سول اور فوجی قیادت میں ہم آہنگی

(Irfan Mustafa Sehrai, Lahore)

پاکستان افواج کے سپہ سالار قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں مزید 3برس کی توسیع کر دی گئی ہے ۔عمران خان نے بحیثیت وزیر اعظم اپنا صوبدیدی اور آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے ۔مذکورہ فیصلہ جنرل جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے تین ماہ پہلے کیا گیا ہے۔

یہ توسیع انہونی نہیں ہے ۔ایسے ہونا ہی تھا۔جس دن عمران خان نے اقتدار سنبھالا تھا ،اسی روز توسیع کا فیصلہ ہو چکا تھا،پھر مختلف جانب سے پیشگوئیوں کو جاری رکھی گئی اوراب انہیں پیشنگوئیوں کو درست ثابت کر دکھایاہے ۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کی جا رہی تھی ۔اس وقت اِس بات کو لے کرعمران خان نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔جنرل راحیل شریف کو توسیع دینے کے بارے میں باقاعدہ ایک مہم چلی تھی ،کہ وہ ابھی اپنا عہدہ نہ چھوڑیں ،کیونکہ وہ دہشت گردوں کے خلاف حالت جنگ میں تھے ،مگر عمران خان نے حزب اختلاف میں رہتے ہوئے کسی جرنیل کی مدت ملازمت میں توسیع کی سختی سے مخالفت کی ۔لیکن یو ٹرن لینے میں شہرت رکھنے والے عمران خان نے اپنی حکومت میں اپنے خاص ایمپائر کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔

چاہیے تو تھا کہ عمران خان اقتدار کے حصول کے بعد سب کا اعتماد جیتے ،مگر اب تک ان کی ایسی کوئی کوشش سامنے نہیں آئی ۔جہاں قائد اقتدار کا فرض ہوتا ہے کہ باہمی اعتماد و انحصار کے حصول کے لئے ملک کی تعمیر اس نہج پر کرتا ہے ،جہاں ہر شہری میں اقدار کے حوالے سے ایک مشترکہ سمجھ ہو اور تعصب و نفرت کو ختم کرنے ، مساوات اور سب کے لئے یکساں مواقع کی فراہمی کے لئے ایک دوسرے پر بھروسہ ہو ۔ہر شہری پاکستان کے مستقبل کی تعمیر کے لئے اپنا سرگرم کردار ادا کرے اور وہ ملک کی جامع معاشی ترقی اور خوشحالی میں برابر کا شریک ہو۔لیکن ہمارے ہاں ایسی تعمیری سوچ کو پروان نہیں چڑھایا گیا بلکہ وہی پرانی روش کو اپناتے ہوئے شخصیات کو اہمیت دی گئی ۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اداروں میں قوائد و ضوابط سے ہٹ کر کام کرنے سے ادارے برباد ہو جاتے ہیں ،مگر آج خود پر پڑی ہے تو انہی قوائد و ضوابط کو بری طرح سے روندا گیا ہے ۔ملک کے ساتھ 70برسوں سے ایسا ہی ہو رہا ہے ۔یہاں یہ چوک ہمیشہ رہی اور بصیرت و دوربینی سے کام نہیں لیا گیا۔قائدین اپنی ہلکی پھلکی عارضی تشفی و طمانیت کے نشہ میں ہی مگن رہے۔اداروں کوذاتی مفادات کے لئے استعمال کیاگیا۔قومی سطح پر کوئی ادارہ نہیں رہا جو مستقل تحقیق کے ذریعہ مستقبل میں پیش آنے والے حالات کا اندازہ لگا کر اس کے مدنظر ہمیں اپنی حکمت عملی میں ردو بدل کرنے کا مشورہ دیتا رہتا اور حکومت کی رہنمائی کرتا ۔

ایوب خان کے دور میں قابل سیاستدانوں کی بڑی کھیپ سامنے آئی ۔لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے بعد سیاست دانوں پر ذوال شروع ہواجو آہستہ آہستہ سیاست دان ختم ہو کر رہ گئے ہیں ۔پرانے سیاست دان تاریخ رقم کرتے تھے ۔انہیں ڈر رہتا تھا کہ میرے بعد مجھے تاریخ کن الفاظ میں یاد رکھے گی ،مگر آج کے بد دیانت سیاستدانوں نے سیاسی قیادت کو ذوال کی جانب دکھیل دیا ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں کی انتہائی ناقص کار کردگی کے باعث جب بھی ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات لاحق ہوئے ۔بال آخر فوج نے ہی اپنا کردار ادا کیا ہے ۔یعنی حکمرانوں کی نا اہلی اور بد دیانتی نے خود فوجی قیادت کو اقتدار میں آنے کی دعوت دی ۔ویسے تو صدر ایوب خان کے دور سے فوج ملک کے سیاسی اور خارجی فیصلوں میں براہ راست شریک رہی ہے ۔لیکن ماضی کی حکومتیں ظاہری طور پر فوجی مداخلت کو نہیں مانتی تھی،مگر موجودہ حکومت نے باقاعدہ فوج کی اعلیٰ اہمیت کو تسلیم کیا بلکہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہونے پر تشہیری مہم جوئی کی تاکہ مخالفین ان کی طاقت سے خوف ذدہ رہیں ۔جس کا ثبوت اکثر اعلیٰ سطح کے اجلاسوں اور وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی کی صورت میں سامنے آتا رہا ہے ۔امریکہ کے دورے پر بھی عمران خان کا استقبال پاکستانی سفارت خانے نے کیا،امریکہ کا کوئی عہدیدار استقبال کے لئے نہیں آیااور جنرل قمر باجوہ کو پنٹا گون میں اعلیٰ سطحی استقبال سے نوازا گیا۔21 توپوں کی سلامی دی گئی ۔ساری دنیا نے دیکھا کہ امریکہ کا اصل دورہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا تھا ،مگر عمران خان دستور زمانہ نباہ رہے تھے ۔افسوس یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں تیرہ فوجی سربراہوں میں سے صرف چار کو سب سے زیادہ سینئر ہونے کی وجہ سے آرمی چیف کے عہدے پر ترقی دی گئی ،جبکہ باقی نو فوجیوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھائے گئے ۔جنرل ٹکا خان ، جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل اشفاق پرویز کیانی اپنی سینیاریٹی کی بنیاد پر آرمی چیف بنے ۔ذوالفقار علی بھٹو نے سات فوجی افسروں کی مدت ملازمت کو نظر انداز کر کے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنایا تھا۔پھر دنیا نے دیکھا کہ اسی جنرل ضیاء نے ذہین ترین لیڈر کو بھونڈے الزام میں
پھانسی پر لٹکا دیا ۔جسے بعد میں عدالتی قتل تسلیم کیا گیا۔میاں نواز شریف نے تین سینئر فوجیوں کو چھوڑ کر جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ جو بعد میں میاں نواز شریف کا تختہ الٹا کر اور پھانسی تک دینے پر آ گیا،مگر میاں نواز شریف کی قسمت اچھی کہ وہ بچ نکلے ۔جنرل پرویز مشرف نے اقتدارپر قبضہ کیا۔فوجی اور سیاستدانوں کی سیاست اور محاذ آرائی سے کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔آج پھر وہی غلطی دہرائی گئی ہے ۔مان لیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پیچیدہ سیاسی حالات ،معیشت اور خارجہ پالیسی سنبھالنے کی وسیع سوچ کے مالک ہیں ۔وہ ملک میں پائی جانی والی خامیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں ،مگر یہ تمام تر کام تو حکومت کے ہیں ۔اس کا مطلب صاف ہے کہ حکمران نا اہل ہیں ۔اسی وجہ سے انہیں جنرل جاوید باجوہ جیسے مسیحا کی ضرورت ہے ۔لیکن کیا فوج میں صرف جنرل جاوید باجوہ ہی اتنے قابل ہیں کہ فوج کی کمان اور ملکی مسائل حل کر سکتے ہیں ۔ان کے علاوہ باری کے منتظر افسران کم فہم ہیں ۔ان میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ فوج کی قیادت کر سکیں اور ملک کو بہتر ڈگر پر لے جانے میں مدد گار ثابت ہو ۔فوج ایک اعلیٰ ادارہ ہے ۔یہاں جنرل برابر کی قابلیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ان میں 19-20کا بھی فرق نہیں کہا جا سکتا۔بلکہ ایک سے بڑھ کر ایک صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں ۔ان کی لیاقت،قابلیت اور حبّ الوطنی پر شک کی گنجائش نہیں ہوتی ،مگر جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں تین سال کی توسیع نے یہ باور کروا دیا ہے کہ فوج میں ان کے علاوہ فوج اور ملک کے حالات کو سنبھالنے کا اہل نہیں سمجھا گیا۔حالانکہ کہ حقیقت یہ ہے ماضی میں بھی سول حکومتیں ایسے شخص کو آرمی چیف لگاتی رہی ہیں جس سے ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہ ہو۔یہ علیحیدہ بات ہے کہ ایسے انتخابات توقع کے مطابق ثابت نہیں ہوئے ہیں ۔جنرل باجوہ کو میاں نواز شریف نے سپہ سالار بنایا لیکن انہوں نے عمران خان کو سلیکٹ کیا۔جنرل باجوہ کو امریکا کی طرف سے شاندار استقبال نے باعث فخر بنا دیا ہے ۔

فوج کی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر سیاستدانوں ، تجزیہ نگاروں اور دانشوروں نے حکومتی اقدام کا خیر مقدم کیا ہے حالانکہ پہلے یہ سب اس بات کے سخت مخالف رہے ہیں ۔اپوزیشن پارٹیوں کو ایسا ہونے کا یقین تھا،مگر کسی موہوم امید کا انتظار بھی تھا ۔لیکن اب فوجی قیادت کے تسلسل کے بعد ان کے پاس تحریک کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا۔اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کے لئے دونوں سیاسی پارٹیوں نے مولانا فضل الرحمٰن کا ساتھ دینا کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے ۔

اب حکومت سے غلطیوں کی امید بھی ہے ۔اگر اس لانگ مارچ کو روکنے کے لئے قیادت کو گرفتار کیا ،پھر اس کے رد عمل کو سنبھالنے کی ذمہ داری ان کی ہو گی ۔ویسے ماضی میں جتنے مذہبی احتجاج ہوئے اس کے پیچھے ایجنسیز کا ہاتھ رہا ہے ۔لیکن پہلی بار مولانا فضل الرحمٰن دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا مشترکہ احتجاج کر رہے ہیں ۔جس میں فوج کی پشت پناہی بھی نہیں ہو گی ۔اگر یہ ہو جاتا ہے ،اس میں کامیابی اور ناکامی کی بات نہیں ۔صرف ہو جاتا ہے تو ملک میں بہت بڑی تبدیلی کی نشاندہی کی علامت ثابت ہو گی ۔اگر نیب کے 90 روزہ ریمانڈ کے اختتام پر شاہد خاقان عباسی اور مریم نواز کی ضمانتیں ہو جاتیں ہیں اور وہ حکومت مخالف احتجاج میں شامل ہو جاتے ہیں ۔تو حکومت کو دشواری ہو سکتی ہے ۔
حکومت کرنے کا حقیقی حق صرف عوام کا ہے ۔جو اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے سے کرتی ہے ۔کیونکہ الیکشن چوری کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے حالات خرابی کی طرف جاتے ہیں ۔آج فوج اور حکومت میں باہمی ہم آہنگی کی مثال قائم ہو چکی ہے ۔ایسا کوئی تاثر سامنے نہیں آیا جس سے حکومت کو فوج سے کوئی شکایت ہو ،کیونکہ حکومت کوئی کام کر ہی نہیں رہی ہے ۔تمام کام فوج کے سپرد ہیں ۔حالت یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر بھی وزیر خارجہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر اکٹھے پریس کانفرنس کرتے ہیں۔فوج کا ترجمان انہیں ڈکٹیشن بھی دے رہا ہے ۔جو پوری دنیا نے ٹی وی سکرین پر دیکھا۔یہ ہیں وہ حالات جس کی وجہ سے جنرل جاوید باجوہ لازم و ملزوم ہیں ۔افسوس یہ ہے کہ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ عمران خان کا فیصلہ غلط یا درست ہے ۔کیونکہ اس بات کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں کہ عام سے لیٹر سے فوج کے سپہ سالار کو توسیع دینا،ان کے اختیار میں تھا․․․!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irfan Mustafa Sehrai

Read More Articles by Irfan Mustafa Sehrai: 142 Articles with 47464 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Aug, 2019 Views: 347

Comments

آپ کی رائے