صاحب دلائل الخیرات امام جزولی کا ذکر خیر

(مدثر جمال, bahawalpur)

علمائے امت نے درود و سلام کے جو الفاظ و کلمات جمع کر کے کتابی شکل میں جمع کیے ہیں ان میں سب سے مشہور اور مقبول مجموعہ ’’دلائل الخیرات‘‘ ہے جو امام جزولی قدس اللہ سرہ کی تالیف لطیف اور تصنیف مبارک ہے ۔

اس مجلس میں انہی عظیم شخصیت کا مختصر تعارف پیش کرنا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے درود و سلام کے ایسے صیغے اور کلمات الہام فرمائے جو عرب و عجم کے اہل علم اور اہل صلاح و تقویٰ کے ہاں مقبول ٹھہرے اور اپنے علم کی حدتک یہ کہا جاسکتا ہے کہ اتنی مقبولیت اور کسی بھی مجموعے کو نہیں ملی جس قدر اس مبارک مجموعے کوملی ہے ۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء

امام جزولی قدس اللہ سرہ کا نام: محمد

کنیت: ابو عبداللہ

اور سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے:

ابو عبد اللہ محمد بن عبدالرحمن بن ابوبکر بن سلیمان السملالی السوسی الجزولی (قدس اللہ سرہ)

آپ خطہَ مغرب کے جلیل القدر صوفیاء میں سے ہیں ، حتی کہ ان کے زمانے میں ’’سلسلہ شاذلیہ ‘‘ کی امامت و ریاست اور شہرت و مقبولیت ان پر ختم تھی، اور ان کے سے استفادہ کرنے والوں سے مزید کئی شاخیں وجود میں آئیں ۔

مرکز الامام الجنید للابحاث و الدراسات پر موجود مقالات میں امام جزولی کی شخصیت کا تعارف کراتے ہوئے لکھا گیا ہے:

’’امام موصوف عالم باعمل، ہدایت یافتہ امام، اور ان لوگوں میں سے تھے جنہیں دینی اور حسبی، علمی اور عملی دونوں شرف میسر ہوتے ہیں ، امام موصوف ربانی شریف احوال، بلند مرتبہ مقامات، اونچی ہمت، پسندیدہ رحمانی اخلاق، اور عمدہ طریقے کے حامل تھے، علم لدنی، سرربانی، کمال درجے کی قوت تصریفیہ ، اوربڑی کرامات اور خوارق عادات سے مشہور تھے ۔ ‘‘(اظہار الکمال فی تتمیم مناقب سبعۃ رجال لعباس بن ابراھیم السملالی)

علمائے مالکیہ کے حالات پر لکھی گئی مشہور کتاب ’’ شجرۃ النور الزکیہ‘‘ کے مولف ان کے بارے میں لکھتے ہیں :

الشریف الحسنی الفقیہ، الامام شیخ الاسلام، عَلَمُ الاعلام، العالم الشیخ الکامل، العارف باللہ الواصل، صاحب الکرامات الکثیرۃ و المناقب الشہیرۃ۔۔۔ اخذ عن ائمۃ علم الظاہر و الباطن و انتفع بھم و عنہ اخذ خلائق لایحصون کثرۃ و انتفعوا بہ ۔ (اظہار الکمال فی تتمیم مناقب سبعۃ رجال لعباس بن ابراھیم السملالی)

’’امام موصوف حسنی النسب شریف، فقیہ، امام، شیخ الاسلام، بڑے علماء میں نامور عالم، کامل شیخ، واصل عارف باللہ، اورڈھیروں کرامات اور مناقب سے متصف ہیں ۔

امام موصوف نے علم ظاہر و باطن کے جمع علماء سے علوم و فیوض حاصل کیے اور ان سے استفادہ کیا، پھر خود ان سے لاتعدادلوگوں نے علوم و فیوض حاصل کیے اور ان سے مستفید ہوئے ۔ ‘‘

شیوخ اور علمی اسفار:

امام جزولی سات سال تک علوم و فیوض کی تلاش میں سفر کرتے رہے، اور ان سات سالوں میں انہوں نے سرزمین حجاز، مصر، بیت المقدس، اور فاس علاقوں کے اسفار کیے اور اس دوران جامعۃ الازہر میں شیخ عبدالعزیز العجمی رحمہ اللہ تعالیٰ سے اور فاس کے دوسرے سفر میں امام زروق الفاسی رحمہ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے شیخ ابوعبداللہ محمد امغاز الصغیر رحمہ اللہ تعالیٰ سے اصلاحی و سلوکی تعلق قائم کیا ۔

تلامذہ:

امام موصوف نے علمی و روحانی استفادہ کرنے والوں کی تعداد بہت ہے مگر ان میں چند معروف شخصیات درج ذیل ہیں :

شیخ احمد بن عمر الحارثی المکناسی رحمہ اللہ تعالیٰ

شیخ عبدالعزیز التباع رحمہ اللہ تعالیٰ

شیخ ابوعبداللہ الصغیر السہیلی رحمہ اللہ تعالیٰ

دلائل الخیرات کی وجہ تصنیف:

امام موصوف ایک مرتبہ شہر فاس میں قیام کے دوران وضو کے لیے ایک کنویں پر پہنچے مگر وہاں کوئی ڈول وغیرہ موجود نہیں تھا جس سے پانی نکالتے، اسی پریشانی میں ادھر ادھر کچھ تلاش کررہے تھے کہ اتنے میں وہاں ایک باپردہ عزت دار خاتون پہنچی اور ان سے پریشانی کا سبب پوچھا جو انہوں نے بتادیا ۔ اس خاتون نے ان سے تعارف پوچھا جو انہوں نے بتادیا تو اس خاتون نے ان سے کہا کہ آپ تو بڑے امام اور شیخ مشہور ہیں اور ایک ڈول کے لیے پریشان ہیں ۔

پھر وہ خاتون کنویں کے کنارے پر آئیں اور دیکھتے دیکھتے ہوکنویں کا پانی اوپر منڈیر تک چڑھ آیا، تب اس خاتون نے امام جزولی سے کہا: آئیے اب وضو کر لیجیے!

یہ ماجرا دیکھ کر امام جزولی نے قسم کھائی اور کہا کہ میں تب تک وضو نہیں کروں گا جب تک تم مجھے بتانہیں دیتی کہ تمہیں یہ مقام و مرتبہ اور اعزاز کس عمل کی بدولت ملا؟

اس پر اُس خاتون نے کہا: یہ درود و سلام کی کثرت کی برکت ہے ۔

بس یہ واقعہ امام جزولی کے دل پر ایسا اثر انداز ہوا کہ انہوں نے سیدھا جامعۃ القرویین کا رُخ کیا جو اسلامی مغربی دنیاکا قدیم ترین علمی مرکز ہے اور وہاں کی لائبریری میں بیٹھ کر انہوں نے یہ عظیم الشان کتاب ’’دلائل الخیرات‘‘ تالیف کی، اور اس اخلاص اور ہمت سے تالیف کی کہ جس کی مقبولیت آج پر چہاردانگ عالم کو گھیرے ہوئے ہیں ۔

تالیفات:

امام جزولی کی اس معروف تالیف کے علاوہ کے بھی درج ذیل تالیفات کا تذکرہ ملتا ہے:

عقیدۃ الجزولی

کتاب الزہد

الحزب الکبیر

حزب الفلاح (معروف بہ الحزب الصغیر)

وفات:

سنہ 869 ہجری ماہِ ذیقعدہ بدھ کے دن فجر کی نماز کی دوسری رکعت کے پہلے سجدے میں آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی اوراس وقت آپ آفوغال شہر میں مقیم تھے، وہیں اپنے لیے ایک مسجد بھی تعمیر کی تھی، چنانچہ وفات کے بعد ظہر کے وقت اسی جگہ انہیں دفن کیا گیا ۔

متعدد اہل علم نے لکھا ہے کہ امام موصوف کو (بعض حاسدین وغیرہ نے)زہر کھلادیا تھا اور اسی کے اثر سے امام موصوف کی وفات ہوئی ، گویا کہ اللہ تعالیٰ فی الجملہ نبی کریمﷺ کی اِتباع نصیب فرمائی اور شہادت کا مقام نصیب فرمایا ۔

نوٹ: لیبیا کے معروف ادیب اور مورخ علامہ دکتور احمد القطعانی نے امام جزولی کے حالات و سوانح پر دلیل الخیرات‘‘ کے نام سے ،مستقل کتاب تالیف ہے، جو لیبیا کے شہر طرابلس سے سنہ1438ھ مطابق 2017ء میں طبع ہوئی ہے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 209 Print Article Print
About the Author: mudasser jamal

Read More Articles by mudasser jamal: 195 Articles with 141103 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: