حکومت کا مشتبہ رول

(Irfan Mustafa Sehrai, Lahore)

پاکستان کے معماروں نے کیا کیا خواب دیکھے تھے کہ اس دنیا میں ایک ایسا ملک بنائیں گے ،جہاں امن،استحکام ،بھائی چارہ اور مساوات ہو گی۔ہر کسی کو انصاف سے اس کا حق ملے گااور کسی سے زیادتی کا تصور بھی نہیں کیا جائے گا،مگر افسوس کچھ لوگوں نے اس تصور کو پاش پاش کر کے رکھ دیا۔نفرت کا جو بیج بویا گیا تھا ،وہ تناور درخت بن چکا ہے ۔آج اقتدار کے بام ودر اسی نفرت پھیلانے والی طاقت کے ہاتھ میں ہے ۔اس کا بڑا نشانہ غریب عوام بن رہے ہیں ۔کوشش کی جا رہی ہے کہ غریب کو اس کی بچی کچی سانسوں سے محروم کر دیا جائے ۔اسی نا خوش گوار جذبہ کا ایک مظہر حکومت کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے ۔اوگرا نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 15پیسے اور ڈیزل میں 5روپے 65پیسے کی سمری حکومت کو بھیجوائی اور حکومت نے کسی قسم کی جنبش کے بغیر اسے پاس کر دیا۔بات یہاں تک ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ۔گھریلو سلنڈر 19روپے مہنگا جبکہ کمرشل سلنڈر 90روپے مہنگا کر دیا گیا ۔

تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب ہے کہ تمام اشیاء صرف کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔ٹرانسپورٹ کرائے میں فوری اضافہ ہو گا۔حکومت نے جو ملک کو آئی ایم ایف میں گروی رکھ کر معاہدہ کیا ہے اس کے تمام تر منفی اثرات پاکستان کے غریب عوام پر مرتب ہونا شروع ہو چکے ہیں ۔ہوشربا مہنگائی پہلے ہی غریب کی کمر توڑ رہی تھی ،اب پیٹ کا دوزخ بھرنا محال ہو چکا ہے ۔ملک بھر میں تنگ دستی کا یہ عالم ہے کہ 60فیصد لوگ بمشکل دو وقت کی روٹی کھا سکتے ہیں۔

عمران خان کو اقتدار سنبھالے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔انہوں نے ماضی کے حکمرانوں کی لوٹ مار کے بیانات کی آڑ میں ملکی معیشت اور غریب عوام کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے ۔تیل کی قیمتوں کے اضافے کو دیکھ لیں ۔تیل کی قیمت کے ضمن میں سینہ تان کر کہا جاتا تھا کہ اگر عالمی منڈی میں اس کے نرخ کم ہوئے تو پاکستان صارفین اسے شیئر کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔لیکن جب اوگرا نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھانے کی سمری دی ۔اس میں وجوہات کا کوئی ذکر تک نہیں کیاکہ نرخ بڑھانے کی تجویز کیوں دی جا رہی ہے ۔عوام ایسی بد نصیب ہے کہ اپنے نمائندوں کے ذریعے حکومت سے یہ تک نہیں پوچھ سکتے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کے نرخ نہیں بڑھے تو اوگرا نے کیوں پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اتنا زیادہ اضافہ کرنے کی سفارش کر دی اور اگر اوگرا نے سفارش کی تو حکومت نے ان کی سفارش کو من و عن کیوں تسلیم کر لیا․․؟

عمران خان نے روٹی ،نان کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں پرانی سطح پر لانے کی ہدایت کر دی ہے ۔جیل میں قیدیوں کو سہولیات دینے کے متعلق بھی وفاقی کابینہ میں بات ہوئی کہ قیدیوں کو یکساں سہولیات دی جائیں ۔حالانکہ یہ معاملات صوبائی سطح کے ہیں ،مگر خیر وزیر اعظم کو وقت مل ہی گیا ہے تو اچھی بات ہے ،مگر ان کے اس طرح کے نوٹس لینے کا پہلے کوئی فائدہ عوام کو نہیں ہوا تو اب کیا ہو گا۔ عمران خان نے امسال مارچ ،اپریل میں ادویہ ساز کمپنیوں کے 400فیصد تک اضافہ کو 72گھنٹوں میں واپس لینے کا حکم صادر فرمایا تھا۔لیکن ہوا کیا؟مئی میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت نے مئی میں میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے ادویہ ساز کمپنیوں سے مذاکرات کیے ہیں ،جس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ اضافہ 75فیصد تک محدود کرنے کا فیصلہ ہوا ہے ۔آج بھی ادویات 200فیصد زیادہ پر فروخت ہو رہی ہیں۔(یاد رہے ان وزیر اعظم کے معاون خصوصی حضرات نے عمران خان کو تختہ دار پر لے کر جانا ہے اور اس وقت عمران خان کو ان میں سے کسی نے نظر نہیں آنا ہے) ۔لیکن یہ کون سمجھے گا کہ شدید بد حالی کے پیشِ نظر عوام اب تو پرانی قیمتوں پر خریدنے سے بھی معزور ہیں،نئی قیمتوں کا کیا سوال؟روٹی نان کے معاملے میں بھی حکومت کی کارکردگی ادویات کے معاملے جیسی ہو گی۔اب کابینہ نے عوام کو ریلیف دینے کی خاطر چھوٹے تندوروں کے لئے گیس کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیتے ہوئے پرانی سطح پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ آیا روٹی اور نان کے نرخوں میں کیا گیا حالیہ اضافہ محض گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا تھا۔بجلی کے نرخوں میں بار بار ہونے والا ردوبدل ،پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ہر مہینے ہونے والا اضافہ ،ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تخفیف کی وجہ بڑھنے والی مہنگائی کے روٹی اور نان کی قیمت پر کسی قسم کے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے ․․؟حکومت کو وسیع تر تناظر میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔

ملک کی معاشی صورت حال ابتر ہو چکی ہے ۔ہر طبقہ پریشان ہے ۔یہ ملک کو کس جانب دھکیلا جا رہا ہے ۔اگر کسی اور کو اقتدار سنبھالنا ہے تو خواہش پوری کر لیں ۔کیوں عوام کو گھسیٹا جا رہا ہے ․․․کیوں اپنے راستے ہموار کرنے کے لئے ماحول بنایا جا رہا ہے جس سے عوام مجبورہو جائے ۔ملک کا سرکاری نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ۔سرکاری اداروں میں چیئرمین،ڈی جی تعینات نہیں کیے جا سکے ،سیکریٹری فائلوں پر سائن نہیں کرتے ۔عدالتوں کا حال بھی مختلف نہیں ہے ،ججوں کی ٹیپیں منظر عام پر آ رہی ہیں ۔پارلیمنٹ چل نہیں رہی۔سینٹ میں چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے الیکشن نے تمام صورت حال واضح کر دی ہے ۔جب اپوزیشن کے 64 سینیٹر کھڑے ہوئے ،انہوں نے چیئر مین سینٹ پر عدم اعتماد کیا پھر14 سینیٹرزکو ووٹ ڈالتے ہوئے کیا ہوا․․؟جنہوں نے اپنے ووٹوں پر دونوں جانب مہر ضبط کی ان کی اس حالت کی ذمہ داری کس پر ہے ؟عوامی بہبود کے اداروں کا حال انتہائی مخدوش ہے۔بارشوں کے دوران پانی سے بھرا ہوا لاہور عجیب منظر پیش کر رہا تھا ۔جس حکومت کو عمران خان گالی گلوچ کرتے تھکتے نہیں ۔اسی دور میں لاہور مثالی تھا ،مگر ان کے جاتے ایک سال میں ایساکیا ہو گیا کہ لاہور ایک بارش سے سنبھلنے میں نہیں آ رہا ۔روشنوں کا شہر کچرا منڈی بنا ہے ۔حالیہ بارشوں نے تمام دعوؤں کے پول کھول کر رکھ دیئے ہیں ۔پیپلز پارٹی کی حکومت پر لعن تعن کر لیں ،مگراب تو وفاق میں عمران خان کی حکومت ہے ۔میئر ایم کیو ایم کا ہے جو حکومت کی اتحادی ہے ۔پھر کیا ہو رہا ہے ،کراچی میں ابھی تک تبدیلی کیوں نظر سے اوجھل ہے ۔

رئیل اسٹیٹ دنیا میں مدر انڈسٹری کہلاتی ہے ،جسے اس حکومت نے بر باد کر کے رکھ دیا ہے ۔اس ایک انڈسٹری سے60انڈسٹریز وابسطہ ہوتی ہیں ۔لیکن رئیل اسٹیٹ سے وابسطہ لوگ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے کاروبار چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ گیے ہیں اور اس حکومت کے جانے کا انتظار کر رہے ہیں ۔انہیں آسان لگتا ہے کہ وہ اپنی جیب سے سال دو سال کا وقت گزار لیں ۔کیونکہ حکومتی غلط پالیسیوں سے انہیں کاروبار میں سوائے نقصان کے کچھ نظر نہیں آتا ۔ اگرچہ چاہیے یہ تھا کہ حکومت ایف بی آر اور نیب دنوں کا سسٹم سادہ اور شفاف کرتی ۔ادارے نا قابل تردید ثبوتوں کے بغیر کسی کو پکڑنے کی جرأت نہ کرسکتے ،مگر ایسا نہیں کرنے دیا جا رہا ۔

پاکستان تبدیلی سرکار کی عوام دشمنی حد سے تجاوز کر رہی ہے ۔مقتدر و متمول طبقوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے عوام کا خون چوسا جا رہا ہے ۔عمران خان کی موذی سرکار کے عوام پر مظالم بڑھتے جا رہے ہیں ۔اس نے جہاں روٹی ،پانی ،تعلیم صحت جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم کر رکھا ہے ،وہاں مدارس اور کئی دینی شعائر پر پابندی لگا کر دین سے تعلق رکھنے والوں کا جینا مشکل کیا جا رہا ہے ۔لوگوں پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد کر ان سے زندگی کا حق چھین رہے ہیں ۔حکومت کو غریب عوام کو ایذا پہنچا کر جو اطمینان و سکون حاصل ہو رہا ہے وہ حکمران طبقے کے چہروں سے عیاں ہے ۔حکومت اپنی تمام تر نا اہلی اور ناقص ترین کارکردگی کے باوجود کسی احساسِ ندامت میں مبتلا نہیں۔کیونکہ انہیں سرپرست قوتوں کا مان ہے ،انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ملک تباہ ہو،عوام برباد ہو ،ان کی سلطانی قائم رہنی چاہیے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irfan Mustafa Sehrai

Read More Articles by Irfan Mustafa Sehrai: 148 Articles with 50779 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Aug, 2019 Views: 303

Comments

آپ کی رائے