آخر اﷲ نے کچھ تو کرنا ہے

(Tanvir Sadiq, Lahore)

راڈرک اندلس کاحکمران تھا۔ اس زمانے کے مروجہ اصولوں کے مطابق، امرا کے بچے اپنا بچپن شاہی محل میں گزارتے تھے تاکہ حکمرانوں کے انداز تعلیم اور آداب سے واقف ہوں۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ عملی طور پر بادشاہ ان بچوں کو یرغمال کے طور پر اپنے پاس رکھتا کہ اس کے امرا بغاوت اور نافرمانی کا سوچ بھی نہ سکیں۔کاؤنٹ جولین اندلس کے ایک علاقے کا گورنر تھا۔ رسم کے مطابق اس کی بیٹی فلورنڈہ تعلیم و تربیت کے لئے راڈرک کے شاہی محل میں مقیم تھی۔لڑکی خوبصورت تھی۔ جوان ہوئی تو راڈرک کو پسند آئی اور اس نے لڑکی سے زبردستی زیادتی کا ارتکاب کر دیا۔ لڑکی نے کسی طرح اس حادثے کی اطلاع اپنے باپ کو دے دی ۔ لڑکی کا باپ اپنی بیٹی کی مدد کو فوراً پہنچا اور راڈرک کو بیوی کی شدید بیماری کا بہانہ لگا کر اپنی بیٹی کو وہاں سے نکال لایا۔کاؤنٹ جولین نے واپس اپنے علاقے میں پہنچ کر شمالی افریقہ کی اسلامی حکومت سے رابطہ کیا، انہیں اپنی مشکل بتائی ، تعاون کا وعدہ کیا اور اندلس پر حملے کی دعوت دی۔

اموی دور تھا اور موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے حاکم۔ان کا بربری آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد افریقہ کا باشندہ اور ان کے ساتھ فوجی خدمات انجام دیتا تھا۔ وہ جولین سے بھی واقف تھا۔ چنا نچہ جولین اور اس کی بیٹی فلورنڈہ کی فریاد کے جواب میں اندلس کی مہم کے لئے طارق کا انتخاب کیا گیا۔ طارق سات ہزار بربر اور تین سو عرب جنگجو لے کر اندلس روانہ ہوا۔ 5رجب 92ہجری کو طارق اندلس ایک پہاڑی پر اترا جو جبل طارق کے نام سے موسوم ہوئی جبل طارق بعد میں بگڑ کر جبرالٹر ہو گیا۔طارق شہر پر شہر فتح کرتا گیا اور جب دریائے گوڈالیٹ کی لڑائی جس میں صرف بارہ ہزارمسلمانوں ، جن کے پاس صرف تلواروں اور نیزوں کے سوا کچھ نہ تھا، طارق نے راڈرک کی گھوڑوں اور قیمتی اسلحہ سے لیس ایک لاکھ کی فوج کو شکست سے دو چار کیا تو مسلمان عملی طور پر سپین کے بڑے حصے پر قابض ہو گئے۔ یہ جولین اور اس کی بیٹی کی پکار تھی کہ مسلمان اندلس پر صدیوں حکمرانی کرتے رہے۔

196 ہجری میں حکم بن ہشام کے دربار میں ایک اندلسی شاعر عباس نے ایک نظم پڑھی ۔ اس نظم میں کسی عورت کی فریاد تھی جو اس کا نام لے کر دہائی دے رہی تھی۔حکم نے تفصیل پوچھی تو پتہ چلا کہ وہ ایک قافلے کے ہمراہ تھی جس پر دشمنوں نے حملہ کرکے سب مردوں کو قتل کر دیا ، اس وقت اس نے فریاد کی کہ ہم بیوہ اور یتیم ہو گئے حکم دہائی ہے ۔ حکم نے فوراً جہاد کا اعلان کیااور عیسائی حکومت پر یلغار کر دی ، کئی شہر تباہ کئے اور بہت سے لوگ قتل اور گرفتار کئے۔ قیدیوں کے تبادلے میں وہ عورت واپس آئی ۔ حکم نے اس کا احوال پوچھا۔ عورت نے اس کے حق میں دعائیں کیں اور حکم قرطبہ واپس لوٹ آیا۔یہ غیرت اور حمیت تھی کہ لمحوں میں مسلمان جاگ گئے اور اس عورت کی مدد کو پہنچ گئے۔
ایک بحری جہاز سری لنکاسے مسلمان خاندانوں کو لے کر عرب کی سرزمیں کو گامزن تھا۔ اس وقت کی کراچی کے قریب بندرگاہ دبیل کے مقام پر مقامی ڈاکوؤْں نے جہاز لوٹ لیا اور عورتوں اور بچوں کو یرغمال بنا لیا۔بعد میں ان تمام مسلمان خاندانوں کو اس علاقے کے گورنر پرتاب رائے نے اپنی قید میں ڈال دیا۔ان عورتوں میں سے نا ہید نامی ایک لڑکی کسی طرح فرار ہو کراموی گورنر حجاج بن یوسف کے پاس پہنچ گئی اور ان تمام خواتین کی فریاد اس تک پہنچائی۔ حجاج نے سندھ کے حکمران راجہ داہر کو ان کی رہائی کا لکھا۔ راجہ داہر کے انکار پر 712 عیسوی میں محمد بن قاسم سندھ آیا ، ان عورتوں کو رہائی دلوائی اور ملتان تک اسلامی حکومت قائم ہوئی۔محمد بن قاسم کا یہ قصہ ہر مسلمان کو ازبر یاد ہے ۔ لوگ یہ قصہ سنتے اور اس سے اپنے جذبوں کو جوان رکھتے ہیں۔ مگرآج جدید دور ہے اور آج کے دور میں حکومتی جذبوں اور عوامی جذبوں کا آپس میں کوئی تعلق اورکوئی واسطہ ہوتا ہی نہیں۔

آج کشمیر لہو لہو ہے۔ لوگ مارے جا رہے ہیں ۔بچے بوڑھے جوان سبھی قتل ہو رہے ہیں۔ عورتیں عصمت گنوا رہی ہیں۔ اتنے دن لگاتار کرفیو ، زندہ رہنے کا سوچنا محال ہو رہا ہے۔مدد کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ ایک عالم اسلام ہے جس کا ہم ہر وقت دم بھرتے ہیں۔اس کے اپنے مفادات ہیں۔ جن کا تحفظ ہر چیز سے مقدم ہے اسی لئے اس عالم اسلام میں اسلام نظر نہیں آتا بلکہ کشمیر کے معاملے میں یہ اسلام کی بجائے ہو کا عالم لگتا ہے۔ہر لمحے ہر پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ یہ عالم کیا کر رہا ہے۔ جواب ایک ہی ہے کہ کچھ اور رو لو۔آہ و زاری کر لو۔ افسوس کر لو۔ بد دعائیں دے لو۔ کمزوروں کے اس سے بہتر وصف نہیں ہوتے۔حکمران ہو تو لمبی لمبی چھوڑو۔ ایسے بیان دو کہ لوگ خوش ہو جائیں ۔ عالم اسلام بھی یہی کر سکتا ہے۔ اس سے زیادہ کی کسی میں ہمت نہیں، جرات کا فقدان ہے، ایمان کی ارزانی ہے۔ مفادات کے تقاضے ہیں ۔عام لوگ چونکہ بہت جذباتی ہیں مگرکچھ نہیں کر سکتے ۔ ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔اس لئے باتوں میں کمال کرتے ہیں۔مگر زیادہ کڑھنے اور پیچ و تاب کھانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ ہم عام لوگ تو کچھ کر نہیں سکتے ۔ جو کر سکتے ہیں وہ کریں گے نہیں۔ غیرت، حمیت اورجذبے اب ماضی کے قصے اور باتیں ہیں۔ ماضی کا حال سے کیا تعلق ۔جو بیت گیا سو بیت گیا ۔موسیٰ بن نصیر، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے لوگ اب دوبارہ جنم لینے سے تو رہے۔ اس لئے میرا مشورہ ہے کہ تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو مگر سب سے بہتر یہ ہے کہ سکون سے لمبی تان کر سو جاؤ۔ یہ جان کر کہ آخر اﷲسب دیکھ رہا ہے اور پھر اﷲ نے بھی کچھ تو کرنا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 436 Articles with 219689 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
30 Aug, 2019 Views: 267

Comments

آپ کی رائے