حج ڈائری: میری ذات سب مٹی

(Atiya Adil, Islamabad)
یہ کہانی ہے ایک روح پرور سفر کی جب انا کے بت اللہ کریم کے آگے سجدہ ریز ہو گئے۔

حج ڈائری: میری ذات سب مٹی
ٓآگہی (1)
نہ جانے کتنی صدیوں سے عشاٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍقِ حقیقی کعبہ کے طواف میں مصروف ہیں۔ سوز ومستی کی وارفتگی دیکھنی ہو تو کعبے کا منظر دیکھو اور کہو اللہ اکبر۔پھر خود بھی اسی دیوانگی کا حصہ بن جاؤ۔لبیک اللهم لبیک۔
2016 کا بابرکت سال تھا جب اپنے لخت جگر کے ساتھ حج کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ تبھی سوچ لیا تھا کہ اپنے احساسات اور تاثرات کو قلم کا جامہ ضرور پہناؤں گی ۔یہ ایک کوشش ہے اپنی یادوں کو امر کرنے کی۔
اردو ادب میں کئی لا جواب مضامینِ حج اور سفر نامےلکھے جا چکے ہیں ۔ ان ادبی شاہکاروں کو پڑھ کر بے بہا روحانی اور علمی اکتساب حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میری یہ ادنٰی سی کاوش بس میرے دل کی صدا ہے اور کچھ نہیں۔ اسی لیے میری آپ سے درخواست ہے کہ یہ تحریر پڑھتے ہوئے کو ئی زیادہ توقعات مت لگایئے گا ۔
سفرکیوں کیا جاتاہے؟ میں اکژ اپنے آپ سے پوچھتی تھی۔آخر ہم اتنا جھنجھٹ کرتے ہی کیوں ہیں؟ ٹکٹ اور سفری سامان کا بندوبست کرنا اور اس کے علاوہ ہر قسم کی صعبو تیں برداشت کرنا ۔ پھر بھی ہم سفر کرتے ہیں ۔
۔اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے
۔تلاشِ روزگار کے لیے
۔دنیا کھوجنے کے لیے
۔ غم بھلانے کے لیے
لیکن حج کا سفر ان سب سے مختلف ہے ۔مجھے لگا کہ یہ آپ کی ذات کا سفر ہے۔ برسوں سے میرے اندر غرور کا بت ایک اونچے سنگھا سن پر براجمان ہو گیا تھا۔مجھے اس بت کو توڑنا تھا ۔اس کے لیے مجھے کئی مقامات پر پڑاؤ کرنا تھا ۔ مدینہ سے مکّہ ، مکّہ سے منٰی، منٰی سے عرفات، عرفات سے مزدلفہ ، مزدلفہ سے واپس منٰی، منیٰ سے جمرات ، جمرات سے واپس منٰی ،منی ٰ سے واپس مکّہ۔ یہ سب عشق اور وارفتگی کے مرحلے ہیں جن سے میں گزر جانا چاہتی تھی۔خالقِ حقیقی سے محبت کا اظہار تو آپ عام عبادات اور دعاؤوں میں ہر لمحہ کر سکتے ہیں ۔ لیکن جب آپ اس کے مہمان بن کے جاتے ہیں تو وہ کچھ روز کے لیے اپنی مقدس زمین مرحمت فرماتا ہےکہ ہم مناسکِ حج کو دلجمی سے ادا کریں اور اپنی بخشش کا سامان آگے بھیج سکیں۔
مجھے اپنی جسارت پر حیرانی بھی ہوتی کہ میں کیا سوچ بیٹھی تھی۔حج کا ارادہ کر لیا تھا ۔ یہ تو جانتی ہی تھی کہ یہ ہر عاقل بالغ اور صاحبِ استعداد مسلمان پر فرض ہے۔خوف تھا تواپنے گناہوں کے بار سے ۔ لیکن یہی بوجھ تو اتارنا تھا ۔اسی لیے مناسکِ حج کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنی شروع کر دیں۔ حج کی رویئدادِ سفر آگے آئے گی ۔۔ ابھی پڑھیئے مناسکِ حج کا ایک عمومی جائزہ:


معلوماتِ حج و عمرہ
حج: ذی الحجہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے اس کے خصوصی ایام میں حج ادا کیا جاتا ہے ۔ اس کے معنی قصد کرنا کیا زیارت کرنا ہے۔بنیادی بطور پر آپ پرمخصوص ایام میں مخصوص جگہوں پر پہنچ کر مخصوص عبادات کر تے ہیں ۔حج کا وقت آٹھ ذی الحجہ سے شروع ہو کر بارہ ذی الحجہ پر اختتام ہو تا ہے۔
عمرہ: اس کو چھوٹا حج بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ ایام ِ حج کے علاوہ کبھی بھی کیا جاسکتا ہے۔ عمرہ کےچار خاص ارکان ہیں: احرام باندھنا(فرض)، طوافِ بیت اللہ شریف(فرض)، سعی صفاو مروہ (واجب)، حلق یا قصرکرنا(واجب)۔ عمرہ میں آپ احرام باندھ کر کعبہ کے گرد سات پھیرے لگاتے ہیں ۔ صفا اور مروہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان سعی کرتے ہیں اور اس کے بعد بال کٹواتے یا منڈاوتے ہیں ۔اس عمل کو حلق یا قصر کرناکہتے ہیں۔(خواتین بال ترشواتی ہیں)۔
اقسامٍٍ ِحج
حج تین طرح کے ہوتے ہیں :
(1) حج افراد : اس میں عمرہ ادا نہیں کیا جاتا ۔
(2) حج قران ایک ہی احرام میں عمرہ اور حج کیا جاتاہے ۔
(3) حج تمتع: عمرہ اور حج کے لیے اگ الگ احرام باندھے جاتے ہیں۔
ارکان حج
حج کے تین طرح کے ارکان ہیں: فرائض ، واجبات، سنتیں
(1) فرائض: چار ارکان ہیں: جن کو ادا کیے بغیر حج نہیں ہو سکتا اور ان کو نہ کرنے کا کو ئ کفارہ بھی نہیں ہے۔
(2)واجبات: سات ارکان ہیں ۔ اگر کسی وجہ سے ان کی ادائیگی میں کمی بیشی رہ جا ئے تو قربانی دے کر کفارہ ادا کیا جا سسکتا ہے ۔
(3)سنتیں : ان ارکان کے ادا کرنے سےاللہ پاک کے حضور آپ کے حج کے درجات بڑھ جا تے ہیں ۔
حج ِتمتع کا طریقہ
جوزائرین دور دراز سے مکہ آتے ہیں وہ یہی حج کرتے ہیں۔ اس کا ثواب بھی ذیادہ ہے ۔
۔ احرام باندھنا(فرض)( دو دفعہ احرام باندھا جائے گا ۔ ایک عمرے کے لیے اور ایک حج کے لیے : احرام نیت ہے عمرہ و حج کو شروع کرنے کی ۔ اب کچھ پابندیاں لاگو ہوجائیں گی، جن میں مخصوص لباس پہنے کے علاوہ کئی چیزوں سے پرہیز ضروری ہے۔احرام باندھنے سے پہلے غسل کرنا، دو نفل پڑھنا سنت ہے۔۔مردوں کے لیے دایاں کندھا برہنا رکھناسنت ہے۔ : احرام کو میقات سے باندھنا ہوگا ( واجب) ۔میقات مکہ شریف کے ارد گرد مخصوص مقامات ہیں۔۔ احرام کے باندھتے ہی تلبیہ کا ورد شروع کرنا سنت ہے۔
۔ حج سے پہلے عمرہ کرنا : ۔حج ِ تمتع کے لیے مکّہ پہنچ کر سب سے پہلے عمرہ ادا کرتے ہیں ۔طواف کے دوران حجر اسود کا بوسہ لینا یا چھونا،سنت ہے۔بیت اللہ شریف کی طرف منہ کر کے اور کھڑے ہو کر آبِ زم زم پینا بھی سنت ہے۔ مردوں کے لیے سعی کے دوران صفا اور مروہ کے درمیان بھاگنا سنت ہے۔ عمرہ ادا کرنے کے بعد آپ احرام کھول دیتے ہیں۔ عمرے اور حج کا درمیانی وقفہ زائرین مکّہ میں گزارتے ہیں ۔اس دوران حرم شریف میں عبادات میں وقت گزارتے ہیں اور مقدس مقامات کی زیارت بھی کرتے ہیں۔
حج کے ایام:
۔۔ آٹھ ذالحج :روانگی و قیامِ منٰی (واجب) ؛ مکّہ سے اپنی رہائش گاہ سے احرام باندھ کر منٰی کے لیے روانہ ہوں۔ مکّہ کے مشرق میں پانچ کلو میٹر دور ایک مضافاتی مقام ہے جس کو منٰی کہتے ہیں۔یہاں پر حجاجِ کرام 8,11,12 کو ذالحج قیام کرتے ہیں۔ احرام کے باندھتے ہی تلبیہ کا ورد شروع کر دیجیئے ۔
۔9 ذالحج قیامِ عرفات: (فرض) 9 ذالحج یومِ عرفہ بھی کہلاتا ہے ۔اس کو رکنِ اعظم بھی کہا جاتا ہے۔یہی حج کا سب سے بڑا دن ہے ۔عرفات کا میدان مکہ کے جنوب مشرق سے کوئی بیس کلو میٹر دور ہے ۔ جب آپ منٰی سے عرفات کی طرف چلتے ہیں تو فاصلہ تقریباً تیرہ کلومیٹر کا پڑ جا تا ہے۔ یہیں جبل ِرحمت کا پہاڑ بھی ہے۔ پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے آخری خطبہ اسی پہاڑ کی چوٹی سے دیا تھا۔حجاج کرام کا عرفات میں مغرب تک قیام کرنا واجب ہے۔
۔ ۹ اور ۱۰ ذالحج کی درمیانی رات: قیا م ِمزدلفہ (واجب):عرفات کے میدان سے پندرہ منٹ کی ڈرائیو پرمزدلفہ ہے ۔ یہاں آپ رات گزاریں گے۔ یہ اونچےسنگلاخ پہاڑوں میں گھری ہوئی ایک پتھریلی جگہ ہے۔ یہیں سے زائرین رمی کے لیے پتھر جمع کرتے ہیں۔
دس ذالحج :یومِ النہر:عید کا دن: مزدلفہ میں نمازِ فجر پڑھ کر کچھ دیر قیام(واجب) کر کے منٰی پہنچتے ہیں۔ جمرات جا کر شیطانوں کوترتیب سے کنکریاں مارتے ہیں ۔ اس کے بعد قربانی(واجب) ادا کی جاتی ہے اور بال کٹوائے یا منڈوائے(واجب)جاتے ہیں۔
۔ طواف زیارت: یا طواف افاضہ(فرض) : یہ دس ذالحج کی صبح سے لے کر بارہ ذالحج کی شام تک ، کبھی بھی کیا جا سکتا ہے.
۔حج کی سعی کرنا(فرض): طواف زیارت سے فراغت کے بعد حج کا آخری فرض سعی ہے۔اس کے بعد آپ احرام اتار دیتے ہیں۔
۔ ۱۱سے ا۲ ذالحج ایام تشریق: دن اور راتیں منٰی میں قیام : (واجب)۔ منٰی میں قیام کے دوران تینوں شیطانوں پر زوال کے بعد سات سات کنکریاں ماریں۔جیسے ہی رمی مکمل ہو تی ہی آپ تلبیہ کا ذکر بند کر سکتے ہیں ۔طواف زیارت اور حج کی سعی ۱۰ ذی الحجہ کو نہیں کرسکے تو ۱۱ یا ۱۲ ذی الحجہ کو بھی دن ورات میں کسی وقت کر سکتے ہیں۔۱۲ ذی الحجہ کو کنکریاں مارنے کے بعد آپ مٰنی سے جاسکتے ہیں۔
۔طواف وداع ( واجب) :میقات سے باہر رہنے والوں پر واجب ہے اور اس کو ادا کرنے کے لیے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
مناسکِ حج عبادات کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو آپ مرحلہ وار ادا کرتے ہیں۔ محبوب حقیقی کی خوشنودی کے لیے صبر و حوصلہ کے ساتھ تمام منزلوں سے گزرنا ہی اصل امتحان ہے۔(جاری ہے)
میریقسمت میں بھی ایسا کوئی سجدہ کردے
جو مرے سارے گناہوں کا مدوا کر دے
ایک نظر اپنے گناہگار پہ کر کے مولا
اپنی رحمت کا سزاوار ہمیشہ کر دے



 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 367 Print Article Print
About the Author: Atiya Adil

Read More Articles by Atiya Adil: 13 Articles with 6749 views »
Pursing just a passion of reading and writing ... View More

Reviews & Comments

Language: