عمران خان کے صدر ٹرمپ کے ساتھ وعدے

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کو اب تک کا کامیاب ترین دورہ سمجھا جا رہا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ شاید پہلی بار امریکہ نے’’ ڈو مور ‘‘کا مطالبہ پیش نہیں کیا۔ یہ بھی کہ دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی شرائط پر بات ہوئی۔ جب کہ کسی یک طرفہ لچک کا شائبہ ظاہر کرنا بالکل مناسب نہ ہو گا۔گو کہ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مورگن آرٹگس کی پریس بریفنگ میں وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ پر صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ اور عمران خان کے درمیان ہونے والی ملاقات کو فی الحال ابتدا قرار دیا گیا ہیتا ہم ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس دورے میں ہونے والے وعدوں پر عمل درآمد کیا جائے اور آگے بڑھا جائے۔یہ بھی دعویٰ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو موقعہ ملا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ذاتی تعلقات اور ہم آہنگی پیدا کرسکیں۔کشمیر سے متعلق کیے گئے سوال پر ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ اُن کے پاس صدر ٹرمپ کے دیئے گئے بیان کے علاوہ کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر کی ملاقات میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل ہو سکے تو میں بخوشی ثالث کا کردار نبھانے کے لیے تیار ہوں۔ترجمان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ صدر ٹرمپ اپنی بات پر قائم ہیں۔ اس میں کوئی تردید یا تصدیق کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مبصرین سوال کر رہے ہوں کہ عمران خان نے ٹرمپ کے ساتھ کون سے وعدے کئے جن پر فوری عمل در آمد کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ ہمیشہ سے ہی ایسے موقع کی تلاش میں تھا کہ کب افغان جنگ کو ختم کیا جائے۔ جب سے صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم شروع کی ہے۔ وہ افغانستان میں جلد از جلد امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک وعدہ یہ کیا ہے کہ وہ طالبان پر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے زور دیں گے۔گو کہ اس وقت افغانستان کے تناظر میں پاکستان اور امریکہ کے مفادات میں بظاہر مفاہمت اور تعلقات میں بہتری نظر آتی ہے لیکن اگر کسی مرحلے پر دونوں ممالک کے مفادات میں ٹکرا ؤپیدا ہوا، پھر ان کی تعلقات میں بھی اختلافات نظر آئیں گے۔امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی قیادت میں طالبان نمائنددوں کے درمیان بات چیت کے سات دور ہو چکے ہیں رواں ماہ دوحہ میں بات چیت کا آٹھوں دور شروع ہو گا جسے مبصرین اہم قرار دے رہے۔ جس میں محفوظ افغانستان اور غیر ملکی فورسز کے انخلا ء کے معاملے پر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ طالبان پر جنگ بندی ارو دیگر افغان دھڑوں بشمول کابل حکومت سے بات چیت پر زور دے رہی ہے ۔واشنگٹن کے خیال سے اس حوالے سے پاکستان کا کردار اہم ہو گا۔ عمران خان وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ واطن واپس جا کر طالبان سے ملاقات کریں گے اور انھیں کابل حکومت سے بات چیت پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ طالبان نے بھی عمران خان سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم شاید طالبان کو اس بات پر قائل کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی حتمی معاہدے سے قبل جنگ بندی اور کابل حکومت سے بات چیت پر ابھی تیار نہیں ہیں۔

صدر ٹرمپ کے کشمیر پر دیئے گئے بیان کو اگر کوئی ٹریپ نہ بھی سمجھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات پر بھارت کی نظریں ضرور تھیں لیکن جو کچھ صدر ٹرمپ نے کہا بھارتیوں کو اس کی توقع ہرگز نہیں تھی۔صدر ٹرمپ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ بھارتی وزیرِاعظم نے جاپان میں 2 ہفتے پہلے ہونے والی ملاقات میں ان سے کشمیر کے تنازع پر ثالثی کی درخواست کی۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ثالثی کی پیشکش دسمبر 2016ء میں بھی کی گئی تھی لیکن اس وقت یہ نہیں کہا گیا تھا کہ بھارتی حکومت ثالثی کی خواہش رکھتی ہے۔امریکی نائب صدر مائیک پینس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنی ڈیل میکنگ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کشمیر کا مسئلہ حل کروا سکتے ہیں۔ اس بار صدر ٹرمپ کی طرف سے ثالثی کی بات کرنا اور اس کے لیے بھارتی وزیرِاعظم کی خواہش کا انکشاف بھارتی میڈیا اور پارلیمان میں ایک زبردست دھماکے کا سبب بن گیا۔صدر ٹرمپ کا یہ ایک بیان وزیرِاعظم عمران خان کے دورہ کا حاصل اور ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ بھارت طویل سفارتی کوششوں اور تخریبی کارروائیوں کے ذریعے پاک-بھارت تنازعات کو کسی اور فریم میں فٹ کرچکا تھا۔بھارت نے مسئلہ کشمیر کو بھی دہشتگردی سے جوڑ کر پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے بے انتہا سفارتی اور سیاسی سرمایہ کاری کی تھی، لیکن اب صدر ٹرمپ نے نہ صرف کشمیر کو پاک بھارت تعلقات میں بنیادی مسئلے کے طور پر تسلیم کیا بلکہ بھارتی وزیرِاعظم کو بھی بیک فٹ پر لے گئے۔بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوان ان سیشن تھے اور بھارت کے وزیرِ خارجہ اپوزیشن جماعتوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ اپوزیشن جماعتوں کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ وزیرِاعظم نریندر مودی خود ایوان میں آکر وضاحت دیں۔ مودی کے لیے امریکی صدر کو جھوٹا قرار دینا بہت بڑی سفارتی آزمائش تھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت اور امریکا کے تعلقات انتہائی گرم جوشی کے بعد تجارتی تنازع کا شکار ہیں اور مودی کو ستمبر میں واشنگٹن بھی جانا ہے۔قوم پرستی کی لہر کا شکار بھارتی میڈیا تو جیسے یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ مودی نے صدر ٹرمپ سے ایسی کوئی درخواست کی ہوگی۔رواں سال فروری میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپوں کے بعد انتہائی کشیدہ صورت حال میں بہتری صدر ٹرمپ کے ایک بیان کے بعد ہی آئی تھی جو انہوں نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے انتہائی اہم ملاقات کی مصروفیت سے وقت نکال کر دیا تھا۔صدر ٹرمپ نے ویتنام کے دارالحکومت میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ چند گھنٹوں بعد پاک-بھارت تعلقات کے حوالے سے اچھی خبر آنے والی ہے۔ صدر ٹرمپ سے کس نے درخواست کی یہ الگ موضوع ہے لیکن اس موقع پر ٹرمپ نے ڈیل میکنگ کی مہارت دکھا دی تھی۔ اسی ڈیل میکنگ کی مہارت کی بنیاد پر شاید مودی نے ٹرمپ سے کوئی درخواست کی ہو اور ڈیل میکنگ کے ماہر صدر نے شاید اس درخواست کو نئے مفہوم پہنا کر اپنے مقصد کے لیے استعمال کرلیا ہو، غرض یہاں کسی سے کچھ بھی بعید نہیں۔

وزیرِاعظم عمران خان کے دورہ واشنگٹن کا سب سے اہم فائدہ یہ ہو گا کہ امریکی کمپنیاں ا پاکستان کی جانب رخ کریں گے۔جیسے کہ امریکی صدر نے ملاقات میں دوطرفہ تجارت کو 20گنا تک بڑھانے کی بات کی ہے۔ زراعت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے امکانات موجود ہیں۔ زراعت کو سرِفہرست لانے کا مقصد چین جیسی بڑی منڈی سے ہاتھ دھونے والے امریکی کسانوں کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنا ہے۔ چین کے ساتھ تجارتی تنازع میں امریکا کی سویا بین کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔توانائی کے شعبے میں جنرل الیکٹرک پہلے ہی پاکستان میں بڑے توانائی منصوبوں کے لیے ٹربائنز فراہم کرچکی ہے اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے نئے منصوبوں میں بھی امریکی کمپنی کو مزید حصہ ملے گا۔ امریکا ایل این جی اور قدرتی گیس کے شعبوں میں بھی دلچسپی ظاہر کر رہا ہے۔ امریکی کمپنیوں کے آنے سے تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی ۔ خدشہ یہ ہو گا کہ کہیں یہ تجارت تجارتی خسارے کو بڑھانے کا سبب نہ بن جائے۔ پاکستان کو برآمدات کے لیے امریکا سے تجارتی رعایتیں درکار ہوں گی جن کا اعلان نہیں ہوا۔ امریکی مالی امداد جنوری 2018ء میں ایک ٹوئیٹر پیغام کے بعد امریکی صدر نے بند کردی تھی، اس کے فوری بحال ہونے کے کوئی آثار نہیں۔امریکہ انخلا پر رضامندی کے باوجود افغانستان میں اڈے برقرار رکھنا چاہتا ہے۔عمران خان سے کہا جا رہا کہ وہ طالبان کو رضامندکریں۔مگر طالبان اس پر تیار نہ ہوں گے۔ امریکا افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارت کے لیے راہداری بھی کھلوانا چاہتا ہے۔امریکی حکام سی پیک پر بھی تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سی پیک منصوبوں پر سرمایہ کاری اور قرضوں کو پاکستان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے انتباہ جاری کر رہے ہیں۔غرض عمران خان کے دورہ اور اس میں ہونے والی پیش رفت یا منفی اثرات کے بارے میں حقائق اس وقت ظاہر ہو سکتے ہیں جب امریکہ پاکستان سے عمران خان کے وعدوں پر عمل کرنے کی یاددہانی کرائے گا۔ عمران خان حکومت اس دورہ کو اپنی نوعیت کا کامیاب ترین دورہ قرار دیتی ہے۔ تا ہم امریکہ اپنے فوائد اور اثر و رسوخ کو قائم کرنے کے لئے ہی پاکستان کے ساتھ چلا ہے۔ آئیندہ بھی کوئی امکان نہیں کہ کوئی بھی ملک اپنے مفادات کو پاکستان پر قربان کرنے کا سوچ بھی سکتا ہے۔ اس لئے پاکستان کو بھی اپنے مفادات پر کسی بھی قیمت پر کوئی بھی قلیل یا طویل المعیاد سمجھوتہ کرنے کا سوچنا بھی نہیں چاہیئے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 578 Articles with 222511 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
30 Jul, 2019 Views: 399

Comments

آپ کی رائے