کشمیر کے مسئلہ پر کون، کونسا کارڈ کھیل رہے ہیں۰۰۰؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

دفعہ 370 کی برخواستگی کے بعد آخر مودی حکومت اور پڑوسی ملک پاکستان جموں وکشمیر اور مقبوضہ پاکستانی کشمیرپر کون کونسا کارڈ کھیل رہے ہیں اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے یومِ آزادیٔ پاکستان کے موقع پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی مظفرآبادکے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر کے سفیر بن کر اس مسئلہ کو دنیا میں مزید اجاگر کریں گے۔ انہوں نے اس خدشہ کا اظہار بھی کیا کہ پاکستانی فوج کو پتا ہے کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر(پاکستان) میں ایکشن لینے کا پروگرام بنایا ہوا ہے، اس سلسلہ میں وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ ’’نریندر مودی ہم تیار ہیں، جو آپ کریں گے ہم آخر تک جائیں گے، پاکستانی فوج تیار ہے، قوم تیار ہے، مودی کشمیریوں کو کبھی بھی غلام نہیں بناسکتے، وقت آگیا ہے بھارت کو سبق سکھایا جائے‘‘ ۔ یہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے الفاظ ہیں جنہوں نے یوم آزادی پاکستان کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں کہے ہیں۔پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم نے اپنے خصوصی خطاب کے دوران کہاکہ پاکستان کی آزادی کے دن میں اور مشکل ترین وقت میں کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہوں ، ہماری ہندوستان کے ساتھ مفادات کی کشمکش نہیں، ہندوستان کے خلاف ہم ایک نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے سامنے آر ایس ایس کی بڑی خوفناک آئیڈیالوجی ہے، آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی کو انہوں نے ہٹلر کی آئیڈیالوجی بتاتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی ہٹلر کی پالیسی سے متاثر ہے اور اسی آئیڈیالوجی نے مہاتما گاندھی کو قتل کیا، انکا کہنا تھا کہ اسی سوچ کے پیچھے مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے، آر ایس ایس والے سمجھتے ہیں کہ مسلمان چھ سوسال حکومت نہ کرتے تو یہ عظیم قوم ہوتی اور یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ان پر حکومت کی اب اس کا بدلہ لینا ہے تاہم انہوں نے اس سلسلہ میں کہا کہ نریندر مودی کی اصل شکل کو میں نے دنیا کے سامنے رکھا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کشمیری عوام کے لئے فکر مند ہے، انہوں نے کہا کہ مودی کو 370کا کارڈ کھیلنا بہت مہنگا پڑے گا ، اب دنیا کی نظر جموں و کشمیر پر ہے۔ انہوں نے اس خدشہ کا اظہار بھی کیا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نرنیدر مودی نے کشمیر کے مسئلہ پر جو قدم اٹھایا ہے اس سے ہمیں خوف ہے کہ کرفیو اٹھے گا تو پتہ چلے گا کہ وہاں کیا کیا گیا، جموں و کشمیر میں کثیر تعداد میں ہندوستانی فوج بھیجنے کے سلسلہ میں کہا کہ اتنی فوج بھیجنے کی کیا ضرورت تھی، وہاں سے سیاحوں اور زائرین کو نکال لیا گیا، سب کو خوف ہے کہ یہ کیا کرنے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ مودی نے اپنا آخری کارڈ کھیل لیا ہے، عمران خان نے مزید کہا کہ مودی نے ایک اسٹریٹجک بلنڈر کیا ہے، یہ مودی اور بی جے پی کو بہت بھاری پڑے گا۔ عمران خان جموں و کشمیر کے مسئلہ کے سلسلے میں کہا کہ یہ ہم پر ہے کہ اسے مزید کیسے عالمی دنیا تک لے کر جائیں۔ اب دیکھنا ہیکہ پاکستانی وزیر اعظم واقعی ہندوستانی جموں و کشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پر لے جاکر کشمیریوں کو انکا حق دلاپائیں گے یا پھر جموں و کشمیر کے عوام ایک طرف پاکستانی حکومت اور فوج کے بیان پر بھروسا کرتے ہوئے ہندوستانی فوج و دیگر سیکوریٹی ایجنسیوں سے الجھتے ہوئے ہر روز جامِ شہادت نوش کرتے رہیں گے۔ کشمیر کے مسئلہ پر صرف ہندوستان ہی کارڈ کھیل رہا ہے یا پھر پاکستان اور دیگر ممالک کے حکمراں اور عہدیداربھی کسی ایک کا ساتھ دے کر مسئلہ کشمیر کو جوں کا توں برقرار رکھنا چاہتے ہیں یا پھر حکومت ہند کی جانب سے جس طرح کا اقدام کیا گیا یعنی دفعہ 370اور A-35کو ہٹاکر جموں و کشمیر اور لداخ کو علحدہ علحدہ ریاستیں بنانے کے فیصلہ کا ساتھ دیتے ہیں۔ پاکستانی فوج کے سربراہ نے بھی یوم آزادی پاکستان و یکجہتی مقبوضہ کشمیر(پاکستان) کے موقع پر کہا کہ 1947ء میں بھی کاغذ کا ٹکڑا کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کرسکا اور آج بھی بھارت کا غیر قانونی اقدام کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا، بھارتی جبر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں، چاہے اس کیلئے انہیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان ، ہندوستان کے غاصبانہ عزائم کے خلاف کشمیریوں کے ساتھ ہے۔اور پاکستانی افواج کشمیر کاز کیلئے قومی ذمہ داری نبھانے کیلئے تیار ہے۔ اس طرح پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی فوجی سربراہ کا ہندوستانی کشمیر کے سلسلہ میں جو بیان میڈیا کے ذریعہ منظر عام پر آیا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ایک طرف پاکستان جموں و کشمیر کے تیئں اپنی جان کی بازی لگادینے کا ارادہ رکھتا ہے تو دوسری طرف انہیں ڈر ہے کہ مقبوضہ کشمیر (پاکستانی) پر ہندوستانی حکومت کی نظر ہے اور ہندوستان اس سلسلہ میں کچھ بھی کرسکتا ہے ۔ اس بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہیکہ پاکستان مقبوصہ کشمیریوں کو اور ہندوستانی جموں و کشمیر کے عوام کو ہندوستان کے خلاف احتجاج کرنے کیلئے تیارکررہا ہے۔ عوام تو کسی نہ کسی کے بہکاوے میں آہی جاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے احتجاج کرنے والے سینکڑوں کی تعداد میں زخمی یا ہلاک ہوجاتے ہیں جبکہ جنہوں نے ان معصوم نوجوانوں، بچوں، مرد و خواتین اور ضعیف افراد کو آزادی کا جو خواب دکھایا تھااور احتجاج کرنے کی ترغیب دی تھی وہاں سے اپنی راہ لے لیتے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کس طرح ہندوستانی کشمیری عوام کو انکا حق دلاپاتے ہیں۰۰۰کیونکہ عالمی سطح پر اس سلسلہ میں سب خاموش دکھائی دیتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلہ پر ہندوستان نے جو فیصلہ کیا ہے اس کا ساتھ دیں گے کیونکہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے ہی عالمی سطح پر کئی اہم حکمرانوں کو اپنا گرویدہ بنانے کی کوشش کی ہے اور نہیں معلوم کتنے حکمراں اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں ان کا ساتھ دیں گے ۔

شاہ فیصل جموں و کشمیر کی سیاسی جماعت پیپلز موومنٹ کے رہنما اور سابق آئی اے ایس عہدیدار کو بھی دہلی ایئر پورٹ پر گرفتار کرلیا گیا۔ شاہ فیصل جو سنہ 2009ء میں انڈین سول سروسز کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے پہلے کشمیری نوجوان تھے انہوں نے اس سال جنوری میں انڈین سکیوریٹی فورسز کی جانب سے کشمیر میں نوجوانوں کے قتل کے خلاف احتجاجاً انڈین سول سروسز سے استعفی دے دیا تھا ۔ فیصل نے رواں برس فبروری میں اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا ۔اور علاقے کپواڑہ میں ایک جلسہ سے خطاب کے دوران مارچ 2019میں اپنی سیاسی جماعت پیپلز موومنٹ کی بنیاد کا اعلان کیا تھا۔ شاہ فیصل نے حکومت ہند کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی تبدیلی اور گذشتہ دس روز سے جاری لاک ڈاؤن کے بارے میں بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں کہا کہ وہ لوگ جن کا خیال تھا کہ انڈیا انہیں دھوکہ نہیں دے گا ، یہ جو ہمارے ساتھ کیا گیا ہے یہ جو سلسلہ 5؍ اگسٹ کو شروع ہوا ہے یہ ہماری نسل کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شاہ فیصل نے کہاکہ 5؍ اگسٹ کو جس طرح سے انڈین حکومت نے آئینی شب خون مارا ہے اس سے ہم جیسے سیاستدان جنہیں جمہوری عمل پر یقین تھا اور وہ امید رکھتے تھے کہ انڈیا کے آئین کے اندر رہتے ہوئے ہی اس کا کوئی ممکنہ حل نکلے گا ان کا اعتماد ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو بنا کسی وجہ کے قید کردیا گیا ، ہمارے دو سابق وزراء اعلیٰ نظر بند ہیں۔ لہذا جب آپ تحریک چلانے کی بات کرتے ہیں تو گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران وادی میں کسی بھی قسم کا احتجاج کرناناممکن ہے۔اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ انہیں علم ہیکہ جیسے ہی کشمیر میں پابندیاں ختم ہونگی تو فطری طور ر مظاہروں کا آغاز ہوجائے گا۔ انہوں نے کشمیری عوام سے کہا کہ یہ سمجھداری کا تقاضہ ہے کہ آپ پرامن رہیں کیونکہ اس اس وقت وادی میں دو لاکھ سے زائد سکیوریٹی فورس کے اہلکارمتعین ہیں وہ اس شخص کو مارنے کیلئے تیار ہیں جو ان کے خلاف آواز اٹھائے گا۔ کشمیر کے حالات پر شاہ فیصل نے کہا کہ گذشتہ تیس برسوں میں ایک لاکھ سے زائد افراد کشمیرمیں مارے گئے ہیں ، کشمیری ہندو پنڈتوں سمیت ہزاروں افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ انہوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ اگر کشمیر 1980اور 1990ء کی دہائی میں واپس چلا جاتا ہے تو کئی اور نسلوں کو خون خرابہ دیکھنا ہوگا، اور اگر ایسا ہوا تو یہ کسی جوہری تباہ کاری سے کم نہیں ہوگا۔ انہوں نے عالمی برادری کے ردعمل پرمایوسی کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے پر خطے کی تین جوہری طاقتیں اپنے حق کی دعویدار ہیں اور یہ ایک فلیٹس پوائنٹ ہے اور اس کو ایسے نہیں چھوڑا جاسکتا۔ عالمی برادری کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے تھے کہ کشمیر کے مسئلہ پر ہندو پاک کوئی حل نکالیں گے لیکن گذشتہ 70برسوں سے یہ دونوں ممالک کچھ نہیں کرسکے اور اب وقت ہے کہ عالمی طاقتیں اس مسئلے کے حل کے لئے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔اور اسے سارے عمل کے دوران کشمیری عوام کا ہر طرح خیال رکھا جائے تاکہ ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہونے پائے۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے ؟ ایک طرف پاکستانی حکومت اور فوج پورے جوش و جذبہ کے ساتھ کشمیری عوام کا ساتھ دینے کی بات کرتی ہے تو دوسری جانب نریندر مودی حکومت کشمیری عوام کو ایک نئی صبح کی نوید سنانے کی بات کرتی ہے جبکہ کشمیر کے موجودہ اندرونی حالات سے سب بے خبر ہیں۔ اس طرح کشمیر کے امن و آمان اور پرامن حل کیلئے گذشتہ 70سال سے صرف بات چیت کے مراحل طے پاتے رہے ہیں اور کبھی مل بیٹھ کر بات کرنے کی کوشش کی گئی تو آخر وقت پر مایوسانہ نتیجہ ہی دیکھنا پڑا ۔ اب دیکھنا ہے کہ اتنے روز گزرنے کے بعد کشمیر ی عوام کیا فیصلہ کرتے ہیں، انہیں کب سکون و راحت نصیب ہوگی اور کب انکے نوجوان ہڑتالوں اور احتجاجی جلسوں اور ریالیوں کے بجائے تعلیمی اداروں اور روزگار سے منسلک ہونگے۔

عید الاضحی کے موقع پر اسرائیلی پولیس کی بربریت
عیدالاضحی کے موقع پر ہزاروں فلسطینی مسلمانوں نے مسجد اقصی میں عید کی نماز ادا کی ، ذرائع ابلاغ کے مطابق اس موقع پر بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی عید کی نماز مسجد اقصیٰ میں ادا کئے۔ یروشلم میں عید الاضحی کے روز فلسطینی مسلمانوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں کم از کم 65افراد زخمی بتائے گئے ہیں ان میں سے 61فلسطینی ہیں جبکہ چار اسرائیلی پولیس اہلکار بتائے گئے ہیں۔ فلسطینی مسلمانوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان اس وقت جھڑپیں شروع ہوئیں جب فلسطینی مسلمان کے عید کے نماز پڑھنے کے بعد مسجد اقصیٰ میں موجود تھے اور یہودی قدامت پسند وہاں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے پہنچے تھے کیونکہ اس سال عید الاضحی کے روز ہی یہودیوں کے مذہبی تہوار ’’تیشابے او‘‘جشن منایا جارہا ہے جس کی وجہ سے یہودی عبادت گزاروں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔اور مسلمانوں کی جانب سے یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روکنے کے احتجاج اور کوشش میں ہی جھڑپوں کا آغاز ہوا جس پر اسرائیلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے شیل فائر کیئے۔ اس دوران بتایا جاتا ہے کہ متعدد خواتین اور نوجوان مسلمان مظاہرین کو اسرائیلی پولیس کی جانب سے زدوکوب اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ اسرائیلی میڈیا کی جانب سے بتایا جاتاہے کہ مسلمان نمازیوں کے ساتھ چند یہودی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ بی بی سی ذرائع ابلاغ کے مطابق حالیہ برسوں میں یہودی زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو عبادت کرنے کی اجازت دینے کے مطالبے نے فلسطینیوں کو خوفزدہ کیا ہوا ہے۔ کیونکہ یہودی آبادکار اور اسرائیلی پولیس مسجد اقصیٰ کا تقدس ہمیشہ پامال کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اور نہیں معلوم مستقبل میں ان کے کس قسم کے خطرناک عزائم ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل کے 17ستمبر کو انتخابات ہونے والے ہیں اوربتایا جاتا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتین یاہو خطے میں امن و آمان برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن انہیں یہودی زائرین کے لئے مقدس مقام کھولنے کیلئے انتہائی دائیں بازو کے سیاستدانوں کے دباؤ کا بھی سامنا ہے اس میں کتنی حقیقت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ اس سے قبل بھی ان کی حکومت میں کئی فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھائے گئے اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے جس کی مثال گذشتہ دنوں عیدالاضحی کے موقع کی ہے ۔
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 259 Articles with 99911 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Aug, 2019 Views: 297

Comments

آپ کی رائے