کشمیر پر بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کا قیام

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

اقوام متحدہ کی دوسری رپورٹ منظر عام پر آنے کے باوجود بھارت نے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔بھارتی اعتراضات نظر انداز کرتے ہوئے رپورٹ کو جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 41ویں سیشن میں پیش کیاگیا ۔انسانی حقوق کونسل نے رپورٹ کو حتمی شکل دینے سے قبل اس کا مسودہ حکومت پاکستان کو حقائق پر مبنی آراء کے لئے پیش کیا ۔ اس کے باوجود رپورٹ میں کم از کم 8مقامات پر مقبوضہ جموں و کشمیر یا بھارت کے زیر قبضہ یا انتظام جموں و کشمیر کے بجائے ’’انڈین سٹیٹ آف جموں وکشمیر ‘‘ درج ہے۔پاکستان نے اس اہم نکتے کی جانب توجہ کیوں نہ دی۔اس بارے میں بھی وضاحت درکار ہو گی۔ یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے جنیوا میں8جولائی کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور فورسز کو حاصل استثنیٰ کے طریقوں کو اجاگر کیا گیا۔ رپورٹ میں بھارت کو 19 سفارشات پیش کی گئیں جن میں زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کے حق خودارادیت سمیت انسانی حقوق کی اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا مکمل احترام کرے۔ انسانی حقو ق کونسل نے بھارت سے کہا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جامع، آزادانہ وار بین الاقوامی تحقیقات کیلئے ایک انکوائری کمیشن کے قیام سمیت اس رپورٹ کی مندرجات پر غور کرے۔ اس سے پہلے بھی دنیا نے متعددبار بھارت سے ایسا کرنے کو کہا مگر بھارت اپنے خلاف ہی کوئی انکوائری کمیشن کیسے قائم کر سکتا ہے۔ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ آزادانہ انکوائری کمیشن قائم کرے۔ رپورٹ میں بھارت سے مقبوضہ علاقے میں جولائی 2016 کے بعد سے شہریوں کے قتل عام کے تمام واقعات کی آزادانہ، غیر جانبدرانہ اور قابل اعتماد تحقیقات کرانے پر بھی زوردیاگیا ۔ بھارت سے کہاگیا کہ وہ مقبوضہ ریاست میں2016 کے بعد سے انٹرنیٹ اور موبائیل ٹیلی فون نیٹ ورکس پر عائد ہر قسم کی پابندیوں کی بھی تحقیقات کرائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مستقبل میں اس طرح کی پابندیاں دوبارہ عائد نہ کی جائیں۔ رپورٹ میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں صحافیوں کی نقل و حرکت پر عائد قدغن اور اخبارات کی اشاعت پر جبری پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔مگر اس رپورٹ کے بعد بھارت نے آزاد میڈیا پر قدغن لگانے کا سلسلہ دراز کر دیا۔ گو کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر نے بھارت سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں رائج کالے قانون آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کو فوری طور پر منسوخ اور پبلک سیفٹی ایکٹ کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے مطابق بنانے کیلئے اس میں ترمیم کرے، مگر بھارت نے روایتی طور پر اس رپورٹ کو ہی مسترد کر دیا۔ یہ رپورٹ مئی 2018ء سے اپریل 2019ء تک کے عرصہ پر محیط ہے۔ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال پراقوام متحدہ کی پہلی رپورٹ جولائی 2016ء سے اپریل 2018ء تک کے بارے میں تھی۔ رپورٹ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں باالخصوص بھارتی فورسز کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی جس کے باعث معصوم کشمیری شہری قتل، جبری حراست اور انسانی حقوق کی اندھا دھند خلاف ورزیوں کے شکاربنائے جا رہے ہیں۔

دوسری رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارت نے پہلی رپورٹ کی سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر بھارت کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ۔ پاکستان نے رپورٹ کا خیر مقدم کیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن آف انکوئری قائم کرنے کی حمایت کی۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ماضی کی اور حال میں انسانی حقوق کی جاری پامالیوں کا حل تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کشمیری عوام کو انصاف فراہم کیا جائے۔رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں تمام گمنام قبروں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد، غیر جانبدار اور قابل اعتبار تحقیقات کو یقینی بنانے کی سفارش کی گئی ۔کشمیری اقوام متحدہ کی ان رپورٹس کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں بند کرائی جائیں۔ عالمی برادری کو اس رپورٹ کی روشنی میں حقائق جاننے کیلئے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن مقبوضہ کشمیر روانہ کرنا چاہیے۔ عالمی برادری نے نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم رکوانے اور تنازعہ کشمیر کا منصفانہ اور پرامن حل تلاش کیلئے اپنا کردار ادا نہ کیا تو بھارت اور اس جیسے دیگر ممالک دنیا میں معصوم عوام کا جینا حرام کر دیں گے۔ رپورٹ میں جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک سال میں مقبوضہ کشمیر میں 160 شہریوں کو شہید کیاگیا۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مسلمہ بین الاقوامی ثبوت تسلیم کیا جانا چاہیئے کیوں کہ بھارتی فورسز ان سنگین پامالیوں میں براہ راست ملوث ہیں۔انہوں نے کہاکہ عالمی ادارے کی رپوررٹ میں پیلٹ گن کوایک خطرناک ہتھیار قرار دیتے ہوئے تصدیق کی گئی ہے کہ بھارتی فورسز نہتے شہریوں پر فولادی چھروں والی پیلٹ گنز کا مسلسل استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ علی رضا سید نے کہاکہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں ظلم و تشدد اور ہراساں کرنے کے دیگر ہتھکنڈوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن میں گھر گھر تلاشی، جسمانی تشدد، غیرقانونی حراست اور پرامن مظاہرین پر حملے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی میڈیا کو اس بارے میں تمام حقائق دنیا کے سامنے لانے چاہئیں۔چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے عالمی ادارے کی طرف سے رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ پر عائد قدغن پر اظہار تشویش کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہاکہ رپورٹ میں بھارتی حکومت کی طرف سے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ پر قدغن کا حوالہ دیتے ہوئے اسے شہری آزادی پر حملہ قرار دیاگیا ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے گزشتہ سال جون 2018کو بھی مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں رپورٹ جاری کی تھی جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی اور آزادانہ تحقیقات کی سفارش کی گئی ۔مگر بھارت نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔ بلکہ رپورٹ کو سرے سے ہی مسترد کر دیا۔ اس بار بھی ایسا ہی کیا گیا۔جس پر نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ مسترد کئے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہبھارت انسانی حقوق کی پامالیاں رکوانے کے بارے میں اپنی ناکامیوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیاء کی ڈائریکٹر مینا کشی گنگولی نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کریں اور کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں رکوانے میں مدد کیلئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر کی سفارشات پر عمل کرے۔ مینا کشی گنگولی نے کہاکہ بھارتی قابض انتظامیہ اقوام متحدہ کی چشم کشا رپورٹ کی روشنی میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفترنے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں 13 ماہ میں اپنی دوسری رپورٹ میں کہا کہ کشمیرمیں سرکاری مشینری کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہریوں کے قتل میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کشمیری بھارت اور پاکستان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اور کشمیری عوام سے بات چیت کریں اور اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ تنازعہ کشمیر کو حل کرانے کے لیے آگے بڑھیں اور خطے میں قتل و غارت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا خاتمہ کریں۔

کشمیری اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کی عالمی ادارے کی سفارش پر فوری عملدرآمد کا مطالبہکر رہے ہیں۔بھارتی حکومت نے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرکے کشمیر کومیدان جنگ میں تبدیل کردیاہے جہاں لاقانونیت اور آمریت رائج ہے۔بھارت نام نہاد جمہوری ملک بن چکا ہے جو ر لبریشن فرنٹ اور جماعت اسلامی سمیت سیاسی اور مذہبی تنظیموں پر پابندی لگاکر ان کے رہنماؤں اور کارکنوں کو جیلوں میں ڈال رہا ہے۔جب کہ ایک جائز اور مبنی برحق تحریک حق خودارادیت کو دہشت گردی کا نام دے کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق ہائی کمشنر کی تازہ اور گزشتہ سال کی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کیلئے مثبت اقدامات کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں بند کرانے کیلئے اہم اقدامات صرف رپورٹ کی سفارشات پر فوری عمل درآمد سے ہی ممکن ہو سکتے ہیں۔بھارت مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ عالمی برادری ہی بھارت کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رپورٹپر عمل در آمد کے لئے آمادہ یا مجبور کرسکتی ہے۔جو صرف غیر جانبدار بین لاقوامی تحقیقاتی کمیشن کے قیام سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 187 Print Article Print
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 454 Articles with 138224 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Reviews & Comments

Language: