کشمیر: ۔۔لڑتے ہیں اور ھاتھ میں تلوار بھی نہیں!!!

(Sardar Khursheed Akhtar, Islamabad)

پاکستان کی ائیر فورس نے 1965ء میں بھارتی فضائیہ اور بری فوج کو پسپائی پر مجبور کیا۔23 فروری کو ایک مرتبہ پھر گھس کر جہاز گھرانا اور نندن کو پکڑ کر لینا بڑی کامیابی تھی۔مگر اس کے باوجود مودی پاکستان مخالف بیانیہ کو سیکولر ریاست کے دعویداروں کو انتہا پسندی اور نسل پرستی کی طرف لے آیا بھاری اکثریت سے انتخابات جیت کر مودی نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو کشمیر میں نافذ کر کے کشمیر کو مذھبی بنیادوں پر تقسیم کر دیا۔اس کا خواب آر ایس ایس تو عرصے سے دیکھ رہی تھی جبکہ بی جے پی گزشتہ 15 سال سے کوشاں تھی۔پہلی کوشش میں وہ کشمیر میں بی جے پی بنا کر الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا چاھتی تھی مگر کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینے والے چند فیصدی لوگوں نے بی جے پی کو مسترد کر دیا تھا۔مودی نے عا م انتخابات سے پہلے پلوامہ کا واقعہ تخلیق کیا اور ھندوستان کی فضا بی جے پی کے حق میں کردی جب کشمیر ھائی کورٹ نے بھی کشمیر کی الگ حیثیت کے حق میں فیصلہ دیا تو مودی نے آخر آرڈیننس کے ذریعے کشمیر میں تقسیم کا فارمولا لانچ کر دیا اس مرتبہ چالاکی یہ کی گئی کہ امریکہ کو ثالثی کے تنازعہ میں الجھا کر پاکستان کو خوش کرنا دیا اگرچہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو اس کا احساس ھو چکا تھا جس کے جلد نتائج کہیں اور سے برآمد ہوں گے۔البتہ مودی کے تھنک ٹینک نے کشمیر کو لداخ،جموں اور وادی میں تقسیم کر دیا جس میں الگ مذہبی تفریق کا فایدہ اٹھایا جا رہا ہے۔تاکہ وادی کو سختی سے دیکھا جائے۔جموں میں بسنے والے ھندو ھوں یا دوسرے مذاھب کے لوگ وہ ایک زمانے تک کشمیر کی الگ حیثیت کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ہیں،اسی طرح بھارتی آئین کے تحت انتخابات میں حصہ لینے والے کشمیری مسلمان ھوں یا دوسرے مذاھب کے لوگ سب آج تک کشمیر کی الگ حیثیت برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔لیکن مذھب کو،انتہاء پسنی کو ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کرکے مودی نے چالاکی کی ھے جس کی وجہ سے جموں میں اور لداخ میں خاموشی ھے اور وادی مسلسل انسان سوز ظلم کی زد میں ہے۔اج پاکستان اور بھارت کے تعلقات انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکے ھیں زمینی اور فضائی راستے بند ھیں جبکہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر کافی ھمدردی حاصل کی ہے ۔اج جنگ فوج سفارت کاری اور مذاکرات کے ھوتے ھوئے بھی ایک نیا رخ اختیار کر چکی ھے۔جس کو میڈیا اور سوشل میڈیا کی طاقت اور جنگ کہا جاتا ہے انڈیا کے سابق میجر سے لے کر جرنیلز تک سوشل میڈیا کا محاذ سنبھال کے بیٹھے ہیں۔سوشل میڈیا کی طاقت اور اہمیت سے شاید ھماری انٹیلجنشیا واقف نہ ھو اور سیاسی قیادت یہ کہہ کر جان چھوڑا دے کہ سوشل میڈیا پر اسی فیصد خبریں غلط ھوتی ھیں تو پھر یہ سمجھا جائے گا کہ کیا ھم جنگ ہارجائیں گے؟ یو ٹیوب پر آج کل انڈین جرنل آپ کو عام ملیں گے اور ایک خوبصورت انداز میں پاکستان کی نظریاتی،جغرفیائی اور عسکری بنیادوں پر سوال اٹھاتے ملیں گے۔دو قومی نظریہ کی بنیاد،قائداعظم کی جدوجہد پر غلط اعداد و شمار کے ذریعے اثر انگیز سوالات اٹھاتے اور نوجوانوں کو اپنا ھم نوا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔پاکستان میں ان کے لاکھوں سننے اور دیکھنے والے موجود ہیں۔دوسری طرف آزاد کشمیر کے لوگوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا ہے اور وہ لائن آف کنٹرول توڑنے اور اپنے بھائیوں کی مدد کو پہنچنا چاہتے ہیں۔ان محاذوں پر جنگ لڑنے کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔کہیں تفریق گہری نہ ھو جائے۔پاکستان کے دانشور حلقوں کو بھی باخبر رہنے کی ضرورت ہے!!!!

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sardar Khursheed Akhtar

Read More Articles by Sardar Khursheed Akhtar: 88 Articles with 27693 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2019 Views: 279

Comments

آپ کی رائے