انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرادی جو کہ جماعت کے سخت مخالف رہ چکے تھے نے اُنکی حمایت کردی۔ فوجی کونسل نے اپنی چال چلی اور رن آف الیکشن سے تیرہ گھنٹے پہلے پارلیمان تحلیل کر دی۔یہ وہ وقت تھا کہ جب اُنھوں نے ،اُنکی جماعت نے اور اتحادیوں نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 16 ِ اور 17 ِ جون 2012 ءکو ا نتخاب میں حصہ لیا اور 51.73 فیصدووٹ لیکر کامیاب قرار پائے۔ مدِ ِمقابل احمد شفیق 48.27 فیصد ووٹ حاصل کیئے ۔
(جاری ہے ) اگلی قسط صدر سے فوجی بغاوت تک
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 294 Print Article Print
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 128 Articles with 118838 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More

Reviews & Comments

Language: